Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » اُمید ۔۔۔ شان گل

اُمید ۔۔۔ شان گل

لینن اور کروپسکایا کی شادی

 

چھ جولائی 1898کو ضلعی پولیس نے لَوبرڈز کو شادی کرنے کی اجازت دے دی (1)۔ کروپسکایا کی ماں کی بھی خواہش تھی کہ شادی مکمل مذہبی رسومات میں ہو۔(2)۔یوں 10جولائی 1898میں جلاوطنی والے گاؤں کے پیٹر پال چرچ میں مس کروپسکایا اور مسٹر الیانوف کی شادی ہوگئی۔ دو میچور، عملی،اور پرسکون دلی دوستوں اورانقلابی عشاق کی شادی ہوگئی۔(3)۔کروپسکایا ساڑھے انتیس برس کی تھی اور لینن کی عمر 28سال تھی۔

یہ ابنارمل زمانے تھے۔ ابنارمل زمانے ابنارمل لوگ پیدا کرتے ہیں۔ غیر معمولی لوگ۔ لینن اور کروپسکایا جیسے غیر معمولی لوگوں کی زندگی کے سارے چیپٹرز غیر معمولی ہی ہوتے ہیں۔ ان دونوں کی شادی ابنارمل حالات میں ہوئی، ابنارمل ہی ہونی تھی۔

کروپسکایا اور لینن کی شادی دو باہم محبت کرنے والے انقلابیوں کی شادی تھی۔ وہ دونوں مزاح کا مشترک احساس رکھتے تھے، اُن کے آئیڈیلز مشترک تھے۔وہ اپنا سارانفع نقصان عوام کے ساتھ جوڑ چکے تھے۔ ذاتی زندگیاں انقلابی لہروں کے حوالے ہوچکی تھیں۔ خواب سانجھے، ارمان مشترک،اور اُن کی برآوری کے لیے محنت سانجھی۔(4)۔

لینن نے 54کتابیں لکھیں۔ اوردرجن بھر تصانیف نادژدا کی ہیں۔ مگر آپ اِن دو بڑے رائٹروں کے قلم سے اپنی ذات کے بارے میں، اپنی محبت کے بارے میں، اپنی شادی کے بارے میں اور اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں ایک بھی تحریر، ایک بھی پیراگراف نہیں دیکھیں گے۔ یہ انقلاب کی ڈینگیں مار کر آٹو بایو گرافیاں لکھنے والے پیٹی بورژواسیاست دانوں کے لیے ایک سبق ہے۔

بہت بعد میں کہیں بڑھاپے میں کروپسکایا نے لکھا”ذرا سوچو!۔ ہم تب جوان تھے، ابھی ابھی ہماری شادی ہوئی تھی۔ ہم ایک دوسرے سے پرجوش پیار کرتے تھے۔ ایک عرصے تک ہمارے لیے کسی اور چیز کا وجود ہی نہیں تھا۔۔۔۔  میں اپنی یادداشتوں میں اس بارے میں نہیں لکھتی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہماری زندگی میں کوئی شاعری نہ تھی، کوئی پرجوش جوانی نہ تھی“ (5)۔

بس ایک فقرہ ریسر چرز کی طرف سے: ”کروپسکایا نے شادی کی اپنی انگوٹھی نہیں پہنی۔ اپنی زندگی کے آخر میں اُس نے یہ انگوٹھی ماسکو میں سنٹرل لینن میوزیم کو ڈونیٹ کردی۔ لینن نے اپنی کاپرکی انگوٹھی کہاں کردی، کوئی نہیں جانتا“(6)۔

یوں کروپسکایا اولیانوف خاندان میں شامل ہوگئی۔ چونکہ کروپسکایااپنی ماں کے لیے بھی ذمہ دار تھی اس لیے وہ اُسے بھی اپنی جلاوطنی میں ساتھ لائی تھی۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ یوں ایک بار پھر لینن نے خود کومدد گار خاندان میں پایا۔

اولیا نوفوں کا یہ ہنی مون تقریباً ڈیڑھ سال تک جاری رہا۔ اور یہ بہت ہی خوشگوار ہنی مون رہا۔ دو جلاوطن قیدی خوش گوار نہ رہیں تو اور کربھی کیاکرسکتے ہیں؟۔مگر یہ تو دو منجھے ہوئے انقلابی سیاسی ورکرتھے۔ ایک خاموش دیہات، جہاں سائنسی سماجی سہولیات صفر تھیں، اور جہاں اتاہ فطرت تھی اور دو سخت محنتی سیاسی ورکرز کو کرنے کو کچھ کام نہ تھا۔

آہ، اُن سے سارے سیاسی کام اور ساری معاشرتی پریشانیاں پیچھے چھڑوا دی گئی تھیں۔ چنانچہ ایک لحاظ سے کہنے کو تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ دونوں آرام سے تھے مگر بھائی کی پھانسی کے زخم کا کیا کیاجائے؟، بہنوں کی گرفتاریاں اور جلاوطنیاں الگ سے چین وآرام کو آگ لگائے رکھتی تھیں۔ اور بے چاری ماں کی بیٹے سے جدائی۔۔۔ سب کچھ جو پیچھے رہ گیا تھادل کو داغ دیے جاتا تھا۔  زور زبردستی کی جلاوطنی تھی۔ زور زبردستی کی شادی تھی، زور زبردستی کا  ہنی مون تھا اور زور زبردستی کے مشاغل تھے۔کمٹ منٹ ایسے لوگوں سے بھیک میں لینی چاہیے۔

احساس اور ذمہ داری سے عاری ہوا جائے تو بظاہر فراغت تھی۔انہوں نے اس سارے عذاب کو ایک اور طرح سے اوڑھ لیا۔ اِن دونوجوان، تازہ شادی شدہ، ایک دوسرے سے گہری محبت میں گرفتار انوکھے لوگوں نے اسے بھوگنے کی ٹھان لی۔ دل میں غموں اور تکالیف کا بوجھ اٹھائے اور سماجی ذمہ داری کے کالے بادل سنبھالے رہنے کے باوجود انہوں نے شاعری پڑھنے، موسیقی سننے،گھومنے پھرنے روما نس کرنے، شکار کرنے، شطرنج کھیلنے، ماہی گیری کرنے،کمبیاں ڈھونڈنے اور، سکیٹنگ پارٹیز منعقد کرنے میں خود کو مصروف کردیا۔۔ ایسی ہوتی ہے زندگی۔ آپ آزاد بھی ہیں، آپ پابہ جولاں بھی ہیں۔

زمین کا وہی محدود ٹکڑا ان کا ” ہنی مون گھر‘‘ تھا۔ اِس نو بیاہتا جوڑے نے اپنا  ہنی مون سڈنی اور ویب کی روس میں ”ٹریڈ یونین ازم کی ہسٹری“ کے ترجمے میں گزارا۔ یہ پبلشر کے لیے محنت کر کے اپنا پیٹ پالنا تھا۔حالانکہ اُن کی انگلش بہت کمزور تھی۔۔ مگر،بہر حال یہ کام تھوڑے سے پیسے دلاگیا۔

ایک بار لینن اپنی ایک دانت نکالنے کراسنو یار سک گیا تو کروپسکایا نے لکھا”اُس کے بغیر علاقہ خالی لگتا ہے“ (7)۔دلچسپ ترین بات یہ کہ لینن دانت کے سلسلے میں گاؤں سے باہر گیا تو اسے کروپسکایا کی حفاظت پہ تشویش تھی۔ اس نے جلاوطن جیولر سے اُس کے گھر سونے کا کہا اور کروپسکایا کو ریوالور کا استعمال سکھانے کو کہا:(8)۔

یہ شادی شدہ نوجوان سیاسی ورکرز باہر روس کے اندر عوامی تحریک سے خوب واقف تھے۔ اور وہ تحریک میں ایک دوسرے کی اہمیت سے خوب آگاہ بھی تھے اور ذمے داری سے ایک دوسرے کا بہت خیال بھی رکھتے تھے۔ اور ظاہر ہے کروپسکایا میں خدمت کا یہ جذبہ زیادہ تھا۔ وہ لینن کی اہمیت سمجھتی تھی۔ وہ اُن دکھوں سے بھی آگاہ تھی جو لینن کو جدوجہد میں جھیلنے پڑے تھے۔ اس انقلابی خاتون کی فطرت میں انکساری تو ویسے ہی بھری پڑی تھی۔ محبوب کی محبت میں گرفتاری بہر حال ایک وقار، ایک ٹھہراؤ پیداکرتی ہے۔ کروپسکایا ایک مہین وسنگین انقلابی کے بطور اِن خصوصیات سے لیس تھی۔۔۔ وہ اپنے محبوب کو پیار سے ”ولودیا“ کہتی تھی۔رومانٹسزم برطرف،کروپسکایا محبوب کے کپڑے رفو کرتی تھی، اس کے لیے رات کا لباس تیار کرتی تھی، اس کے مسودوں کے نقل تیار کرتی تھی۔

سائبیریا میں تلخ موسم سرما اکتوبر سے اپریل تک چلتا ہے اور جہاں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں۔ مجھے یہاں کروپسکایا کا ایک پیراگراف نقل کرنا چاہیے تاکہ آپ کو ایک طرف ارد گرد کے بارے میں معلوم ہو اور دوسری طرف کروپسکایا کی کمال تحریر کا اندازہ ہو:

”زمستان کی یخ بستگی کے بعد فضا آشفتگی کے ساتھ بہار میں شق ہوتی ہے۔ اُس کی قوت عظیم الشان ہوجاتی ہے۔ غروب آفتاب۔ عظیم بہار کے وقت کھیتوں میں تالابوں کے اندر مرغا بیاں تیرتی تھیں۔ یا ہم ایک کنارے کھڑے ہوجاتے اور آبی پرندوں کو کٹ کٹ کرتے یا ایک ندی کو جِھر مِرکرتے سنتے۔۔ فطرت کی یہ ہنگامہ خیز بیداری بہت مختلف تھی مگر اس میں بھی کشش تھی“۔

کروپسکا یابرفباری اور جم جانے کی ”جادوئی بادشاہت“ بیان کرتی ہے۔

”بعد میں خزاں میں جب ابھی برف گرنا شروع نہیں ہوتی، مگر دریا پہلے ہی جم رہے تھے، ہم ندی پہ اوپر دور تک جاتے تھے۔ ہرکنکر، ہر چھوٹی مچھلی برف کے نیچے نظر آتی تھی، بالکل ایک جادوئی بادشاہت کی طرح۔ اور سردیوں میں جب پارہ تھر ما میٹر میں منفی 39ڈگری سنٹی گریڈ تک جم جاتا تھا اور دریا تہہ تک جم جاتے تھے، جب پانی، برف کے اوپر سے بہتے ہوئے  ایک پتلی تہہ برف کے اوپر جم جاتا تھا، تو دو کلومیٹر تک سکیٹنگ کی جاسکتی تھی۔ قدموں کے نیچے برف کی اوپری جھلی چُر مُرکرتی تھی۔ ولادیمیر ایلیچ اس سب کچھ کا حد درجہ شوقین تھا۔

”مئی سے ستمبر تک موسم خوشگوار رہتا تھا۔ ہاں مچھروں کی افواج موجود رہتی تھیں جن کی چھاؤنی آس پاس کا دلدلی علاقہ تھا“۔ (9)۔

کروپسکایا کے مطابق سائیبریا لینن کی صحت کے لیے اچھا ثابت ہوا۔ فطرت کے نظاروں اور شکار سے رغبت کے ہاتھوں وہ اپنی شکاری بندوق لیے ہر موسم میں طویل چہل قدمی کرتا۔ اس کے بھائی دیمتر ی نے اس کے لیے بلجیم کی بنی دونلی بندوق بھیجی تھی۔  خرگوش اور لومڑی کا شکار لینن کا شوق بن چکا تھا۔ اسی طرح وہ مچھلی شکار بھی بہت کرتا تھا۔ شکار سے اُن کی خوراک بہتر ہوئی۔ اس کی صحت اچھی خاصی بہتر ہوئی۔

مطالعہ، شکار اور سیکٹنگ کے بعد اس جلاوطن کی ایک اور مصروفیت شطرنج تھی۔ وہ اس کا بہت رسیا تھا۔ اس کے علاوہ بقول گورکی وہ بیتھوون کی موسیقی سے عشق کرتا تھا۔کروپسکایا اور لینن کبھی بھی بڑے شرابی نہ رہے مگر وہ اصولی طور پرشراب سے پرہیزی نہ تھے۔

سائبیریا جلاوطنی کے دوران لینن شطرنج کے  مہرے سجا کر گھنٹوں بیٹھ کر چالیں سوچتا۔ ایک بار تو وہ سوتے میں چیخا: ”اگر وہ اپنا (گھوڑا)یہاں رکھے گا تو میں اپنا فیل وہاں رکھوں گا“۔(10)۔

صاف دل اور ستھری نیتوں کے لوگ تھے یہ۔وہاں لینن کو ایک بہت ہٹا کھٹا انقلابی ملا۔ وہ دونوں اپنی صحت کی بہتری کے لیے آپس میں کشتی لڑتے تھے۔(11)۔جی ہاں، لینن کُشتی لڑتا تھا۔

کبھی کبھی ساتھ والے گاؤں میں موجود جلاوطنوں سے ملاقات تک کی اجازت ملتی۔

نادژداد لکش خاتون تھی۔میں اُس کی تصویر دیکھتا ہوں تو وہ کسی صور ت کسی سُپر پاور اور کمیونسٹ سوویت یونین کی خاتونِ اول نہیں لگتی۔یہ باوقار خاتون اگر عورتوں کے ایک مجمع میں موجود ہو تو بالکل ممتاز نہ لگے۔ وہ اس قدر سادہ دیہاتی اور عام انسان نظرآتی ہے کہ رشک آتا ہے۔

ہم تصور کرسکتے ہیں کہ یہ انقلابی میاں بیویفلسفہ، نظریہ، معیشت، تحریک اور انقلاب کے بارے میں کتنی طویل اور گرمجوش بحثیں کرتے رہے ہوں گے۔ ایک دوسرے سے کتنا اثر لیتے ہوں گے۔ ایک زبردست ہم آہنگی، سوچ میں، ترجیحات میں اور حکمت ِ عملی میں۔ گوکہ کروپسکایا اپنے خاوند کی نسبت ذرا زیادہ ٹھہراؤ والی انقلابی تھی مگر سٹینڈ میں وہ اُتنی ہی پختہ اور پیوستہ تھی۔

اس جوڑے کو رشتے داروں اور رفیقوں کی مدد سے جلا وطنی میں بہت سی کتابیں اور رسالے ملتے رہے۔ اُن دونوں نے اپنی انگلش اور جرمن زبانوں کو بہتر بنانے پر کافی محنت کی۔ چونکہ اس زمانے میں مارکسزم زیادہ تر جرمن زبان میں ہوتا تھا۔ لہذا جرمن زبان کا سیکھنا ان دونوں سمیت سارے روسی انقلابیوں کے لیے لازمی فریضہ ہوتا تھا۔نادژدا کمیونسٹ مینی فیسٹو کو جرمن سے ترجمہ کرنے بیٹھ گئی ۔ پھراس نے ”کپٹل“ پڑھا۔(12)۔مارکس اور اینگلز کی دیگر تصانیف کا مطالعہ جاری رکھا۔

وہ اخبار متواتر  پڑھتے رہتے۔لینن نے  غیرملکی کتابوں کا روسی زبان میں ترجمہ کیا۔ اندھیرے میں لپٹے خوابیدہ گاؤں میں ان کے کمرے کی کھڑکی اکثر رات گئے تک روشن رہتی۔

طویل زمستانی راتیں پڑھنے کا ایک نادر موقع تھیں۔ انہوں نے سنجیدہ مطالعہ کیا۔ کروپسکایا کے مطابق لینن نے ہیگل، کانٹ اور فرنچ نیچر لسٹ فلاسفروں کو پڑھا۔ یا جب وہ بہت تھکا ہوتا تو پشکن، لرمنٹو ف یا نکراسوف کو پڑھتا۔ اس نے ٹرگنیف، ٹالسٹائی، اور چرنی شیوسکی کی ”کیا کیا جائے؟“ بار بار پڑھے۔ اور ہر زن اور زولا کوبھی۔ انہوں نے لینن کی پہلی بڑی کتاب روس میں کپٹلزم کا ارتقا کے ڈ رافٹ لکھے اور پڑھے۔

سائبیریا جلاوطنی کے دوران لینن کی لکھی گئی سب سے مکمل کتاب”روس میں کپٹلزم کا ارتقا“ ہے۔ اُسے اس نے اگست1898 میں مکمل کرلیا۔ یہ 500کتابوں اور مضامین کے حوالہ جات سے مزین کتاب تھی۔ اور پھر بہتر بناتے بناتے یہ 1899میں چھپ گئی۔اُس وقت اس نے مصنف کے بطور اپنا نام ”دلادیمیر اِیلن“لکھا۔یہ روس کے معاشی ارتقاء کے بارے میں ایک بڑی سائنسی تصنیف تھی جومارکس کی تصنیف ”کپٹل“ سے براہ راست سلسلہ رکھتی تھی۔ روس کی معاشی زندگی کی تحقیقات کر کے لینن نے مارکسی سیاسی معاشیات کو نئے نصب العین سے مالا مال کیا۔ (13)۔

”ہم مارکس کے نظریے کو بالکل بھی اس طرح نہیں دیکھتے کہ وہ حرف آخر ہے اور اس میں ذرا بھی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ اس کے برعکس ہمیں یقین ہے کہ اس نظریے نے صرف اس سائنس کا سنگ بنیاد رکھا ہے جسے سوشلسٹوں کوتمام سمتوں میں آگے بڑھانا چاہیے“۔(14)۔

کتاب اس قدر بنیادی تھی، اوراس میں اعداد و شمار کا اس قدر خوبصورت تجزیہ کیا گیا کہ لینن جو ابھی تک صرف انقلابی حلقوں میں جانا جاتا تھا،اچانک روسی معیشت کے طالب علم کے بطور مشہور ہوا۔ یہ کتاب آج بھی دنیا بھر کے مارکسسٹوں کے لئے ایک کلاسیک کا درجہ رکھتی ہے۔

اس نے اس کتاب میں کیش کراپس کے اگانے کے  بڑھتے ہوئے رجحان کا خاص طو ر پر ذکر کیا۔ یہ فصل مقامی استعمال کے بجائے فروخت کے لیے تھی۔ یعنی اب مشترکہ ملکیت کی بجائے پرائیویٹ ملکیت بڑھتی جارہی تھی، امیرکسانوں (کلک)، درمیانے اور غریب کسانوں اورکھیت مزدوروں کے درمیان طبقاتی فرق بڑھتاجارہاتھا۔ یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا تھاکہ کپٹلزم روسی سماج اور معیشت پر پہلے ہی قابو پا چکا ہے۔۔ یعنی روس مضبوطی کے ساتھ ایک کپٹلسٹ راہ پر تھا۔

جلا وطنی کے زمانے میں لینن نے پارٹی کے پروگرام کا مسودہ مرتب کیا اور تیس سے زیادہ تصانیف کیں۔ ان تصانیف میں پمفلٹ ”روسی سوشل ڈیمو کریٹوں کے فریضے“ (1897)کو خاص جگہ حاصل ہے۔ اس نے روسی انقلابیوں کے فریضوں کا تعین کیا، متحدہ مزدور پارٹی بنانے کی ضرورت کی وضاحت کی اور مارکس ازم کے دشمنوں کی مخالفت کی۔

کروپسکایا نے اس جلاوطنی میں ”وومین ورکر“ نامی اہم کتابچہ  1899میں ”سبلینا“ کے فرضی نام سے لکھا۔ واضح رہے کہ اس نے انقلاب سے قبل کئی فرضی نام اپنا لیے تھے۔ اُس کے دوسرے فرضی نام تھے: لیننا، ارتا مونووا، اونی جینا، رائبا، ریبکینا، کاٹیا، فرے، اور، گیلیلی۔

موضوع کے لحاظ سے بھی یہ اولین کتابچہ تھا اور کروپسکایا کی بھی یہ اولین بڑی تصنیف تھی۔ یہ دراصل اُن انقلابی خواتین کے لیے زیادہ اہم کتابچہ تھا جو ہمیشہ اِس کنفیوژن کا شکار رہتی تھیں کہ آیا وہ طبقاتی لڑائی لڑیں یا صنفی۔ مگر کروپسکایافیمنسٹ کی بجائے مارکسسٹ بنتی ہے۔ کتاب میں وہ مرد مزدوروں کے شانہ بشانہ رہ کر لڑنے کو خواتین انقلابیوں کا راستہ قرار دیتی ہے۔ چونکہ اُس زمانے میں ایسی تحریر کھلے طور پر چھپ نہیں سکتی تھی، اس لیے اسے غیر قانونی طو ر پر راز داری سے ہی چھاپا جاسکتا تھا۔

واضح رہے کہ 1898میں پارٹی کی کانفرنس کے موقع پر کروپسکایا اور لینن سائبیریا میں جلاوطن تھے۔

وہیں انہیں پارٹی کے اندر اور یورپ میں تحریک کے اندر کچھ غلط رجحانات کا معلوم ہوا۔ جرمن سوشل ڈیموکریٹ برنسٹین نے یہ ترمیم پسند تجویز پیش کردی تھی کہ سوشلزم میں ایک مزدور انقلاب کے بغیر داخل ہوا جاسکتا ہے۔ دوسراخود روس کی پارٹی میں یہ رجحان آگیا تھا کہ پارٹی کو مزدوروں کی توجہ کپٹلزم کے خلاف ”معاشی“ جدوجہد کی طرف مبذول کرنی چاہیے۔تب اِس  اکانومزم کے خلاف تو لینن ڈٹ گیا۔ اُس کے خیال میں اس سب سے تو صرف ٹریڈ یونین قائم ہوسکتا تھا اور زار بادشاہی کا تختہ کرنے کا اہم ”سیاسی“ فریضہ پس منظر میں جائے گا۔(15)

جلا وطنی کے زمانے میں اُن دونوں نے انقلابی مارکسی پارٹی بنانے کا منصوبہ بنایا۔ مطلق العنانی کی شدید رجعت پرستی کی وجہ سے پارٹی کو بہت ہی خفیہ طریقے پر بنانا تھا۔ لاجواب لیننی منصوبے میں ایک کل روسی سیاسی اخبار کی اشاعت کو بنیادی رول دیا گیا تھا۔ اُن کی رائے میں اس اخبار کو کمیٹیوں اور گروپوں کو انقلابی مارکسی ازم کے اصولوں پر متحد کرنا، دوسری کانگریس کی ہمہ گیر تیار ی کرنا اور پارٹی کا واحد پروگرام اور قواعد مرتب کرنا تھا۔(16)۔

وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس اخبارکو پارٹی کی طاقت کا آرگنائزرہونا چاہیے اور  انقلابیوں کے حلقوں اور گروپوں کو ایک واحد تنظیم میں متحد کرنا چاہیے ۔مارکسی اخبار کے بارے میں اصولی طور پر یہ نیا خیال تھا جس نے اخباروں اور رسالوں کی اشاعت کے رول اور اہمیت کے بارے میں انقلابیوں کے پچھلے تصورات کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔(17)۔

اس جوڑی کے بارے میں بات کیجیے تو خود بخود ایک تاثر ابھرتاہے:اخلاقی پاکیزگی، استقامت اور استقلال والے میاں بیوی۔ ماڈل میاں بیوی۔کوئی ٹوٹی پچھلی شادی کا وجود نہیں، کوئی طوفانی محبت نہیں، کوئی پہلی نظر میں محبت نہیں، کوئی بے مسرت لوافیئر نہیں۔ وہ جذباتی محبت سے بہت دور تھے۔یہ تو ایک نہ مرنے والی محبت تھی۔وہ دونوں منجھے ہوئے، عملی، خاموشی طبع لوگ تھے۔

دونوں ایک دوسرے کے بارے میں اپنے جذبات کم لکھتے تھے۔ انقلاب کے کاز کے لئے کام میں اشتراک اُن میں سب سے بڑا رشتہ تھا۔ وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔

کروپسکایا توبہت منکسر مزاج اور عاجز طبیعت انسان تھی۔۔۔۔ ہم اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔صرف اتنا کہ وہ لینن سے ایک برس بڑی تھی۔ لباس میں بہت  محتاط تھی۔ اس کے بال بہت معزز انداز میں کنگھی شدہ ہوتے۔

کروپسکایا نے شادی کے محض آٹھ ماہ بعد اپنی ساس کو جواب لکھا:جہاں تک میری صحتکا  تعلق ہے، تو میں مکمل طور پر تندرست ہو ں۔مگر جہاں تک ایک چھوٹے پرندے کی آمدکی بات ہے، تو وہاں بدقسمتی سے چیز یں اچھی نہیں ہیں۔ ایک چھوٹے پرندے کی آمد کے منصوبے کے کوئی آثار نہیں ہیں“۔(18)۔

 

حوالہ جات

۔۔سروس، رابرٹ۔ لینن۔ اے بایو گرافی۔۔ صفحہ 120

۔۔وولکاگونوف۔لینن لائف،اینڈ لیگے سی۔ صفحہ 33

۔- رابرٹ سروس۔ لینن، سوانح عمری………… صفحہ121

۔۔پیئرسن، میخائل۔دہ سِیلڈ ٹرین۔ -1975 Putnam، نیویارک12

۔۔ ڈیوڈ شَب۔ صفحہ 52

۔۔ BoR۔ صفحہ 66

۔BoR۔ صفحہ 68

۔۔BoR۔ صفحہ 71

۔BoR۔ صفحہ 8

۔۔memoirs۔ صفحہ 25

۔ (رابرٹ سروس۔ لینن،اے بایوگرافی۔2010۔ PANبکس۔ صفحہ 119)

۔ولادیمیر ایلیچ لینن۔ لائف اینڈورک 1975۔ نووستی پریس ایجنسی ماسکو۔ صفحہ109

-او بیچکین اور دوسرے۔  لینن مختصر سوانح عمری۔1971۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو۔ صفحہ40

-او بیچکین اور دوسرے۔   لینن مختصر سوانح عمری۔1971۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو۔ صفحہ41

۔The Origins of Russian Revolution صفحہ۔29

-او بیچکین اور دوسرے۔لینن مختصر سوانح عمری۔1971۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو۔صفحہ45۔

-او بیچکین اور دوسرے۔لینن مختصر سوانح عمری۔1971۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو۔ صفحہ45

۔PSS, Vol 45, PP409

Check Also

اَمن۔۔۔پروفیسر نبیلہ کیانی

بہت سال بیتے ہمارے گھر میں ایک رسالہ چین با تصویر کے نام سے آیا ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *