Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » رادھا آج کھانا نہیں پکائے گی ۔۔۔ پوربی باسو

رادھا آج کھانا نہیں پکائے گی ۔۔۔ پوربی باسو

صبح رات کے آخری کونے پر معلق ہے۔ نسیمِ سحر آہستہ خرامی کے ساتھ طلوع ہوتی صبح کے گرد منڈلا رہی ہے۔ بستر پر نیم دراز رادھا شیفالی کے سفید اور نارنجی پھولوں کی خوشبو سانسوں میں بسا رہی ہے۔ گزرنے والی رات معمول کے خلاف پُر سکون رہی ہے— شوہر، ساس اور نند کے مسلسل جھگڑوں سے آزاد۔ اُس کے بدن کی حرارت بھی نارمل ہے۔ اُسے بخار نہیں ہے، طبیعت میں کوئی خرابی نہیں۔ وہ تو تھکی ہوئی بھی نہیں ہے۔ باہر بارش نہیں ہو رہی۔ آسمان صاف ہے— خوب صورت اور نیلا۔ نہ تو زیادہ سردی ہے نہ ہی بہت گرمی۔ رادھا کا اکلوتا بچہ سادھن بھی تندرست ہے۔ شوہر اور بچہ اُس کے پاس ہی گہری نیند سو رہے ہیں۔ بس یوں ہی رادھا نے طے کرلیا ہے وہ آج نہیں پکائے گی۔

رادھا آج نہیں پکائے گی۔

رادھا نے سورج سے کہا، ”ابھی مت نکلو، آج میں بستر میں دیر تک رہوں گی۔“

اُس کو رات سے مخاطب ہونے کا موقع نہیں ملا۔ رات تو گزر چکی تھی جب تک رادھا یہ ارادہ کرتی۔

رادھا نے چڑیوں کو آواز دی اور کہا، ”گاتی رہو، صبح سویرے کے گیت، آج میں بستر پر ہی رہنا چاہتی ہوں اور تمھیں گاتے سننا چاہتی ہوں۔“

اُس نے بادل کو آواز دی اور کہا، ”سورج کی مدد کرو، اُسے اپنی ساڑھی کے آنچل میں چھپا لو۔“

اُس نے شیفالی کے پھولوں کو کہا، ”اپنا جوبن ابھی ختم نہ کرنا، تم تصور کرلو کہ دن ابھی نہیں نکلا۔“

اُس نے شبنم سے کہا، ”گرتی رہو، چھوٹے چھوٹے قطروں پہ، گھاس پر۔“

سورج نے رادھا کو سنا۔ وہ دیر تک آسمان پر نمودار نہیں ہوا۔ بادل نے خود کو پھیلایا اور نیلے آسمان کو ڈھانپ لیا۔

چڑیاں مسلسل گاتی رہیں۔

شیفالی کے غنچے مضبوطی سے شاخوں کو تھامے بہار دکھاتے رہے۔

شبنم کی بوندیں مسلسل گرتی رہیں اور گھاس کو اپنی محبت کے لمس سے نم کرتی رہیں۔

رادھا نے جماہی لی اور اپنے بدن کو بستر پر پھیلا دیا۔

اس دوران گھر میں ہلچل مچی رہی۔ آج ہر ایک دیر سے اُٹھا۔ اپنے حساب کے پہاڑے اور ہجے کا سبق بُھلا کر سادھن باہر نظریں جمائے رہا۔

یہ رادھا کے شوہر آیان کے بازار جانے کا وقت ہے۔

اس وقت رادھا کی نند کو سکول جانا ہے۔

رادھا کی ساس نے صبح کی عبادت ختم کرلی ہے اور اب ناشتے کا انتظار کر رہی ہے۔

مگر رادھا ابھی تک بستر پہ ہے۔

رادھا آج نہیں پکائے گی۔

نہیں، وہ نہیں پکائے گی۔

رادھا آج نہیں پکائے گی۔

کیا ہوگیا ہے؟ کیا غلط ہوا ہے؟ کیا آج سب بھوکے رہیں گے؟ میری سمجھ میں نہیں آرہا، کیا معاملہ ہے؟ ساس، نند، شوہر— سب حیران ہیں۔

رادھا کو پروا نہیں۔ وہ آہستہ سے بستر سے اُٹھی۔ اُس نے ایک کونے سے بالٹی اٹھائی اور کاہلی سے تالاب کی طرف چلی۔

”کیا میرا بیٹا آج کام پر بھوکا جائے گا؟“

رادھا نے جواب نہیں دیا۔ اُس کی ساس کو غصہ آگیا، ”میں پوچھ رہی ہوں، تم نے کہاں سے اتنی سرکشی سیکھی؟ یہ کیا معاملہ ہے؟“

رادھا نے جواب نہیں دیا۔

اُس کی نند اُداس اور حیران ہو گئی۔ رادھا تالاب کے کنارے خاموش بیٹھ گئی اور اپنے پاؤں پانی میں ڈال دیے۔ اُس کے پیچھے ہلچل مچتی رہی۔ ساس کی چیخ و پکار نے لوگوں کو اُس کے گرد جمع کردیا۔ رادھا لاتعلق رہی۔ وہ پانی پہ نظریں جمائے بیٹھی رہی۔

چھوٹی مچھلیاں، پُٹی، بجُوری، کجلی، جھرمٹ میں آکر رادھا کے پاؤں کے پاس جمع ہوگئیں۔

چلی جاؤ— آج مجھے چھوڑ دو، میں تمھارے لیے کھانا نہیں لائی ہوں۔

لیکن مچھلیاں خوشی سے اُچھلتی رہیں۔ اُن کے لیے رادھا کی موجودگی ہی کافی تھی۔ اُنھیں اور کچھ نہیں چاہیے۔

رادھا نے آسمان کی طرف دیکھا۔

سورج اُس پر ہنسا، ”کیا تم ناراض ہو؟“ سورج نے پوچھا۔

”تم نے کیوں کچھ دیر اور انتظار نہیں کیا۔“ رادھا نے خفگی اور دکھ کے ساتھ پوچھا۔

”تم کھیت پر نظر ڈالو تو اندازہ ہوجائے گا کہ اگر میں مزید دیر کرتا تو کیا ہوجاتا۔“

تالاب کے قریب بیٹھے بیٹھے رادھا نے سوکھے مرجھاتے کھیت پر نظر ڈالی۔ رادھا فکر مند ہوئی، ”کیا یہ بچ جائیں گے؟“

”بس مسکراؤ، یہ سب زندگی کی طرف واپس آجائیں گے۔“

رادھا کھڑی ہوگئی۔ گول گول گھومتے ہوئے ہنستی رہی— ہنستی رہی۔ اُس نے اپنے بازو پھیلا دیے۔

”رادھا— ہنسو— اور ہنسو— اور ہنسو۔“

اناج کے خوشے اچانک جیسے نیند سے جاگ اُٹھے۔ اُنھوں نے خود کو لہرایا اور سیدھے اونچے کھڑے ہوگئے۔ اچانک رادھا کو پتا چلا کہ اُس کا شوہر اُسے کاندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہا ہے۔ اُس کی ساس غصے میں تپ رہی ہے اور کوس رہی ہے۔

اُس کی نند کھڑی مایوسی سے رو رہی ہے۔

لیکن رادھا مسلسل ہنس رہی ہے— ہنس رہی ہے— ابھی تک ہنس رہی ہے۔

ہوا میں پتّوں کی سرسراہٹ رادھا سے ہم آہنگ ہے۔

تالاب میں پانی کی لہریں خوشی سے ہنس رہی ہیں۔

چڑیاں بڑی نغمگی کے ساتھ یک آواز ہوکر چہچہا رہی ہیں۔ مچھلیاں رقص کرتی، اُچھلتی، تیرتی اور غوطہ لگاتی، پھول شاخوں پر پتّوں کے ساتھ دھیرے دھیرے جھوم رہے ہیں۔

”رادھا ہنسو— ہنسو— اور ہنسو۔“

اُس کے شوہر نے چاول کا خالی برتن پٹخ کر توڑا اور بازار چلا گیا۔

اُس کی ساس نے پوری آواز میں چیخنا چلّانا اور کوسنا جاری رکھا۔

اُس کی نند چپکے سے پڑوس میں جا کر چھپ گئی۔

اُس کا بیٹا سادھن آہستہ آہستہ تالاب کے قریب آیا اور رادھا کے پاس کھڑا ہوگیا۔

لیکن رادھا نہیں پکائے گی۔

وہ نہیں پکائے گی۔

رادھا آج نہیں پکائے گی۔

رادھا نے آہستہ سے اپنا سر گھمایا۔ ایک لمحے کو وہ ڈگمگائی، پھر ساکن ہوگئی۔

رادھا زمین پر بیٹھ گئی۔ پھر وہ فوراً کھڑی ہوگئی۔ اُس کو معلوم ہے کہ وہ بیمار نہیں ہے، اُسے ایک لمحے کے لیے یہ ادراک ہوا کہ زندگی میں سب سے زیادہ نارمل چیزیں بھی کسی کو بیمار کرسکتی ہیں، اس لیے وہ خوف زدہ نہیں ہے۔

”ماں مجھے بھوک لگی ہے۔“ بار بار یہ چیخ جیسے دُور سے سنائی دے رہی ہے— ”ماں مجھے بہت بھوک لگی ہے۔“

رادھا کے دل میں اضطراب پیدا ہوا۔ ساکت سمندر میں جیسے طوفان آگیا ہو۔ بیٹے کو سینے سے لگا کر رادھا مسلسل پانی کو گھورتی رہی۔ پھر اُس نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔ اوپر سورج کو دیکھا۔ اُس نے درختوں کو، چڑیوں کو پھولوں کو اور پتّوں کو دیکھا۔ رادھا نے اپنے گرد ہر چیز کو بڑے اشتیاق سے دیکھا۔

ایک کوّا معلوم نہیں کہاں سے آگیا اور ایک پکا ہوا پپیتا رادھا کی گود میں گرا دیا۔

اُس کو دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر رادھا نے چھیلا اور اپنے بیٹے کو کھلا دیا۔ سادھن کی بھوک کو تسکین نہیں ہوئی۔ رادھا نے سارَس کو آواز دی۔ تالاب کے بیچ اُگے کنول گِٹّے مجھے لا دو۔ کنول گِٹّا رادھا کے بیٹے کی بھوک مٹانے کے لیے کافی ہے مگر اُس نے تھوڑا سا ہی کھایا۔

”ماں مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ کیا تم آج پکاؤ گی نہیں؟“

سادھن صرف چار سال کا ہے۔ اُسے بہت بھوک لگی ہے۔ ایک چھوٹا سا پھل اُس کی بھوک کہاں مٹا سکتا ہے۔

”ماں کیا آج تم پکاؤ گی نہیں؟“

اُس کا دل تڑپ اُٹھا۔ وہ مشکل سے برداشت کرتی ہے۔ پھر بھی رادھا کسی طرح کہتی ہے:

”نہیں، رادھا نہیں پکائے گی۔“

”رادھا نہیں پکائے گی۔“

”نہیں وہ نہیں پکائے گی۔“

آج رداھا نہیں پکائے گی۔

سادھن کو سینے سے لگائے رادھا کھلیان کی طرف جاتی ہے۔ وہاں گھاس پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتی ہے اور سادھن کو اپنی گود میں لٹا لیتی ہے۔ پھر وہ اپنے چاروں طرف دیکھتی ہے۔ وہاں کوئی بھی قریب نہیں۔

شریفے اور کٹھل کے پتے ہوا میں لہرا رہے ہیں اور رادھا کے سر پر چھتری سی بنا دی ہے۔ رادھا بہت احتیاط سے اپنی چھاتی سے کپڑا ہٹاتی ہے، اُس کے گول پستان آسمان کے نیچے سورج کی روشنی میں چمکتے ہیں۔ رادھا اپنا بایاں پستان اٹھاتی ہے اور نپل اپنے بیٹے کے منھ میں دے دیتی ہے۔

دائیں ہاتھ سے وہ سادھن کا سر، اُس کے بال، پیشانی، آنکھیں اپنے سینے پر بھینچتی ہے۔ کچھ دیر کے لیے سادھن مچلتا ہے، پھر دھیرے دھیرے وہ نپل کو چوسنا شروع کرتا ہے۔ پہلے وہ بہت نرمی سے چوستا ہے، پھر ذرا سختی سے اور آخر کار وہ اپنی پوری طاقت لگا دیتا ہے کہ اپنی ماں کے جسم سے سارا رس چوس لے۔

رداھا فکرمند ہے۔ رادھا پریشان ہے مگر کچھ نہیں ہوتا۔ اب وہ کیا کرے۔ اپنی پیٹھ سیدھی کرکے دونوں پاؤں سامنے پھیلا کر آرام سے بیٹھی ہے۔

ایک مرتبہ وہ چاروں طرف نظر ڈالتی ہے۔ وہ اپنے دانت کچکچاتی ہے۔ اپنے ہونٹ کاٹتی ہے۔ کسی چیز کے لیے دعا کرتی ہے اور پھر یوں ہوجاتا ہے۔ آبشار کی طرح اُبلتا ہوا دونوں طرف چڑھتے دریا کی صورت کنارے سے چھلکتا سیلانی دھارا سارے بدن کو لرزاتے ہوئے رادھا کے پستان سے نکلنے لگا۔ رادھا نے اپنے بیٹے کا منھ دیکھا۔ سادھن کھلکھلا کر ہنس رہا تھا۔ اُس کے دہانے کے کونے سے سفید دودھ کے قطرے زمین پر گر رہے تھے۔

رادھا ہنسنے لگی۔

سادھن ہنسنے لگا۔

بادل آگئے اور اُنھوں نے سورج کا چہرہ ڈھانپ دیا۔

بگلا ایک پیر پر کھڑا آرام کر رہا ہے۔

ٹھنڈی ہوا نرمی سے چل رہی ہے۔

رادھا ہنسی۔

سادھن ہنسا۔

رادھا نے فیصلہ کیا ہے، وہ آج نہیں پکائے گی۔

وہ نہیں پکائے گی، نہیں پکائے گی۔

رادھا آج نہیں پکائے گی۔

(بنگالی سے انگریزی ترجمہ: نیاز زمان و شفیع احمد

انگریزی سے اردو ترجمہ: ڈاکٹر فاطمہ حسن)

 

Check Also

پھولوں کے آنسو ۔۔۔ مصطفےٰ کریم 

وہ پتھریلا راستہ جو پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع عیسیٰ خیل گوٹ جاتا ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *