Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » اُمید ۔۔۔ شان گل

اُمید ۔۔۔ شان گل

                کیا کیا جائے؟

 

لینن کی لکھی کتاب”کیا کیا جائے؟“ سمجھیے20ویں صدی کی سیاسی کلاسیک ہے۔لوئی فشر نے اس اہم کتاب کو کمیونسٹ تنظیم کاروں یعنی آرگنائزیشن کرنے والوں کا ”بائبل“کہاتھا(1)۔لینن نے یہ کتاب اپریل1901 سے فروری 1902 کے درمیان لکھی۔اوریہ مارچ 1902میں چھپ گئی۔اس کاپورا نام تھا: ”کیا کیا جائے؟ ہماری تحریک کے فوری معاملات“۔

آپ ذرا اُس زمانے کے روس میں جھانکیے تو معلوم ہوگا کہ عام لوگ بادشاہ کے ظلم سے بیزار تو تھے۔ مگر اُس کے خلاف جاری جدوجہد کوجوڑنے کے لیے وہاں انقلابی پارٹی کوئی نہیں تھی۔بس یہاں وہاں چھوٹے بکھرے گروہ تھے۔لینن نے اُن سب گروہوں کی تنظیمِ نو کر کے ایک انقلابی پارٹی بنانے کا تہیہ کرلیا۔ لینن نے ”ایک پیراگراف کو یوں ختم کیا:”اور ساتھیو، روسی کمیونسٹوں کو بہت کچھ کرنا ہے۔۔۔ پورے روس میں بکھرے ورکرز سرکلوں، اور کمیونسٹ گروپوں کو ایک واحد پارٹی۔۔۔میں متحد کرناہے (2)۔ ایسی پارٹی جو پروفیشنل انقلابیوں کی پارٹی ہو۔ایسی پارٹی جو خود کو خفیہ  رکھ سکے  انقلاب لانے تک۔ اور اُس کے بعد بھی انقلاب کو مستحکم کرنے اور عوام کی زندگی بدل ڈالنے تک سرگرمیاں کرسکے۔

یہ کتاب تنظیم پر لینن کے تصورات کا ایک جامع خلاصہ ہے۔ یہ مارکسسٹ جدوجہد کے تصورات کی سب سے باہم جڑی ہوئی تشریح بھی ہے تاکہ وہ آلہ تخلیق کیا جائے جس کے ذریعے ایک پلان کے ذریعے انقلاب لایا جائے۔ (3)۔اور وہ آلہ تو جدید انقلابی سیاسی پارٹی اور اس کی آرگنائزیشن ہے ۔

اِس کتاب کانام لینن نے اپنے پسندیدہ ترین ناول کے نام پر ”کیا کیا جائے؟“رکھا۔”کیا کیا جائے“ ایک مشہور ناول ہے جو چرنی شیوسکی نے لینن سے نصف صدی قبل لکھا تھا۔اس میں اُس نے 1860کے زمانے میں روس کے اندر ایک انقلابی گروپ بنانے کا طریقہ لکھا تھا۔ لینن نے بھی اپنی کتاب میں بادشاہت کے جبر و ستم کے خلاف ایک خفیہ پارٹی بنانے پر بحث کی اور اس کے بنانے کا طریقہ لکھا۔

سرکاری جاسوسوں کو دھوکہ دینے کے لئے کتاب پر اس نے اپنا نام اولیانوف، یا ولادیمیر، یا ایلن نہیں لکھا تھا بلکہ اس نے یہاں اپنا نام ”لینن“ لکھا۔ (وہ خود اُس وقت میونخ میں ایک بلغار یائی وکیل لورادانوف کے نقلی نام سے رہ رہا تھا)۔ دراصل یہ وہی کتاب ہے جس کی اشاعت کے بعد وہ لینن ہی کے نام سے جانا جانے لگا۔ آج ساری انسانیت اُسے لینن کے نام سے جانتی ہے جو کہ دراصل اس کا نقلی نام ہے۔

یہ موجودہ اچھا خاصا موٹا کتابچہ مارچ 1902میں سٹٹ گارٹ میں چھپا جس نے ہمارے عہد کی سیاسی تاریخ میں ایک مرحلہ بننا تھا۔

یہ کتاب بہت سادہ سٹائل اور زبان میں لکھی گئی ہے۔ لینن نے، مثالیں دے دے کر اپنی ہر بات واضح کی۔

اس کتاب نے بہت ساری فکری کج رویوں کا خاتمہ کردیا۔ مثلاً کمیونزم اور مزدوروں جیسے لازم وملزوم مظہر کولینن نے بالکل ہی الگ طریقے سے دیکھا۔ وہ مزدوروں کے فوری اور خود رو قسم کے ٹریڈ یونین ازم کے ذریعے انقلاب لانے کے بجائے اُن کی سیاسی تنظیم بنانے کی وکالت کرتا تھا۔ اس نے زور دیا کہ پارٹی کافرض ہے کہ وہ مزدور تحریک کو ٹریڈ یونین ازم کے رجحان سے نکالے اور اس کی بجائے اسے سوشلزم کے زیر اثر لائے۔اس نے  ایک نئے طرز کی پارٹی کی ضرورت کا بتایاجو مزدوروں کے مفادات کے پیچھے پیچھے نہ ہو، بلکہ اس کے برعکس وہ ”پرولتاریہ کا ہراول“بنے۔اُس نے ٹریڈ یونینوں کو ”وسیع تر“ اور ”عوامی سے عوامی تر“ بنانے پر زور دیا۔ اُس کے نزدیک ٹریڈ یونین کمیونسٹ پارٹی نہیں ہوتی۔ مزدور،خود روطور پر اپنے حاکموں کا تختہ الٹنے کے قابل نہیں ہیں۔ مزدور ٹریڈ یونین تو بنا سکتے ہیں، عمومی سیاسی تحریک کو تقویت تو دے سکتے ہیں، مگر یہ کام انہیں آٹو میٹک طور پر سیاسی پارٹی نہیں بناتا۔

اس کتاب میں اس نے ترمیم پسندی پہ سخت حملہ کیا۔ وہ سوشل ریفارمز کو انقلاب نہیں سمجھتا تھا۔ اس نے بالخصوص اکانومزم پہ زبردست تنقیدکی۔یہ کتاب موقع پرستی کے خلاف ایک  زبردست ہتھیار ہے۔

اور پھر وہ پارٹی ڈھانچہ، سٹریٹجی اور پالیسی سے متعلق اہم سوالات سے نمٹا۔

بنیادی طور پر یہ کتاب کمیونسٹ پارٹی کے بارے میں لینن کی تجویز کردہ تنظیمی اصولوں سے اِدھر اُدھرکرنے والے اپنے ساتھیوں اور پارٹی لیڈروں کے خلاف ہے۔یہ کتاب ایک ایسی پارٹی قائم کرنے کے حق میں ہے،جس کی تنظیم انقلاب لانے والوں کے لیے ہو،اور جس سے سیاسی انقلاب لایا جاسکے۔ ایسی پارٹی جسے واقعتا”وین گارڈ“  لڑاکاکہا جاتا ہے۔

اس نے سب سے پہلے نظریہ کی  اہمیت پہ بات کی:”انقلابی نظریے کے بغیر انقلابی تحریک بھی ممکن نہیں ہے“۔چنانچہ   لینن نے مزدوروں میں مارکسزم کے نظریے کے پھیلانے پہ زور دیا، انہیں پیشہ ور انقلابیوں کی شکل دینے اور انہیں تربیت دینے کے کام کو اہم گردانا۔یہ بہت فائدے کی بات تھی۔

بعد کی سوا صدی کے تجربات نے بتایا کہ مارکسی نظریے کے بغیر پارٹی نہ تو لڑاکا بن سکتی ہے اور نہ ورکنگ کلاس کی لیڈر بن سکتی ہے۔لینن ایسی پارٹی چاہتا تھا جس کے کارکن سیاسی طور پر باشعور ہوں۔ ”وین گارڈ لڑا کا پارٹی کا رول صرف ایک ایسی پارٹی ادا کرسکتی ہے جس کی رہنمائی ترقی یافتہ ترین تھیوری کرے“۔ لینن مزدوروں کو ایجوکیٹ کرنے کی وکالت کرتا ہے۔ ایجوکیٹ بذریعہ نظریاتی تعلیم۔

اگر کوئی لینن کی ایک کتاب کا نام پوچھے جو روس میں کمیونسٹ پارٹی بنانے کی وجہ بنی ہو، اور جس نے اکتوبر انقلاب برپا کروایا ہو، یا جس نے پوری دنیا میں کمیونسٹ پارٹیاں بنوائی ہوں اور جگہ جگہ انقلابات برپا کرائی ہوں،تو اُس کتاب کا نام ہے:”کیا کیا جائے؟“۔ کمیونسٹ پارٹی ایک ایسا اوزار ہے جس سے انقلاب لائے جاتے ہیں۔ یہ شخص بہت سی نئی باتوں کا تخلیق کار تو تھا ہی مگر کمیونسٹ پارٹی خالصتاً اُس کی اپنی اور بہت بڑی تخلیق تھی۔

ہم ذکر کر چکے ہیں کہ 1894میں لینن کی عمر 24سال تھی جب اس نے پہلی اہم تصنیف لکھی:”عوام کے دوست“ کیا ہیں۔ اور اسی میں اُس نے اعلان کیا تھا کہ روسی انقلابی تحریک کے لیے“ ایک سوشلسٹ ورکرز پارٹی قائم کرنا“ ایک ڈائریکٹ فریضہ ہے۔

”عوام کے دوست“کے تین سال بعد یعنی 1897میں اُس کے اولین پمفلٹوں میں سے ایک چھپا۔

آپ غورکریں۔ لینن کی بنائی ہوئی یہ پارٹی روس میں تین انقلاب لائی: 1905 کا انقلاب،1917فروری (بورژوا جمہوریت) والا انقلاب،اور اکتوبر 1917کا سوشلسٹ انقلاب۔

اُس نے عوام سے نہ صرف ”ٹھوس مطالبات سامنے لانے“ کا کہا بلکہ اپنی صفوں میں سے زیادہ سے زیادہ لیڈر مہیا کرنے کا بھی کہا۔

یہ کتاب صرف ایک انقلابی سیاسی پارٹی بنانے کی اپیل نہ تھی، بلکہ ایسا کرنے کا طریقہ بھی تھی۔ اس میں یہ خیال پیش کیا گیا کہ مارکسسٹ پارٹی ورکنگ کلاس تحریک اور سوشلزم کا اتحاد ہے۔

یہ کتاب بعد میں انقلابی سیاسی پارٹی بنانے اور چلانے کے لئے واقعتاایک مینوئل ثابت ہوئی…… دنیا میں پہلی بار ایک ایسی پارٹی بنی جو مزدوروں کی پارٹی تھی،مارکسی پارٹی تھی،نئے طرز کی پارٹی تھی،انقلابی پارٹی،مبارز پارٹی،ڈسپلن والی پارٹی اور عوام کے ساتھ جڑی ہوئی پارٹی۔اور ایسا فرق فرق کے ساتھ ساری دنیا میں ہوا۔اس کتاب میں لینن نے پارٹی ڈھانچہ، اُس کی سٹریٹجی اور پالیسی کی تفصیلات درج کیں۔

پارٹی تنظیم کے بارے میں بھی یہ کتابچہ ایک مکمل منصوبہ لیے ہوئے تھا۔لینن کا خیال تھا۔

کہ پارٹی کو اداروں کا مجموعہ ہونا چاہیے۔

اس نے لکھا ہے کہ ”جب میں یہ کہتاہوں کہ پارٹی کو اداروں کا مجموعہ ہونا چاہیے تو میں اپنی اس خواہش کو صاف صاف بیان کرنا چاہتا ہوں کہ پارٹی کو جونچلے طبقے کی ہر اول ہے اچھی طرح منظم ہونا چاہیے اور پارٹی میں صرف انہی لوگوں کو داخل کرنا چاہیے جو تنظیم کی ایک مقرر حد کی پابندی کرنے کے لیے آمادہ ہوں“۔

اس نے انقلابی (کمیونسٹ) پارٹی کو ترکیب اور بناوٹ اعتبار سے دو حصوں پہ مشتمل ہونے کا کہا:

۔1۔ ایک تو شعور اور ڈسپلن میں آگے بڑھے ہوئے پارٹی کارکنوں کا محدود اور باقاعدہ گروہ ہو جس میں زیادہ تر انقلاب پیشہ لوگ موجود ہوں۔یعنی وہ لوگ جن کا بغیر پارٹی کام کے اور کوئی پیشہ اور کام نہ ہو، اور جن کے اندر کافی نظریاتی علم، سیاسی تجربہ اور تنظیمی صلاحیت موجود ہو۔ جو سردار اور پولیس کا مقابلہ کرنے اور اُن سے بچ نکلنے کا فن بھی جانتے ہوں۔لینن کے نزدیک کوئی انقلابی تحریک اس وقت تک نہیں چل سکتی جب تک اس میں رہنماؤں کی ایک منظم جماعت نہ ہو جو تسلسل کو قائم رکھ سکے۔ اس گروہ میں وہی لوگ ہوں جو انقلابی کام کو اپنا مستقل پیشہ بنا چکے ہوں۔ جتنے زیادہ لوگ خود بخود جدوجہد کی طرف کھینچ کھینچ کر آنے لگیں اتنی ہی زیادہ اس قسم کی جماعت کی ضرورت ہے۔۔۔ اورزیادہ ہی مضبوط اُس کو ہونا چاہیے۔ ایک مطلق العنان حکومت کے اندر اس جماعت کے ارکان کی تعداد کو جتنا زیادہ صرف انہی لوگوں تک محدود رکھا جائے تو انقلاب پیشہ اس ادارہ کو توڑنا مشکل ہوگا۔

ایسے ارکان کو عرفِ عام میں ”ہول ٹائمر“ کہتے ہیں۔

لیننی مفہوم  میں پیشہ ور انقلابی کو عوام کی انتہائی گہرائیوں تک جانا چاہیے، اُسے عوام کی ضرورتوں اور مزاج کی سمجھ حاصل کرنی چاہیے۔ پروفیشنل انقلابی کو سب اور ہر طرح کے جبر و تشدد اور ظلم کے مظہر پر آواز بلند کرنا چاہیے۔ اس کے پاس ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو اس طرح استعمال کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنے سوشلسٹ نظریے اور جمہوری مطالبات کو سب کے سامنے لا سکے، وہ سب سے اور ہر ایک سے پرولتاریہ کی جدوجہدِ آزادی کی عالمی تاریخی اہمیت کی وضاحت کرسکے“۔

پارٹی ممبر انقلابی ڈپریشن کے زمانے میں پارٹی وقار، پارٹی عزت کو بچانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہو۔ اور جب ضرورت پڑے تو قومی سطح کے ایک مسلح ابھار تک کے لیے تیار رہنے، منصوبہ بنانے اور عملی بنانے کے اہل ہو۔

۔2۔لینن کے مطابق پارٹی کا دوسرا حصہ پارٹی کے مقامی اداروں کا پھیلا ہوا جال ہو،اور پارٹی کے عام ممبروں کی ایک بہت بڑی تعداد پہ مشتمل ہو جن کو لاکھوں مزدوروں کی ہمدردی اور مددحاصل ہو۔

لینن کو اِس کتاب کی اہمیت واولیت کا بہت احساس تھا۔ وہ قارئین اور بالخصوص پارٹی ممبروں تک اس کی رسائی کو یقینی بنانا چاہتا تھا۔اُس  اگست 1902میں ماسکو کمیٹی کو لکھا:

’’کیا کیا جائے؟“ کافی تعداد میں پہنچیں؟۔ کیا مزدوروں نے اس کو پڑھا اور اس کے بارے میں کوئی رائے قائم  کی؟“(4)

اس کتاب کے چھپنے کے ایک سال کے اندر اندر روس میں اُسی طرز کی پارٹی بنی۔ ظاہر ہے کہ ایک موجودپارٹی کے ٹوٹ پھوٹ کے بعد ہی اُس کے اندر سے اصلی پارٹی بنی۔ ”کیا کیا جائے“میں تنظیم، ڈسپلن اور لیڈر شپ کے بارے میں لینن نے جو غیر مصالحانہ موقف رکھا تھا،تواُسی کی بدولت 1903میں اُس کی پارٹی،”سوشل ڈیموکریٹک پارٹی“کی دوسری کانگریس میں نفاق پیدا ہوا،اور ایک نئی اجلی، ستھری، باشعور اور منظم پارٹی قائم ہوئی (5)۔

بعد میں،ہمارے عہد تک کے ڈیڑھ سو سالوں کی ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں لینن کی بتائی ہوئی جدید طرز کی سیاسی پارٹیاں قائم ہوئیں۔یہ پارٹیاں ہر جگہ زیادہ تر کمیونسٹ پارٹی  کے نام سے بنیں۔ مگر اپنی ضرورتوں کے اعتبار سے بہت سی ایسی پارٹیوں نے مقامی نام بھی رکھ لیے ۔

اسکرا اخبار اس پورے دور میں ”کیا کیا جائے“ میں بیان کردہ موقف کی حمایت کرتا رہا۔

 

ریفرنسز

۔1۔لوئی فشر۔ دی لائف آف لینن۔1964۔ ہارپراینڈ راؤ پبلشرز۔صفحہ39۔

۔2۔ انڈر لینن۔ صفحہ 37

۔3۔انڈرلینن۔صفحہ27

۔4۔ او بیچکن اور دیگر۔ لینن، مختصر سوانح عمری۔1971 دارالاشاعت، ترقی۔ ماسکو ۔صفحہ 55۔

۔5۔دی اوریجن آف رشین ریولیوشن۔صفحہ۔29

 

اسکرا لندن منتقل

 

۔1902 کی ابتداء  میں پولیس کے جاسوسوں نے ”اسکرا“ کا پتہ لگا لیا۔ اس لئے میونخ چھوڑنا ضروری ہو گیا کیونکہ وہاں مزید قیام خطرناک تھا۔ ایڈیٹوریل بورڈ نے اخبار شائع کرنے کے لئے لندن کا انتخاب کیا۔چنانچہ اپریل 1902 میں دونوں ساتھی،کروپسکایا اور لینن وہاں پہنچے۔(1)

لندن میں انگلینڈ کی انقلابی پارٹی نے اسکرا پرنٹنگ کو منظم کرنے میں مدد کی۔ انھوں نے اُس کوخود اپنے پرنٹنگ شاپ کی سہولتیں مہیا کردیں۔ وہیں اپنے دفتر میں پارٹیشن کرکے اسکرا ایڈیٹر، لینن کے لیے دفتر کی گنجائش کردی۔(2)۔ بھٹی اسکرآئندہ کی روسی کمیونسٹ پارٹی کا تنظیمی نیوکلیس جو تھا۔

لندن  میں کروپسکایا اور لینن نے رِختر کا نام اپنایا۔ یہاں  دنیا کی سب سے بڑی لائبریری موجودتھی اور پڑھنے کی زبردست سہولیات تھیں۔لینن اکثر وہیں برٹش میوزیم کی لائبریری میں ہوتا، وہیں جہاں اپنے زمانے میں کارل مارکس بھی مطالعہ کرتا تھا۔

کروپسکایا نے لینن کی یادیں (1933)میں لکھا:”لندن کی وسعت وعظمت نے ہمیں چکرادیا۔ گوکہ ہمارے وہاں پہنچنے والے دن موسم غلیظ تھا، لینن یکدم شادماں ہوا اور حیرت سے کپٹلزم کے اِس قلعہ کو دیکھنے لگا۔ اسے وقتی طور پر پلیخانوف اور ایڈیٹوریل جھگڑے بھول گئے“۔

اسکراگروپ لینن کے گرد جمع ہوا اور کروپسکایا نے 37کلرکن ویل گرین پہ سوشل ڈیموکریٹک فیڈریشن کے بیسویں صدی پریس کے ساتھ ایک ایڈیٹویل دفتر ڈھونڈ لیا۔

کروپسکانے یاد کیا ”ہمیں دیہی علاقوں کی طرف سیراور جہل قدمی کرنے کی بھی عادت تھی۔ ہم پرائم روز ھِل چلے جاتے۔ یہ سستا ترین دورہ ہوتا تھا۔ اس پہاڑی سے تقریباً سارا لندن نظر آتا تھا۔۔۔یہاں سے ہم لمبی چہل قدمی پر نکلتے۔ پارکوں اور دیہی تنگ راستوں میں۔پرائم روز ہل جانے کی ہماری پسندیدگی کی دوسری وجہ یہ تھی، کہ یہ اُس قبرستان کے قریب تھا جہاں کارل مارکس دفن تھا۔ ہم وہاں جایا کرتے“۔

ولا دیمیر ایلیچ مزدور طبقہ میں ہمیشہ دلچسپی رکھتا تھا۔ اکثر اخبار کے ذریعے اس کو یہ پتہ چل جاتا تھا کہ فلاں جگہ مزدوروں کا جلسہ ہو رہاہے۔ وہ وہاں جاتا تھا اور کونے میں بیٹھ کر سب کچھ سنتا تھا۔

 

ریفرنسز

۔-1او بیچکین اور دوسرے۔لینن مختصر سوانح عمری۔ 1971۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو۔ صفحہ56

۔2۔ پاسپی لوف اور دیگر۔ لینن، اے بایوگرافی۔ صفحہ 94

Check Also

باباکے خواب کا سفر حاصل پہ رک گیا ۔۔۔ وحید زہیر

سیاست کرنے کی نہیں،سمجھنے، سمجھانے،اپنوں کے ساتھ نبھانے،دکھ درد بانٹنے،،امن کے ترانے گانے،زندگی کو زندگی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *