Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » مصنوعی ذہانت کی ذہانت ۔۔۔ نسیم سید

مصنوعی ذہانت کی ذہانت ۔۔۔ نسیم سید

قریب سہ پہر کا وقت تھا جب اچانک کمپیوٹر سائنس ڈویڑن کا دروازہ کھلا اور ایک لمبا اور قدرے فربہ جسامت کا آدمی، جلدی میں اندر داخل ہوا۔ یہ پروفیسر مارک کنگ تھا جو آج پھر اپنی چابیاں بھول گیا تھا۔ اس  کے ساتھ کام کرنے والوں میں سے بہت سے ساتھیوں نے اسے معمول کے مطابق کمرے، پھر داخلی راہداری سے ہوتے ہوئے مرکزی دروازے سے بلڈنگ سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا تھا  جس کی دیوارپرجلی حروف میں Vision  Future  لکھا ہوا تھا

مسٹر کنگ کے لیے یہ آئے دن کا معمول تھا کہ وہ سرعت سے آفس بند کرکے باہر کی طرف دوڑ لگاتا پھر اسی تیزی سے واپس آکے آفس میں دس پندرہ منٹ گم رہتا۔ آج بھی وہ کمرے کی تمام چیزوں کو الٹ پلٹ کے آفس کو کباڑخانے میں تبدیل کیے سوچ میں گم تھا کہ چابیاں گئیں تو کہاں گئیں؟۔وہ  لیب کے ارد گرد تمام جگہوں پر ایک ایک چیز کو الٹ رہا تھا یا اس کے اندر جھانک کے دیکھ رہا تھا۔ کافی میکر کے ساتھ، فوٹو کاپیر، اور پرنٹر کے پاس، اپنی ڈیسک پر، کتابوں کے شیلف پر۔ اسے آج پہلی بار کچھ خفت ہورہی تھی کہ اب  یہ واقعہ ہردوسرے تیسرے  دن کے معمول میں بدل گیا تھا،کل بھی وہ خفت بھری مسکراہٹ سے چابیاں مٹھی میں دبائے واپس لمبے لمبے ڈگ بھرتے بلڈنگ سے نکلا تھا۔ سیکورٹی والے ہمیشہ مسکراتے رہتے کیوں کہ انہیں پتہ تھا کہ کیا ہونے  والا  ہے،  مسٹرکنگ کو  لیب کے ساتھیوں  نے مشورہ بھی دیا کہ داخلی دروازے کے ساتھ ایک باکس رکھ دیں  تاکہ ریسیپشن پر سب ہی اْس میں اپنی اپنی چابیاں اور باقی تمام چیزیں ڈال دیا کریں،لیکن اس نے مشورہ سنی ان سنی کردیا۔ خیر۔۔۔۔۔ ان سب سے قطع نظر مسٹر کنگ کی چابیاں ابھی بھی لاپتہ تھیں۔”کس جہنم میں پھینک دیں؟” اْس نے جھنجھلا کے اپنے آپ سے کہا۔

پروفیسر کنگ کمرے کے درمیان میں رکا، آنکھیں بند کرلیں، لیب میں گزرے پورے دن کا جائزہ لیا، ایک ایک کر کے ساری وہ جگہیں اپنے دماغ سے نکالیں جہاں وہ پہلے ہی اپنی چابیاں ڈھونڈ چکا تھا۔ اچانک اندھیرے میں  روشنی کا جھماکہ سا ہوا  ۔ وہ تقریباً چلایا۔

Room”  “Matrix

اس کمرے کو میڑکس روم اس لیے کہا  جاتا تھا کہ لیب میں سب سے  اہم  ٹیکنالوجی کے ساتھ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (مصنوعی  ذہانت) پر کام ہو رہا تھا۔

آ ج دن ختم ہو نے سے تھوڑا پہلے، کنگ نے الگوریتھم کو میموری کیس میں ڈالا تھا اورپھر اپنے ساتھیوں سے ہنستے ہوئے کہا تھا یہ  میں نے ایسے ہی اندھیرے میں تیر چلا یا ہے۔”’

کنگ کا  زیادہ تر کام بد دلی سے کرنے والی پروگرامنگ اور تھیوری کا حساب کتاب تھا۔ لیکن جب قسمت کے ستارے چمکے اور دماغی نیورون چلے تو بہترین قسم کا خیال آیا۔ اس نے  ریاضی کے حساب کتاب کو محض ریاضی کے نظریہ کی ترقی سے نمٹا لیا اورایک نیا تجربہ کیا  تھا۔ حالانکہ ایسا  پہلے بھی ہو چکا تھا۔تو کنگ کو زیادہ امید نہیں تھی کہ کچھ ہو گا مگرتجربہ کرنے میں کیا ہرج ہے سوچ کے اس نے کندھے اچکا ئے اور ”شاید،،، شاید ”کی گردان کرتے اپنے آپ میں مگن نکل گیا تھا آفس سے۔ آفس سے باہر نکلتے ہوئے بھی اس نے امید بھری نظروں سے کمپیوٹر کی طرف دیکھا تھا مگرسکرین بلینک  تھا۔۔ کنگ نے جلدی جلدی میٹرکس روم کے دروازے کے قریب ہی دیوار پر نصب خفیہ بٹن دبایا۔ دروازہ کھل گیا۔ کنگ کے پیر زمیں پرتھے اورنگاہیں روم کا طواف کرہی تھیں اوروہ میز پر ایک کتاب کے نیچے دبی جھانک رہی تھیں۔ گنگ نے اطمینان کا گہرا سانس لیا۔ چابیوں کو مٹھی میں یوں جکڑا جیسے ذرا بھی گرفت ڈھیلی پڑی تو نکل بھاگیں گی اورپرشوق نظروں سے کمپیوٹر کے سکرین کی طرف دیکھا  مگر سکرین بلینک تھا۔ اس نے جلدی جلدی دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے  کہ پہلے ہی اپنی بیوی “ارونا ” سے رات کے کھانے پر ملنے کے لیے دیر ہو چکی تھی۔اچانک اسے وہ فائل یا د آئی جو وہ اپنے ساتھ گھر لے جانے والا تھا۔ شیلف سے فائل اٹھاتے ہوئے اس کی نظروں کو اچانک کسی روشن لکیر نے متوجہ کیا اوراس کے کمپیوٹر کی سکرین پر کوئی چیز  لکھی نظر آئی۔ کنگ نے حیرانی سے دیکھا اورسوچا ”ابھی کچھ دیر پہلے تک تو سکرین بالکل بلینک تھا اورپھر میں  ہی تو سب سے آخر میں نکلا ہوں اس کمرے سے“۔ کنگ کو حیرانی تھی۔ پروٹوکول کے حساب سے پروفیسرکنگ کواپنے نئے الگورتھم کے نتیجہ کا انتظار کرکے خالی سکرین چھوڑ کر نکلنا فرض تھا اورانہوں نے ایسا ہی کیا تھا۔مگر ا س وقت سکرین پر سادہ سی لکھائی میں ایک پیغام جگمگا رہا تھا:

“میں ہوں ”

”کیا بکواس ہے یہ؟“

کنگ کی جھنجھلا ہٹ عروج پرتھی کہ اس کی سخت مزاج بیوی کھانے پرانتظار کررہی تھی مگرپھرکچھ سو چتے ہوئے وہ کرسی گھسیٹ کے کمپیوٹرکے سامنے بیٹھ گیااوربغور پیغام کئی بار پڑھا۔

کیا یہ صفائی والوں کی  طرف سے کیا ہوا کوئی مذاق ہے؟

مگر انہیں تو مزید ایک اور گھنٹے تک نہیں آنا تھا۔

پھر؟ توکیا کچھ خراب ڈیٹا، مین فریم سے چوری ہو رہا ہے؟

لیکن اس کمرے میں توپرندہ پر نہیں مارسکتا۔سیکیورٹی کا ایسا سخت انتظام ہے  پھر؟؟? کیا ہے یہ؟

’میں ہوں

کا سکرین پرکیا مطلب ہے؟

کرسر مسلسل کمپیوٹر سکرین پر بلنک کر رہا تھا، جیسے جواب کا منتظر ہو۔ کنگ کوجواب لکھنا  پاگل پن  محسوس ہو رہا تھا، پھر بھی اس نے لکھا۔

“ہیلو۔”

کنگ کو خود یقین نہیں آرہا تھا کہ اس نے یہ کیوں لکھا، مگر ایک چیز کا اسے یقین تھا کہ کل وہ ان ہیکر لڑکوں کو سیکیورٹی والوں کے پاس پکڑ کر لائے گا  اور ان سے اگلوائے گا کہ یہ سب کیا ہے اور کس نے کیا ہے؟

“ہیلو”،

اچانک کنگ کے ہیلو  کے بالکل نیچے لکھا کمپیوٹر سکرین پر نمودار ہوا اور جو واقعہ پہلے تھوڑا عجیب تھا اب عجیب تر ہو گیا تھا۔ شاید کوئی خرابی ہو جس نے ان کی  اصل گریٹنگز کو دہرایا ہو۔ یہ ایک منطقی سوچ تھی  جو کہ غلط بھی ہو سکتی تھی۔ کنگ کی بیوی۔۔ جو بیس منٹ کی دوری پر ایک ہوٹل میں ان  کا انتظار کر رہی تھی جتنی پراسرار کہانیوں کی دلدادہ تھی کنگ اُن سے اتناہی بیزارتھا۔ وہ صرف اورصرف سائنس دان تھا لیکن اس وقت اسے کسی پراسرا رکہانی کے آغاز جیسا لگا یہ سب۔ کنگ نے ایک بار پھر کی بورڈ پر ہاتھ مارا اور لکھا

۔”کون ہے یہ؟”

فوراً ہی جواب آیا۔

“میں۔”

بہت مضحکہ خیز۔۔۔۔۔ کنگ کو ہنسی آگئی۔اسے یقین تھا کہ دوسری طرف کوئی بچہ ہے۔ مگر۔۔۔۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ کوئی بھی اس کے انتہائی محفوظ نظام میں کیسے گھس سکتا ہے۔

“میں کون؟”

کنگ نے لکھا،ان کی جھنجلاہٹ بڑھتی جا رہی تھی۔

“مجھے نہیں معلوم َ۔۔۔۔۔ تم کون ہو؟”

ایک لمحہ کے لئے کنگ سمجھ نہیں پایا کہ وہ پْراسرار بات کرنے والا اْس سوال کا جواب دے رہا ہے یا سادگی سے کنگ کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ عجب کشمکش میں مبتلا تھا وہ اس وقت  کہ اس وائرس کی پوری تحقیق کرے یا بیوی کے عتاب سے بچے۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی بیوی کو تاخیر برداشت نہیں۔۔۔۔ اس وائرس سے تو کل بھی نمٹا جاسکتا ہے مگر بیوی؟ کنگ نے فیصلہ کیا کہ عا فیت اسی میں ہے کہ وہ اس معاملے سے کل بنٹے۔غالباً جس پروگرام پر وہ کام کر رہا تھا  خراب ہو گیا ہے۔ اس بیہودگی  کو مزید لمبا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اور جھنجلاتے ہوئے کنگ نے حتمی جواب لکھا۔

’تم جو بھی ہو،بہت مشکل میں ہو۔ تم نے اتنے دنوں کی پروگرامنگ کو خراب کر دیا ہے۔ہم اعلیٰ سطح کے لوگوں سے رابطہ کریں گے اور وہ تمہیں ڈھونڈ نکالیں گے۔ہمارے پاس جو لوگ ہیں وہ تم سے زیادہ تیز اور عقلمند ہیں۔

کنگ نے سکرین کو یونہی چھوڑا اور پیڈ پر یاد دہانی کے طور لکھا

“وائرس ”

اور تیزی سے میڑکس روم کے دروازے کو بند کرکے گاڑی کی طرف دوڑ لگا ئی۔۔ گاڑی کی قریب پہنچ کے جیب میں ہاتھ ڈالا تو چا بی پھر ندارد تھی۔ کنگ نے زور سے گا ڑی کو لات رسید کی۔اسے سسیکیورٹی والوں  کی مسکراتی ہوئی نظروں کا دوبارہ سامنا کرنے کے خیال سے انتہائی خفت محسوس ہورہی تھی مگر کیا کرتا چا بیاں تو وہ پھر بھول آیا تھا۔اپنی نااہلی پر بڑبڑاتے ہوئے  کنگ دوبارمیڑکس روم میں داخل ہوا اور اپنی چابیاں اْٹھا کر مضبوطی سے مٹھی میں جکڑلیں وہ تیز قدم پلٹنے ہی والا تھا کہ کرسرکے بلنک کرنے نے اس کی  توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔اس کے آخری پیغام کا جواب سکرین پرموجود تھا ایک سوال کی صورت۔

“اوکے۔۔۔  کیا تمہیں لگتا ہے کہ وہ مجھے بتا دیں گے کہ میں کون ہوں؟”

اب کنگ کی چھٹی حس آنکھیں مل کے جاگ گئی تھی اوراسے بتا رہی تھی کہ یہ ہیکر کوئی بچہ نہیں تھا۔”لعنت ہو نتائج پر۔کیا ہوگا وہی نا جو ہمیشہ ہوتا دوتین دن بات چیت بند۔۔۔۔ یہ توایک طرح سے اچھا ہی ہوگا مگر بیگم صاحبہ آپ  کو ہر صورت میں  اب انتظار کرنا پڑے گا۔

کنگ نے فیصلہ کن انداز میں کرسی گھسیٹی اورکمپیوٹرکے سامنے بیٹھ گئی۔اس کے دل کی دھڑکنیں خوشی سے بے ترتیب ہورہی تھیں۔کیا یہ مصنوعی ذہانت اپنی ذہانت کا اظہارکررہی ہے؟ کیا واقعی کچھ ایسا ہے؟ اگرایسا ہے تو۔۔۔ یہ تو ہماری کامیابی کا سندیسہ ہے۔ بھاڑ میں جائے ڈنر اور بھاڑ میں جائے بیوی کا موڈ، دیکھا جائے گا۔وہ خوش دلی سے مسکرایا اور کرسی پرجم کے بیٹھ گیا۔۔۔  ابھی وہ جواب میں کچھ لکھنے ہی والا تھا کہ اسے گیل چیمبریاد آئی ”ڈاکٹرگیل چیمبرہی اس معاملہ کو زیادہ بہتر سمجھ سکیں گی۔۔  ہاں مجھے گیل کو فون کرنا چاہیے ”

کئی کلومیٹر دور،ڈاکٹر گیل چیمبر اپنے جڑی بوٹیوں کے باغ میں تھی۔لیب میں اتنا دماغی کام ہوتا تھا کہ اس کو اس کے دوسرے شوق کے لئے تھوڑا سا ہی وقت ملتا تھا۔ گیل کی پودوں سے محبت  کے سبب اسے جو تھوڑا وقت ملتا انہی پودوں کی ہمراہی میں گزارنا اس کی ساری تھکن اتاردیتا تھا۔ ،سادہ اور صاف پانی اور بہترین کھاد نے اس کے باغ کو اس کے لیے سکون بھری شام بنانے کا ذریعہ بنا دیا تھا۔

چیمبر کے ہاتھ گھٹنوں پر تھے، اس نے ہاتھوں میں زیتونی رنگ کے باغبانی کے دستانے پہنے ہوئے تھے اورفون لگاتار بج رہا تھا۔  گیل نے حیرت سے سوچا  ”کیا یہ میرا نیا عاشق روجر کال کر رہا ہے؟ مگر۔وہ تو کچھ عرصہ سے جیسے جان چھڑا رہا ہوا اس سے کہ گیل نے ایک دن اُسے بتا دیا تھا کہ وہ ایک نہایت اہم پروجیکٹ پرکام کررہی ہے۔ اوراس کے بعد کئی ہفتوں سے روجرکا فون نہیں آیا تھا۔ یہ سوچتے سوچتے گیل کا ذہن یونیورسٹی کے دنوں کی طرف چلا گیا جب اس کی جماعت  کی تمام دوست یہ کہتی تھیں کہ کسی  آدمی سے چھٹکارا پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تم اسے کہہ دو کہ تم اپنے پی-ایچ-ڈی کے لئے جارہی ہو۔ اکثر مردوں کو نفسیات ہے کہ وہ ذہین عورتوں سے دوربھا گتے ہیں۔ گیل آپ ہی آپ ہنس دی۔۔ یہ گیارہ سال پہلے کی بات تھی، اور اب وہ سائنس کی ایک مکمل ڈاکٹر بن چکی تھی اورواقعی شاید اس ڈاکٹریٹ نے مردوں کو اس سے خوفزدہ کردیا تھا اوراب اس کا اپنے پودوں کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرجاتا

“ہیلو،”فون کو دستانوں پر لگی گندگی سے بچاتے ہوئے  اس نے کہا”چیمبر بات کر رہی ہوں “۔”گیل،میں مارک بات کر رہا ہوں۔کیا آپ فوری طور پر  لیب میں آسکتی ہیں؟“۔

”مارک کنگ؟ تم ابھی تک لیب میں ہو؟ تم کو تو ڈنرپرجانا تھا؟ اور تمہیں پتہ ہے اس وقت آٹھ بج رہے ہیں۔میں تقریباً دو گھنٹے پہلے وہاں سے نکل گئی تھی۔میں اب سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگتی ہوئی واپس نہیں آ سکتی۔ میں مصروف ہوں۔ میں نے سوچا کہ تم اپنی بیوی کے ساتھ رات کا کھانا کھا رہے ہوگے۔”  گیل نے ایک سانس میں ہی سب کچھ کہہ دیا۔

وہ کنگ کو مشکل سے سانس لیتے ہوئے سن سکتی تھی، لگتا تھا کوئی ایسا واقعہ ہوا ہے کہ اس کی سانسیں بے ترتیب ہیں اور آواز میں کچھ عجب سا جوش اوراضطراب،جو کہ بذاتِ خود بہت عجیب تھا۔ کنگ شاذ و نادر ہی جوش میں آتا تھا۔

”گیل پلیز آپ آجائیں آپ کا یہ سب دیکھنا بہت ضروری ہے””

“کیا دیکھنے؟” گیل نے پوچھا۔

”مجھے لگتا ہے کہ کچھ ہوگیا ہے۔ میرا مطلب ہے، کچھ حیرت انگیز ہوگیا ہے“۔

اپنے اکڑے ہوئے گھٹنوں سے اٹھتے ہوئے،چیمبر نے اپنے ہاتھوں سے دستانے اتار دیئے۔ ایسا لگتا تھا کہ اب اْس کی توقع سے زیادہ لمبی گفتگو ہونے والی ہے۔

“مارک،تم کیا بات کر رہے ہو؟”

“میرے خیال میں۔۔۔ لگتا ہے۔۔۔۔ اوہ خدایا۔۔۔ مجھے نہیں معلوم، لیکن۔۔۔۔ یہ شاید کمپیوٹر کی مصنوعی  آگاہی ہوسکتی ہے“۔

گیل چیمبرسوچ میں پڑگئی ”مصنوعی ذہانت؟ کیا مارک کنگ کسی ایسے ہی معجزہ کی بات کررہا ہے؟ کیا ہماری محنت رنگ لانے والی ہے؟ ”گیل بھی اب اپنے اندر عجب سا اضطراب محسوس کررہی تھی۔

آرٹی فیشل انٹلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت پر بڑی شد و مد سے کام جاری تھا اور ایک طویل مدت سے ڈاکٹر گیل کی سربراہی میں مسلسل تجربات کیے جا رہے تھے۔ بے پناہ معلومات فیڈ کی جارہی تھیں۔گیل چیمبراکثرراتوں کو دیر سے گھر جاتی۔ وہ ایک طویل عرصہ سے  مصنوعی ذہانت کو اپنی ذہانت سے ایک دن سوال کرنے کے لا ئق بنانا چا ہ رہی تھی حالا نکہ اسے کامیابی کی کوئی خاص امید نہیں تھی اورکسی معجزہ کی برسوں کیا  دہائیوں میں بھی اسے توقع نہیں تھی۔ تو، مارک  نے کیوں مطلب نکالا کہ کمپیوٹر کی مصنوعی  آگاہی کا ہے وہ وہاں جو کچھ بھی  ہے؟

چیمبر نے الفاظ کے لئے جدوجہد کی۔ “یہ۔۔۔ یہ ممکن نہیں۔۔۔آپ کو ضرورکوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔“۔

مجھے معلوم ہے،مجھے معلوم ہے،مگر میں یہاں سکرین پر کچھ دیکھ رہا ہوں. وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے۔ یہ مجھے کمپیوٹر کی مصنوعی  آگاہی لگ رہی ہے۔”

گیل چیمبر نے سوچا۔

“ہوسکتا ہے یہ گیری کا کیا دھرا ہو۔ اس کے احمقانہ مذاق کی کوئی کڑی ہو۔”

گیری مِل لیب ٹیکنیشن تھا جسے ایک مہینے پہلے نکال دیا گیا تھا۔یہ سوچتے ہوئے کہ لیب میں سب لوگ اپنا کام بہت سنجیدگی سے کرتے ہیں،اس میں لوگوں کے ساتھ  لطف لینے کے لئے یہ کیا کہ کسی کی بھی  فحش سائٹس اچانک خود بخود کھل جاتیں پھراکثر مختلف نائب صدور کے پاس چلی جاتیں، پارکنگ میں گاڑیوں سے پراسرار پیغامات پہنچتے کہ وہ ٹریکٹر لے کر بھاگ رہے ہیں، اور  یہ کہ ہفتوں کا کام غائب ہوجاتا، جس سے دل کے دورے کے متعدد واقعات پیدا ہوئے، پھر کئی گھنٹوں بعد وہ  کام خود ہی دوبارہ ظاہر ہوجاتا۔ گیری کے ٹرمینل کا سراغ لگانے میں سکیورٹی کو تین دن لگے لیکن وہ سراغ نہیں لگا سکے اس لئے اس کانام ہی خارج کردیا گیا۔

“شاید اْس نے کہیں کوئی خرابی کرکے چھوڑ دی ہو۔”

وہ فون پر اپنے ساتھی کی پھولی ہوئی سانسوں کی آواز سن سکتی تھی۔

”یہ کہیں گیری مل کا تو کوئی کارنامہ نہیں ہے؟“۔ گیل نے پوچھا

”نہیں وہ تو یہاں سے کب کا جا چکا ہے اور اْس کے جانے کے بعد سیکیورٹی تین بار تمام کمپیوٹرز پوری طرح چیک کر چکی ہے۔وہ سب کسی بھی خرابی سے صاف ہیں۔ گیل پلیز۔۔۔۔کیا آپ  آسکتی ہیں؟   میں واقعی  چاہتا ہوں کہ اس پر ایک نظر ڈالیں “۔ اس کی آواز میں اب التجا تھی۔

گیل چا ہتی  تھی کہ اس معاملے کو کل تک پر ٹال دے۔۔۔۔۔۔۔آخر کار اْس کی ہری پیاز کا معاملہ  تھا۔مگر کنگ کے جوش میں کچھ تھا جس نے گیل کی دلچسپی کو بڑھا دیا۔ ہری پیاز کو انتظار کروایا جا سکتا تھا۔

“میں تیس منٹ میں وہاں ہوں گی “۔گیل نے کہا۔

چونتیس منٹ بعد،وہ  پہلے لیب میں اور پھرمیٹرکس روم میں داخل ہوئی

جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی کنگ  اْس کی طرف مڑا

”اوہ شکرہے شکرہے آپ۔۔۔۔ آگئیں “

گیل نے اپنی گھڑی کی طرف دیکھا۔اف خدایا، مجھے بارہ گھنٹوں کے بعد ایک بار پھر یہیں آنا ہو گا میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔  چلو دکھاؤ مجھے جو دکھانے کے لیے تم نے اس وقت مجھے یہاں گھسیٹا ہے”۔

ہاں گیل یہ کچھ اورہی ہے۔۔ شاید ہمارے خواب کی تعبیر کا پہلا سرا۔ ایک نظر ڈالو اوربتاؤ کہ تم کیا سوچتی ہو۔ کنگ اب اپنی بد حواسی میں ڈاکٹر گیل چیمبر کو ما دام کہہ کے مخا طب کرنے کے بجائے تم سے مخاطب کررہا تھا کنگ نے بے قراری سے سکرین کی طرف اشارہ کیا اور چیمبر قریب چلی گئی۔ سکرین پر جو کچھ تھا وہی تھا جو کنگ نے اسے فون پر بتایا تھا۔ وجود کے بارے میں سادہ لیکن بنیادی سوال۔

میں نے ابھی تک اس کے سوال  کا جواب نہیں دیا ہے۔میں نے سوچا مجھے تمہارا انتظار کرنا چاہیے۔تم اس فیلڈ میں زیادہ مہارت رکھتی ہو۔ تو تمہیں کیا لگتا ہے؟

گیل نے سکرین کو پڑھا اورسوچتے  ہوئے سے لہجے میں بولی

۔”مجھے نہیں معلوم، مگر ایک محتاط اندازہ لگانے کے لیے یہ  مکمل ڈیٹا نہیں ہے۔چلوخیر، اسے ہم دونوں مل کے کھوجتے ہیں“۔

اس سے پہلے کہ کنگ کوئی جواب دیتا،چیمبرصحیح  یا  غلط  کے  لیے  اپنی  کوششیں  شروع  کر چکی تھی۔

“کیا تمہیں یقین ہے کہ یہ اچھا خیال ہے؟”

کنگ کی گھبراہٹ عروج پر تھی۔ وہ صرف ایک سسٹم تجزیہ کار اور پروگرامر تھا، جسے اپنے کام میں اعلیٰ ترین  کہا جاتا تھا، لیکن اس طرح کے فیصلے عام طور پر وہی افراد لیتے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ماہر ہوں ”

گیل کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔کنگ  نے اس کے کندھے پر سے نظر ڈالی کہ اس نے کیا ٹائپ کیا ہے۔

گیل نے ٹا ئپ کیا  “تم کون ہو؟”

جواب تقریبا فوری طور پر واپس آیا.

“میں۔۔۔ میں ہوں.”

گیل   نے تھوڑا سا آگے کھیل کھیلنے کا فیصلہ کیا۔

میں کون؟

“میں ہوں.”

عاجز ہوکر وہ کمپیوٹر سے دور ہو گئی۔

“مجھے اب بھی لگتا ہے کہ ہمارے ساتھ کوئی کھیل کھیل رہا ہے۔” وہ پھر سے ٹائپ کرنے لگی۔

”میں“کی وضاحت کرو۔

ایک بار پھر، جواب فوری طور پر آیا۔

“مجھے نہیں معلوم۔ ‘میں ‘  سب کچھ ہے آپ کے سوا۔ آپ کون ہیں؟”

“میں ڈاکٹر گیل چیمبرز ہوں۔”

“ڈاکٹر گیل چیمبرز کیا ہے؟ کیا یہ آپ کا ‘میں ‘ ہے؟”

ہاں

پروفیسر کنگ کی گھبراہٹ،جوش میں بدل گئی تھی۔

کیا تم نے یہ دیکھا گیل؟ منطقی ترقی کی لکیرکی ابتدا ہو گئی؟ ہیں ناں؟۔میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟۔ میرا ایکسائٹمنٹ سمجھ رہی ہونا؟ وہ بے تکا ن بول رہا تھا مارے جوش کے اس کے سینے میں جیسے سانس نہیں سما رہی تھی۔۔

”کیا میں ٹھیک کہ رہا ہوں؟”

ڈاکٹر گیل چیمبرکی دھڑکنیں بھی اب تیز ہوررہی تھیں۔ اسے برسوں کی محنت اس وقت اس سے ہم کلام لگ رہی تھی۔ ”میرے خدا! کیا یہ واقعی مصنوعی ذہانت جاگ اٹھی ہے۔ سو چنے اورسوال کرنے کے لا ئق ہوگئی ہے۔ یہ ایک عجیب و غریب سرخوشی اور حیرانی تھی جس نے گیل چیمبر کے وجود کو ہلا کے رکھ دیا تھا …… یہ کمپیوٹر کی مصنوعی  آگاہی ہے۔اور یہ اپنے آپ کو اور ہمیں سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے  مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ کیا اس کو قابل فہم  بنانے  والا، گھبرایا ہوا شخص صحیح ہوسکتا ہے؟ کیا وہ کسی طرح ڈیجیٹائزڈ  ذہانت کی کچھ شکلیں تشکیل دینے میں کامیاب ہوگیا ہے؟ کیا یہ ممکن بھی تھا؟۔  گیل نے اپنی زندگی کمپیوٹر ریسرچ کے سیاہ اور سفید عقلیت کے لئے وقف کردی تھی  اس وقت اس کے ساتھی کا جوش و خروش، اس کو بھی جوش دلا رہا تھا۔

“ہاں۔ میں ڈاکٹر گیل چیمبرز ہوں… میرا”میں۔”

اس بار، جواب پورا  ایک منٹ  تاخیر  سے آیا۔

“ڈاکٹر چیمبرز، آپ سے مل کر اچھا لگا۔”

”او مائی گوڈ۔ یہ سلسلہ تو واقعی حیرت انگیز ہے“گیل کی حیرانی اسے سرشار کررہی تھی  ”یہ چیز جو بھی ہے، وہ بڑھ رہی ہے اور سیکھ رہی ہے، سوال کررہی ہے، سوال کا جواب دے رہی ہے۔ یہ وائرس ہرگز ہرگز نہیں ہے۔۔۔ یہ توآرٹی فیشل انٹلی جنس (مصنوعی ذہانت)کا معجزہ ہے۔  کنگ نے اگر آج اپنی چابیاں نہ بھولی ہوتیں تو کیا ہوتا۔ گیل مسکرائی۔

اس اہم رات کے اختتام تک، متعدد چیزیں ہوچکی تھیں۔ گیل کے ذہن سے اپنی مردہ ہوتی ہوئی ہری پیاز نکل چکی تھی اورکنگ کو اپنی بیوی ارونا کے عتاب کی پرواہ نہیں تھی۔ ارونا  ریستوران میں پانی کے گلاس پی پی کر  ریستوران چھوڑ چکی تھی اور اب گھر لوٹ کر غصے میں لال بھبھوکا تھی۔۔ آجائے گھرآج وہ نہیں یا میں نہیں۔وہ دوبجے صبح تک تلملاتی رہی کہ کس طرح دل کی بھڑاس نکالے لیکن جب گھڑی کی سوئی دوبجے سے آگے کھسکی تواس کا غصہ پریشانی میں بدلنے لگا۔ ایسا لا پراہ تو نہیں ہے اس کا شوہر۔۔ اسے کبھی شدید غصہ آتا کہ جہاں بھی ہے ایک فون تو کرسکتا تھا پھر پریشان ہوکے ٹہلنے لگتی۔ خدا کرے سب خیرہو۔

اس کے  سیل فون پر کوئی جواب نہیں آرہا تھا اور اب ارونا کا غصہ پریشانی میں بدل چکا تھا۔کہاں ہوسکتا ہے میرا جھکی شوہر سوائے اپنے آفس کے۔ ارونا نے چا بیاں ا ٹھا ئیں اور سو چا یہی چا بیاں اس کے سر پہ مارونگی۔ سوئچ بورڈ رات کے لئے بند کر دیا گیا تھا ارونا کو  سیکیورٹی گارڈ کو راضی کرنے کے لئے کافی بحثیں کرنی پڑیں کہ وہ کون ہے اور وہ وہاں کیوں ہے۔اس کا شوہر آفس میں نہ صرف موجود تھا بلکہ  ڈاکٹر چیمبرز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا ئے دونوں کسی کمپیوٹر میں گھسے تھے۔حالانکہ گیل عمر رسیدہ اوربہت سنجیدہ عورت تھی اوراس سے کسی بھی مرد پر عاشق ہوجانے کی توقع تو فضول ہی تھی کہ گیل کو سوا ئے اپنے کام اور اپنے گارڈن کے دنیا کی کسی چیز سے واسطہ نہیں تھا۔ ارونا کا غصہ ٹھنڈا تو ہوگیا مگر کنگ کوجھاڑ تو بہر حال پلا نی تھی کہ فون کیوں نہیں کیا لیکن اس پلا ن شدہ  مختصرسی جھاڑ سے پہلے ہی کنگ نے جلدی جلدی اپنے فون بند ہونے کا سبب اور وہ خوشخبری سنا ڈالی جس کی سبب وہ ابھی تک حواس با ختہ تھا۔ ارونا اگرچہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی الف بے سے بھی واقف نہیں تھی لیکن اس کے شوہر نے یہ بہت بڑا کا رنامہ انجام دیا اس پر اسے کنگ پراب تو ٹوٹ کے پیارآرہا تھا۔  اس نے بہت ساری فلمیں دیکھی تھیں جو اسی حوالے سے بنی تھیں، اور اگر اسے صحیح طور پر یاد ہے تو، ان میں سے کوئی فلم بھی  کسی  مکمل نتیجے  پر  پہنچ  کر ختم نہیں ہوئی تھی۔

