ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : ستمبر 2020

فہمیدہ ریاض کا وجودی نکتہ ء نظر ” وجود کرب سے آگے”

ادب ، جو اپنے گرد و پیش میں بکھری ہوئی زندگی اور اپنے عہد کے عصری تقاضوں سے بے خبر ہو وہ بلکل ایسے ہی ہے جیسے کچے رنگوں سے بنی کوئی تصویر جو موسم کی سختیوں سے متاثر ہو کر اپنی دلکشی کھو بیٹھتی ہے ۔ ہر دور کا ...

مزید پڑھیں »

احمد خان کھرل

احمد خان کھرل ایک عرصے سے میرے ذہن کا دل مراد کھوسہ بنا ہوا تھا۔اُس نے اُس وقت انگریز کو پنجاب میں للکارا جب انگریز کے پاس پنجاب میں 40ہزار فوج تھی۔ (26ہزار ہندوستانی، ساڑھے تیرہ ہزار پنجابی اور بقیہ چند سو فرنگی) (1) اور زبردست جنگی سازو سامان موجود ...

مزید پڑھیں »

ٹارچ

"اس بات کے لیے میں ہمیشہ تمھاری ماں کا شکر گزار رہوں گا کہ اس نے تمھیں تیرنا سکھادیا۔” "کیوں؟”، یہ انداز سوالیہ نہیں تھا بلکہ ایک ا حتجاجی کراہ کی صورت میں باہر نکلا۔لوئیسا نہیں چاہتی تھی کہ اس کا باپ اس کی ماں کے بارے میں گفتگو کرے۔وہ ...

مزید پڑھیں »

آنسووْں سے بنے

آنسووْں سے بنے ہوےْ ہم لوگ ٹھیس لگ جائے تو ندی کی طرح پہروں بہتے ہیں اپنی آنکھوں میں !۔ کوئی چھیڑے تو کچھ نہیں کہتے صورتِ گل ہوا سے کیا شکوہ شام کی آنچ سے الجھنا کیا ہاں مگر سانس میں کوئی لرزش مدتوں ساتھ ساتھ رہتی ہے !۔ ...

مزید پڑھیں »

فن جو نادار تک نہیں پہنچا

فن جو نادار تک نہیں پہنچا ابھی معیار تک نہیں پہنچا اس نے بر وقت بے رخی برتی شوق آزار تک نہیں پہنچا عکس مے ہو کہ جلوۂ گل ہو رنگ رخسار تک نہیں پہنچا حرف انکار سر بلند رہا ضعف اقرار تک نہیں پہنچا حکم سرکار کی پہنچ مت ...

مزید پڑھیں »