Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » کتاب پچار » قلعہ ء فراموشی ۔۔۔ عابدرہ رحمان

قلعہ ء فراموشی ۔۔۔ عابدرہ رحمان

 

کتاب        :               قلعہ ء فراموشی (ناول)۔

مصنفہ     :               فہمیدہ ریاض

مبصر      :               عابدہ رحمان

 

دنیا کا اولین انسانی معاشی نظام قدیم اشتراکی نظام کہلاتا ہے۔ جب انسان غاروں میں رہتا تھا، ذرائع پیداوار محدود تھے۔ شکار ان کا سب سے بڑا ذریعہ پیداوار تھا۔ سب شکار کیا کرتے تھے اور سب مل بانٹ کر کھاتے تھے۔

جوں جوں ذرائع پیداوار بڑھتے گئے، نظام بدلتا چلا گیا۔ اور انسان اشتراکی سے غلام داری نظام، جاگیرداری نظام اور پھر سرمایہ داری نظام تک پہنچا۔ نظام کی تبدیلی اور پیداوار کے نئے نئے ذرائع آنے کے باعث انسان حاکم اور غلام، جاگیردار اور کسان، سرمایہ دار اور مزدور میں تقسیم ہوتے چلے گئے۔ تقسیم کی اس شدت کے توڑ کے لیے ہر دور میں تحریکیں چلیں۔ مزدک، سپارٹیکس، کارل مارکس نظام کے ا س توڑ کے محرک ہیں۔

”قلعہ فراموشی“ ایک ایسا ہی تاریخی ناول ہے۔ یہ ایک ایسے ہی سوشلسٹ انقلابی مزدک کی داستان ہے جس نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی میں اسلام سے قبل ایران اور روم کی فضاؤں کی اس داستان کو فہمیدہ ریاض نے شاہنامہ، اوِستا، بائبل، تاریخِ طبری اور دوسری تاریخی کتابوں کی روشنی میں تاریخ کے موتی چن چن کر اس ناول کی مالا میں اس خوبصورتی سے پرویا ہے کہ پڑھتے ہوئے خیال کی وہ خوبصورت رومانوی فضا اس ناول کا حصہ نظر آتی ہے۔

”قلعہ ء فراموشی“  قدیم ایران میں ایک مضبوط قلعہ جس کا نام گیل گرد تھا، آرمینی زبان میں ایدمیشن، جس میں سیاسی قیدیوں کو قید کرنا ہی مقصود نہیں تھا بلکہ ان کو عوامی فکر اور یاداشت سے قطعی غائب کرنا مقصود ہوتا تھا۔”انوش برد“ جس کے معنی ہیں ”قلعہ فراموشی“، اس کے قیدی اور اس قلعے کا نام لینا منع تھا۔لیکن آج ہزاروں سال بعد بھی مزدک کا نام زندہ ہے اور اسے بڑی عزت سے یاد کیا جا رہا ہے۔

پانچویں صدی عیسوی میں اس کے نام سے ایک بہت بڑی تحریک ابھری تھی۔ مزدک ایک زرتشتی مولوی تھا،جنھیں موبد کہا جاتا تھا۔اور یہ کہ اس دور میں سخت طبقاتی نظام رائج تھا۔غربت نسل درنسل چلتی تھی۔ انسان کی تحقیر و تذلیل عام تھی۔سود خوری، ذخیرہ اندوزی کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ایسے میں مزدک نے آواز بلند کی کہ مال و دولت عوام میں تقسیم ہونا چاہیے کیوں کہ تمام انسان خدا نے پیدا کیے ہیں، پھر انسان حاجت مند کیوں ہو۔ مزدک نے سب سے پہلے کسانوں کو شعور دینا شروع کیا کہ تم محنت کرتے ہو اور تم ہی بھوکے ہو۔ اس نے سب سے پہلے معبد خانے سے چاندی کا چمٹا کسانوں کو دیا کہ پگھلا کر آپس میں تقسیم کرو۔

کتابِ مقدس کی غلط تفسیر یا غلط معنی کو بھی چیلنج کیا کہ ہم دراصل اسے غلط معنی دے رہے ہیں۔ قناعت کا مطلب بتایا کہ ایسا نہیں ہے کہ امیر وں کو اس کی امیری اور غربا کو اس کی غریبی پر قناعت کرنے کو کہا گیا ہے بلکہ یہ کہ سب کچھ سب انسانوں میں برابر تقسیم کرو اس نے کسانوں، محنت کشوں، کان کنوں، مچھیروں کو متحد کرنا شروع کیا کہ اپنا حق ان امرا سے چھین لو۔انسانی تاریخ کے اس پہلے سوشلسٹ نے انقلاب برپا کر دیا تو جاگیردار اور ملا ملوٹے یہ سب کہاں برداشت کر سکتے تھے، ہوا وہی کہ مزدکیوں کا قتلِ عام شروع ہوگیا۔

ناول کی کہانی تو اسی طرح ظلم سے عبارت ہے۔ شدید طبقاتی نظام ہے، جس کے خلاف اپنے دور میں سپارٹیکس اٹھ کھڑا ہو ا، اسی طرح مزدک نے آواز اٹھائی اور وہی انقلابی آواز کارل مارکس کی اور دوسرے انقلابیوں کی تھی۔ اس ناول کی خاصیت جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ اس کہانی کے تانے بانے کو اس طرح جوڑنا کہ وہ محض ایک خشک تاریخ نہ رہی بلکہ اس میں رومانویت کا میٹھا میٹھا سرور بھی قائم رہا۔ اور یہ اس خوبی سے کیا گیا ہے کہ آپ کوپڑھتے ہوئے وہ سب تاریخ ہی کا حصہ لگتا رہے گا۔ جب کہ دوسری طرف آپ یہ بھی محسوس کریں گے کہ یہ مصنفہ کے خوبصورت اور مضبوط تخیل کا عکس ہیں۔ مثلاً ذرا دیکھئے؛”اور چہرے؟ کیا چہرے تحیر انگیز نہیں؟ یہ دیکھو ہمارا لمبا سا بدن اور اس کے سب سے اوپر یہ چہرے، کان، آنکھیں، ناک، یہ ساری کائنات کو ہر دم، ہر لمحہ چوس چوس کر ہمارے اندر لے جاتے رہتے ہیں اور ان سب میں دہن۔آہ دہن سب سے زیادہ حیرت انگیز، ہونٹ،تالو، حلقوم، دانت،زبان۔ یہ خوراک کو ہمارے اندر لے جانے کا ذریعہ ہیں۔اور ہونٹوں میں لذت کے سرور کا یزد ہے۔ جب دو ہونٹ دوسرے دو ہونٹوں سے ملیں تو یہ یزد متحرک ہونے لگتا ہے۔ مگر ان میں سب سے زیادہ تحیر خیز تو زبان ہے۔ زبان! جس میں ذائقے کی حس ہے۔ کیا ہے یہ حِس! آہ یہ حِس کیا ہے؟“

اس طرح کے خوبصورت مزیدار ٹکڑے آپ کو پورے ناول میں جگہ جگہ ملیں گے۔

اس ناول میں ملکیت کے موضوع پر جس طرح بحث کی گئی ہے، وہاں عورت کی ملکیت کو بھی مزدک نے ماننے سے انکار کیا کہ عورت کسی کی ملکیت نہیں ہوتی۔

ایک بلوچستانی کے لیے ایک خوبصورت اور خوش کن بات بلوچستان کا ذکربھی ہے۔ ایسی ہی خوشی مجھے اس کتاب میں بھی ملی کہ وزرگان نے جب پیروز کے چچا زاد بھائی بالاش کو تخت نشین بنایا تھا اور بعد میں اس کے خلاف بغاوتیں کروائیں اور پگھلا سیسہ اس کی آنکھوں میں ڈال کر اسے اندھا کر دیا تھا۔ شاید وہ بالاش ’بالاچ‘ تھا۔ اسی بالاچ سے بعد میں مزدک ملا تھا۔ اس نے مزدک سے کہا تھا کہ ”ممکن ہوتا تو میں تمھیں اپنے وطن لے جاتا۔ مکران!اور سجستان سبی،جہاں پٹی ہوئی نہریں ہیں۔ جہاں کی کھجوریں حیرت سے بھی زیادہ خوش ذائقہ ہیں اور جہاں سات پہاڑ ہیں۔ نہایت بلند و بالا پہاڑ! ہر پہاڑ کا الگ سردار ہے اور دلیر سیاہ پوش بلوچ ان کی حفاظت کرتے ہیں“۔ یہ پڑھ کر صاف لگا کہ ہمارے بلوچستان کا ذکر ہے اوربالاش‘ بلوچ تھا۔ یہ کہ مزدک بھی ایک بلوچ تھا۔

مزدکیوں کو قتل کیا گیا۔ لیکن نظریہ زندہ رہا کہ نظریے کبھی قتل نہیں ہو سکتے۔ تحریک ختم نہیں ہو سکی۔ یہ مزدکی تحریک پورے تیس سال تک جاری رہی۔ لیکن آج بھی یہی مزدکی تحریک دنیا کے ہر کونے میں جاری و ساری ہے۔

فہمیدہ ریاض خوبصورت شاعری کی حسین شاعرہ اپنی شاعری کے ساتھ ساتھ ہمیں ”قلعہ ء فراموشی“ بھی دے گئیں، جو ایک رومان پرور تایخ ہے۔

اس تاریخی تحفے کے لیے شکریہ فہمیدہ آپا!!۔

Check Also

موپساں کا ناول ”بیل ایمی“: سماج کا آئینہ ۔۔۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن

انقلابِ فرانس کے بعد لکھے جانے والے فرانسیسی ادب کو ہم پڑھیں تو اس دور ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *