Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » گھاؤ ۔۔۔ فرزانہ خدرزئی

گھاؤ ۔۔۔ فرزانہ خدرزئی

بابا آج تم نے بہت دیر کردی۔دیکھ سارا سکول خالی ہو گیا۔اب تو چوکیدار نے بھی کہہ دیا کہ پندرہ منٹ انتظار کروں گا۔۔۔تیراباپ نہیں آیا تو میری ذمہ داری ختم پھر مجھے اسکول بند کرنا ہوگا۔۔۔تو نے اتنی دیر کیوں لگا دی؟ سلیم نے شاکی لہجے میں سوال کیا۔۔۔خیالات میں ڈوبے رشید نے متوجہ ہوتے ہوئے تھکے تھکے انداز میں اسے تسلی دینے لگا۔۔۔اب تم بڑے ہو گئے ہو ڈرنے یا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔مجھے گھر بھی سنبھالنا ہوتا ہے۔۔۔دکان بھی۔۔۔پھر دکان کونسا چلتی ہے۔۔۔بس آج پتانہیں گاہگ کیسے آگئے۔۔۔انہیں نبٹاتے نبٹاتے قدرے تاخیر ہو گئی۔۔۔وہ اسے تفصیل بتانے لگا گویا وہ تیرہ سالہ بچہ نہ ہو بلکہ بڑا آدمی جو اس کی ان تمام مجبوریوں کو سمجھ سکتا ہو۔۔۔سلیم اس کی کیفیت سے بے نیاز ایک بار پھر شکایت کرنے لگا۔۔۔پر مجھے بھو ک بھی شدت کی لگی ہے۔۔۔ان کا گھر سکول سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر تھا۔باقی لڑکے تو کاروں،رکشوں،سوزوکی پر جاتے ہیں۔۔۔کچھ موٹر بائیک پر۔۔۔بابا تو موٹر بائیک کیوں نہیں لیتا۔۔۔ہم جلدی گھر پہنچ جاتے۔۔۔ذرا سی دیر کیا ہو گئی آج تو کیسی بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔۔۔چل آرام سے ابھی گھر آجائے گا۔۔۔میں تھک گیا ہوں۔۔۔اچھا لا بیگ مجھے دے۔۔۔یہاں بیٹھ کچھ دیر پھر چلتے ہیں۔۔۔ کچی پکی سڑک کے قدرے فاصلے پر جھاڑیوں کے قریب پتھروں کے قریب بیٹھ گئے۔۔۔تھوڑی دیر سستانے کے بعد دوبارہ روانہ ہوئے۔سلیم کا موڈ بگڑا ہوا تھا۔چل قدم جلدی اٹھا آ ج تیری ماں نے تمھارے لیے پسند کا کھانا بنایا ہے۔۔مرغی پلاؤ کا سن کر اس کی ڈھیلی ٹانگوں میں از سر نو طاقت عود آئی اور وہ تیزی سے قدم اٹھانے لگا۔۔تھوڑی دیر چلنے کے بعد سڑک کے مغربی کنارے سے وہ دونوں کسی بھوت کی طرح نمودار ہوئے۔

انتہائی غیر متوقع انداز میں سامنے آنے والے خطرے کے احساس نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو چھین لیا۔بابا!  سلیم نے سراسمیگی سے اسے دیکھا اور باپ کی قمیص مضبوطی سے پکڑلی۔ان میں سے ایک نے اپنے گرد لپٹی بوسیدہ شال کے نیچے سے ایک دم ریوالور نکالا۔”چلو ہمارے ساتھ“ مگر کہاں؟ رشید نے گھگھیاتے ہوئے کہا۔”میرے  پاس کچھ بھی نہیں ہے غریب آدمی ہوں۔ دیکھو بچہ اس صورتحال سے دہشت زدہ ہو رہا ہے۔منت زاری کرتے ہوئے اس کی آواز قدرے بلند ہو گی۔اپنی آواز نیچی رکھو۔ان میں سے ایک غرایا۔ہم بھی تم سے کچھ زیادہ نہیں چاہتے۔یہ بچہ تو ہے اس نے خباثت سے مسکراتے ہوئے سلیم کے گول مٹول گالوں کوچھواجواپنے بے حد سیاہ چمکیلے بالوں اور سیاہ آنکھوں کی بدولت عموما ہر ایک کو متوجہ کرتا۔ بابا! سلیم نے ایک مرتبہ پھر مدد طلب آنکھوں سے باپ کی طرف دیکھا۔دیکھو میں تم لوگوں کے ہاتھ جوڑتا ہوں اسے چھوڑ دو۔ردعمل کے طور پر اسے ایک ذوردار دھکا دیا گیااور پستول کے دستے سے گردن کے پچھلے حصے پر مارا گیا۔اس کا سر بری طرح سے جھنجھنا اٹھا آنکھوں کے سامنے تارے رقص کرنے لگے۔وہ لڑھکتا ہوا نیچے گرتا چلا گیا۔ سیلم کے منہ سے دلدوز چیخ نکل گئی۔وہ باپ کی طرف لپکا۔ان دونوں کا اس قسم کی صورتحال سے کبھی سابقہ نہیں پڑا تھا۔نہتے شخص نے اسے جھٹکے سے پکڑ کر سیدھا کیا اور گھسیٹنے لگا۔اس کشا کش میں اس کا ایک جوتا بھی پاؤں سے نکل گیا۔”ہمیں بتاؤ ہمارا قصور کیا ہے؟“وہ ایک مرتبہ پھر باپ کو آوازیں دینے لگا ”ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟مگر رشید کے پاس اس سوال کا کو ئی جواب نہیں تھا۔آگے چلو۔پستول والے نے رشید کو حکم دیا۔ان میں سے ایک نے سلیم کے منہ پر سختی سے ہاتھ جما لیا اور دوسرے نے پستول کی نال رشید کی کمر پیوست کردی۔اس وقت دن کے تین بج رہے تھے۔دھوپ کافی تیز تھی۔سڑکیں سنسان تھیں۔دور کہیں آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ مجموعی طور پر وہاں سناٹا تھا۔وہ پتلی گلی سے ہوتے ہوئے لگ بھگ دس منٹ کے بعد ایک کھلے میدان کی طرف آئے۔۔۔جہاں ایک طرف بڑی عمارت زیر تعمیر تھی۔ارد گرد کھڑی چھوٹی دیوار کے اندر کا منظر واضح تھا۔ایک طرف تعمیراتی سامان کا ڈھیر۔۔۔دور کہیں اکادکا نظر آتے مزدوروں کی موجودگی سے ان کی امید بندھی شاید کوئی دیکھ لے۔۔۔مگر وہ کنکریٹ مکسر کی گڑ گڑ اہٹ۔۔۔اور اسٹون کرش کے ڈھیر کو سمیٹنے میں مصروف ان کی موجودگی سے یکسر بے خبر تھے۔ تھوڑی  دیر کے بعد وہ کچے مکان میں داخل ہوئے۔جس کے احاطے میں ایک طرف فالتو کاٹھ کباڑ پڑا تھا۔۔۔کہیں کہیں خو د رو گھاس سر نکال رہی تھی۔اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ مکان کافی عرصے سے کسی کے استعمال میں نہیں تھا۔۔۔اس وقت ان دنوں کے قبضے میں تھا اور شاید وہ اسے ایسی ہی منفی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے ہوں گے۔طویل برآمدے کے آخری حصے میں صرف ایک ہی کمرہ بنا تھا۔۔۔جو اس وقت بند پڑا تھا۔

ان سے کسی بھلائی کی توقع نہیں تھی۔دیکھو پیارے! ہمیں تم سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔۔۔بس تھوڑی دیر کے لیے تمھارے بچے سے ٹائم پاس کرنا ہے۔اس نے اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا۔۔۔کام ختم ہونے کے بعد تم دونوں چلے جانا۔تم ہماری مہربانی سمجھ نہیں رہے ہم اسے اکیلے بھی لا سکتے تھے۔تجھے لانے کا کیامقصد تھا؟ یہی کہ کام ختم ہونے کے بعد تم آرام سے اسے اپنے ساتھ لے جا سکو۔۔۔اس نے سارا معاملہ منٹوں میں نبٹا دیا گویا ایک عام سی بات کہہ دی ہو۔۔۔نہیں خدا کے لیے ایسا مت کرو۔۔۔یہ ظلم ہے۔۔۔یہ مر جائے گا۔۔۔تم فکر مت کرو نہیں مرے گا۔۔۔اسے کچھ بھی نہیں ہو گا۔۔۔اس نے پیارسے سہمے سلیم کے رخسار سہلاتے ہوئے کہا۔تم یہاں آرام سے بیٹھو۔اس نے برآمدے میں رکھی چارپائی کی طرف اشارہ کیا۔اور اگر کوئی گڑ بڑ کرنے کی کوشش کی تو۔۔۔اس خوش فہمی میں مت رہنا کہ یہ زندہ رہے گا۔اس نے دہشت زدہ سلیم کے گالوں پر پستول کی نال پھیرتے ہوئے اپنے عزائم سے آگاہ کردیا۔بالکل۔۔۔دوسرے نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔اس طرح تمھاری بھی بچت ہو گی اور یہ بھی زندہ رہے گا۔وہ سیلم کو گھسیٹے ہوئے برآمدے میں بنے کمرے کی طرف لے گئے۔۔۔وہ دروازہ زور زور سے پیٹنے لگا۔ خدا کا واسطہ۔۔۔اسے چھوڑ دو۔وہ ایک بار پھر دروازہ پیٹنے لگا۔سلیم کی چیخیں اس کے دل پر برس رہی تھیں۔۔۔اوئے! وہ اسے غلیظ گالیا ں بکنے لگے۔”تجھے کیا اس کی جان عزیز نہیں ہے۔آرام سے انتظار کر۔۔۔پھر لے جانا۔یہاں تیری بکواس سننے والا کوئی نہیں ہے۔بے مقصد چلا کر ہمارا دماغ خراب مت کرو۔دوبارہ شور شرابا کیا تو مار کر پھینک دیں گے تو کیا کر لے گا ہمارا۔۔۔اب کہ تیری بکواس سنائی دی تو اچھا نہیں ہوگا۔وہ حلق پھاڑ چیختے ہوئے بولا۔دروازہ دوبارہ بند ہو گیا چکروں اور آنکھوں کے گرد چھائے اندھیرے میں دروازے کے سہارے ٹک گیا۔اندر کی عجیب و غریب آوازوں سے تڑپ تڑپ سا جاتا۔۔۔اس کا واحد اثاثہ اس کا اکلوتا بیٹا سلیم تھا۔ اس کی جان اسے بے حد عزیز تھی اس کی ہلکی سی جذباتیت اس کے بیٹے کی جان لے سکتی تھی۔اس نے اپنے اندر اٹھتے شور کو دبا لیا۔بے بسی کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔ سیلم کی آوازیں اس کے اندر اترتے طوفان کو ایک مرتبہ پھر یورش پر مجبورکرتیں۔۔۔وہ دروازے کو ٹٹولنے لگتا۔۔۔بابا! یہ دیکھیں میرے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔۔۔اندر ایک شور۔۔۔ہنگامہ سا بر پا تھا۔۔۔بابا! یہ میری ویڈیو بھی بنا رہے ہیں۔سیلم خاموش ہوجا۔۔۔اس کی باتیں ہتھوڑے کی طرح اس کے سر پر برس رہی تھیں۔دیکھ!یہ تجھے جو کہہ رہے ہیں وہ کر۔۔۔نہیں تو یہ تجھے مار دیں گے۔۔۔میرے بچے یہ انسان نہیں ہیں۔۔۔درندے ہیں۔۔۔بھلائی کی توقع نہیں۔۔۔مجھے تیری جان عزیز ہے۔۔۔بس اب تو ان سے لڑنا بھڑنا بند کردے۔تو ان سے نہیں لڑ سکتا۔تیرا کمزور باپ بھی ان کے آگے بے بس ہے۔۔لیکن تجھے ڈرنے کی ضرورت نہیں وہ اسے جھوٹی تسلیاں دینے لگا۔بے عزتی اور بے غیرتی کا احساس،اشتعال انگیزی کے علاوہ یہ پریشانی بھی لاحق تھی کہیں وہ سلیم کو مار نہ ڈالیں۔۔۔اس نے خود کو کبھی اتنا بے بس اور کمزور نہیں سمجھا تھا جتنا آج محسوس کر رہا تھا۔اس کا دل ڈوب رہا تھا۔ اپنی بوسیدہ پگڑی آنکھوں پر رکھ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔سلیم کی دہائیاں ،رونا دھونا یک لخت بند ہوگیا۔اس کے کان کھڑے ہو گئے۔وہ دروازے سے لگ گیا۔مختلف زاویوں سے اندر ابھرتی آوازوں پر کان لگاکر سننے کی کوشش کرنے لگا۔ٹھاہ، ٹھاہ،ٹھاہ  پے در پے چلنے والی گولیوں کی آواز سے اس کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ہااللہ خیر۔۔۔سلیم!!! اس کی آنکھوں کے گرد اندھیرا چھا گیا۔اب کی بار وہ زور زور سے دروازہ پیٹنے لگا۔۔کمرے میں گویا خاموشی چھا گئی ہو۔۔۔اس کے لرزتے ہاتھوں میں پتہ نہیں کہاں سے توانائی آگئی وہ ایک بار پھر دروازہ دھڑ دھڑانے لگا۔۔۔میرا بچہ۔۔۔اس  نے چشم تصور میں سیلم کی خون میں لت پت لاش دیکھی۔۔ظالموں اس کی جان کیوں لی۔احاطے میں پڑے فالتوکا ٹھ کباڑ سے اسے لوہے کی راڈ پڑی مل گئی۔اس نے اس مٹھی میں جکڑ لیااور پھر دروازے پر زور آزمائی کرنے لگا۔دروازہ تھوڑی کوشش کے بعد کھل گیا۔کمرے میں عجیب سی بد بو پھیلی ہوئی تھی۔پھیلی ہوئی نیم تاریکی میں اندر کا منظر دیکھ کر اس کے چہرے پر رنگ سا لہرا گیا۔اضطراب،خوشی،خوف سب کچھ اس رنگ میں شامل تھا۔ان میں سے ایک اوندھا پڑا تھااور دوسرے کی لاش دیوار کے قریب بے ہنگم انداز میں پڑی تھی اس کے سینے پر خون کے پھول کھلے تھے۔جب کہ سلیم فرش پر تھا ٹوٹا ٹوٹا سا بکھرا بکھرا سا،اس نے تھکے انداز سے دیوار سے ٹیک لگا رکھی تھی۔اس کا دل تیزی سے دھڑکنا شروع ہوا۔سلیم! سلیم اس نے بے ساختہ پکارا اور نیچے بیٹھ کر اسے بازؤں میں بھر لیا۔ اس کی آنکھیں نم تھیں۔تمھارے چہرے پر تمھاری آنکھوں میں جو صدمہ اورمایوسی کھنڈی ہے وہ بجا ہے،مگر مجھے تم پر فخر ہے جو کام مجھے کرنا چاہیے تھا وہ تو نے کر ڈالا۔وہ دونوں یکسر بھول گئے۔۔۔ارد گرد سے۔۔۔خوف سے مصیبت سے آزاد ہو کر خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔چند ثانیے پہلے ہونے والے حادثے سے۔۔۔سلیم بھوک بھول چکا تھا۔۔۔تھکاوٹ بھی بھول چکاتھا۔۔۔خوف سے بے نیاز۔۔۔ہاتھ میں پستول تھامے وہ یہ بھی بھول چکا تھا کہ وہ پستول سے کتنا خوفزدہ ہوا کرتاتھا۔بس اسے اتنا یاد تھا کہ بچے سے قاتل بن گیا۔اس کے اندر مایوسی۔۔۔اتھاہ اندھیرے کا راج تھا۔کوئی باربار باپ کے الفاظ پگھلے سیسے کی طرح اس کے کانوں میں انڈیل رہا تھا۔”ان کی بات مان لو۔۔۔یہ زورآور ہیں۔۔۔طاقت کے نشے میں چور ہیں۔۔۔ہم کمزور ہیں۔۔۔ غریب ہیں۔ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ناحق تمھاری جان جائے گی۔۔۔پھر میں کیا کروں گا۔۔۔۔مجبور۔۔۔بے بس۔۔۔اس کے الفاظ فریاد کا روپ دھار لیتے۔۔۔جن میں دکھ کی لے پوشیدہ تھی۔وہ تو سمجھتا تھا باپ کا وجود اس سائباں کی طرح ہوتا ہے جو کڑی دھوپ،آندھی طوفان سے،سخت ماحول سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔۔۔ایک مضبوط ڈھال۔۔۔لیکن یہ انتہائی مجبور بے بس،کمزور۔۔۔کیا ایک باپ تھا؟۔۔۔اس نے کلاس میں اکثر استاد جی کو کہتے سنا تھا ”ذلت کے سو دن سے ایک دن کی موت بہتر“ پھر وہ اسے ذلت کے سو دن جینے کی ترغیب دی گئی۔یکایک اسے نفرت ہوگئی اپنے کمتر وجود سے،معاشرے سے،محبت کا دم بھرتے کمزور رشتوں سے۔۔۔باہر کہرام مچا تھا۔کب پولیس آئی۔۔کب عمارت سیل کی گئی۔۔۔فنگر پرنٹس لیے گئے۔۔۔حادثے کے بعد کے مراحل بڑے تکلیف دہ تھے۔جس میں بار بار ایک ہی سوال ہوتا۔۔۔ کیا ہوا؟ کیسے ہوا۔۔۔یہ سرگوشیاں۔۔۔ آوازیں۔۔۔سوالات اس کی سماعتوں کو چیرتی رہے۔موبائل پر لی گئی وڈیو نے ساری گتھیاں آسانی سے سلجھا دیں۔ اس کی ضمانت ہوئی اور کب  بے گناہی۔۔۔کم عمری کی بدولت عدالت نے بری کر دیا بلکہ مقامی انتظامیہ نے تو اس کی بہادری اور شجاعت پر اسناد اور کیش سے بھی نوازا۔مگرسب کچھ بدل گیا۔باعزت بری ہونے کے باوجود وہ جرم کا نشان بن گیا۔۔۔شکست خوردہ۔۔۔شرمندہ۔۔۔احساس ذلت سے دوچار۔۔۔اس کی روح میں ایک عجیب بے زاری اور مایوسی سرائیت کر گئی۔سکو ل میں بچوں اور بڑوں کی اشتیا ق بھری نظریں،تجسس اور اٹھتے سوالات اس بیزاری کومزید توانا کرگئے۔۔۔ لڑکپن سے جوانی کی دہلیز عبور کرنے کے باوجود مایوسی اس کے بے جان وجود سے لپٹی رہی۔

بڑی بہن کی شادی اس کے ماموں زاد سے ہوئی۔ممانی بیوگی کے بعد ان کے کچے پکے مکانا ت پر مشتمل محلے میں بھائی کے گھر کے قریب ہی منتقل ہوگئی۔اس کی بڑی بہن شادی کے بعد دس مرتبہ گھر کا چکر لگاتی۔جیسے جیسے اس کے دن قریب آتے جارہے تھے اس کا آنا تقریبا ختم ہی ہوگیا۔۔۔پورے اکیس روز بعد اس نے جھجکتے ہوئے گھر میں قدم رکھا۔ماں نے بلائیں لیتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا۔

”کیوں عائشہ تو آتی کیوں نہیں۔کیاسسرال میں سب خیریت ہے۔یہ چند قدم پہ گھر ہے مگر تو،تو جیسے ہمیں بھول گئی۔“میں بھی آج کل کرتی رہی مگر تو جانتی ہے کہ تیرے باپ کے بعد ساری ذمہ داریاں مجھ ہی کو سنبھالنی ہو تی ہیں۔سلیم کا ہونا نہ ہونا برابر ہوتا ہے۔اس نے بیزاری سے کہا۔

”ہاں سب خیر ہے اماں“ عاشہ دانستہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔۔۔پھر اٹک اٹک کر دوبارہ گویا ہوئی۔۔وہ۔۔۔وہ دراصل۔۔۔ممانی جان نے کہا تمھارے آخری دن چل رہے ہیں ماں کے گھر آنا جانا بند کردو۔کیوں؟ اماں نے تشویش سے استفسار کیا۔۔۔اماں اور عائشہ کے درمیان ہونے والی گفتگو نے کمرے کی طرف بڑھتے اس کے قدموں کو روک لیا۔آخری الفاظ سننے کے بعد تو گویا کسی نے اس کا دل مٹھی میں بند کر لیا ہو۔رفتہ رفتہ کمزور ہوتی اس کی شخصیت کی عمارت یکلخت اندر سے ٹوٹ پھوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئی۔”وہ ممانی کہتی ہے سلیم قاتل ہے۔اس کی آواز تمھیں نہیں لگنی چاہیے۔قاتل کی آواز زچہ و بچہ کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔زچگی کا مرحلہ کسی ایک کی موت پر بھی منتج ہو سکتا ہے!!!۔

Check Also

پھولوں کے آنسو ۔۔۔ مصطفےٰ کریم 

وہ پتھریلا راستہ جو پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع عیسیٰ خیل گوٹ جاتا ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *