Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » امید ۔۔۔ شان گل

امید ۔۔۔ شان گل

اسکرا

غیر قانونی اخبار ”اسکرا“(چنگاری) اُس زمانے میں روسی مارکسسٹوں کا مرکزی ترجمان تھا۔اسے بیس سال سے جلا وطن،پلیخانوف اور دیگر بیرونِ ملک سے چلاتے تھے۔

مئی 1900میں لینن، مارٹوف، پوتریسوف اور دوسرے مارکسٹ خفیہ طور پر پسکوف میں ملے۔ وہ بیرون ملک اپنا اخبار چھاپنے کا حتمی منصوبہ بنانے جمع ہوئے۔ فیصلہ ہوا کہ اس سلسلے میں لینن اور پوتریسوف پلیخانوف کی مدد حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک جائیں۔ (1)۔

ملاقات ہوئی،پلیخانوف سے بات طے ہوگئی۔ یوں اب ”اسکرا“ کے ایڈیٹوریل بورڈ میں پلیخانوف اور لینن کے علاوہ زاسولچ، ایکسلراڈ، مارٹوف اور پوتری سوف شامل تھے۔لینن اور پلیخانوف کی ترجیحات میں البتہ فرق تھا۔ پلیخانوف کے لئے”اسکرا“ایک لٹریری کام تھا۔ مگر لینن کے لئے یہ انقلابی سرگرمی کا فوری آلہ تھا۔

15اگست 1900کولینن اور پوتریسوف اخبار چھاپنے کا بندوبست کرنے میونخ گئے۔ وہاں انہیں ایک دوستانہ پبلشنگ ہاؤس دیکھنا تھا جہاں ایسے پرنٹر ہوں جو روسی جانتے ہوں۔انہوں نے اسکرا کے دفتر کا بھی انتظام کرنا تھا۔اخبار کی باریکی سے پروف ریڈنگ کرنی تھی۔ اور روس کے اندر اخبار تقسیم کرنے کا خفیہ نیٹ ورک بھی بنانا تھا۔ خفیہ پرنٹنگ سہولت جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے دینی تھی۔کلارازیٹکن اور ایڈولف بران نے لپزگ میں اخبار چھاپنے کا انتظام کرنا تھا  (2)۔اس کے علاوہ مالی وسائل کو یقینی بنانا تھا۔

لینن دراصل تھا ہی تنظیمی آدمی۔ اس نے محدود پیمانے سے لے کر عالمی سطح تک انقلابی تنظیم قائم کرکے دنیا کو حیران کردیا۔ مثلاًاخبار کوروس جرمن سرحد کے قریب کے شہر سے روس جانا تھا۔نیزاسکرا لندن، سٹاک ہوم، جنیوا، الیگزنڈریا (مصر) جیسے متنوع روٹس سے بھی روس جاتا تھا۔وہاں سے پیشہ ورسمگرز نے اسے سرحد پار کرانا تھا جہاں ”اسکرا اسسٹنٹس“ موجود ہوتے۔ وہاں سے اُسے پورے روس میں خفیہ اسکرا کمیٹیوں تک پہنچایا جاتا(3)۔

روس کے اندر اخبار کی ترسیل و تقسیم کے علاوہ ایک بہت بڑا کام وہاں سے خبریں تسلسل سے ملنے کے انتظامات کرنے کا تھا۔ اور یہی بڑا کام لینن نے کر دکھایا۔ اس نے روس کے اندر اخبارکی مدد کے لیے ”اسکرا اسسٹنٹوں“ کا ایک نیٹ ور ک قائم کر لیا۔

روس کے اندر اخبار بڑی تعداد میں تو نہیں بجھوایا جاسکتا تھا۔ وہاں یہی  ”اسکرا اسسٹنٹ“غیر قانونی پرنٹ کی جگہوں سے اخبار کے مضامین بڑی تعداد میں ری پرنٹ کرواتے تھے۔ وہ لوگ اخبار کے لیے فنڈ جمع کرتے تھے اور ملک بھر میں انقلابی گروپوں اور مزدوروں میں اخبار کی تقسیم کا انتظام کرتے تھے۔

اس کے علاوہ یہی لوگ مزدور طبقے اور انقلابی تحریک سے متعلق بہت مواد ایڈیٹروں کو بھیجتے تھے۔ مزدوروں کے خط بھی اس اخبار میں چھپتے تھے۔یہ لوگ اخبار کو پارٹی کے بارے میں ہر پیش رفت سے آگاہ رکھتے تھے۔ یہی لوگ دراصل آگے چل کر بننے والی پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی بنے۔

اِن اسسٹنٹس میں سے کئی لینن سے ملنے آتے۔ اوراس سے حالات ِ حاضرہ اور تنظیمی امور پر ہدایات لیتے۔ لینن اُن کی مشکلات اور مسائل میں دلچسپی لیتا۔

یہ اسسٹنٹس عام لوگ نہ تھے۔ یہ لوگ پولیس کی مسلسل نگرانی کے باوجود اورگرفتاری کے خطرات کے باوجود روس بھر میں جانفشانی سے کام کرتے تھے۔ یہ لوگ مزدوروں سے قریبی تعلق رکھتے اور اسکرا کے لیے رپوٹیں اور خطوط بھیجتے تھے۔

لینن نے انہی اسکرا اسسٹنٹوں کے بل بوتے پر ”روسی اسکرا تنظیم“ قائم کر ڈالی۔ اس تنظیم نے دوسری پارٹی کانگریس تک خوب کام کیا اور کانگریس کے انعقاد کی تیاریوں میں زبردست کردار ادا کیا۔یوں اسکرا، پارٹی قوتوں کو متحد رکھتا تھا، یہ انہیں تنظیمی تربیت دینے کا ذریعہ بنا۔ یہ اخبار ایک لڑاکا، مرکزیت والی،آل روس پرولتاریہ پارٹی منظم کرنے کا، ذریعہ بنا رہا۔ اسکرااس پارٹی کو مارکسسٹ پروگرام دینے،انقلابی ٹیکٹکس سکھانے،اور ایک واحد اور آ  ہنی ڈسپلن والی پارٹی بنانے پہ وقف رہا۔ یہ اسکرا تنظیمیں اس سارے کام میں مرکزی کردار ادا کرتی رہیں۔لینن نے انہیں کلاس شعور رکھنے والے پرولتاریہ میں ”عمدہ ترین عناصر“ کہا تھا۔

چنانچہ،لینن کی شمولیت کے بعد ”اسکرا“محض سیاسی لڑائی نہیں لڑرہا تھا بلکہ اس نے ایک سیاسی پارٹی منظم کرنے کا کام بھی کیا۔ آپ یوں سمجھیں کہ لینن نے خود کو اس عملی تنظیمی کام کی سربراہی کے لیے وقف کردیا۔ یوں وہ آرگنائزیشن کمیٹی کی روح بن گیا۔

اور یہ ایڈہاک عمل نہ تھا۔سروں اور جانوں کا خطرہ تھا۔ اس لیے بہت جامع اور فول پروف انتظامات موجودتھے۔اسکرا کے ذریعے پارٹی بنانے کے ارادے تو دیکھیے:”ہم ایک مضبوط گروپ کے ساتھ ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ایک چٹانی اور دشوار راستے پر مارچ کر رہے ہیں۔ ہمارے چاروں طرف دشمن ہیں اور ہمیں اُن کی فائرنگ ہی میں تقریباً مسلسل آگے بڑھنے رہنا ہے۔(4)۔

”اسکرا“ ایک تاریخی اخبار ہے جو لینن کے نام کے ساتھ جڑا ہے۔اس میں لینن کے اولین اہم مضمون ”کہاں سے ابتداکی جائے“  بھی شامل ہے۔ اس مضمون میں لینن نے مزدور تحریک اور روسی انقلاب کا پورا پروگرام وضع کیا۔(5)۔

”اسکرا“کا پہلا شمارہ 24 دسمبر 1900 میں شائع ہوا۔ اس کا اسلوب عالمانہ طو رپر مارکسسٹ تھا۔ اخباربنیادی طور پر ایسے قارئین کے لیے تھا جو کچھ نہ کچھ مارکسزم جانتے ہوں۔ یہ سمجھیے کہ یہ اب پارٹی سنٹرل کمیٹی کے متبادل کی طرح کام دینے کی شکل میں وضع کیا گیا تھا۔

لینن اخبار کے مندرجات میں سے ایک ایک چیز دیکھتا، چھانتا پھٹکتا۔ وہ لکھنے والوں کو موضوعات دیتا، اُن کے مضامین کو ایڈٹ کرتا، اخبار کے نمائندوں سے رابطے میں رہتا، فنڈز کا بندوبست کرتا، اسے روس میں سمگل کرنے کے طریقے اور ذرائع ڈھونڈتا، اور اس کی باقاعدہ اشاعت کو یقینی بناتا۔

اخبار ورکنگ کلاس کے کاز کے لیے پیشہ ور انقلابیوں، بہادر اور متحرک لوگوں کو متحد رکھتا تھا اور انہیں اپنے گرد جمع کرتا تھا۔ لینن اُن کی ٹریننگ اور ارتقا پہ خوب متوجہ رہتا۔ وہ اُن کے خطوط اور رپورٹس پڑھتا اور جواب دیتا۔ اس سلسلے میں اس کا وہ خط بہت مشہور ہوا جس کا عنوان تھا:  ہمارے تنظیمی فرائض پہ ایک کامریڈ کو خط۔ لینن نسبتاً بڑی فیکٹریوں کو اہمیت دیتا تھا جہاں مزدوروں کی تعداد زیادہ تھی۔ ”باید ہے کہ ہر فیکٹری ہمارا قلعہ ہو“۔ اس خط کی لاتعداد کا پیاں کی گئیں اور یہ ہاتھوں ہاتھ پورے روس میں پھیل گیا۔ جنوری1904میں یہ خط پارٹی کی سنٹرل کمیٹی نے پمفلٹ کی صورت میں چھاپ دیا۔ اس پمفلٹ کے لیے لینن نے ایک پیش لفظ لکھا،اور ایک پس لفظ بھی۔

ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ”اسکرا“ کی اشاعت کے زمانے میں ہی لینن نے ”لینن“ کے  فرضی،نقلی، یا قلمی نام سے لکھنا شروع کیا(اس  کا اصلی نام ولادیمیر ایلیچ تھا)۔واضح رہے کہ 1893میں اس کی پہلی تحریریں بغیر نام کے تھیں۔ پھر اس نے 1893کے اواخر میں ”وی۔ یو“ کا نقلی نام استعمال کیا، اور پھر ایک سال بعدوہ ”K.Tulin“ کے نام سے لکھنے لگا جو کہ Tula کے قصبے سے لیا ہوا نام تھا۔ 1898میں اس نے  ”VI. Alyin“ کا نقلی نام استعمال کیا، اوراگست 1900میں  ”پتروف“۔ جنوری 1901میں پلیخانوف کو لکھے خط میں اس نے خود کو ”لینن“ کہہ دیا۔ اور پھر اسی سال جون سے اُس نے یہی نام جاری رکھا۔ اسی نام سے آج دنیا اسے جانتی ہے۔ کروپسکا یا کے بیان کے مطابق یہ انتخاب بظاہر اتفاقی تھا۔پلیخانوف اپنی تصانیف میں والگین کا نام (روسی دریائے والگا کے نام پر) استعمال کرتا تھا، ممکن ہے کہ لینن نے بھی اپنے فرضی نام کے لئے سائبیریا کے زبردست دریا ”لینا“ کو بنیاد بنایا ہو۔(15) بس، یوں ہواکہ وہ پھر لینن ہی کے نام سے مشہور ہوا۔آج ہم اُسے اسی نام سے جانتے ہیں۔

حالانکہ کروپسکایا اور لینن نے اصلی پاسپورٹوں سے روس چھوڑا مگر وہ انڈر گراؤنڈ طور پر غائب ہوتے رہے۔ میونخ میں لینن ”میئرؔ“کے نام سے بغیر کسی پاسپورٹ کے رہا جب تک کہ کروپسکایا وہاں پہنچی۔ پھر ان دونوں نے نقلی بلغارین پاسپورٹ حاصل کیے:جوردانوف اور اس کی بیوی مارتیزؔاکے ناموں سے۔ انہی پاسپورٹوں سے وہ لندن داخل ہوئے۔ یہاں وہ مسٹر اور مسزرختر بنے۔ مگر جلاوطن کامریڈوں کے اندر کروپسکایا کا نام این شارکو، یا، سبلینا تھی۔ اور روسی کامریڈ وں کے لیے وہ ”کاتیا“ تھی یا کبھی کبھار ”مینوگا“ یا ”ماریا“ تھی۔ لینن کی بڑی بہن آناؔ کا نام مسز جیمز یا صرف جیمز تھا۔ ایم ایس مینسکی کا کوڈ نام گالیور کا تھا۔

یہ انقلابی لوگ محض اپنے خفیہ نام ہی نہیں رکھتے تھے۔ وہ اور اہم باتوں کے بھی کوڈ بناتے تھے۔ ان کے ایجاد کردہ یہ کوڈالفاظ بہت دلچسپ ہوتے تھے۔ مثلاًرومال کا مطلب تھا پاسپورٹ۔ گرم فرکا مطلب تھا غیر قانونی لٹریچر۔ شہروں کے اصلی ناموں کے ابتدائی حرف سے انہوں نے ان کے کوڈ نام رکھے ہوئے تھے۔ او سپ (اوڈیسہ کے لیے)، ٹیرنٹی (ٹویر کے لیے)، پیٹر(پولتا وا کے لیے)، پساہا(پسلوف کے لیے)۔

ایک بار جیل سے باہر بھیجے گئے اپنے نوٹس میں لینن نے پوچھا: ”مینو گا کے بارے میں لائبریری میں کوئی کتاب موجود ہے؟“۔ مینو گا تو کروپسکایا کا پارٹی نام تھا اور لینن اِس طریقے سے پوچھ رہا تھا کہ آیا کروپسکایا گرفتار ہوئی؟“(6)۔اِن لوگوں کے ہاں ”بیمار پڑجانا“ کا مطلب ”گرفتار ہوجانا“ تھا۔ (7)۔

یہ دلچسپ خفیہ پیغام دیکھیے۔

ریچھ بچہ(ماریا) کا کام ابھی تک پورا نہیں ہوا۔۔۔ کیا وہ آپ کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا؟۔ سنتے ہیں کہ چھوٹی مچھلی (نادژدا) بالکل لاغر ہوچکی ہے اور تھک گئی ہے۔(8)۔

یوں آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ جب کوئی انقلابی، جیل میں بند اپنے انقلابی ساتھی سے ملاقات پہ آتا تو کس طرح کی باتیں کرتا ہوگا!۔ ”ہم اشاروں کنایوں میں بات کرتے تھے۔ ہم ”ہڑتال“ یا ”پمفلٹ“ جیسے الفاظ کے لیے غیرملکی الفاظ استعمال کرتے تھے۔ جب ہم ایک دوسرے کی کوئی پیچیدہ بات سمجھ جاتے تو زور سے ہنس دیتے۔ گوکہ ہماری ملاقاتیں بے پرواہ پر لطف باتوں میں گزرتیں مگر اصل میں ہمارے دماغ زور شور سے کام کر رہے ہوتے: سمجھنے اور سمجھانے میں، اور کوئی بھی بات نہ بھولنے میں۔(9)۔

لینن کے اِس اخبار کے ماتھے پر لکھا ہوتا تھا:”یہ چنگاری ایک شعلہ بن جائے گی“۔

”اسکرا“نے تنظیمی طو پر کمال کام کیا ہی تھا، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ نظریاتی میدان میں بھی راہنما بن گیا۔دراصل اسکرا کے اجرا کے ساتھ ہی روس کے اندر نظریاتی پاکی کا عمل شروع ہوگیا۔

مثلالینن جب 1900میں سائیبریا سے یورپ گیا اور پلیخانوف کے ساتھ زیر زمین اخبار ”اسکرا“ جاری کیا تو اُس کی تقسیم سے اُس کا خیال تھا کہ ”اکونومزم“ سے لڑا جاسکتا تھا۔

