Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » لڑکی وہ آسمانوں جیسی۔۔۔طاہرہ اقبال

لڑکی وہ آسمانوں جیسی۔۔۔طاہرہ اقبال

آسمان ایک عجب استعارہ ہے ناممکنات کو چھو لینے کا سرفرازی و معرکہ آرائی کا، رازوں بھرا، اساطیری کہانیوں، تخلیقی افسانوں، مسخر کرنے، کھوجنے اور دعوتِ مبارزت دینے والا بلیغ استعارہ، جو سمو لیتا ہے خود میں ہر ایک کو اپنی پنہائیوں میں اپنے آفاق میں۔

کیا کو ئی زمینی زمانی انسان بھی آ سمان کی انہی خصوصیات کا حامل ہو سکتا ہے؟ ہاں۔۔۔ہو سکتا ہے جس کا اپنانام بھی آسمانوں جیسا ہو۔ آسمانوں سا فراخ دل، آسمانوں سا ظرف، آسمانوں سا حوصلہ اور ساتوں آسمانوں  میں چور محبت، عجب ہے یہ خاتونِ ترک۔ اگر آسمان کو  کوئی انسانی روپ دیا جائے تو وہ ایسا ہی ہو گا۔ آسمان بیلن ازوجان۔

مجھے لگتا ہے سمندروں، پہاڑوں، وسیع میدانوں، زرخیز زمینوں، صحراؤں اور آسمانوں کو قدرت بعض اشخاص میں مجسم کر دیتی ہے۔ اسی طرح گرمی سردی بہار  خزاں خوشبو ہوا کی بات اس کے الٹ انسانی شبیہوں میں مقید ہو جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے بعض مذاہب میں اصنام پرستی خداپرستی ہے۔

برسوں پہلے آسمان کو چند معروف ادیبوں، شاعروں  کے افق میں تصویروں کی صورت میں دیکھا۔ اسی متاثر کن شخصیت جیسے کوئی ماڈل۔ سوچا ایسے لوگ انہی معروف لوگوں کے ہمراہ سجتے ہیں جبکہ ماڈل گرل سی ترک بھی ہو۔ ہماری اْردو شاعری میں ترک کا لفظ محبوب  کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یعنی حسین طرحدار۔ وہ حسین بھی ہے، طرح دار  اور ذہین بھی۔

ڈاکٹر سنجرانی کے جی میں نجانے کیا آئی کہ انقرہ یونیورسٹی کے اشتراک سے ہونے والی ایک کانفرنس میں ناول کے سیشن میں مجھے بھی مدعو کرلیا اور میں نے بھی جانے کی ٹھان لی۔ یہ دونوں امور سیاق و سباق  کے تناظر میں غیر متوقع تھے۔ شاید قدرت خود ایک تانا بانا بن رہی تھی کہ مجھے آسمان  ملنا تھا۔ یہ خاتون ترک مغربی لباس میں ملبوس پہلی بار پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اْردو کی سیڑھیاں اْترتے ہوئے یکدم سامنے آگئی۔

طاہرااآ۔۔۔!!!۔

ارے یہ اپنائیت، یہ محبت، پہلی بار یقین ہوا یہ جو جدت پسند لوگ ہوتے ہیں یہ دل اور ذہن کے بھی بڑے فراخ واقع ہوتے ہیں۔ میں نے تو ترک پہلی بار اْس وقت دیکھے جب ترکی ڈرامہ عشقِ ممنوع پاکستانیوں کو مسحور کرنے لگا تو انکشاف ہوا کہ سجاد حیدر یلدرم یونہی تو نہیں مر مٹے تھے ترکی پر۔ یہ آسمانوں کو چھوتی ہوئی آسمان یعنی یہ آسمان ہمارے والا ہی آسمان ہے۔Sky۔

پنجاب یونیورسٹی میں ناول کے سیشن میں مرزا اطہر بیگ نے کہا مجھے سبھی سیمینارز اور کانفرنسز میں بلاتے ہیں لیکن میں جانا پسند نہیں کرتا۔ میری باری آئی تو میں نے کہا انھیں لوگ بلاتے ہیں تو یہ جاتے نہیں اور ہمیں کوئی بلاتا ہی نہیں۔ مضافات کے تنہا گوشے میں بیٹھے لوگ مین سٹریم لائن سے کھدیڑ دیئے جاتے ہیں۔ اس جملے پر آسمانوں جیسا فراخ قہقہہ آسمان کا ہی ہوسکتا تھا۔

چند روز  بعد ہی فون آیا ترکی آجاؤ۔ ہم بہت مزا کریں گے۔ ارے یہ سب کیسے ہوگا لیکن دونوں بچے  بھی آسمان کے آسمانی   جھولے میں جھولنے لگے۔ ایک دن نیر کمان  نے اطلاع دی کہ ترکی کے ریٹرن ٹکٹ خرید لیے گئے ہیں۔ استنبول میں استقلال روڈ سے متصل Air BNB کے توسط سے ایک فلیٹ پانچ روز کے لیے بْک کروایا جاچکا ہے۔ آسمان کے انقرہ جانے والی ٹرین کے ٹکٹ بھی خرید لیے گئے ہیں اور پوری Payment نیر کمان نے اپنے  بینک آف امریکہ والے اکاؤنٹ سے کردی ہے۔ یہ نئی نسل کا عجب مسئلہ ہے کہ وہ زیادہ دیر گومگو کی کیفیت کو جھیل نہیں پاتی جبکہ ہم پوری عمر ایسے کروں کہ نہ کروں، کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہوجائے  کی کیفیت میں تین زینوں کو سفر کرتے عمر گزار دیتے ہیں ایک زینہ چڑھتے پھر اْترتے۔

فیصلہ ہو چکا تھا  پھر پاسپورٹس ری نیو کروانے سے ایکس پاکستان لیو لینے تک لگتا تھا سرکاری ملازمین سب سے بڑے دہشت گرد، بھگوڑے اور بددیانت ہیں۔ ایکس پاکستان لیو جو آپ کی اپنی تنخواہ سے کٹتی ہے اس کے لیے دو مہینے کی تگ و دو کے بعد خطیر رقم جیب سے نکالیں یا پھر بڑی سفارش  ڈھونڈیں ورنہ عمر بھر گھر ہی بیٹھے رہیں۔ لیکن یہ ساری بھاگ دوڑ بار بار کی مایوسی اور بے بسی کا تکلیف دہ احساس اْس وقت اِک روح پرور سرشاری میں تبدیل ہو جاتا جب ایک چہکتی ہوئی آواز کانوں میں رس گھولتی۔  “تیاری ہو گئی ”   میری جاآن۔۔۔بس جلدی سے آجاؤ۔ یہ آسمان ہے جو آسمانوں جیسی ہے۔ جو گیارہ سالہ خوبصورت بیٹی   دفنے اور آمیں جیسے پْروقار شوہر کے ہمراہ انقرہ کے ایک خوبصورت فلیٹ میں رہتی ہے جو انقرہ یونیورسٹی کے شعبہ اْردو کی چئیر پرسن ہے جس نے اپنے گورے گورے بازو پر اْردو رسم الخط میں کندہ کروا رکھا ہے:

“آسمان آزادی”

جو اْردو گیت گاتی ہے، بھنگڑا ناچتی ہے، جو آمیں جیسے اچھے انسان کی انتہا کی سگھڑ بیوی ہے، جس کا گھر کچن باتھ روم یوں چمکتا ہے کہ پاکستانی عورتیں بس حسرت کریں۔     وہ گندے برتن کچن میں چھوڑ کر کبھی سو نہیں سکتی، جس کے گھر کا فرنیچر بردے، قالین، سفید براق ہیں اور ترکی میں سفید پردے قالین عام ہیں۔ شاید اپنے ضمیر اور صاف دلی کی طرح شفاف نازک آرائشی ظروف شوکیس میں سجے نفیس جام اور انگور کے قیمتی مشروب، جو تصور دیتے ہیں محض فراغت اور سرمستی کا لیکن یہ تو ہمہ تن مصروف ہے۔ نوکری کرتی پورے گھر کو سنبھالتی دفنے کے لیے ناشتہ بناتی، سکول چھوڑ تی، کپڑے دھوتی، استری کرتی، فرش چمکاتی، کتابیں لکھتی، اللہ اللہ کیا کیا کرتی یہ نازک سی لڑکی، میرا دم تو محض بولنے سے ہی پھول گیا۔

جو گاڑی ڈرائیو کرتے ترکی اور اْردو گانے بلند آواز میں سنتی اور ان کے ہمراہ گنگناتی ہے، جو کتنی تھک جائے لیکن لطف اندوز ہونے سے کبھی نہیں تھکتی۔ محبت سے، باتوں سے،   مہمان نوازی سے، تواضع  سے کبھی نہیں تھکتی۔ جو لطف  اندوز ہوتی ہے انقرہ کے حسین موسموں سے، برف باری سے، گیتوں سے، رقص سے، وائین سے، دوستی سے، شاعری سے ترکش قہوے سے۔

انقرہ کے حسین موسموں اور آزاد ماحول میں لطف اندوز ہوتے ترکش اور اْردو گیت گاتے اور رقص کرتے دیکھ کر لگتا  ہے کہ اْونچی ہیل کے پہلی پیڈ سے ابھی پرواز بھر جائے گی۔ آسمانوں کی کھلی فضاؤں میں،خوبصورت راہیں اور کلائیاں پنکھوں کی جھلاتی اڑتی پھرے گی۔ سی گل کی مانند کھلے سمندروں میں غوطے لگاتی، اس راج ہنس  سی لڑکی کے پاس کبھی کوئی غم تو پر بھی نہ مار سکتا ہوگا۔ کبھی کسی امتحان سے تو نہ گزری ہوگی۔ اس پر جھنکارتی تتلی نے اپنے پروں کے زردانے سے جھٹکے۔

میری جان  تمھیں پتا ہے میری Mastectomy ہو چکی ہے۔

ارے نہیں  یہ نہیں ہوسکتا ہے۔

لیکن وہ ترک  ہے ترک جھوٹ تھوڑی بولتے ہیں۔ وہ ہر چند ماہ بعد اپنے علاج کے مشکل مراحل سے گزرتی ہے۔ وہ کبھی ان دکھ بھرے لمحوں کا ذکر نہیں کرتی۔ وہ اپنے دوستوں   کو دکھی نہیں کرنا چاہتی، وہ ایسا سوچنا بھی نہیں چاہتی، لگتا ہے کہ ترکی کے وسیع سمندروں،کشادہ آسمانوں میں تنہا سی اْڑتی اس لڑکی نے کبھی تنکے چْننے کی مشقت کا تصور بھی نہ کیا ہوگا۔ اْردو بھی بس ساتھی طوطوں میناؤں سے  سیکھ لی ہوگی لیکن وہ تو اْردو سیکھنے پنجاب یونیورسٹی لاہور  کے گرم حمام سے ہوسٹل میں چار سال رہی جہاں مچھر، مکھیاں، چھپکلیاں، گرمی دانے،پسینے اور ایسے ہی گرم منفی رویوں سے عمر میں پہلی بار متعارف ہوئی۔ وہ پریوں کے دیس کی باسی کس حوصلے سے چار برس تک یہ سب جھیلتی رہی۔ ہوسٹل میں جب سبھی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے تو وہ تنہا رہ جاتی، تہواروں پر، عیدوں پر، بیماری میں، چھٹیوں میں تو کوئی اس کی پرواہ نہ کرتا تھا۔

اس  نے جھیلا یہاں منفی رویوں کو، منافقت کو اور ہر اس رویے کی سنگینی کو جس کو جلوت میں بْرا بھلا کہتے  استغفر اللہ پڑھتے ہم کانوں سے دھویں اور منہ سے مریوں کی دھونی چھوڑ کے  عجیب الخلقت انسانوں سے عمر  میں پہلی بار متعارف ہوئی تھی وہ لیکن جھیل گئی۔

جھوٹ، مکر، فریب، وعدہ خلافی، ابن الوقتی، اندر اور باہر سے،متضاد رویوں والے پاکستانیوں سے وہ پھر بھی محبت کرتی ہے۔ان کی میزبان بنتی ہے، انہی پاکستانیوں کے ایک خاندان کو ضد کر کے اپنے گھر ٹھہراتی ہے، ان کے لیے ناشتہ،کھانا تیار کرتی ہے،ان کی آسائشوں اور تفریح کے انتظامات کرتی ہے، اپنا بیڈ روم انھیں دے دیتی ہے۔ یہ سب کیا ہے، میرا نام ہے محبت جہاں تک پہنچے۔ اتنا سچا، کھرا اور دو ٹوک روپ تو اللہ والوں کا ہوتا ہے۔ پر و ہ تو نماز نہیں پڑھتی، وائین کا ذائقہ اسے اچھا لگتا ہے، وہ بہت خوبصورت رقص کرتی ہے، اْس میں دوئی نہیں، وہ جیسی ہے ویسی اصلی اور کھری، منٹو کی موزیل سی۔

لیکن یہ تو آسمان ہے ایک ہوگ کے ساتھ صحراؤں میں لمبی اْڑان بھرتی، چمکیلے پروں والی سون ڈک سی گہرے سمندروں میں غوطے لگاتی، یہی کشادگی اور گہرائی اس کے مزاج میں گندھی ہے لیکن ہے تو مانوسی جو محبت کی آغوش میں استراحت کرنا چاہتی ہے۔ اس نے کہا تھا امیں سے میری پہلی ملاقات ایک تقریب میں ہوئی،سبھی لوگ چلے گئے تھے، ایک بلی پھدکتی ہوئی امیں کی آغوش میں بیٹھ گئی۔ امیں نے اْس کی فر میں جس طرح ہاتھ پھیرے میرا یکبارگی جی چاہا کاش یہ میرے  بالوں کو بھی ایسے ہی سہلائے۔

اس نے آسمان بھرا قہقہہ لگایا۔ لیکن امیں میرا تیسرا مگر کامیاب عشق ہے۔دو ناکام عشق بھی ہیں۔  ایک  وہ جو انقرہ میں  یونیورسٹی سٹوڈنٹ تھا۔ بائیں بازو کا زبردست انقلابی، جیل بھی کاٹ چکا تھا۔ جو اس کے لئے ساز بجایا کرتا۔ترک موسیقی  ساز جس کا نام ہی ساز ہے۔جو اس  جل پری سی لڑکی کو بہت پسند تھا۔ میں تصور کر سکتی ہوں۔ وہ جھوم اٹھتی  ہو گی۔اس کے سنہرے بال  ساز کے سروں  کی مانند  لہراتے ہوں گے۔یہ بلوری جام سی لڑکی مست مسحور۔لیکن دونوں کا آدرش شاید زیادہ مسحور کن تھا۔ یہ پنجاب یونیورسٹی کی سڑی ہو ئی گرمی میں اردو سیکھنے کو آگئی  اور وہ اپنے انقلاب کے سمت لوٹ گیا۔ یا شاید پر نہیں  آئی لینڈ کی سمت۔ جس کے سحر انگیز ساحلوں پر بائیسکل چلاتے ہوئے پیچھے لگی ٹوکری میں سبزیاں پھل بھرے پھولوں سے لدے کسی کاٹیج میں شام پڑے روپوش ہوجاتا ہوگا کہ کسی کروز کے عرشے پر بیر پیتے پیچھے چھٹتی لہروں میں غوطے لگاتی سی گلز کو ہارتے ہوئے دکھتا ہوگا۔جو پانی کی سطح سے ذرا ذرا اوپر اڑانیں بھرتے کروز کا پیچھا کرتی ہیں اور چھٹتے ہوئے جھاگ دلربانٰوں میں گم ہو جاتی ہیں۔ انہیں گم ہوتے دیکھ کر کچھ سوچتا ہوگا۔بعد اچانک کہیں ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا تمہارا انقلاب کیا ہوا؟ جس طرح تم اچانک غائب ہوگئی اسی طرح انقلاب بھی لاپتہ ہوگیا۔ دوسرا عشق پنجاب یونیورسٹی کی سریستہ فضاؤں سے ابھرا۔

میں نے پوچھا تمہارا گھر کہاں ہے؟

اس نے رعونت سے جواب دیا:

“تمھیں کیا۔۔۔”

بیس برس بعد ملا تو دل کھول بیٹھا۔ تو میں نے کہا

“اب تمھیں کیا۔۔۔”

پھر وہی صاف شفاف وجود سے گونجتا ہوا قہقہہ۔ امیں کو سب بتایا وہ بھی خوب ہنسا میں بھی ہنسی۔ ارے تم ہنستی ہی تو اچھی لگتی ہو۔کھنکتے جھرنے سے ہنر دھار کنکر سا کنپٹی پر بجا۔ میری جان تمھیں معلوم ہے میں کینسرتہورہوں۔ ہائے میری جان کچھ یاد نہیں کرنا چاہتی لیکن اس کی بھی چند اچھی یادیں ہیں۔

جب میں کیمو تھراپی کے بعد یونیورسٹی گئی تو میرے  وائس چانسلرنے ایک جملہ ایسا کہا جس نے مجھے صحت مند  کردیا بولا:

“تم بہت پیاری لگ رہی ہو، تمہارا یہ نیا ہیر سٹائل تمھیں بہت جچ رہا ہے کیوں کہ میرے سر پر ایک بھی بال نہ رہا تھا۔ بس چھوڑ دو،گیت گاؤ، رقص کرو، قہقہے لگاؤ، مزے کرو بس محبت کرو۔۔۔”

کیا حوصلہ ہے اس لڑکی کا جو مسلسل علاج کرواتی ہے، کانفرنسز کرواتی ہے، اْردو میں کتابیں لکھتی ہے، جن کے منفی رویوں سے دکھی ہوتی ہے اْنھی سے محبت بھی کرتی ہے۔ پاکستان کی سڑی ہوئی گرمی، ملاوٹ زدہ خوراک اور گردو غبار سے اْسے الرجی بھی ہوجاتی ہے۔ اس کا مدافعتی نظام ڈاکٹروں نے کمزور کر دیا ہے لیکن وہ پھر بھی پاکستان آنا چاہتی ہے کیوں کہ پاکستان میں اْس کے کئی گھر موجود ہیں، اْس کے نام سے کئی دل اور در کھلے ہیں۔

یہ ترکی  کے سمندروں کی سی گل نیلے پانیوں میں غوطہ لگا کر محبت کا دانہ چن لیتی ہے۔ حاجیہ صوفیہ سی عظمت کے محل کی دوستوں پر گھومتی شہزادیوں ساتخیل، مغربی طرز کے ملبوسات میں باسفورس برج کی تقسیم کی سی، ایشیا اور یورپ کا حسین امتزاج، ڈولما باجی محل سی مسحور کن۔

 

یہ ترک سچائیوں اور محبتوں کی سفیر ہے۔ ہمارے بیچ یہی سچ کی دوستی ہے۔ سچ کے قدموں کی چاپ سرحدیں ٹاپ جاتی ہے۔ ترکی اور پاکستان کو ایک کر جاتی ہے۔ عجب اسرار کی دنیا ہے یہ آسمان بھی جس پر  قدرت نے کتنے حسین چاند ستارے آراستہ کر رکھے ہیں، کتنی زیبائشیں، روشنیاں اور سچائیاں۔

Check Also

باباکے خواب کا سفر حاصل پہ رک گیا ۔۔۔ وحید زہیر

سیاست کرنے کی نہیں،سمجھنے، سمجھانے،اپنوں کے ساتھ نبھانے،دکھ درد بانٹنے،،امن کے ترانے گانے،زندگی کو زندگی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *