ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : جولائی 2020

اداسی

باغ کے ایک کونے میں ایک بوڑھا بینچ پر بیٹھا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جو پھولوں کے لبوں سے رس چراتی ہیں۔ ہوا میں تیرتی خنکی کی خوشبو جس میں باغ میں کھلتے ہر ایک پھول، پودے اور پتے کا لمس شامل ہے۔ وہ ...

مزید پڑھیں »

رشتوں کی دیمک

اس مدر ز ڈے پر پہلی بار جب نوما نے اپنے ننھے ہاتھوں سے بنا کارڈ مجھے دیا تو خوشی سے آنکھوں میں آنسو چھلک آئے، دل نے کہا دنیا میں اگر کوئی رشتہ اور تعلق بے غرض ہے تو صرف ماں اور بچے کا رشتہ ……. اماں …… میری ...

مزید پڑھیں »

غزل

دیا جلایا اپنے آپ سے باتیں کی خاموشی میں کوئی نہ آیا اپنے آپ سے باتیں کی خاموشی میں آدھی رات کو جب قدموں کی چاپ یہ میرے ساتھ چلی تو گھبرایا اپنے آپ سے باتیں کی خاموشی میں تیرا غم تھا کس سے کہتے میں نے خالی کمرے کو ...

مزید پڑھیں »

ساتواں نمبر

لکڑیاں آگ میں دہک رہی تھیں ۔شعلے اوپر تک اٹھ رہے تھے۔گلدستہ کے گال، آگ کی تپش سے انگارہ ہو رہے تھے۔ جانے وہ وہ کب سے رو رہی تھی۔ اور اماں صغراں اسے گاہے بگاہے ٹھیک ہونے کی تسلی دے رہی تھی۔ کچھ تو وہ پورے دن سے تھی ...

مزید پڑھیں »

ادل بدل

”چوہدری جی! لٹیا گیا، کسے نوں منہ دکھانڑ جوگا نہیں رہیا…“۔واویلا سن کر گہری نیند سویا ہوا زمیندار ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ تیزی سے حویلی کے اندرونی حصے سے باہرکی طرف لپکا۔ نکلتے قد،گھنگریالے بالوں والا خوشرو چوہدری دلاور جسے ہر کوئی نکا چوہدری کہ کر پکارتا تھا، ابھی اپنی ...

مزید پڑھیں »

دوست تو مر گئی

حسن مجتبی دوست تو مر گئی اور ہم زندہ ہیں زندہ لاشیں ہم زندہ لاشیں جو اب بدبو کررہی ہیں شور کررہی ہیں لاشیں جو کاندھے پر لاشیں اٹھائے چلی جا رہی ہیں کسی لاش کے کاندھے پہ انقلاب کا تابوت تو کسی کے کاندھے پہ خوابوں کا ناکام محبتوں ...

مزید پڑھیں »