ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : اگست 2020

سماجی تبدیلی کے لوازمات

سائنس ڈنڈے ماری کی اُلٹ چیزہے ۔ اس میں سندھی زبان کے فقرے ’’رکھ مرشد ءَ تے‘‘ کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ سائنس اِس بات کو بھی نہیں مانتی کہ’’ فی الحال جدوجہد کرتے ہیں، باقی اُس وقت دیکھیں گے‘‘۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سائنس نتائج ...

مزید پڑھیں »

سائنسدان اور جمہوریت

گذشتہ چار پانچ صدیوں میں تاریخی شواہد سے روشن، یہ حقیقت دیکھنے میں آئی ہے کہ معاشی و اخلاقی ترقی اور جمہوریت کی گاڑی نے اُن ممالک میں رفتار پکڑی جہاں سائنسدانوں، فلسفیوں، موجدوں اور اہلِ فکر دانشوروں نے جنم لیا۔ جہاں لوگ جاگیرداروں،سرداروں، وڈیروں اور مذہبی پروہتوں، پوپ پادریوں، ...

مزید پڑھیں »

الیکشن 2018

ماہنامہ سنگت کا ایڈیٹوریل الیکشن 2018 حالیہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشنوں میں جیتنے والے لوگ خواہ جس پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں، ’’سٹیٹس کو ‘‘ کے لوگ ہیں ۔ یعنی حالات کو اُسی طرح رکھنے والے لوگ جس طرح کے حالات چل رہے ہیں۔یہ نہ سیاست میں کوئی ...

مزید پڑھیں »

اینٹی امپیریلزم

پندرھویں صدی، پرتگیزیوں کابلوچستان پہ حملہ، اور بہادر ہمل اپنی تلوار سے: تیغ سپاہانی مں ترا بچی گی پیاست مں ترا بچی پیاست و دریں دتگی ہورانی وختا گجریں بھوفانی تلا نمبانی وختا مں کباہاں ابریشمیں بہادروں کی تلوار! تجھے میں نے بیٹے کی طرح پالا بیٹے کی طرح رکھا، ...

مزید پڑھیں »

مخمصہ

‏ شش وپنج پنج وشش اس بزرگ سن دوست کو کیا درپیش تھا باربار پوچھنے کے بعد بول پڑا اپنے آپ کو عطاشاد کا مصرع سنارہاہوں: کس نے کہا تھا گھر لب دریا بنائیے

مزید پڑھیں »

17 اگست

یہ اس شام پہلا اور آخری محرم تھا جس میں امام بارگاہوں میں کچھ گھنٹے جشن کا سماں تھا اور مٹھائیاں بٹی تھیں۔ لیکن17 اگست 1988 کی اس دوپہر میں اپنے دوست ذولفقار شاہ با المعروف پپوشاہ کیساتھ شیعہ عالم عبدالغفور جانوری کیساتھ حیدرآباد سے بھٹ شاہ نکلا تھا اور ...

مزید پڑھیں »

اکبر علی۔ ایم اے

۔ ”مستقبل پر قبضہ سائنس کر سکتی ہے۔ تاریخ میں پھنسے رہنے سے ثقافتوں کے نشانات بھی باقی نہیں رہتے“۔ (اکبر علی۔ ایم اے) ۔ میرے اندر ایک چراغِ آرزو روشن ہے جو سدا جلتا رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ظاہر ہے میں بھی جلتا رہتا ہوں۔ یہ چراغِ آرزو ...

مزید پڑھیں »