ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : نومبر 2020

*

  اش مئیں مُرتئی آ رَندا، کوکھر پھذا نہ گُوارنت کو کھر ضرور گُوارنت، مئیں چھم پھذا نہ گُوارنت اش بندو بُرّ بس بنت، جُڑ بستغ ایں غمانی پونچھا رغام زیری، سر گوار پھذا گُوارنت گردی سرے نہ زِیری، فتہ ئے دڑو شورش دڑد نخنت دفن گاہ ہنگر پھذا نہ ...

مزید پڑھیں »

*

  اْس کے آنکھ جھپکنے کی آواز ابھی تو آئی تھی خواب کا در بھی کْھلنے کی آواز ابھی تو آئی تھی کس نے کہا تھا جاں دینے کی رسم کبھی کی ختم ہوئی؟ پروانوں کے جلنے کی آواز ابھی تو آئی تھی زنداں کی سونی دیواریں کس کے گیت ...

مزید پڑھیں »

چندن راکھ

  ایکٹ (1) صحن میں تنہا ایزی چیئر پرنیم دراز آکاش پر ٹمٹماتے تارے گن رہی تھی۔ نپے تلے اُٹھتے قدموں کی آہٹ کانوں میں گونجی۔ اپنی انگلیوں کا دباؤ اپنی کنپٹیوں پر محسوس کیا۔ درد ہوک کی طرح اُبھرتامٹتا تھا۔ ”یہ گھر ہے کہ کنجڑ خانہ!“۔ اس نے چونک ...

مزید پڑھیں »

آنے والا کل

”ایک بھی آواز نہیں ………… بچے کو کیا ہوا؟“   زرد شراب کا پیالہ ہاتھ میں لیے سرخ ناک والے کُنگ نے یہ کہتے ہوئے اگلے گھر کی طرف سر کو جھٹکا دیا۔ نیلی کھا ل و ا لے آ ہ و و نے اپنا پیالہ نیچے رکھا اور د ...

مزید پڑھیں »

کیامحبت کہیں کھو گئی ہے

  کیا محبت کے لئے کبھی تمہارا لباس سر نگوں نہیں ہوا یا تمہارا دل آراستہ بالکنیوں سے فاختاؤں کے ساتھ ہوا میں بلند نہیں کیا گیا میں نے رقص کو فاصلے اور رقاصہ کو قریب سے دیکھا وہ تھک کر میرے زانو پر سو سکتی تھی مگر وہ اپنے ...

مزید پڑھیں »

نظم

  ایک کمزور بنیاد پر ایستادہ یہ بوسیدہ دیوار ، جو اپنے سائے سے محروم ہوتے ہوئے اپنے نابود ہونے سے بھی بے خبر۔۔۔!۔ جس کے چار وں طرف وحشتوں کا نگر جن کے اعصاب پر میرے ہونے کا ڈر ۔۔۔!۔ روز آتا ہے وہ روز اپنا تماشا دکھاتا ہے ...

مزید پڑھیں »