ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : ستمبر 2020

فاضل راہو: جورُ کے تو کوہِ گراں تھے ہم ۔۔۔

فاضل راہو سے میری پہلی ملاقات سندھ ہائیکورٹ کے احاطے میں ہوئی۔ ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ کی پیشی کیلئے انہیں جیل سے ہائی کورٹ لایا گیا تھا۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے کسی عدالتی حکم کے بغیر قید کاٹ رہے تھے۔ یوں بھی زندگی کا ایک بڑا حصہ انہوں ...

مزید پڑھیں »

*

گواث باھوٹیں چراغ ئا واچڑانی تڑس نے جوغن ئے سر ونڑجنوخا ترونگلانی تڑس نے نمرود آسے کفوخا لانمبو آنی تڑس نے مچ لانگو داثغیں نا ہنگرانی تھڑس نے در کیا سکئے جثغنت زیند بیثہ بے مراذ نی پذا چکر سر آتکا لیکوانی تڑس نے تخت ماڑی اشتغیں مڑ جیذ جداں ...

مزید پڑھیں »

آئیڈینٹیکل ٹونز ( Identical Twins )

لفظوں کے بھی جسم ہوتے ہیں حرف کی ہڈیوں سے بنے ہوۓ میں بوسے کا جسم محسوس کر سکتا ہوں نرم اور ملائم بوسے کی ساری ہڈیاں کُرکُری ہوتی ہیں خواہش کے گُودے سے بھری ہوئی کچھ لفظ اپنے جسم میں گھُٹ گھُٹ کے مر جاتے ہیں ہر لفظ کے ...

مزید پڑھیں »

سندھ اورسندھیوں سے محبت کرکے دیکھو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’ چاہے جتنی لا شیں گرادوصوبہ توبنے گا ’’ کل میں نے ٹی وی یہ بیانیہ سنا تو دل لزرگیا ۔۔۔ یہ بیانیہ نہیں ہے یہ وہ چنگاری ہے جو پھر پرے بھرے آباد گھروں کو شعلوں کی نذرکرنے کی تیاری کررہی ہے ۔ یہ وہ نعرہ ہے جو کند ...

مزید پڑھیں »

عالمگیریت،ثقافت اور ادب

(حنا جمشید کی مرتبہ کتاب کی تقریب میں پڑھا گیا مضمون) عالمگیریت، ثقافت اور ادب جیسے ہمہ جہت موضوع میں ایک چیز جو مشترک ہے وہ ہے انسان۔ چوں کہ انسان سے زیادہ اہم اور دلچسپ مخلوق ابھی تک معرضِ وجود میں نہیں آئی۔ اس لیے اس کتاب کا موضوع ...

مزید پڑھیں »

امید

تم ٹھہرو ذرا میں آتی ہوں سورج سے نُور کی کرنیں لے کر کسی معصوم طفل کے لبوں سے ہنسی لے کر کسی خوشبو بھرے جنگل سے تتلیاں پکڑ کر لاتی ہوں تم ٹھہرو میں آتی ہوں شام کے ڈھلتے منظر نامے میں چند جگنو پکڑ نے میں ہمیشہ تنہا ...

مزید پڑھیں »

قصہ گو

یہ ایک گرم سہ پہر تھی ۔ریلوے ٹرین اسی حساب سے گرم تھی ۔اگلا سٹاپ ٹیمپل کومب تقریباً ایک گھنٹے کی دوری پر تھا ۔مسافروں میں ایک چھوٹی لڑکی تھی ،ایک اس سے بھی چھوٹی تھی ۔اور ایک چھوٹا لڑکا تھا ۔بچوں کی خالہ / پھوپھی ایک کارنر سیٹ پر ...

مزید پڑھیں »

.

سائیں!تو اپنی چلم سے تھوڑی سی آگ دے دے میں تیری اگر بتی ہوں اور تیری درگاہ پر مجھے ایک گھڑی جلنا ہے۔۔۔ یہ تیری محبت تھی جو اس پیکر میں ڈھلی ا ب پیکرسلگے گا تو ایک دھواں سا اٹھے گا دھوئیں کا لرزاں بدن آہستہ سے کہے گا ...

مزید پڑھیں »

احمدخان کھرل

مراد کے اس گوریلا حملے اور اُس کے نتیجے میں استعمار کے بدصورت نشان برکلے کی موت کے متعلق وہاں بہت خوبصورت لوک گیت موجود ہیں۔ ایسی مزیدار فوک شاعری جو شہر کے مڈل کلاس، بورژوا دانشور، اور یونیورسٹیوں کے دانشوروں کی بد ذائقگی کے سبب انہیں نصیب نہیں۔ حتی ...

مزید پڑھیں »