Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔  عشرت آفرین

غزل ۔۔۔  عشرت آفرین

ساعت نا مہرباں کا خوف ہے

ایک مرگِ ناگہاں کا خوف ہے

 

رنج پھولوں کے بکھرنے کا نہیں

ہم کو خوشبو کے زیاں کا خوف ہے

 

لوگ بازی ہار بیٹھے جان کی

آپ کو اپنی دکاں کا خوف ہے

 

کارِ ہستی ہو یا کارِ نیستی

آپ کو سود و زیاں کا خوف ہے

 

ہم نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں جب

پھر کہاں کا ڈر کہاں کا خوف ہے

 

نیّتِ چارہ گراں اپنی جگہ

یاں تو قلبِ ناتواں کا خوف ہے

 

ایک ان دیکھی بلا سے بھی سوا

واعظِ شعلہ بیاں کا خوف ہے

 

جیتے جی کم بخت نے مارا ہمیں

کس قدر اس ایک جاں کا خوف ہے

 

اک دہانے سے ابھی نکلے نہیں

دوسرے آتش فشاں کا خوف ہے

 

دل سے یادِ رفتگاں رخصت ہوئی

اس قدر آئندگاں کا خوف ہے

Spread the love

Check Also

کھدائی میں نکلی ایک سِل پر ملی عبارت ۔۔۔ نسرین انجم بھٹی

کھدائی میں جو شہر نکلا تھا اس میں سب ڈھانچے عورتوں کے تھے زندگی کی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *