Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » پھولوں کے آنسو ۔۔۔ مصطفےٰ کریم 

پھولوں کے آنسو ۔۔۔ مصطفےٰ کریم 

وہ پتھریلا راستہ جو پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع عیسیٰ خیل گوٹ جاتا تھا اس پر شاہ زمان چلتے چلتے رک جاتا۔ اسے ہنسی آجاتی، بغیر کسی وجہ کے اور وہ رائفل کی نلی سے پسینہ سے تر پیشانی کو سہلانے لگتا۔ گوٹ اتنادور نہیں تھا۔ پگڈنڈی پہاڑوں کی ڈھلان اور پہاڑیوں پر سے گزرتی تھی اسی لیے شاہ زمان اور اس کی بیوی زینب کی رفتار سست تھی۔ وہ خیمہ نما نیلے برقعہ میں ملبوس خاوند کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ برقعہ کے اندر اس کے ایک ہاتھ مٹی کا بڑا سا پیالہ تھا جس میں بادام کی مٹھائی بھری تھی اور جسے بڑی محنت سے زینب نے بنایا تھا۔ پیالے پر ڈھکنا رکھ کر اسے پتلی سی ڈوری سے باندھ دیا تھا۔ زینب اپنی سسکیوں کو بہ مشکل روک رہی تھی۔ اس پر خاوند کی بے وجہ ہنسی کا نہ اثر ہوتا اور نہ ہی اسے شاہ زمان کی میلی قمیص اور شلوار اور اس کے برہنہ پا ہونے کی پرواہ تھی۔ ارد گرد کی جھاڑیوں میں کبھی زینب کا برقعہ الجھ جاتا اور کبھی اسے ٹھوکر بھی لگتی لیکن جس پیالے کو اس نے سنبھالا ہوا تھا اسے ہاتھ سے سرکنے بھی نہیں دیتی۔

راستے میں سرو کے چند درخت ملے۔ ان کے سائے میں شاہ زمان رک گیا اور بیوی کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ لیکن زینب کھڑی رہی۔ اسے جانے کی جلدی تھی۔ شاہ زمان نے اصرار نہیں کیا۔ وہ ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بے جان سا بیٹھ گیا۔ سیاہ پگڑی کے نیچے اس کے خشک بال اس کی پیشانی اور داڑھی سے بھرے گالوں پر سرک آئے تھے۔ دوپہر ہونے میں دیر تھی لیکن دھوپ میں حدت آچکی تھی اور پتھریلا راستہ بھی تپ رہا تھا، لیکن شاہ زمان کو ہوش ہی کب تھا جو وہ جوتا پہنتا۔  ہفتوں گذر جاتے لیکن کپڑے بدلنے کی نوبت نہیں آتی۔ ادھر اس کا کھانا پینا بھی برائے نام ہوچکا تھا۔ اسکے گال دھنس گئے تھے اور نیند نہ آنے کی وجہ سے اداس آنکھیں سرخ رہتیں۔ راتوں میں اٹھ کر وہ حجرے میں چکر لگانے لگتا اور بے ربط باتیں اس کے مُنھ سے نکلتیں۔ کافر امریکن۔ شہید۔ جنّت۔

کچھ دیر وہ بدبداتا ہوا خالی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتا رہا پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ جب وہ پہاڑی کی چڑھائی پر چڑھنے لگے تو انھیں اوپر سے اترتا ہوا طالبان کا ایک دستہ ملا۔ سبھوں کے شانے پر رائفلیں اور گرینیڈ لانچر تھے۔ انہوں نے خان زمان کو سلام علیکم کہا۔ جواب میں اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اس نے کچھ بولنا چاہا لیکن الفاظ اس کے مُنھ سے نہیں نکلے۔ میاں بیوی پہاڑی کی دوسری جانب اترنے لگے۔ سامنے توئی(نالہ) تھی جس میں شفاف پانی آہستہ آہستہ پتھروں پر بہہ رہا تھا۔ اس سے کچھ فاصلے پر افیم کے کھیت تھے جہاں سرخ پھول لہلہارہے تھے۔ مدت ہوئی شاہ زمان کے پلار (والد) کے پاس حکم آیا ان کی بات مت سنو یہ کافر ہیں اور روسیوں کے دوست بھی ہیں۔ اس کے بعد بہت کچھ بدل گیا۔ پاکستانی فوجی افسر اور سپاہی، عرب اور ان کے ساتھ امریکی بھی اسلحہ سے لیس شاہ زمان کے گوٹ سے گزرنے لگے اور دور پہاڑوں سے بم کے دھماکے اور توپوں کی گرج آنے لگی۔

شاہ زمان اور زینب توئی میں اتر گئے  جو گہری نہیں تھی۔ پانی ان کے گھٹنے سے کچھ اوپر تک آتا تھا۔ لہریں خنک تھیں اور ان سے سسکیاں اٹھ رہی تھیں۔ شاہ زمان ایک بار پھر رک گیا۔ اس رات وہ یہیں آیا تھا۔ تین مہینہ پہلے طالبان کے جس دستہ میں وہ شریک تھا اس نے رات کے وقت عیسیٰ خیل کے گوٹ میں قیام کیا تھا۔ وہاں رات گزارنے کا ان کا ارادہ نہیں تھا۔ لیکن مدرسہ کے معلم اور مسجد کے امام ملا غفور نے انھیں روک لیا۔ ان کی موجودگی سے مدرسہ کے طلبہ میں شہادت اور جہاد کا شوق آئے گا۔ ملاغفور نے اپنی ننھی آنکھوں سے انھیں گھورتے ہوئے اور اپنی گدلی داڑھی کو سہلاتے ہوئے کہا تھا۔ شاہ زمان کو بہت خوشی ہوئی تھی۔ اسی مدرسہ میں اس کا اکلوتا بیٹا گل شاہ پڑھتا تھا۔ اس رات وہ دیر تک بیٹے کی کتابوں کو دیکھتا رہا تھا۔ اس نے تعلیم حاصل نہیں کی تو کیا ہوا بیٹا تو باعلم ہوگا۔ شاہ زمان کو مستقل خیال آتا رہا تھا۔ رات آئی تو حسب عادت وہ تسبیح پڑھتا ہوا انھیں مدرسہ سے باہرنکلنے سے منع کردیا تھا۔ اس لیے گل شاہ خواہش کے باوجود اپنے پلار(والد) کے ساتھ نہیں آیا۔ شاہ زمان ہاتھ میں تسبیح پھیرتا توئی کے پاس چلاآیا۔ اس میں بہتے پانی کی غل غل سن اور آسمان سے تاروں کی روشن آنکھوں کو اپنی جانب تکتے دیکھ کر اسے بہت سکون محسوس ہوا۔ توئی کے کنارے لیٹ کر وہ دیر تک وہاں سے آتے نغمے کو سنتا رہا اور آسمان سے آتی تاروں کی دھیمی روشنی اس کی روح میں جذب  ہوتی رہی۔ اچانک دور مغربی افق سے دشمن طیاروں کی آواز آئی اور وہ مہیب دیوقامت چمگادڑوں کی طرح اس کے اوپر اڑتے چلے گئے۔ عیسیٰ خیل گوٹ سے راکٹ کے پھٹنے کی آوازیں آئیں۔ شاہ زمان ادھر دوڑا۔ مُنھ دم مدرسہ میں لاشیں پڑی تھیں جن میں گل شاہ کی بھی مسخ شدہ لاش تھی اور مدرسہ کے آنگن میں ملاغفور کا سرتن سے جدا مردہ خچروں کے پاس پڑا تھا۔ شاہ زمان چیخیں مارتا ہوا گل شاہ کی لاش سے لپٹ پڑا۔ اس اداس رات میں اس کے رونے کی آواز دیر تک گونجتی رہی۔ گوٹ کے بزرگوں نے اسے صبر کی تلقین کی۔ اس کا پیارا زوئے (بیٹا) شہید ہوکر جنت جاچکا ہے۔ سبھوں نے کہا۔

شاہ زمان نے بے چینی سے مڑ کر اپنے خضے (بیوی) کی جانب دیکھا جیسے اسے ایک بار پھر اس رات کا المیہ بتانا چاہتا ہو۔ زینب نے برقعہ کے دامن اور شلوار کے پائنچہ کو پانی سے بھیگنے سے بچانے کے لیے سمیٹ کر اوپر کر لیا تھا۔ اس کی گوری پنڈلیاں برہنہ تھیں۔ کوئی اور دن ہوتا تو شاہ زمان اس برہنگی پر اسے سخت سست کہتا، لیکن وہ چپ رہا۔ میاں بیوی توئی سے نکل آئے اور پہاڑی پر چڑھے۔ سامنے عیسیٰ خیل گوٹ تھا جس کی مٹّی کی فصیل گر چکی تھی اور کچّے مکانوں کے سامنے کتّے بھونک رہے تھے۔ گاؤں کے کنارے ویران مدرسہ کی شکستہ دیواروں اور دروازوں پر راکٹ کے بڑے بڑے سوراخ اب بھی موجود تھے۔

دونوں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے گوٹ کے قبرستان میں آگئے۔ گاؤں سے دومرد نکل آئے تھے اور وہ مرد نگاہوں سے انھیں تک رہے تھے۔ قبرستان میں ایک جانب بیس پچیس قبریں تھیں، جن کی زرد مٹّی اب بھی تازہ تھی۔ شاہ زمان ایک چھوٹی قبر کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔ زینب کی سسکیاں تیز ہوگئیں۔ وہ قبر کے کنارے جیسے گر سی گئی۔ لرزتے ہاتھو ں سے مٹی کا پیالہ قبر کے سرہانے رکھ کر روتے ہوئے بولی:

”زوئے۔ گل شاہ۔ تیری پیاری بہن کی شادی طے ہوگئی ہے۔ تجھے بادام کی مٹھائی بہت پسند تھی وہی تیرے لائی ہوں۔“

شاہ زمان قبرکو تکتا اور کبھی دھوپ سے جلتے آسمان کو۔ اس نے خود پر قابو پانے کی بہت کوشش کی، لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ اس کے آنسو بہہ نکلے اور ہچکیاں بندھ گئیں۔ زینب نے بیتابی سے اس کے پاؤں پکڑ لیے پھر بیٹے کی قبر پر ہاتھ رکھ کر بولی:

”زوئے! اپنے بلار (والد) سے کہہ۔ دلیرغم کے پتھر کھا لیتے ہیں لیکن آنسو نہیں بہاتے۔“

 

Check Also

گھاؤ ۔۔۔ فرزانہ خدرزئی

بابا آج تم نے بہت دیر کردی۔دیکھ سارا سکول خالی ہو گیا۔اب تو چوکیدار نے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *