Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ شفقت عاصمی

غزل ۔۔۔ شفقت عاصمی

یہ کیسا ستمگر اشارا ہوا ہے

بہاروں میں گْل سے کنارا ہوا ہے

اے جانِ جہاں خوف کا ہے یہ عالم

ترے بن بھی رہنا گوارا ہوا ہے

یہ ہر سو خموشی یہ تنہائی، وحشت

سفر بے بسی کا ستارا ہوا ہے

کہ نوچا ہے فطرت کو انساں نے بے حد

اسی واسطے تو خسارا ہوا ہے

کہ ہے آسماں،  دھرتی سب کے برابر

سمجھ لو اشارا دوبارا  ہوا ہے

وہ آتا ہی ہوگا ذرا دیر میں بس

کہ میں نے  خدا کو پکارا ہوا ہے

نئی سوچ ہوگی، نیا دور ہوگا

یہ اْمید اپنا سہارا ہوا ہے

اگر عاصمی بچ گئے اس وبا سے

نیا اک جہاں پھر ہمارا ہوا ہے

Check Also

کھڑکی میں چاند ۔۔۔ فہمیدہ ریاض

میں جس کمرے میں رہتی ہوں اس کمرے میں اک کھڑکی ہے گر رات کو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *