Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » کتاب پچار » موپساں کا ناول ”بیل ایمی“: سماج کا آئینہ ۔۔۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن

موپساں کا ناول ”بیل ایمی“: سماج کا آئینہ ۔۔۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن

انقلابِ فرانس کے بعد لکھے جانے والے فرانسیسی ادب کو ہم پڑھیں تو اس دور میں آنے والی تبدیلیوں کا بڑا واضح عکس نظر آتا ہے۔ خصوصاً انقلاب کے بعد طبقاتی اور معاشرتی رویوں میں اقدار و اخلاق کی جو ٹوٹ پھوٹ ہوئی، اس کی سچی تصویر موپاساں کا ناول ”بل ایمی“ آج بھی ثبوت کے طور پر موجود ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار ”دورائے“ غریب کسان والدین کا بیٹا جنگ سے لوٹا ہوا ایک مفلوک الحال سپاہی جس کی جیب میں صرف چند سکّے ہیں، کسی چھوٹی سی نوکری کا متلاشی ہے۔ پیرس کی سڑک پر اپنے ایک دوست ”فورسٹر“ سے ملتا ہے جو اسی کے طبقے سے تعلق رکھتا تھا مگر اب خوش حال ہے اور روزنامہ ”فرانسائی“ میں سیاسیات کے شعبے کا صدر ہے۔اب دیکھیے فورسٹر اسے کیا مشورے دیتا ہے:

”معاملہ یہ ہے بھائی کہ پیرس میں ہر چیز موقعے پر منحصر ہے… معمولی ذہن کے لوگ صدرِ شعبہ کیا وزیر ہوجاتے ہیں… اور تمھیں ایک کلرکی کے سوا کچھ نہ مل سکا؟

”میں نے بہتیری کوشش کی۔“ دورائے نے کہا، ”مگر مجھے کچھ نہ ملا، مگر اب کچھ اُمید ہوچلی ہے، مجھے پلیرین کے سواری کے اسکول میں سواری کے استاد کی جگہ مل رہی ہے— وہاں مجھے کم از کم تین ہزار فرانک ملیں گے۔“

فورسٹر ایک دم رُک گیا اور کہنے لگا، ”یہ ملازمت نہ کرو۔ یہ حماقت ہوگی، چاہے تمھیں دس ہزار فرانک کیوں نہ ملیں۔ تمھارا مستقبل ختم ہوجائے گا۔ اپنے دفتر میں تم سب سے پیچھے رہو گے— تمھیں کوئی نہیں جانتا، اگر تم ہوشیار ہو تو نکل کر اپنا راستہ بنا سکتے ہو مگر سواری سکھانے والے استاد ہوکر ختم ہوجاؤ گے۔ یہ تو بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی اچھے ہوٹل میں ہیڈ بیرے ہوجاؤ—اگر تم دنیا والوں کو سبق پڑھانے لگے تو پھر وہ تمھیں اپنے برابر نہ سمجھیں گے۔“

وہ رُکا، پھر ٹھہر کر پوچھنے لگا، ”تمھارے پاس اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ ہے؟“

”نہیں — میں دو مرتبہ فیل ہوا تھا۔“

”کوئی بات نہیں — اگر لوگ سسرو (Cicero) یا ٹبیریس (Tiberius)کی بابت کچھ کہیں تو تم سمجھ لوگے؟“

”خوب اچھی طرح۔“

”ٹھیک ہے… ہر شخص عقل مند ہے، سوائے چند احمقوں کے جو آگے بڑھنا نہیں جانتے، پڑھا لکھا اور ذہین بننا مشکل نہیں ہے، خاص بات یہ ہے کہ کوئی پکڑ نہ سکے، لوگوں کو گھیرو مشکل پر قابو پاؤ— رخنوں کو ہٹاؤ، اپنے حریف کو لغت کے ذریعے چت کردو— زیادہ تر لوگ احمق اور اُلو ہیں۔“

فورسٹر نہ صرف مشورے دیتا ہے بلکہ دورائے کو اخبار کے مالک اور فرانس کی اعلیٰ سوسائٹی سے متعارف بھی کرواتا ہے اور اسے اخبار میں کالم نگار کی ملازمت دلوا دیتا ہے۔ یہاں سے دورائے کی ترقی کا تیز تر سفر شروع ہوتا ہے جس کے لیے وہ اخلاقی اقدار کی نفی، اپنی جاذبِ نظر شخصیت اور عورتوں سے تعلقات کا فائدہ اٹھانے سے لے کر بلیک میلنگ تک حربے استعمال کرتا ہے۔ اس طرح دورائے وزارت کے عہدے تک پہنچ جاتا ہے اور اخبار ”فرانسائی“ کے مالک کی بیٹی سے شادی کرکے اس میں حصے دار ہوجاتا ہے۔

دورائے کی شخصیت کو موپاساں کے ان الفاظ میں دیکھیے۔ ناول میں فورسٹر کے گھر کی بیٹھک میں خواتین کی ایک محفل ہے:

”تمام خواتین اس طرح گفتگو کر رہی تھیں جیسے ڈراما کھیل رہی ہوں۔ پھر ایک اور خاتون آئی اور لمبی خاتون اُٹھ کر چلی گئی۔ پھر اندھیرا ہوگیا۔ مادام نے گھنٹی بجائی تاکہ لیمپ جلائے جائیں۔ وہ اب بھی خوب صورت تھی حالانکہ بوڑھی ہوچلی تھی۔ وہ اپنے جسم کا بہت خیال رکھتی تھی۔ وہ بڑی سمجھ دار معلوم ہوتی تھی۔ باتیں الیکشن پر ہو رہی تھیں۔ اس نے دورائے سے پوچھا—”آپ موسیو دورائے ہم سب سے زیادہ جانتے ہیں، آپ کس کے طرف دار ہیں؟“

اس نے جواب دیا، ”محترمہ مجھے امیدوار کی خصوصیات سے سروکار نہیں، ان پر ہمیشہ دو مختلف رائیں ہوسکتی ہیں۔ میں ان کی عمر اور تن درستی کا خیال کروں گا۔ میرے لیے جسمانی حالت حبِ وطن کے جذبے سے زیادہ اہم ہے۔“

اس پر سب متعجب ہوئے۔ مادام والٹر نے اسباب دریافت کیے۔

”کیوں کہ مجھے خواتین کی دل چسپی کا خیال ہے، آپ کے لیے اکیڈمی دل چسپ ہوجاتی ہے جب کہ اس کا کوئی ممبر مر جاتا ہے۔ اور جتنے زیادہ مرتے ہیں، آپ اتنا ہی خوش ہوتی ہیں۔ لہٰذا اگر آپ چاہتی ہیں کہ وہ جلدی جلدی مریں تو بڈھے اور بیماروں کو ووٹ دیجیے۔“

سننے والیاں اب بھی متحیر تھیں، اس لیے وہ کہتا چلا گیا، ”میں بھی آپ کا ہم خیال ہوں اور اخبار میں ان کے مرنے کی خبر سن کر خوش ہوتا ہوں۔ میں پوچھتا ہوں کہ اب اس کی جگہ کون آئے گا، میں فہرست بناتا ہوں، یہ بڑا دل چسپ کھیل ہے اور پیرس کے ہر سیلون میں کھیلا جاتا ہے۔“

————

”دوسرے ہفتے میں دو واقعے ہوئے۔ اسے ’بازگشت‘ کا انچارج بنا دیا گیا اور مادام والٹر نے اسے ڈنر پر بلایا۔ دونوں باتیں ایک دوسرے سے مربوط تھیں۔ اخبار فرانسائی کو صرف رقم سے سروکار تھا۔ مالک مال دار تھا اور اخبار کو رقم کھڑی کرنے کا ذریعہ سمجھتا تھا، وہ سمجھ بوجھ کر چال باز آدمی رکھتا تھا۔ دورائے اب اسے بڑا قیمتی معلوم ہونے لگا تھا۔ ابھی تک ’بازگشت‘ کے کالم کے لیے ایک بڑا پرانا صحافی مقرر تھا مگر والٹر دوسرے قسم کے آدمی کو چاہتا تھا اور دورائے اس کی نظر میں قطعی موزوں شخص تھا۔“

واضح رہے موپاساں ۵/ اگست ۰۵۸۱ء کو فرانس میں پیدا ہوا تھا۔ اس کی ذہنی تربیت ”مادام بواری“ جیسے ناول کے خالق ”فلابیر“ (Flaubert) نے کی تھی۔ فرانس کی بدلتی ہوئی روایتی اقدار کی بڑی جھلک فلابیر کے ناول میں بھی موجود ہے۔ یہی تبدیلی موپاساں کی کہانیوں کے کرداروں میں پوری سچائی اور کئی جہتوں کے ساتھ نظر آتی ہے جس کے لیے ٹولسٹوئے جیسے ناول نگار نے لکھا ہے ”موپاساں کا مطالعہ اتنا عمیق اور مشاہدہ اس قدر وسیع ہے کہ وہ معمولی معمولی جزئیات کو بعض اوقات اس انداز سے طول دیتا ہے کہ یہ تفصیل بجائے خود ایک کہانی بن جاتی ہے۔“

موپاساں کے عہد میں شاہی اور جاگیرداری، سرمایہ دار طبقے کی جگہ ایک اور طبقہ لے رہا تھا جو سیاسی اثر و رسوخ سے نئی منڈیوں میں کاروبار کے ذریعے دولت سمیٹ رہا تھا۔ اس کاروبار میں زمین، جائیداد اور اشیا کی خرید و فروخت کے ساتھ ساتھ صحافت بھی شامل ہوگئی تھی جو اتنی مضبوط تھی کہ وزارتوں پر اثرانداز ہوسکے۔ مثال کے لیے موپاساں کے ناول ”بل ایمی“ کا انتخاب میں نے اسی لیے کیا ہے کہ طبقاتی اور معاشرتی تبدیلی میں جب اخلاقی اقدار پامال ہوتی ہیں تو سماج میں خود غرضانہ رویے کیسا بگاڑ پیدا کرتے ہیں، اس کا اندازہ وہاں کے ادب سے کیا جاسکے اور اس کی روشی میں اپنے معاشرے کا جائزہ لیا جاسکے۔

انیسویں صدی میں لکھے ہوئے اس ناول کے آئینے میں آج ہم اپنے خطے کی جھلک بھی دیکھ سکتے ہیں تو پھر اپنے سماجی رویوں کو سمجھنے اور پرکھنے کے لیے ساری دنیا میں لکھا ہوا ادب، وہ خواہ کسی بھی زبان میں ہو، معاون و مددگار ہوتا ہے۔

 

Check Also

قلعہ ء فراموشی ۔۔۔ عابدرہ رحمان

  کتاب        :               قلعہ ء فراموشی (ناول)۔ مصنفہ     :               فہمیدہ ریاض مبصر      ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *