Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » حال حوال » سنگت پوہ زانت ۔۔۔ نجیب سائر

سنگت پوہ زانت ۔۔۔ نجیب سائر

سنگت اکیڈمی آف سائنسز کی ماہانہ علمی نشست پوہ و زانت بیادِ میر حاصل بزنجو ماہ ستمبر کے پہلے اتوارکی صبح گیارہ بجے پروفیشنل اکیڈمی کوئٹہ میں منعقد ہوئی۔ نشست کی  صدارت سنگت اکیڈمی کے مرکزی جنرل سیکرٹری جاوید اخترنے کی۔اعزازی مہمان ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر عطااللہ بزنجو تھے۔ نظامت کے فرائض سیکرٹری پوہ و زانت نجیب سائر نے ادا کیے۔ پروگرام کے باقاعدہ آغاز سے پہلے فوت ہونے والے ساتھیوں کے لیے فاتحہ پڑھی گئی۔میر حاصل خان بزنجو، معروف ترقی پسند افسانہ نگار، ادیب رشید مصباح، منصور بخاری،عطاء اللہ شاہ، حیات بلوچ اور شاہینہ شاہین کے لیے دعا کی گئی۔ فاتحہ کی دعا ڈاکٹر مبین میروانی نے کروائی۔

سب سے پہلے بلوچستان کے معروف شاعرو ادیب وحید زہیر نے اپنا مضمون پیش کیا جس کا عنوان تھا  ’بابا کے خواب کا سفر حاصل پہ رک گیا‘۔انھوں نے کہا کہ سیاست کرنے کی نہیں،سمجھنے، سمجھانے،اپنوں کے ساتھ نبھانے،دکھ درد بانٹنے، عاقبت نااندیشوں کو آزمانے،امن کے ترانے گانے،زندگی کو زندگی کی طرح گزارنے، مشکلات کی کوکھ سے آسانیاں پیدا کرنے، عوام کی جانب سے ہاتھ بڑھانے،ظالموں سے پیچھا چھڑانے، درویشی میں محبت کے گیت گنگنانے،علم، تجربہ، مشاہدہ کے پیچھے چلنے، بے غرض ہو کر انسانیت کے لیے خدمات سرانجام دینے کا نام ہے۔ میر حاصل خان بزنجو اپنے بابا کی طرح سیاست کی یہ گتھیاں سلجھاتے سلجھاتے راہی ملک عدم ہوا۔حاصل خان بلوچستان اور اس ملک میں بیرونی مداخلت سے بھی بخوبی واقف تھا۔کیونکہ اس کے باباکاوژن اسے ورثے میں ملا تھا۔ ایک مرتبہ کسی نے عوام کو ووٹ کا صحیح استعمال نہ کرنے پر طعنہ دیا۔ توحاصل نے کہا کہ یہاں ووٹ نہیں نوٹ اور طاقت سے لوگ اقتدار میں آتے ہیں۔ بہرحال بابا بزنجو کی طرح حاصل بزنجو بھی اور تو کچھ حاصل نہیں کرسکاماسوائے اپنوں سے محبت اور عقیدے کے۔

دوسرا مضمون محمد نواز کھوسہ نے بلوچی میں پڑھا۔عنوان تھا  ’میر جمہوریت،میر حاصل خان بزنجو‘۔کا بی وقتیا جمہوریت، عوامی راج و انسانی آزادیانی توار بی میر حاصل خان بزنجو ئے ذکر ضرور بی۔ میر صاحبا ہمیشہ جمہوریتئے محافظ کردار ادا کھزا۔ مارشل لاء بی یا سیول و ملٹری اسٹیبلشمنٹے عوامی راج مخالف عمل، میر صاحبا خوفاش بغیر بہادری پھجیا ہماہیانی مقابلہ کھزا۔ کراچی یونیورسٹی زمانا ضیاء سنگتانی تشدد برداشت کھزی وزی عوام دوست حقیقی موقفاش پھزا نہ ہٹزا۔میر حاصل خان بزنجوئے شخصیت منافقتاش پاکا۔ ہر توار دیم سرا کھنوخا۔ تنقید برداشت کھنغئے حوصلازی۔ باہمتیں انسانیا۔ گھبرائنوخیں طبیعت نزی۔ سدائیں کھندغو مشکلاتانی مقابلہ کھنغا۔میر حاصل خان بزنجو بلوچانی موزی مرض کینسر شکار بیزو 20 اگست 2020 مارا کلاں ر اشتو شزا۔

عطا ء اللہ بزنجو نے اپنا مقالہ ’میر حاصل بزنجو کی یاد میں‘ پڑھا۔ انھوں نے کہا کہ حاصل بزنجو کی رحلت بائیں بازو کی سیاست پر ایک کاری ضرب ہے۔میر حاصل نے کہا کہ ہمارے معاشرے کو بنے بنائے سیاستدانوں سے چھٹکاراحاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حقیقی اور جمہوریت پسند قوتوں کو اپنے ساتھ جوڑتے ہوئے آگے بڑھیں ورنہ بنے بنائے سیاستدان کہلانے والوں کے ہاتھوں جمہوریت کا قتل ہوتا رہے گا جس کے نتائج حالیہ دنوں چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے دوران سامنے آئے۔وہ اپنے والد کی طرح سخت سے سخت تنقید کو برداشت کرتے تھے، جواب میں مسکراہٹیں بکھیر دیتے تھے۔ انہوں نے کٹھن اور مشکل حالات کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔یقینا ایسے رہنماؤں کی رحلت سے خلا پیدا ہوگا لیکن ہم توبابا بزنجو کے پیروکار ہیں، جدوجہد کا سفر جاری رہے گا۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری نے اپنے مضمون میں کہا کہ حاصل خان کی تاریخ پیدائش فروری 1958 ہے۔ وہ محض چھ ماہ کا تھاکہ ایوب خان کا مارشل لا لگ گیا۔ حاصل خان کے والد غوث بخش بزنجو کو گرفتار کیا گیا اورباپ جب رہا ہواتو حاصل چار سال کا ہو گیا تھا۔ یعنی اس نے اپنے ابتدائی عمر کے چار سال باپ کے پیار سے محروم یتیمی میں گزارے۔ اس کے علاوہ اس کا والد جوانی میں عوامی سیاست کے جرم میں 25 برس کی پر تشدد قید کاٹ چکا۔ تصور کیا جاسکتا ہے کہ ننھے حاصل خان کا بچپن کس قدر اذیت ناک محرومی میں گزرا ہوگا۔نہ مکمل یتیم اور نہ مکمل باپ والا۔بلوچستان میں جمہوری سیاست کرنے والوں کے لیے کبھی ہلکا جملہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ ہر ایک کے پاس برسوں جیل کاٹنے کا اعمال نامہ موجود ہوتا ہے۔

دو سال قبل اسے لنگز کا کینسر ہو گیا۔ہمارے ساتھی اس سے باتیں تو کرتے تھے مگر حتمی طور پر یہ گفتگو سیاست پہ ہوتی تھی۔خواہ مخواہ بیماری پر خبریں جمع کرکے مزہ لینے کی نوبت نہ آتی۔ وہ خود بھی کوشش کرتا کہ شخصی زخم دکھائے بغیر، رہے سہے ماہ و سال عوامی سیاست میں گزارے۔اس نے زندگی کابقیہ حصہ واقعی بھرپور سیاست میں لگا دیا۔ اس کی نہ تو صحت گری، نہ بال جھڑے، نہ وہ چڑ چڑا ہوا، نہ مایوسی آئی۔ کینسر جیسی مہلک بیماری میں ایسی دلیری بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔میر حاصل بزنجو کے جنازے میں شرکت کرنے والے بتاتے ہیں کہ ایک شخص نے قبرستان میں اتنی بڑی تعداد میں موجود عوام الناس کو موجود پایا تو کہہ اٹھا، ”عوام اپنے حق میں بات کرنے والوں کوکبھی فراموش نہیں کرتے۔“

اس کے بعدسرورآغا نے قراردادیں پیش کیں، جن کی منظوری اکثریتی رائے سے دی گئی۔

۔1۔ یہ اجلاس میر حاصل خان بزنجو کی وفات پر دکھ اور رنج کا اظہار کرتا ہے اور ان کے خاندان، اقربا اور سیاسی رفقاسے دلی تعزیت کرتا ہے۔

۔2۔ حیات بلوچ اورفنکارہ و صحافی شاہینہ شاہین بلوچ کے قتل کی عدالتی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے۔

۔3۔ یہ اجلاس ڈاکٹر جنیدایوب گچکی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔

۔4۔ پورے ملک اور بلوچستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے متاثرین کی املاک کے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے۔ نیز بے گھر افراد کی آباد کاری کا بندوبست کیا جائے۔

۔5۔ یہ اجلاس حکومت سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بولان میڈیکل یونیورسٹی کے ہڑتالیوں کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے ہڑتال ختم کرائے۔

۔6۔ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے،اسے سیاسی طور پہ حل کیا جائے۔

۔7۔ ٹڈی دَل کے خاتمے کے لیے مناسب اور بھرپور اقدامات کیے جائیں تاکہ زمینداروں اور کسانوں کا مزید نقصان نہ ہو۔

۔8۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مناسب اور دیرپا اقدامات اٹھائے جائیں۔

۔9۔ چونکہ کرونا کا فی الحال کوئی علاج نہیں۔ لہٰذا سنگت اکیڈمی آف سائنسز کی ہیلتھ فیکلٹی کے ہدایات پہ عمل کیا جائے اور جب ویکسین مارکیٹ میں دستیاب ہو تو اسے عوام کو مفت مہیا کیا جائے۔

۔10۔ایس او پیز پر عمل درآمد کی یقین دہانی کے بعد بلوچستان کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو فی الفور کھولا جائے تاکہ طلبا اور طالبات کا قیمتی وقت مزید ضائع نہ ہو۔

۔11۔ کرونا وبا کی وجہ سے بلوچستان کے فنکاروں کو نان نفقہ کا مسئلہ درپیش ہے، ان کی مالی مدد کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد صدرِ مجلس پروفیسرجاوید اختر نے سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ پیش کیے گئے مقالوں پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ شاندار مضامین سننے کو ملے۔ ایک بڑی سیاسی شخصیت کو یاد کیا۔یقینا ان کی جمہوریت اور صوبے کے لیے بڑی خدمات ہیں۔سنگت اکیڈمی نے اپنی روایت کو برقرار رکھا ہے، یہ بات قابلِ فخر ہے۔ ہم تمام شرکا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

آخر میں ڈاکٹر شکیب سنجرانی اور بیرم غوری نے شاعری سنائی اور عطاء اللہ بزنجو نے حبیب جالب کی یہ نظم پڑھ کے تقریب کا اختتام کیا۔

 

مرا ہم قفس بزنجو، مرا رہنما بزنجو

کہاں اب سر زمانہ مری جان ایسا حق گو

 

اسے مصلحت نہ آئی یہی اس کی تھی بڑائی

چلو اس کے راستے پر مرے ہمدمو، رفیقو

 

یہ عظیم راز پا کر وہ گیا ہمیں بتا کر

یہ نظام موت کا ہے اسے زندگی نہ بخشو

 

یہ جو تخت پر ہیں بیٹھے تمہیں ذلتیں ہی دیں گے

جو سجا ہے ان کے رخ پہ، یہ تمہارا خون ہے لوگو

 

نشست میں سنگت اکیڈمی کے اراکین کے علاوہ سیاسی و سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے بعد سنگت اکیڈمی کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ کمیٹی نے مختلف تنظیمی امور پر تفصیلی مباحثہ کیا اور اہم فیصلے لیے۔ آخر میں سنٹرل کمیٹی کے اراکین نے وفد کی صورت بی ایم سی بحالی احتجاجی تحریک کے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا اور تحریک کے کارکنوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ بطور ایک علمی تنظیم کے ہم اس جائز جدوجہد میں ہر مرحلے پر آپ کے ساتھ ہیں۔

Check Also

سنگت اکیڈمی آف سائنسز ۔۔۔ نجیب سائر

سنگت سنٹرل کمیٹی میٹنگ   موجودہ ٹرم کے سنگت سینٹرل کمیٹی کا تیسرا اجلاس اتوار  ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *