ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : جولائی 2020

غزل

دیا جلایا اپنے آپ سے باتیں کی خاموشی میں کوئی نہ آیا اپنے آپ سے باتیں کی خاموشی میں آدھی رات کو جب قدموں کی چاپ یہ میرے ساتھ چلی تو گھبرایا اپنے آپ سے باتیں کی خاموشی میں تیرا غم تھا کس سے کہتے میں نے خالی کمرے کو ...

مزید پڑھیں »

ساتواں نمبر

لکڑیاں آگ میں دہک رہی تھیں ۔شعلے اوپر تک اٹھ رہے تھے۔گلدستہ کے گال، آگ کی تپش سے انگارہ ہو رہے تھے۔ جانے وہ وہ کب سے رو رہی تھی۔ اور اماں صغراں اسے گاہے بگاہے ٹھیک ہونے کی تسلی دے رہی تھی۔ کچھ تو وہ پورے دن سے تھی ...

مزید پڑھیں »

ادل بدل

”چوہدری جی! لٹیا گیا، کسے نوں منہ دکھانڑ جوگا نہیں رہیا…“۔واویلا سن کر گہری نیند سویا ہوا زمیندار ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ تیزی سے حویلی کے اندرونی حصے سے باہرکی طرف لپکا۔ نکلتے قد،گھنگریالے بالوں والا خوشرو چوہدری دلاور جسے ہر کوئی نکا چوہدری کہ کر پکارتا تھا، ابھی اپنی ...

مزید پڑھیں »

دوست تو مر گئی

حسن مجتبی دوست تو مر گئی اور ہم زندہ ہیں زندہ لاشیں ہم زندہ لاشیں جو اب بدبو کررہی ہیں شور کررہی ہیں لاشیں جو کاندھے پر لاشیں اٹھائے چلی جا رہی ہیں کسی لاش کے کاندھے پہ انقلاب کا تابوت تو کسی کے کاندھے پہ خوابوں کا ناکام محبتوں ...

مزید پڑھیں »