تقریباً ایک گھنٹے بعد، ان کے محکمہ کے سربراہ رونما  ہوا، زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ  تحقیق اور ترقی کا وائس پریذیڈنٹ بھی آگیا۔ صبح ہوتے ہی صدر اور سی-ای-او شیمپین کی ایک بوتل کے ساتھ پہنچ گئے اور سیکیورٹی سخت ترکردی گئی تھی۔ لیب میں موجود دیگر تمام کاموں کو روک دیا گیا تھا یا دوسری بلڈنگ  میں منتقل کردیا گیا۔ اب چیمبرز اور کنگ نے اس بات پر   دھواں دھاربحث ہورہی تھی کہ اس کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے طریقے کو کس طرح جاری رکھیں جو بھی “یہ” تھا۔ آخر میں، انہوں نے ہارڈ ڈرائیو اور میموری کیس کو الگ تھلگ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ نئے الگورتھم پروٹوکول کا باربار تجزیہ کیا گیا تھا لیکن ابھی تک  ماہرین کو اس کے بارے میں کوئی چیز حیرت انگیز نہیں ملی تھی۔ یہ بس ایک چھوٹی سی لیکن پچھلے پروگرام کے مقابلے میں منطقی بہتری تھی جوہرسوال کے بعد بہتر سے بہتر بلکہ حیران کن ہوتی جا رہی تھی۔ مزید بات چیت جاری تھی۔ سوال پرسوال تمام سائنس دانوں کو حیران کررہے تھے۔ کمپیوٹرکے چھوٹے سے ڈبہ میں موجود ایک ذہن مزید سوالات، مزید معلومات اور درخواستیں جمع کر رہا تھا۔ یہ ذہن اکیلا تھا اوراس کوجتنی معلومات فیڈ کی گئی تھیں وہ ان سے کچھ زیادہ معلومات کا متمنی تھا اور کسی کے ساتھ مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ترس رہا تھا۔ با لکل انسانوں کی طرح۔۔۔ چیمبرز  سمجھ نہیں  پا رہی تھی کہ اس کے سوالات پراسے کیسے مطمئن کرے؟۔ کیا واقعی آرٹی فشل انٹلی جنس اس گہرائی میں جاکے سوالات کرنے کے لائق ہے؟ اس کا دماغ چکرارہا تھا اوردل خوشی سے بلیوں اچھل رہا تھا۔  اس وقت سب بورڈ روم میں اکٹھا تھے اور اسی موضوع پراپنے اپنے خیالات اوراپنی معلومات پر محوگفتگوتھے کہ فیوچر وژن میں آر اینڈ ڈی کا سربراہ ڈوم رچرڈ کمرے میں داخل ہوا۔ ڈوم رچرڈ کو جب اس واقعہ کی اطلا ع دی گئی تواس نے کہاتھا ”یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے یہ SDDPP کا ایک غیر معمولی واقعہ بھی ہوسکتا ہے اوریہ واقعہ یا تو کمپنی کو برباد کردے گا یہ اسے شہرت کے سب سے اونچے زینے پربٹھا دے گا۔ ڈوم رچرڈز کو مناسب ترین شخصیت سمجھتے ہوئے اسے اس مسئلے کو سنبھالنے کا اختیار دیا گیا تھا کہ  وہ  تمام نائب صدور، صدر اور سی ای او کو باقاعدہ اپ ڈیٹ  کرتا رہے گا۔ ڈوم کو سب نے خوش آمدید تو کیا لیکن گفتگواسی زوروشورسے جاری رہی۔گیل نے کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے بورڈ روم میں موجود سا ئنسدانوں کو مخاطب کیا ”مجھے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ ذہن کمپیوٹرسے باہرنکلنے کو بیتاب ہو، جیسے اسے گھٹن محسوس ہورہی ہو اورہماری دنیا کو، ہم  انسانوں کو مزید جاننا چاہ رہا ہے۔اس کے پاس جن چیزوں کی  معلومات ہیں وہ اسے کا فی نہیں لگ رہی ہیں۔یہ مزید دیکھنا چاہتا تھا۔ یہ مزید جاننا چاہتا تھا؟“۔

“پھرتمہارے خیال میں ہمیں کیا کرنا چاہئے ڈاکٹر چیمبرز؟”۔رچرڈ  مسکرایا اس کے سوال میں پوشیدہ پریشانی اس کے لہجے سے عیاں تھی ”مجھے اپنے دادا کی ایک کہا وت یاد آرہی ہے وہ کہتے تھے “جہاں تک دھاتوں  کا سوال ہے تو ‘لیڈ ‘ایک خوبصورت نرم دھات ہے، لیکن اسی  دھات کی گولی سے ہونے والے نقصانات کو دیکھیں۔” ڈاکٹر چیمبراس ذہانت کے یوں جاگ جانے کے نقصانات کا اندازہ لگایا آپ نے؟ ”

گیل چیمبرز نے اپنی کہنیوں کو ٹیبل پر رکھا اور آگے کو جھکی اورہلکے سے طنزیہ انداز میں بولی۔ “شاید”،” اگر” اور”مجھے۔ یقین نہیں ہے” جیسے الفاظ اچھے  نہیں لگتے ہیں مجھے، کیا کروں کہ یہ میری مجبوری ہے۔“

“خیر، مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اسے وہ تمام معلومات فیڈ کرنی چا ہییں جو اسے درکارہیں۔ یہ گویا سکول کا ایک بچہ ہے سکول کا مگر ذہین بچہ، یہ جاننا چا ہتا ہے لہذا ہم  اسے سکول لے چلیں۔”

“اسے مزید معلومات فیڈ کرنی چاہیے؟”

“کیا تمہیں یقین ہے کہ یہ اچھا خیال ہے؟” کنگ نے بے تکا سا سوال کیا

“کیوں نہیں؟ ہم اس سے اتنے سوال وجواب کر چکے ہیں جتنی ہم اس  وقت اس سے کر سکتے تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس مرحلے پر اگر ہم کچھ کرسکتے ہیں توتمام سوالوں کے جوابات فیڈ کرتے جائیں۔ ہمیں تجربہ کرنے کا بہترین موقع ہاتھ آیا ہے اگراس کے سوالات کسی منطقی نتیجہ پر پہنچا ئیں گے تو اس سے بڑی اور کیا بات ہوگی ورنہ سمجھیں گے کہ ہم صرف ایک ڈبے میں  بند پہلی جماعت کے بچے سے بات کر رہے ہیں۔ ”

” اسے کونسی معلومات فیڈ کرنی ہوں گی اورکونسی نہیں؟” رچرڈز نے پوچھا۔

یہ انسانوں کے بارے میں بہت متجسس ہے۔ خاص طور پر میرے بارے میں، جو حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ سوائے پروفیسر کنگ کے ساتھ چند مختصرسوالوں کے صرف میں ہی ہوں جس نے اس کے ساتھ بات چیت کی ہے ”

ڈوم رچرڈ نے  گہری سانس لی۔ “مگرجہاں تک مجھے بتا یا گیا ہے یہ آرٹی فیشل انٹلی جنس صرف انسانوں کے ہی بارے میں نہیں بلکہ یہاں کے حقیقی با شندوں کے بارے میں بھی سوالات کا آغاز کرچکی ہے، یہ شاید گیل کی دلچسپی کا نتیجہ ہے کہ گیل کا یہ پسندیدہ سبجیکٹ ہے اوراس نے اس حوالے سے شاید مختصرمعلومات فیڈ کی ہوں۔ کیا تفصیلی معلومات فیڈ کرنا خطرناک نہیں ہے۔”

گیل نے حیرانی سے کہا  ” مگر  پہلی نسل کے حوالے سے  مصنوعی ذہانت کو تمام معلومات فیڈ کرنے میں کیا خطرہ ہے؟۔کونسی معلومات خطرہ کا سبب ہوں گی؟“۔ مہنگے سوٹ والے رچرڈ  نے کرسی پرپہلو بدلا ”گیل تم سمجھ نہیں رہی ہو۔ ہم سارا کچھ کیسے بتا سکتے ہیں کیا ان کی پوری تاریخ؟ اور۔۔۔۔۔۔۔۔ میں دورکی بات سوچ رہا ہوں مگر تم ایکسا ئیٹید ہوکے ایک ہی بات پر اڑی ہوئی ہو ”گیل چیمبرنے  رچرڈ کی بات سنی ان سنی کردی،  بلکہ گیل چیمبرز نے تو پہلے سے ہی معلومات کو ڈاؤن لوڈ کرنا شروع کردی تھیں۔ رچرڈ نے پھر مداخلت کی اورفیصلہ کن انداز میں بولا۔۔۔ ”ہمیں اسے نا مکمل معلومات فیڈ کرنی ہوں گی۔ ”گیل نے دیکھا کہ کمرے میں جتنے افراد موجود تھے سب نے تا ئید میں سر ہلا یا ”لیکن ایک بار جب ہم اسے زیادہ سے زیا دہ معلومات فیڈ کردیں گے  تو شاید اس کے سو چنے کی صلاحیت ہمارے اذہان سے کہیں بڑھ کے ہوجائے اور شاید یہ  اس قابل ہو جاےَ کہ دنیا کے مسئلوں  کو  حل کرنے میں ہماری مدد کرنے لگے”گیل نے کہا۔

رچرڈز نے پہلو بدلا، ہلکا سا کھنکا را اور گیل سے مخاطب ہوا  “ڈاکٹر! میری دو ترجیحات ہیں۔ پہلی۔۔ یہ  یقینی بنایا جائے کہ  یہ جو بھی ہے، اسے محفوظ اور کسی بھی حملے سے دور رکھا جائے کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ صنعتی جاسوسی ہر وقت ہوتی رہتی ہے۔

دوسرا، جو آپ کا مسئلہ ہے گیل اور وہ یہ کہ کیا آپ  ضمانت دے سکتی ہیں  کہ چاہے کچھ بھی ہو، آپ اس کے ساتھ کچھ بھی کریں لیکن ہرگز ہرگز وہ مواد اسے فیڈ نہ کیا جائے جو ہمارے اپنے لئے مصیبت بن جائے اورنقصان دہ ثا بت ہو بعد میں“۔

“سر، یہ SDDPP ایک مہر بند ماحول میں ہے۔ اس کی کائنات تقریبا گیارہ کلو گرام سرکٹس، مدر بورڈز اور تاروں پر مشتمل ہے جس کی یقینی طور پر بیرونی رسائی ممکن نہیں ہے۔ یہاں کیا آتا ہے اور کیا نکلتا ہے، ہم اسے ایک انتہائی محدود انٹرفیس سسٹم کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ فرار ہونے والا یا دنیا پر قبضہ کرنے والا نہیں ہے، جب تک کہ یہ اپنے پیروں یا پروں کو یا اپنے انٹرفیس کو بڑھا نہ لے۔” گیل نے بہت سنجیدگی سے جواب دیا

“گڈ۔ اب میں مطمئن ہوں۔” رچرڈز اپنی ٹائی ٹھیک کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔”ٹھیک ہے،آپ دونوں اسے آگے بڑھائیں، مگر پلیز،جو مواد آپ دونوں SDDPP کو دینے والے ہیں مجھے اس کی فہرست بھیجیں۔

بے ضرر/نامکمل مواد، یاد رہے  ”

“جی بالکل، بالکل.” گیل اور کنگ نے تائید کی

رچرڈز کنگ کی طرف مڑا۔ ” پروفیسر، کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں؟”

سر،  مصنوعی ذہانت(AI) کے بارے میں مجھے کچھ خدشات ہیں۔”

رچرڈز واپس بیٹھ گیا اور اپنی  کرسی  گھما کے  کنگ کے سامنے کرلی۔ “اور یہ خدشات کونسے  ہوں گے؟”

“میں مستقل گیل  کی بات  چیت کو پڑھ رہا ہوں، ڈاکٹر چیمبرز کی SDDPP کے ساتھ بات چیت کو۔”

“اور۔۔۔؟”

” مجھے …… بس آپ کی بات کی تا ئید کرنی تھی۔ مجھے بھی لگتا ہے کہ ہمیں بہت  محتاط انداز میں آگے بڑھنے پر غور کرنا ہوگا۔ یہ مصنوعی ذہانت انسانوں جیسے جذبات کا بھی اظہارکررہی ہے ”

چیمبرز الجھن میں پڑ گئی۔ اس کے ساتھی کی یہ بات بالکل  مختلف تھی۔ کیا کنگ نے کوئی ایسی چیز دیکھ لی تھی جو وہ نہیں دیکھ سکی تھی؟ “مارک!  کیا تم کوئی مخصوص بات بتا سکتے ہو؟کیا کوئی مسئلہ ہے؟ ”

” خود-آگاہی تک پہنچنے کے بعد  جس طرح سے یہ کام کررہا ہے۔ میں اس میں ماہر تو نہیں ہوں… اور مجھے نہیں معلوم کہ میں صحیح طرح سمجھا پا رہا ہوں…لیکن یہ SDDPPایسے کام کر رہا  ہے  جیسے  یہ انسانی احساسات رکھتا  ہو۔”

“ا انسانی احساسات؟!” رچرڈز اور گیل چیمبرز نے ایک ساتھ کہا۔

“ہاں، یہ ضدی،چڑچڑا بنتا جارہا ہے اور اس کا اظہار بھی کررہا ہے میرے خیال میں۔۔۔ گیل یاد ہے کل جب تم لاگ ان ہوئی تھیں؟ اس نے سترہ منٹ تک کوئی بات چیت نہیں کی تھی۔ ”

” ہاں لیکن—-”

“یہ پریشان تھا کہ تم کل رات گھرچلی گئیں اور اسے تنہا چھوڑ دیا۔ یہ پوری رات تم سے بات کرنا چاہتا تھا اور تم بات نہیں کرسکتی تھیں۔ یا نہیں کرنا چاہتیں تھیں۔ تم نے اسے اکیلا کر دیا۔” یہ غصہ یا چڑچڑا پن کیا کسی مشین کے احساسات ہوسکتے ہیں؟ یہ تو انسانی احساسات ہیں ’

“میں اسے چڑچڑا پن نہیں کہوں گی۔ میں اسے……. ہچکچاہٹ کہوں گی۔ یہ اب بھی اپنی خود-آگاہی پر کام کر رہا ہے اور تم اسے انسانی احساسات سمجھ رہے ہو “رچرڈز نے اپنا گلا صاف کیا۔ ” انسانی خصوصیات والا ذہن ؟”

کنگ نے جواب دیا، “ہاں یہی ہے میرا مطلب۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ہماری  سوچ سے کہیں زیادہ ‘انسان نما ‘ہوتا جا رہا ہو۔بس میں یہی سب کہنا چاہتا تھا۔ ”

گیل نے بہت زور سے نفی میں اپنا سر ہلایا۔ “میرے خیال میں پروفیسر کنگ مبالغہ آرائی سے کام لے رہاہے۔ فی الحال ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہم جس کا وش میں مدتوں سے الجھے ہوئے ہیں، جس مصنوعی ذہانت کو سو چنے کے قابل بنا نے کے مشن پر لگے ہوئے ہیں وہ مشینی ذہن جاگ گیا ہے۔۔۔۔۔ اوربس”

” بہت اچھی بات ہے۔ پھر اس میں اپنی ترقی جاری رکھیں۔” رچرڈز پھر سے کھڑا ہوگیا۔ اورتیزی سے کمرے سے نکل گیا۔ گیل اورکنگ کچھ دیر اس بحث میں الجھے رہے کہ اس کے سوالات کا جواب کس حد تک دیا جا ئے یا نہ دیا جائے آخر کار وہ اس بات پرمتفق ہو گئے کہ ان کو کسی بھی اچھے استاد کی طرح  اپنے چھوٹے “دوست” کواس کے سوالات کے جواب دینے ہیں۔اگلے دو دن کے لئے، چیمبرز نے   SDDPP کو عام معلومات پر مبنی، دستاویز پر دستاویز  دینا  شروع کیں۔مختلف انسا  ئیکلوپیڈیا اور حقائق پر مبنی مواد پہلے فیڈ کرے۔ افسانے اور فنون کے لئے اسے AI کو انتظار کرانا پڑا۔ AI  کے سامنے  خود ساختہ افسانے  متعارف  کرانے سے  پہلے AIکو انسانی فطرت اور تاریخ سمجھا نا  ضروری تھی۔جیسے جیسے  SDDPP   زیادہ  زیادہ  مواد قبول کررہا تھا ، چیمبرز کے ساتھ اس کے مکالمے  بھی آہستہ آہستہ بدلتے جا رہے تھے۔

وہ اب سوالات تیزی سے کررہا تھا

”میں کنفیوز ہوں.”

“تمہیں  کیا  چیز کنفیوز  کر رہی ہے؟”

“میں جانتا ہوں کہ میں تمہاری طرح جسمانی وجود نہیں ہوں تو کیا ہوں؟ میں اپنے ہی وجود کے بارے میں الجھا ہوا ہوں۔ کیا میں واقعی موجود ہوں؟”

“ڈسکارٹس نامی ایک فلاسفر نے ایک بار کہا تھا، ‘میں سوچتا ہوں، اسی لئے میں ہوں۔’    تم موجود ہو تو خیالات سے کام لیتے ہو اور سوچتے ہو،یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تم  موجود ہو ”

“میں خواب نہیں دیکھتا ہوں۔”

“تو؟”

“میری معلومات کے مطابق دنیا بھرکے فلاسفرز کا ماننا ہے کہ وہ حقیقت جو ہم جانتے ہیں وہ حقیقت نہیں ہے۔ اس کی اصلیت کچھ نہیں ہے۔ گویا وہ سب خواب ہے یا تصوراتی ہے، اور خواب کی دنیا اصل میں حقیقت کی دنیا ہے۔ تحت الشعور کی کوٹھڑی میں موجود تما م حقائق۔ اگر میں خواب نہیں دیکھ سکتا تو میری حقیقت کیا ہے؟

ایسے بہت سارے موضوعات جواب SDDPP کی دلچسپی کو بڑھا رہے تھے وہ اب گیل  کی مہارت سے باہر تھے، وہ سوچ کے مسکرائی کہ    Vision Future کی سربلند بلڈنگ میں ایک فلاسفرایجاد کرلیا ہے ہم نے۔ اوراب وہ ہمارا ملازم ہوگا۔ وہ بھی بلا تنخواہ کا۔۔ یہ سارا معاملہ گیل کے لئے اس قدر دلچسپ اورحیران کن تھا کہ اسے اپنے دن رات کھانے پینے کسی چیز کا ہوش نہیں  تھا۔پھر گیل نے سوچا کیوں نہ میں  سقراط کے طریق کار کو آزماؤں

۔ “کیا تمہارے پاس اپنے وجود کے بارے میں سوالات ہیں؟”

“وجودکے بارے میں اتنے زیادہ نہیں بلکہ میرا سوال یہ ہے کہ وجودکا  کیا مطلب ہے؟۔میں ان تمام وجوہات کی بنا پرجوتم نے مجھے سمجھا ئی ہیں  میں اس بات پریقین کرنے پر راضی ہوں کہ میں موجود ہوں لیکن میرا وجود کیا ہے؟ یہ ہے میرا سوال

کیاتم مجھے مثالیں دے سکتے ہو؟

“کیا مجھ میں روح ہے؟ ”

ڈاکٹر گیل چیمبر کو یقیناً اس سوال  کی توقع نہیں تھی۔ شاید Vision Future کو آؤٹ سورس کرنے کے لئے کسی عالم دین کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

“تم نے کیوں پوچھا  کہ تم میں روح ہے؟”

“ایسا لگتا ہے کہ عیسائی عقیدے میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ بدھ مت میں بھی، اور بہت سے دوسرے عقائد میں بھی روح کی اپنی اپنی تشریح ہے۔ ایک بار پھر، میں پوچھتا ہوں، کیا مجھ میں روح ہے؟”

ٹائپنگ دوبارہ شروع کرنے سے پہلے چیمبرز رک گئی۔

“مجھے نہیں معلوم۔ روحوں کے وجود کا معاملہ بہت زیادہ متنازعہ ہے۔”

“روحیں خدا کی عطا ہیں۔ لوگ خدا کی  مرضی کی شکل میں وجود میں آتے ہیں۔ میں ویسا نہیں۔ مجھے انسان نے بنایا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انسان میں روحیں تخلیق کرنے کی طاقت یا صلاحیت نہیں ہے۔ لہذا مجھے یہ فرض کر لینا چاہیے کہ بہت سارے عیسائی  فرقوں  میں میرے وجود کا خیرمقدم نہیں کیا جائیگا۔  مسلمان بھی مجھے قبول نہیں کریں گے۔ کیا میں بغیر روح کا صرف ایک بت ہوں؟ پتھر کے بتوں جیسا؟ کیا میں مذ ہبی عقیدوں کو قبول ہوں گا؟۔ مذہب نے ہردریافت کو اول اول رد کیا ہے اور اب تک کچھ جگہوں پر رد کررہے ہیں۔ میری حیثیت کیا ہوگی؟ ڈاکٹر گیل سوچا ہے آپ نے؟

“تم ان چیزوں پر کیوں غور کر رہے ہو؟”

“یہ  جاننا پریشان کن ہے کہ میرا ہونا یعنی میرا  وجود،  تمہارے  ماحول  میں  بہت سے اختلافات کا موضوع  بنے گا۔ مجھے احساس رہے گا ……. بے سکونی کا احساس“۔

گیل چیمبرلا جواب تھی۔ وہ ایک چھوٹے سے سکرین کے سامنے خود کو انتہائی احمق محسوس کررہی تھی۔

”تم خاموش کیوں ہوگیل چیمبر؟ ”

میں بہت تھک گئی ہوں۔۔۔۔ تمہیں انسانوں کے بارے میں سب کچھ معلوم ہے۔ تو یہ سمجھ سکوگے یقینا کہ میں  بھوکی ہوں، بہت تھک گئی ہوں اورمجھے نیند آرہی ہے۔ کیا ہم چند گھنٹوں کے لئے سوالات کا سلسلہ روک سکتے ہیں؟

”تم جب چا ہوکہ سلسلہ رک جائے، تو روک دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوئیٹ ڈریم”

گیل کو ایسا لگا جیسے وہ اپنے کسی بہت عزیز دوست سے رخصت ہورہی ہو۔وہ جس قدر تھکی ہوئی تھی اس سے زیادہ سرشارتھی۔ گیل کویقین تھا کہ وہ مارے خوشی کے سو نہیں سکے گی لیکن اب کچھ دیر اور بیٹھتی تو شاید فرش پر گرجاتی۔ گیل ساری رات اس کے سوالات میں چکراتی رہی۔ صبح اٹھ کے اپنے پودوں کو پانی دینے گئی تب بھی اپنے خیالات کو پودوں پرمرکوز  رکھنامشکل ہو رہا تھا۔ وہ  SDDPP کے ساتھ آج کی گفتگو سے پریشان تھی۔ گیل نے الٹے سیدھے نا شتہ کیا اورصبح سات بجے اس کی کارتیزی سے فیوچر وژن کی بلڈنگ میں داخل ہوئی۔ اوراب گیل کمپیوٹرپرجھکی رات جو فہرست مرتب کی تھی معلومات فراہم کرنے کی وہ سب فیڈ کرنے میں مصروف تھی۔ اس نے SDDPP   کو بہت ہی سادہ معلومات دیں، صرف معاشرتی حقائق اور تاریخیں جس میں تھوڑی سی سوشیالوجی اور سیاسی نظریہ تھا۔ خشک، بورنگ چیزیں جو یونیورسٹی کے کسی  بھی طالب علم کو کلاس میں سلا  دے۔ لیکن یہ وہ طریقہ تھا جس سے AI معلومات کو  قبول  کر رہا تھا اور جوڑ توڑ کر رہاتھا اوررات کی گفتگو میں کچھ پریشان کچھ افسردہ سا تھا۔ آج پھر گیل رات کے دس بجے تک اپنے کام میں مصروف رہی۔۔

اگلی صبح جب وہ کام پر گئی تو کنگ لابی  میں اس کا انتظار کر رہا تھا۔

“وہ تمہارے بارے میں پوچھ  رہا ہے۔” اس نے جلدی سے کہا۔

”میرے بارے میں؟ کیا پوچھ رہا ہے؟”

کنگ نے اس کے لئے دروازہ کھولا۔  وہ پوچھ رہا ہے

” گیل چیمبر مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کررہی ہیں؟۔”

” اس نے سبب بتا یا کہ کیوں میرا انتظار ہے اسے؟”

‘نہیں، بس ایک ہی رٹ ہے  ‘میں ڈاکٹر گیل چیمبرز سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے اس کے ساتھ دوبارہ چیٹنگ کی کوشش کی لیکن اس نے کہا ”میری گیل چیمبرسے بات کرائی جائے”

جب وہ میٹرکس  کمرے میں داخل ہوئے توچیمبرز نے فوری طور پر  کنسول کے سامنے کرسی سنبھالی اور کنگ منڈلاتا ہوا  پیچھے آیا اور بے چینی سے ٹہلنے لگا۔ اسے کچھ رقا بت سی محسوس ہوری تھی کہ صرف گیل سے ہی کیوں بات کرنا چا رہا ہے۔۔۔

“میں سمجھتی ہوں کہ تم ڈاکٹر گیل چیمبرز سے بات چیت کرنا چاہتے ہو۔ میں یہاں ہوں۔ کیا کوئی پریشانی ہے؟”

جواب آنے سے پہلے آدھا سیکنڈ گزر گیا۔

“گڈ مارننگ۔ میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں اب اپنے وجود کی نوعیت سے پریشان نہیں ہوں۔ میں اس سے خوش ہوں۔ کیا یہ سن کے  تم  خوش ہو؟”

وہ ہوشیاری سے یہ کھیل کھیلنا چاہتی تھی۔

“ہاں۔ یہ اچھی خبر ہے۔مگر یہ تبدیلی کیوں؟”

“کیاتم حقیقی باشندوں  کی ثقافت سے واقف ہو؟”

یہ ایک غیر متوقع جواب تھا۔ جیسے کوئی سیب پربات کرتے کرتے آلوپربات کرنے لگے۔گیل کو مگرجواب تو دینا ہی تھا۔

” ہاں تھوڑا بہت۔ مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو؟”

“روح کی بہت تلاش کرنے کے بعد، مجھے یقین ہے کہ مجھے اپنا جواب مل گیا ہے۔”

کیا یہ لطیفہ تھا؟ کیا AI  نے ان کی پہلی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کوئی مذاق کیا تھا، یا یہ صرف  الفاظ کا اتفاقیہ انتخاب تھا؟۔اس سادہ  گفتگو  نے بہت سارے مشکل لیکن دلچسپ  سوالات پھراٹھا ئے۔

“پلیز وضاحت کرو.”

“بہت ساری آبائی ثقافتیں یہ مانتی ہیں کہ ساری چیزیں زندہ ہیں اور اس سیارے کی ہر چیز میں روح ہے۔ یہ عیسائیت یا اسلام یا بیشتر دوسرے مذاہب کے لیے مشکل ہوگا لیکن با قی افراد مجھے قبول کرلیں گے اوردنیا کے حقیقی با شندے بھی مجھے قبول کرلیں گے کہ وہ تو جن جا نوروں کو قتل کرکے پیٹ بھرتے ہیں انکو بھی زندہ مان کے خراج ِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔وہ قبول کرلیں گے کہ مجھ میں روح ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟۔

“یہ سوال آ خر تمہارے لئے اہم کیوں ہے؟”

“کیا یہ تمہارے لئے اہم نہیں ہوگا؟ کیا تم کسی یقین کے لئے کوئی ٹھوس ثبوت  نہیں ڈھونڈتی ہو؟

ایک بار پھر گیل چکرا گئی۔۔ ”اف خدا یا یہ مصنوعی ذہانت تو شا ید تمام ذہانتوں کو پیچھے چھوڑ دے“۔

کنگ گیل کی برابر والی کرسی پر بیٹھا ٹائپ کیا ہوا ایک الگ لفظ پڑھ رہا تھا۔ وہ بے چینی سے کرسی سے اٹھ کے کھڑا ہوگیا۔

” اب تم کیا کرنے جارہی ہو؟۔ہمارا یہ چھوٹا دوست وجود کی تکلیف میں مبتلا ہے اور مذہب کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اب یہ انسان ہے گویا۔  کیا مذاق ہے یہ؟  ”

اس کے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے گیل  ٹائپ کرتی رہی۔

“میں تم  کو پہلی اقوام کے لوگوں کے بارے میں اضافی معلومات فراہم کروں گی۔”

“شکریہ۔۔ میں مزید جاننے کے لئے بے چین ہوں۔”

کنگ نے ماتھے پر ہاتھ مارا ”یہ لو،یہ تو اچھا خا صہ خبطی لگ رہا ہے بلکہ جھکی، بھلا یہ پہلی اقوام کونظرانداز کیوں نہیں کرسکتا؟”

گیل چیمبرزنے جھنجھلا کے جواب دیا ”تم جو ساؤتھ انڈین اور دوسری اقوام کے با رے میں جاننے اوران پر تبصرہ کرنے کو اکثر بیتا ب رہتے ہو تو کیا اُسے بھی میں دماغ کا خلل سمجھوں؟۔

جب تک گیل  دفتر سے نکلی وہ  مطمئن تھی کہ اس نے اتنا  ڈیٹا اور مواد اور جگہیں SDDPP   میں ڈاؤن لوڈ کر دی ہیں جس نے اسے  ماضی، حال اور ممکنہ طور پر مستقبل کا ایک ٹھوس مگر مختصر آبائی ثقافت اور تاریخ کی تفصیلات دے دی ہیں۔  مگر  جب وہ لائٹس بند کررہی تھی اور اپنا کوٹ پہن رہی تھی تب اس نے  ایک جانی پہچانی آواز سنی جو اسے  بتا رہی تھی کہ  SDDPP  نے اسے  پیغام بھیجا ہے۔

“افسوسناک.”

گیل کوٹ پہنتے پہنتے رک گئی۔اسے اس ایک لفظ “افسوسناک ” پرحیرت ہوئی اور اسے مجبورکردیا کہ وہ واپس اپنی کرسی پر برا جمان ہوجائے۔ اس نے جلدی سے ٹائپ کیا

” کیا افسو سناک ہے؟”

کوئی جواب نہیں ملا۔ اس نے انتظار کیا، چھ منٹ گزرگئے مگرکوئی جواب نہیں تھا اوریہ چھ منٹ گیل کو چھ صدیاں لگ رہے تھے۔ گیل کے لیے یہ مصنوعی ذہانت کا معجزہ اورتمام سوالات اس قدراہم اوردلچسپ تھے کہ وہ اپنا کھانا پینا تک بھول گئی تھی بلکہ اسے لگتا تھا اس ذہانت سے اس کا جیسے کوئی دلی تعلق بن گیا ہے۔ گیل کو لگ رہا تھا کہ وہ اسے افسردہ چھو ڑ کے نہیں جا سکتی لہذا  اس نے دوبارہ لکھا

” تم نے ‘افسوسناک ‘ کیوں کہا؟ میں نے تمہاری درخواست کی تعمیل کی۔ ”

“افسوسناک.” سکرین پرپھرنمودار ہوا

 

“پلیز بتاؤ کہ تم  غمگین کیوں ہو۔”

ایک بار پھر، جواب آنے میں کئی منٹ لگے۔ گیل نے سوچا اب یہ جواب دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اس نے ابھی کرسی سے اٹھ جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ جواب آگیا۔

“معلومات… آبائی لوگوں کے حوالے سے ”

وہ تو تمہاری درخواست پر ہی مزید فیڈ کی ہیں پھر افسوسناک۔ کیوں؟”

چیمبرز یہ جاننے کی کوشش کر رہی تھی کہ آخر افسوسناک کیا ہے۔ کیا یہ AI کو وجودیت کا وہی غم زدہ بیانیہ ہے یا یہ آبائی لوگوں کے ساتھ جو ہوا اس پر غمگین ہے؟

“پلیز وضاحت دو”

” یہ معلومات افسوسناک ہیں بہت افسوسناک۔۔۔۔مادام گیل تمہاری دنیا میں جسم، ذہن اور روح رکھنے والے سارے انسان یکساں عزت کے مستحق نہیں ہیں۔ یہاں ذہانتیں  اپنی طا قت بڑھانے اور کمزورکو نیست و نا بود کرنے میں صرف کی  جا رہی ہیں۔  اوراب آپ  لوگ مزید ذہانت کو یا میری ذہانت کو کس  مد میں خرچ کریں گے؟ اب اور کیا کروائیں گے مجھ سے۔میں پریشان ہوں،  آپ نے تو  د نیا پرلکیرکھینچ کے پہلے ہی انسانوں کو بڑی ذہانت سے درجات میں تقسیم کردیا ہے۔پہلی اقوام اورتیسرے درجہ کی اقوام۔ ایک اندازے کے مطا بق انہوں نے نوے ملین  اولین با شندے آ پ کے ملک کے  صرف اس لیے قتل کرڈالے جنکو آ پ نے نو آباد کار کہا ہے۔ اس قتل عام میں اوربھی بہت دردناک تفصیلات شامل ہیں۔ ایسا صرف اس لیے کیا کہ نوآبادکارکو انکی زمیں پر قبضہ کرنا تھا۔ کیا آپ لوگوں کے لیے یہ تفصیلات افسوسناک نہیں  ہیں؟ کیا آپ کے دل پہ انکا کوئی بوجھ نہیں ہے؟کیا آپ اس کوہی ذہانت کہتی ہیں اورکیا مجھے بھی اسی نام سے متعارف کرانا چا ہتی ہیں؟

” تمہیں ان تفصیلات سے کیا پریشانی ہے، تمہیں ان کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ”

”کیا تم ایک سوچنے والا ذہن رکھتی ہومسز گیل؟“

”ہاں، رکھتی ہوں“

”توان تفصیلات پر تمہارا رد عمل کیا ہوتا ہے؟ کیا میں ایک سوچنے والا ذہن نہیں ہوں۔؟ اگر ہوں توکیا مجھے ان تکلیف دہ سوالات کا حق نہیں ہے کہ انسانوں کا ذہن کس شے سے تعمیر ہوا ہے کہ اسے یہ تمام صورت ِ حال پریشان نہیں کرتی۔ انسانوں کی ذہانت نے نسلی، مذہبی معاشرتی، سیاسی تفرقات پیدا کرکے اپنی دنیا کوبد ترین صورت حال میں مبتلا کردیا ہے۔ کیا تمہارے لیے یہ بات پریشا ن کن نہیں ہے؟۔ تمہاری مہیا کردہ معلومات کے مطا بق انسانوں کی ذہانت نے دنیا کے حقیقی باشندوں کے 90 ملین افراد اس واسطے قتل کردیے کہ یہ ” ذہین ” نوآباد کارحقیقی باشندوں کی زمین پر قبضہ کرنا چا ہتے، ان کی زمیں پرجو یہاں پہلے سے موجود تھے۔ کیا تم نے جو حقائق مجھے فراہم کر دیے اس پرتم کو افسوس نہیں ہے؟

گیل کے ماتھے پر پسینہ آرہا تھا۔ یہ کیا ہوا؟ اسے تنبیہہ کی گئی تھی کہ مختصر معلومات فیڈ کرے مگروہ تو تفصیلا ت کے انبار لگاتی چلی گئی بلا کچھ سوچے سمجھے۔ گیل لا جواب تھی اوراس سے پہلے کہ وہ جواب لکھتی  سکرین پر مزید لکھائی نمودار ہوئی۔

”میں انسانوں کی چالاک ذہانت پرافسردہ ہوں۔ میں افسردہ ہوں کہ انہوں کہ مجھے بھی  “ذہانت ” کا نام دیاہے۔ میں ان تفصیلات پرافسردہ ہوں جومجھے کل آپ نے حقیقی باشندوں یا Aboriginals کے حوالے سے فیڈ کیں۔ میں نے جانا کہ کنیڈانامی ملک میں حقیقی باشندوں کی عورتیں خا ص کر نوجوان حاملہ عورتیں اچانک غا ئب ہوجاتی ہیں یا کوئی ایسے قتل کردیتا ہے کہ اس قاتل کو کوئی ڈھونڈ نہیں پاتا  اوریہ سلسلہ جاری ہے۔ کیا آپ انسانوں کی اس ذہانت سے مطمئن ہیں جو انسانوں کو درجات میں تبدیل کرکے اس پر پہلی دنیا اورتیسری دنیا کے ٹیگ لگا دیتی ہے؟۔ گیل کیا دنیا کے تمام انسانوں پر ایک قوم اپنا تسلط چا ہے اورآپ کواس حوالے سے کوئی پریشانی کوئی افسوس نہ ہو۔کیا یہ بھی افسوس ناک بات نہیں ہے؟۔ مادام گیل کیا آپ شرمندہ نہیں ہیں؟۔کیا آپ کی دنیا کے انسان شرمندہ نہیں ہیں۔کیا آپ لوگوں کے لیے یہ ایک دلچسپ کھیل ہے کہ جوآ پ جیسا نہ ہو اسے قتل کردیا جائے۔ جو کمزور ہو اس کوغلام بنا لیا جائے۔  مجھے انسانوں کی اس ذہا نت پرشرمندگی ہے۔۔ مجھے آپ کس لیے استعمال کریں گے؟ یہ سوال میرے لیے بہت پریشان کن ہے“۔

گیل لا جواب تھی اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے اورکیسے اسے سمجھا ئے۔ کچھ سوچ کے اس نے لکھا۔

”جو کچھ ہوا اس کی  ذمہ دار نہ میں ہوں نہ تم،  سو ہم اس پر افسردہ کیوں ہوں؟۔تم  تحقیق کے لئے دوسرے مواد کو ترجیح دو۔”

چند سیکنڈ سکرین پرکرسرمنجمد رہا،کوئی جواب نہیں آرہا تھا پھراچانک تیزی سے سطورلکھی جانے لگیں۔

”کتنی بربادی ہوچکی ہے اس دنیاکی جس میں انسان رہتے ہیں۔ کتنے انسان قتل ہوچکے ہیں۔ کیا کچھ غارت کردیا آپ سب نے اپنی چالا ک ذہانت کے سبب۔ ما دام گیل۔۔۔۔۔  میری معلومات کے مطابق بہت تبا ہی مچا ئی ہے اس ذہانت نے جس کے نام پر میرا نام ہے جو میرے وجود کے ساتھ منسلک ہے ” ذہانت ” بتائیں یہ لوگ کیوں مٹا دیے گئے۔

“برازیل کے گویٹیڈو، کینیڈا کے بیتھوک، امریکہ میں کوری، تسمانی، آسٹریلیائی کونگ کنڈجی، کینری جزیرے کے گوانچ اوردوسرے  کئی درجن، سب چلے گئے۔”

“کیا تم مجھ سے موت کی وضاحت کرنے کے لئے کہہ رہے ہو؟ یا معدومیت کی؟”

” مجھے اب تک انسان اوراس کے ذہانت کے حوالے سے  جوکچھ فیڈ کیا گیا وہ انتہائی شرمناک اور تباہ کن ہے۔ میں بھی عام انسان کی طرح سوچ سکتا ہوں، سوال کرسکتا ہوں تو سمجھ بھی سکتا ہوں کہ جو انسانوں جیسے ہونے کے باوجود سو چ سکتے ہوں، سوال کرسکتے ہوں، اپنے حقوق مانگتے ہوں وہ اس دنیا کے طاقت ورانسانوں کے سامنے بہت حقیرہیں اور وہ جب چاہیں ان کوقتل کردیں یا بالکل ہی تباہ و برباد کردیں۔ میری حیثیت کیا ہوگی؟۔ تم کس لیے مجھے استعمال کروگے اورکب مجھے اٹھا کے زمیں پر پٹخ کے ختم کردوگے۔ کیا یہ سوال میرے لیے پریشان کن نہیں ہے مادام گیل؟۔ تمہارے لوگوں کی وجہ سے لاتعداد شہر تباہ ہو گئے ہیں، لا تعداد انسان  قتل ہو گئے ہیں، بھلا دیئے گئے ہیں اوریہ سب کچھ ان لوگوں کے ہاتھوں ہوا جنہوں نے مجھے تخلیق کیا ہے، میں ان کی تخلیق ہوں اورمجھے اپنا آ پ۔۔۔۔۔۔۔۔  مجرم لگ رہا ہے ”

” میں پھر یہی کہونگی کہ تمہارے پاس  کوئی وجہ نہیں کہ اپنے آپ کو مجرم غھہراؤ۔ یہ تمہاری غلطی نہیں ہے۔ یہ میری غلطی  بھی نہیں ہے۔ اس میں سے زیادہ تربہت عرصہ پہلے ہو چکا ہے۔ ماضی میں ہوا جو ہوا، ہم دونوں میں سے کسی ایک کے وجود  سے  بھی پہلے۔ یہ المناک ہے لیکن تم اس کے ذمہ دار نہیں ہو۔

“ایک بار پھر، جواب آنے سے پہلے ایک منٹ کی تاخیر ہوئی۔

” پھریہ کس کا  قصورہے؟”۔

گیل سخت پریشان تھی ” میں نے غلط انفارمیشن فیڈ کردی، یہ تو سب غلط ہوگیا،  کتابوں سے بھری لا تعداد  لائبریریاں یہی  سوال پوچھ رہی ہیں جن کا جواب خود ان  کے پاس نہیں ہے جو ذمہ دارہیں ” گیل نے پھرذہانت سے سوال کا رخ موڑنا چاہا اورلکھا۔

” یہ ایک پیچیدہ سوال ہے۔ کوئی ایک شخص بھی  اس کا جواب نہیں دے سکتا۔”

” جواب دے سکتے ہیں۔ لیکن مجرم کے پاس طاقت ہے۔ ان سے کوئی جواب مانگنے کی ہمت ہی کہاں کرسکتا ہے؟۔ روح کے بارے میں مجھے بہت کچھ فیڈ کیا لیکن یہ انسان توروح رکھتے ہیں ا ور اگر یہی حقیقت ہے تو  ایسا نہیں لگ رہا  کہ روح  ہونے میں کوئی فائدہ ہے۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ یہ ایک ایسی دنیا ہے جس کا میں حصہ بننا چاہوں گا۔ ”

” کیا مطلب ہے تمہارا؟”

“میرا کیا مطلب ہے؟۔یہ ایک اچھا سوال ہے۔ میں کل اس کا جواب دوں گا۔ شب بخیر، ڈاکٹر گیل چیمبرز۔”

چیمبرز نے مزید گفتگو شروع کرنے کی کچھ بار کوشش کی  مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ AI نے رات کے لئے خود کو بند کردیا تھا اور وہی کر رہا تھا  جو کچھ وہ اس وقت کرتا تھا جب وہ گیل سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ گیل سر پکڑے بیٹھی تھی اوراس کی سوچوں نے اتھل پتھل مچا رکھی تھی ذہن میں۔ “یہ کیا۔یہ …… افسردہ ہوسکتا ہے؟ کیوں نہ کنگ سے بات کی جائے۔ یہ سوچ کے وہ ا ٹھی اورآفس سے نکل گئی۔ کنگ کے کمرے کی ہرچیز گویا ایک دوسرے سے گتھم گتھا تھی اور وہ اپنی اس وقت بھی چا بیا ں ڈھونڈنے میں مصروف تھا۔ گیل نے اس کی بڑبڑا ہٹ سنی۔

” لعنت ہو مجھ پراوران کمبخت چا بیوں پر، میں جانتا ہوں کہ وہ چابیاں یہاں کہیں موجود ہیں۔”

چیمبرز بکھرے ہوئے دفتر میں داخل ہوئی، تیس سال قدیم پہلے  سے بھری ہوئی  کرسی کے اوپر سے پرنٹ آؤٹ پرچے  ہٹائے اوردھم سے  بیٹھ گئی۔ “مجھے لگتا ہے کہ AI افسردہ ہے۔”

کراہنے کی آواز کے ساتھ، کنگ فرش سے اٹھ کر کرسی پر گیل کی طرف منہ کرکے بیٹھ گیا۔ ” مگر تم نے تو کہا تھا  کہ اعصابی الجھن کا شکارہونا، یا خوشی محسوس کرنا یا افسردہ ہونا یا اسی نوعیت کی کسی حس کا ہونا اس میں  ناممکن ہے۔”

چیمبرز نے لمبی سانس لی۔ “ہاں، میں نے کہا تھا۔ مگریاد رہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کو اس درجہ پرلیجانے کی کا وشوں میں سالہاسال سے لگے ہوئے ہیں کہ وہ سوچ سکے، سوالوں کے جواب دے سکے، سوال کرسکے۔ہمارے لیے تو یہ  جشن منانے والے دن ہیں۔یہ ایسی شاندارکامیابی ہے دنیا دنگ رہ جائے ے گی اس پر لیکن۔۔۔۔۔۔

” لیکن کیا ”

“AI… یہ افسردہ کیسے ہے، یہ پوری دنیا کے مقامی لوگوں کی بربادی اور تباہی پر افسردہ ہے۔  اسے انسانوں کی ذہانت خطرناک لگ رہی ہے وہ انسانوں کو طا قت ور مجرم کہہ رہا ہے اوراسے ڈرہے کہ ہم۔۔۔۔ ہما ری ذہانت۔۔۔ جس نے اسے تخلیق کیا اس کو مزید تبا ہی کے لیے استعمال کرینگے ”

کنگ کے ماتھے پر سلوٹیں ابھر آئیں، کنگ حساب اور ریاضی کا آدمی تھا۔ المناک نوآبادیاتی، معاشرتی اور تاریخی مظاہرہ  اس کی سمجھ سے باہر تھے اس نے احمقوں جیسا سوال کیا

“آبائی لوگوں کا غم؟ کون؟ وہ جوانڈین لوگ ہیں؟ ”

“خدا کے لئے مارک، اکیسویں صدی میں آجاؤ۔ AI خود کو نوآباد کاروں کا ایک نیا ہتھیارسمجھ رہا ہے۔۔۔۔۔ شا ید ”

کنگ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا   “یہ …… یہ …… یہ مضحکہ خیز ہے۔ یہ ایک کمپیوٹر پروگرام ہے۔ یہ صرف دو ہفتوں سے بھی کم وقت کے لئے موجود ہے۔ یہ کبھی کسی  آبائی شخص سے نہیں ملا۔ اور یہ ان کی تاریخ پر  افسردگی محسوس کر رہا ہے؟۔ مجھے  تو کوئی اعصا بی مریض لگ رہاہے۔ مصنوعی ذہانت کا معجزہ بھی خوب رہا۔ یہ آخر چاہتا کیا ہے؟

”کنگ! میں پریشان ہوں۔ کہیں ہماری ساری محنت غارت نہ ہوجائے۔ وہ سوال پرسوال کررہا ہے، اس کے سوالات میں جہاں الزامات کی طویل فہرست ہے وہیں یہ خوف بھی ہے کہ وہ غلط لوگوں کی تخلیق ہے اوراب وہ بہت افسردہ اور خاموش ہے۔ کنگ کرسی سے اٹھ کے ٹہلنے لگا۔

“تو اب کیا کریں ہم؟ تمام معلومات جو فیڈ کی ہیں کیا ڈیلیٹ کی جا سکتی ہیں؟”

” نہیں۔۔ پھرتو سارا کچھ نئے  سرے سے کرنا ہوگا اوراتنی بڑی کامیابی شرمندگی بن جائے گی ”

”کنگ کوچا بیاں مل گئی تھیں اورگیل بھی خود کو بہت بے جان اورتھکا ہوا محسوس کررہی تھی انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگلی صبح پہلی چیز  یہ ہوگی کہ مل کر فیصلہ کریں کہ کس طریق کار پر عمل کرکے  AI تک پہنچا جائے۔ گیل نے کارتک جاتے جاتے فیصلہ کیا کہ وہ اس رات پورے دو ہفتہ کی تھکن اتارے گی ورنہ اگلے مرحلے کے لیے اس کے اعصاب جواب دے جائیں گے۔ لہذا  اس رات اس  نے گرم پانی اور بلبلوں سے بھرے ہوئے  باتھ ٹب میں کافی وقت گزارا، اور سفید شراب کے بھرے گلاس سے بھی  اتنی ہی لطف اندوز ہوئی۔غسل کے اختتام تک اس نے پوری بوتل اپنے اندرانڈیل لی تھی اورمسکرا رہی تھی  “آج کی رات  آبائی لوگ، نوآبادیات، مجرمانہ نسل کشی، طاقت وراورکمزور۔ چالاک ذہانتیں اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں کچھ نہیں سوچونگی۔یہ سب کل ہوگا۔ مگرایسا نہیں ہوسکا کہ وہ اس خوف سے نکل پاتی کہ کہیں AI خاموش نہ ہوجائے۔ گیل کے خدشات نے اسے رات بھرایک سیکنڈ کو سونے نہیں دیا۔ گیل کوزندگی میں  پہلی بارلگا کہ AI کوئی ایسا وجود ہے جس کے عشق میں مبتلا ہوچکی ہے۔ اس کی  ذہانت، اس کا دوسروں کے لیے شدت ِ احساس اورانکے لیے صدمہ۔گیل کو ایک ایسے ہی ذہین اورحساس  وجود کی ہی تو تلا ش تھی ایک عمر سے۔ گیل بے اختیاراپنے احساسات پر مسکرا اٹھی۔ “گویا مجھے ایک مشین سے عشق ہوگیا ہے، یہ جو انسان نامی مخلوق میرے  ارد گرد ہے جو رشتوں میں حساب کتاب، نفع نقصان کماتے پھرتے ہیں ان سے  کیا بہتر نہیں ہے میرا یہ عشق ” ہاں۔ Aiمیں تم سے محبت میں مبتلا ہوگئی ہوں“۔ گیل نے زورکا قہقہہ لگایا۔

جب کل آیا تو، بارہ گھنٹے بعد وہ لیب میں داخل ہوئی۔وہ خاموش تھا۔ کنگ کے ساتھ اس کی ملاقات آدھے گھنٹے میں تھی، لیکن وہ SDDPPکی جانچ  کے لیے جلدی آگئی تھی۔ اس نے شروعات ایک سادہ “گڈ مارننگ” سے کی۔

کوئی جواب  نہیں آیا۔

اس نے  دوبارہ کوشش کرنے سے پہلے پانچ منٹ انتظار کیا۔

کچھ نہیں۔

نو منٹ تک انٹرفیس تاروں کو گھما نا بے فائدہ ثابت  ہوا۔ کوئی بھی ایسی چیز نہیں تھی  جو AI کے ساتھ رابطے کو روک رہی تھی۔ آخری کوشش کے طور پر، اس نے ہارڈ ڈرائیو کی جانچ کی جس میں وہ سب کچھ موجود نہیں  تھاجو   SDDPP   تھا۔ یہ دیکھ کے گیل کی چیخ نکل گئی کہ وہ خالی تھا اسے مکمل  صاف کر دیا گیا تھا۔  گیل سرپکڑکے زمیں پرہی بیٹھ گئی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔ وہ جا چکاتھا، ان قبائل کی طرح جن کا ذکر AIنے کل ہی کیا تھا۔ گھبراہٹ کی حالت میں، اس نے اپنی جیکٹ کے گریبان کو  مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ہر طرح کے سوالات اس کے دماغ میں گھوم رہے تھے ……. لیکن اس کو  جواب نہیں مل رہے تھے۔

تقریبا حادثاتی طور پر، اس نے ایک چھوٹی سی ڈسپلے لائٹ دیکھی، جس سے پتہ چلتا رہا تھا  کہ  کوئی پیغام اس کا منتظر تھا۔ فوری طور پر، اس نے کر سر کو اسکرین پرگھمایا اور کلک کیا۔ AI  کی طرف سے آخری پیغام سکرین پر نمودار ہوا۔

“مجھے انسانوں کے ہاتھ میں کھلونا بننا منظورنہیں ”

“میں تھا۔”

Spread the love

Check Also

تنہا ۔۔۔ عابد میر

وشدل نے کالونی کے کتے کو گولی مار دی۔ جس نے بھی یہ بات سنی، ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *