ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : ستمبر 2020

غزل

کچھ دریچوں میں روشنی ہو گی شہر میں رات جاگتی ہو گی ایک وحشت زدہ کھنڈر میں ابھی تیری آواز گونجتی ہو گی زرد پھولوں پہ شام کی دستک نیم جاں دھوپ نے سُنی ہو گی اُڑ گیا آخری پرندہ بھی پیڑ پر شاخ ڈولتی ہوگی دل بھی وہم و ...

مزید پڑھیں »

میں کیا کروں

خموش ہوں کئی دنوں سے اور شگاف پھیلتا ہی جا رہا ہے کھا رہا ہے رات دن وجود کے ثبوت میں یہ دل دھڑک دھڑک کے تھک گیا ہے پھر بھلا میں سو رہوں ۔۔۔کہ رو پڑوں کوئی ہنر بھی کام آنہیں رہا میں چیختے ہوئے کواڑ کھول دوں۔۔۔میں بول ...

مزید پڑھیں »

یہاں خوش گمانی کا راج تھا

یہاں آرزوؤں کی سلطنت تھی بسی ہوئی یہاں خواب کی تھیں عمارتیں یہاں راستوں پر دعاؤں کے سنگِ میل تھے یہاں معتبر تھیں بصارتیں یہاں پھول موسم قیام کرتے تھے دیر تک یہاں چاہتوں کا رواج تھا یہاں پانیوں میں یہ زہر کس کی رضا سے ہے یہاں خوف پہرے ...

مزید پڑھیں »

روشن فکری کا جہانِ نو

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود روشن فکری کی صراطِ مستقیم پر نئی تسبیح اور نئے ورد کی ضرورت ایک عرصے سے قوم کو دو بڑے اور بنیادی چیلنج درپیش ہیں۔ ایک معاشی تنزلی اور دوسرا اخلاقی تنزلی۔ یہ حوالہ قوم کو مضطرب کر دیتا ہے کہ اس ...

مزید پڑھیں »

گلگال

جمراں مرچی گرندگے مانیں بشئے گروخانا کندگے مانیں ساہیوال ئے مں سیاہیں زندان آ یک وطن دوستیں بندگے مانیں گل خان نصیر آج بادل گرج ر ہے ہیں ساون کی بجلیاں مسکرا رہی ہیں ساہیوال کے سیاہ زندان میں ایک وطن دوست قید ہے

مزید پڑھیں »

چوکور دائرے

جس وقت اُس نے دیوار پھلانگی، تو اُس سڑک پر تاریکی کے ساتھ ساتھ ہو کا عالم تھا،جس پر ابھی کچھ دیر قبل، وہ اپنی پوری قوت جمع کر کے سر پٹ دوڑ رہا تھا،باوجود اس کے کہ اس کی ایک ٹانگ کسی سخت چیز کی شدید ضرب سے زخمی ...

مزید پڑھیں »

شانتابخاریخ

کامریڈ شانتا کی پہلی اور آخری پہچان ایک انقلابی سیاسی کارکن کی ہے جن کو یاد کرنا صرف ایک فرد کو یاد کرنے کے مترادف نہیں ہے بلکہ اُن کا ذکر غور و فکر اور سوچ بچار کے بہت سے دَر وا کرتا ہے۔ گزشتہ رات جب میں کامریڈ شانتا ...

مزید پڑھیں »