لینن نے ”اسکرا“ اور بالخصوص اپنی شہرت یافتہ کتاب ”کیا کیا جائے“ میں زبردست انداز میں اکانومزم مخالف مہم شروع کردی۔اکانومزم کا مطلب یہ تھا کہ ورکنگ کلاس سرگرمی کو سیاست اور تنظیم سے ہٹادیا جائے۔ اور یہ محض خود رو طور پر معاشی سرگرمی تک ہی محدود رہے۔یعنی ورکنگ کلاس سٹرگل بس ٹریڈ یونین والی رہے۔

چنانچہ اسکراایک ایسا اخبار تھا جس کے ذریعے ملکی اور بین الاقوامی انقلابی تحریک کے بارے میں خبریں ہوتی تھیں۔ اس نے نظریاتی صفائی کا کام کیا، سیاسی سرگرمیاں کی رہنمائی کی۔ اس نے ایک واحداور متحد پارٹی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے توسط سے بیرون ملک کمیونسٹوں کو روس کے اندر کی صورتحال کو سمجھنے میں آسانی ہوتی تھی۔۔۔            ”اسکرا“ وہ وسیلہ بھی بنا جس کے ذریعے لینن پارٹی کے متعلق اور پارٹی لوگوں کو اپنا نکتہ نظر پیش کرتا تھا۔اس اخبار نے  دوسری کا نگریس منعقد کرنے میں زبردست کردار ادا کیا۔(10)۔

ینن نے اخبار کے لیے تین فرائض متعین کیے تھے: ”اجتماعی پروپیگنڈہ چی،اجتماعی ایجی ٹیٹر، اور اجتماعی آرگنائزر۔“ (11)۔

لینن کا سٹائل ڈائریکٹ تھا۔ زبان سادہ تھی۔لینن عام فہم انداز میں اپنے نظریات لکھتا تھا۔ اس کی بات کو غلط معنی پہنایا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ سب کو پتہ تھا کہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔ تحریر میں وہ کبھی بھی جذبات کو سیاست میں گھسنے نہ دیتا تھا۔ نہ تو شخصی افتخار سے اُس کا سر اکڑجاتاتھا اور ہی عجز اس کی گردن کوجھکاپاتا۔

ایک اہم بات اور بھی تھی۔ وہ حکومت سے شدید نفرت کرتا تھا۔اور وہ اُس نفرت کا برملا اظہار بھی کرتا تھی اُس وقت روس کے بادشاہ کا نام نکولس رومانوف تھا۔ مگر لینن اسے ”نکولس او بمانوف (دھوکہ باز)،“خونی نکولس“، جلاد نکولس“ جیسے ناموں سے پکارتا تھا۔

۔۔۔اور یہ سب کچھ سال1900میں اس نے کیا جب اس کی عمر محض 30برس تھی۔ اسکرا لینن کی سیاسی زندگی کے اہم ترین کارناموں میں سے ایک تھا۔

 

ریفرنسز

 

۔1۔ڈیوڈ شب۔ اے بایوگرافی آف لینن۔۔۔ صفحہ 59

۔2۔ ڈیوڈ شب۔اے بایوگرافی آف لینن۔۔۔ صفحہ 60

۔3۔ڈیوڈ شب۔اے بایوگرافی آف لینن۔۔۔ صفحہ 61۔

۔۔لینن۔coll woks vol 5 p 355

۔5۔زینوویئف۔لینن، ہزلائف۔۔۔صفحہ  13

۔6۔دیوڈ شپ۔ اے بایوگرافی آف لینن۔۔۔ صفحہ51

۔7۔کائی ٹُورین۔فارگاٹن  لائیوز۔صفحہ 56

۔8۔کائی ٹُورین۔فارگاٹن لائیوز۔صفحہ 45

۔9۔کائی ٹُورین۔فارگاٹن لائیوز۔صفحہ 34

۔10۔کائی ٹُورین۔فارگاٹن لائیوز۔صفحہ 42

۔11۔ انڈر لینن  صفحہ 27

Check Also

بلوچی زبان ئے دیوان ۔۔۔ گام گثیر

بلوچی زبانئے  دیوان کمال خان شیرانی،ڈاکٹر خدائیداد اور عبداللہ جان جمالدینی پراگریسو رائٹر ز کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *