ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : نومبر 2020

اشفاق سلیم مرزا

دل کے جینے کے بہانے کے سوا اور نہیں مرزا صاحب اپنے قریب آتے ہوئے اختتام سے بخوبی آگاہ تھے۔ قریبی دوستوں، رشتے داروں اور عزیزوں کی موت اور عمر کے احساس نے اُنھیں ذہنی طور پر تیار کر رکھا تھا، جیسا کہ کوئی بھی باشعور شخص تیار ہوتا ہے۔ ...

مزید پڑھیں »

امن کا نوحہ

  اُداس نظمیں اُداس غزلیں اُداس مطلعے ُُاُداس مقطعے اداس لوگوں کی داستانیں سُنا رہے ہیں….. کہ کس گلی میں ہے کس کو مارا کہاں ہوا کون کون زخمی یہ میری سادہ سی نظم جس کا ہر ایک مصرع سس ک سس ک کر بتا رہا ہے…..۔ کہ نظمِ انسان ...

مزید پڑھیں »

چادر کی گواہی

وہ ۔۔۔ اپنے ہاتھوں میں بے داغ چا درلیے چیختا بھونکتا اورگرجتا ہوا گھرکے سارے بزرگوں کوجتلا رہا تھا اسے دیکھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہانی جوچادر پہ لکھی ہے پڑھیے اسے جا ئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرخ جوڑے میں لپٹی ہوئ اس غلاظت بھری پوٹ کو چو میے پوچھیے اس سے کس ...

مزید پڑھیں »

چندن راکھ

چندن راکھ   ایکٹ (1) صحن میں تنہا ایزی چیئر پرنیم دراز آکاش پر ٹمٹماتے تارے گن رہی تھی۔ نپے تلے اُٹھتے قدموں کی آہٹ کانوں میں گونجی۔ اپنی انگلیوں کا دباؤ اپنی کنپٹیوں پر محسوس کیا۔ درد ہوک کی طرح اُبھرتامٹتا تھا۔ ”یہ گھر ہے کہ کنجڑ خانہ!“۔ اس ...

مزید پڑھیں »

بوڑھے شاعر کا ہزیان

  1 مار دے گا مجھے عمرِ فانی کا دکھ۔۔۔ یہ مرے دل میں کروٹ بدلتا ہوا رائگانی کا دکھ۔۔۔ کون ہے تو! تو کیا کہہ رہا تھا میں؟؟؟ ہاں! آسماں راکھ ہے۔۔۔ ہے دراڑیں زمیں اور زماں راکھ ہے ایش ٹرے میں پڑے میرے سگریٹ دھواں ہیں، دھواں راکھ ...

مزید پڑھیں »

شہر والو سنو

شہر والو سنو ………!! اس بریدہ زباں شہر میں قصہ گو خوش بیاں آئے ہیں شہر والو سنو! اس سرائے میں ہم قصہ خواں آئے ہیں شہرِ معصوم کے ساکنو! کچھ فسانے ہمارے سنو دُور دیسوں میں ہوتا ہے کیا،ماجرے آج سارے سنو وہ سیہ چشم،پستہ دہن،سیم تن، نازنیں عورتیں ...

مزید پڑھیں »