Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » اُمید ۔۔۔ شان گل

اُمید ۔۔۔ شان گل

لینن دوات کھاتا تھا

بہر حال 8، 9دسمبر 1895 کی رات کو پولیس نے لینن اور ”سینٹ پیٹرسبرگ لیگ“ کے اکثر ممبر گرفتار کر لیے۔چونکہ کروپسکایا پر کسی کو انقلابی ہونے کا شک نہیں گزرا، اس لیے وہ گرفتاری سے بچ گئی۔یوں لینن جیل میں تھا اور کروپسکایا ابھی تک آزادتھی۔۔۔ (دسمبر 1895سے اگست 1896تک)۔ مگر، پھر وہ بھی اگست 1896میں پکڑی گئی۔تفتیش کے دوران یہ بہادر انسان کسی بھی انڈر گراؤنڈ تنظیم سے وابستگی سے انکار کرتی رہی۔ اِس قدر اعتماد اور بہادری کے ساتھ کہ بالآخر10اکتوبر کو اسے رہا کیاگیا۔

اُدھر،جب لینن دسمبر 1895کو سینٹ پیٹرسبرگ میں گرفتار ہواتو ساری فیملی بھی شہر کے مضافات میں شفٹ ہوگئی تاکہ اس کے قریب ہوا جاسکے۔ فیملی وہاں چھ ماہ تک رہی۔ اس پورے عرصے میں آنا ؔبھائی کو سیاسی مدد دیتی رہی۔ کو ڈ ور ڈز میں اسے خبریں پہنچاتی رہی۔ وہ خود لکھتی ہے:

”ہم اشاروں کنایوں میں بات کرتے تھے۔ ہم ”ہڑتال“ یا ”پمفلٹ“ جیسے الفاظ کے لیے غیرملکی الفاظ استعمال کرتے تھے۔ جب ہم ایک دوسرے کی کوئی پیچیدہ بات سمجھ جاتے تو زور سے ہنس دیتے۔ گوکہ ہماری ملاقاتیں بے پرواہ اور پر لطف باتوں میں گزرتیں مگر اصل میں ہمارے دماغ سمجھنے اور سمجھانے میں، اور کوئی بھی بات نہ بھولنے میں زور شور سے کام کر رہے ہوتے۔(1)۔

اس کام میں آنا اور لینن کتابیں بھی استعمال کرتے تھے جو کہ آننا ہفتے میں دوبار یعنی بدھ اور ہفتہ کو بھیجتی تھی۔ یہ کتابیں کوڈ ورڈز میں اطلاعات کا تبادلہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ کچھ مفید کتابیں تو وہ پڑھنے کے لیے لینن کو بھیجتی مگر عام طور پر وہ لینن کے لیے ایسی کتابیں لے جاتی جن کا کاغذ موٹا ہوتا۔اس لیے کہ وہ نظر نہ آنے والی اِنک کو چھپانے کے لیے اچھی ہوتی تھیں۔ وہ لوگ اس سفید کاغذ پر سفید سے لکھتے یعنی دودھ سے یا کیمیکل سے۔ بہن بھائی نے یہی طریقہ اُس وقت بھی استعمال کیا جب لینن سائیبریا میں جلاوطن تھا۔کمال دیکھیے کہ تین سالہ جلاوطنی میں ایک بھی خط نے سرکار کو شک میں نہیں ڈالا۔(2)۔

بادشاہی نظام والا ہر ملک سمجھوضیاء الحق والا ملک ہوتا ہے۔ رجعتی، عقل دشمن، تفکر کا ویری، بیداری کا قاتل۔ ہمہ وقت عوام الناس سے خوف۔ لوگوں پہ بغاوت یا سازش کا شک۔ روس بھی ایسا ہی تھا۔ بادشاہ والے روس میں شہریوں کے بیرونی دنیا سے ربط کی بہت سخت نگرانی کی جاتی تھی۔ قیدیوں پہ تو بے شمار پابندیاں تھیں۔البتہ ریمانڈ پہ جو قیدی تھے انہیں بڑی تعداد میں کتابوں کی اجازت تھی۔

اُس زمانے میں لینن اپنی اولین بڑی کتاب ”روس میں کپٹلزم کی نشوونما“ کی تیاری میں زیادہ وقت لگانے لگا ۔ اس کے لئے مواد جمع کرنے کی غرض سے اس نے سینکڑوں کتابیں اور رسالے پڑھے۔ اپنے رشتے داروں کے خطوط میں وہ ضروری کتابوں کی فہرست بھیجتا تھا۔جن کی فراہمی کا انتظام اس کی بڑی بہن آننا اولیانووا کرتی تھی۔

اسی طرح جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی اس نے اپنی انقلابی سرگرمیاں بند نہیں کیں۔ لینن نے ”جدوجہد کی انجمن“ کی رہنمائی کے لئے راستہ ڈھونڈ نکالا۔ اس نے  ان رفیقوں سے رابطہ قائم کیا جو گرفتار نہ کیے جاسکے تھے۔وہ خطوط، اشتہار اور پمفلٹ لکھ کر خفیہ طور سے باہر بھیجتا رہا۔ اس نے جیل میں مارکسی پارٹی کے پروگرام کا پہلا مسودہ اور اس کے بارے میں تشریحات لکھیں۔

یہاں جیل میں لینن نے پارٹی پروگرام کا مسودہ اور وضاحتی نوٹس لکھے۔(3)۔

لیکن،لینن کی گرفتاری کے بعد کروپسکایا کا کام تو ڈبل ہوگیا۔ وہ اب خفیہ سیاست میں لینن کا کام بھی کرنے لگی۔ ایک اوراضافی کام یہ تھا کہ وہ مزدور وں کی ہڑتال اور دیگر سرگرمیوں سے متعلق قیدی لینن کو لکھتی جاتی تھی۔

مگر ایک مضبوط اور قہارو جبار بادشاہی نظام کے خلاف ایک انقلابی کب تک خیر منا سکتا ہے۔ چنانچہ کروپسکایا پھر پکڑی گئی۔ مگر اس بار اپنے ہی ایک اور ممبر کی گواہی پراسے گرفتار کیا گیا۔ وہ 28اکتوبر کو دوبارہ گرفتار کر لی گئی۔ اب سرکار کو اس کے انقلابی ہونے کا تو یقین ہوگیاتھا۔ مگر ابھی تک یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ،ملزم لینن کو جانتی ہے یا نہیں۔

کروپسکایا دس مارچ1897تک جیل میں رہی۔ بہت سے محققوں نے پولیس ریکارڈ سے  یہ بات دریافت کی کہ وہ ایک سخت قیدی تھی۔ کروپسکایا حالانکہ تھا ٹرائیڈ کی مریضہ تھی اور سرد جیل میں وہ بہت تکلیف میں تھی۔ مگر وہ بہت شان اور وقار کے ساتھ یہ تکالیف جھیلتی رہی۔

اس دلچسپ خاتون نے یہیں جیل میں  انگلش سیکھی(4)۔

جب خود کروپسکایا گرفتار ہوئی تو اب اس کا لینن سے جیل میں ملنے کا سوال ہی نہ تھا۔لینن اور کروپسکایا دسمبر 1895اسے لے کر مئی 1898تک جیل کی دیواروں کی وجہ ایک دوسرے سے کٹے رہے۔

کروپسکایاجب 12 مارچ 1867میں رہا ہوئی تو وہ کافی نڈھال تھی۔اُس کی ماں کو بہت تشویش ہو گئی تھی۔

کروپسکایا کو پہلے پیٹرسبرگ میں اپنی بیماری کے سبب رہنے کی اجازت دی گئی، پھر اُسے والڈ ائیکا کے ایک کاٹیج میں گرمیاں گزارنے کی اجازت دی گئی۔ (5)۔

دسمبر 1895میں لینن کی گرفتاری اُن دونوں کے بیچ پہلی لمبی جدائی تھی۔ لگتا ہے کہ اسی گرفتاری میں دونوں کو پہلی بار احساس ہوا کہ اُن کے دلوں کی فریکوئنسی ہم آہنگ سی ہوگئی۔جیسے دونوں کے دماغوں میں بہ یک وقت عشق کے کیمیکلز کی پیداوار بڑھ چکی ہو۔ انہیں ایک دوسرے میں اپنی ذات کا تکمل نظر آنے لگا۔ اور دونوں کو اندازہ ہوا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے بنے تھے۔ اور اب وہ ایک دوسرے سے الگ نہیں رہ سکتے۔

چنانچہ لینن جب یہاں قید تنہائی میں تھا تو کتابوں میں سطروں کے بیچ دودھ کے ساتھ اُسے خط لکھتا تھا۔ جس میں اس کی صحت کے بارے میں پوچھتا،اور اُس کی گرفتاری کے خدشات ظاہر کرتا۔ جواب میں کروپسکایا اُس کی صحت اور جیل کی صعوبتوں پہ تشویش کے اکھر لکھ بھیجتی۔(دودھ نور ہے!!)۔

لینن جیل میں اپنے قیدی رفیقوں کے ساتھ بھی خط و کتابت کرتارہتا تھا اور اس کے لیے وہ جیل کی لائبریری کی کتابیں استعمال کرتا تھا۔ وہ الگ الگ حروف پر نقطوں سے نشان لگا دیتا تھا جن کو ملا کر ضروری الفاظ حاصل کئے جا سکتے تھے۔ اُس کے یہ خطوط مزدور طبقے کی فتح پہ امید و یقین پیدا کرتے تھے۔ وہ اپنے رفیقوں کے لئے فکر مندی کا اظہار کرتا تھا۔ وہ باہر کے سنگتوں کوہمیشہ ہدایت کرتارہتا تھا کہ فلاں کو گرم کپڑے بھیجے جائیں اورفلاں کے لئے ”منگیتر“ تلاش کی جائے تا کہ وہ اس تنہا رفیق سے ملنے آ سکے جس سے کوئی بھی ملنے نہیں آتا ہے۔

لینن انقلابی دستاویزوں کتابوں اور رسالوں کی سطروں کے درمیان دودھ سے لکھتا تھا۔ہوتا یہ تھا کہ دودھ کے یہ الفاظ عام طور پر دکھائی نہیں دیتے تھے۔لیکن کاغذ کو ہلکا ساگرم کیا جائے تو وہ صاف دکھائی دیتے تھے۔ انقلابی لوگ خط و کتابت کے لئے اکثر یہ طریقہ استعمال کرتے تھے۔

اس کے لیے لینن ڈبل روٹی سے چھوٹی چھوٹی ”دواتیں“ بناتا جن میں وہ دودھ بھر لیتا اور اگر پہرے دارسوراخ سے جھانکنے کے لیے آجاتا تو اس کے قدموں کی آہٹ سنتے ہی وہ  جلدی سے ان کو نگل جاتا۔

اس نے اپنے ایک خط میں مذاق سے لکھا:”آج میں نے چھ  دواتیں  کھالیں“۔(6)۔

جیل میں لینن نے اپنے لئے سخت معمول بنا لیا تھا۔ وہ روزانہ مقررہ کام پورا کرتا اور رات کو سونے سے پہلے پابندی سے ورزش کرتا تھا۔ لینن بعد میں یاد کر کے کہتا تھا: ”انتہائی شدید سردی میں  بھی جب کوٹھری بہت ٹھنڈی ہوتی تھی تو ورزش کرنے سے جسم میں گرمی آ جاتی تھی اور اس کے بعد نیند کہیں اچھی آتی تھی“۔

اس نے صرف نظریاتی طور پر ہی نہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی اپنے آپ کو آنے والی جدوجہد کے لئے مضبوط بنایا اور یہی بات اُس نے اپنے ساتھیوں کو بھی سکھائی۔ مثلاً اپنی چھوٹی بہن ماریا اولیانووا کو،جب وہ جیل میں تھی لینن نے لکھا:”میں تمہیں یہ بھی مشورہ دوں گا کہ جو کتابیں تمہارے پاس ہیں ان کے مطالعہ کو ایسے ٹھیک طریقے سے تقسیم کرو کہ ورائٹی پیداہو جائے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مطالعہ یا کام میں تبدیلی۔۔۔ ترجمے سے مطالعہ میں، خطوط لکھنے سے ورزش کرنے میں، سنجیدہ کتابوں کے مطالعہ سے افسانوی ادب پڑھنے میں۔۔۔سے بہت ہی مدد ملتی ہے“۔(7)۔

کیا خیال ہے،یہاں محبت کی بات نہ ہوجائے؟۔لیکن ہم پہلے بھی تو وہی کر رہے ہیں۔ انسانی بات تو ہوتی ہی محبت کی ہے۔ باقی باتیں تو محض طفیلی باتیں ہوتی ہیں، ضمنی باتیں۔ کروپسکایا جیسی بڑی ہستی کی محبت بھی اُسی قدر وسیع اور لولا کی تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ لینن جیل میں تھا اور کروپسکایا باہر تھی، مگر محبت یہاں بھی فراموش نہ ہوئی۔ محبت فراموش ہونے والی چیز ہی نہیں۔ چنانچہ اس نوجوان عاشق نے دیدارِ یار کا ذرا سا امکان دیکھ لیا۔ اس نے یہ دیدار  فوراً حاصل کرنا چاہی۔: بقول نا دژدا:

”اپنے ایک خط میں اُس نے یہ منصوبہ بھیجا: جب انہیں ورزش کے لیے باہر نکالا جاتا ہے تو کاریڈور کی ایک کھڑکی سے ”شپالر نایا“سڑک کے ایک حصے کی ایک لمحاتی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ اس لیے اس نے تجویز دی کہ فلاں ٹائم پہ میں اور اپولینا ریا الیگزنڈرونا یعقو بووا آجائیں اور سڑک کے اُس ٹکڑے پر کھڑی ہوجائیں، اور یوں وہ ہمیں دیکھ لے گا۔حجاب سے بھری محبوبہ نپے تلے انداز میں قہرو دھچکے بھرا یہ فقرہ لکھتی ہے:”۔۔۔ میں کئی دن  تک جاتی رہی اور دیر تک اُس جگہ کھڑی ہوتی رہی۔ مگر منصوبہ میں کوئی غلطی ہوئی“ (8)۔۔۔دراصل اُن تین دنوں میں لینن کو چہل قدمی کی اجازت ہی نہیں ملی تھی(9)۔

 

ہائے اُن لوگوں کے لیے جو عشاق کے کام میں مداخلت کرتے ہیں۔۔۔   مستؔ۔

 

ریفرنسز

 

۔کائی ٹُورین۔فارگاٹن لائیوز۔صفحہ۔34

۔کائی ٹُورین۔فارگاٹن لائیوز۔ صفحہ۔35

۔ پولیسی لوف۔لینن،اے بایوگرافی۔ صفحہ 52

۔ کروپسکایا۔ memoirs۔ صفحہ 50..

BoR۔صفحہ 53

۔پولیسی لوف۔لینن۔ اے بایوگرافی۔ صفحہ53

۔             او بیچکین اور دوسرے۔لینن مختصر سوانح عمری۔1971۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو۔صفحہ36

۔             کروپسکایا۔ memoirs۔  صفحہ 15

۔لُدمیلا۔اے لائف، ڈی ووٹڈ۔۔ صفحہ 31

Check Also

بلوچی زبان ئے دیوان ۔۔۔ گام گثیر

بلوچی زبانئے  دیوان کمال خان شیرانی،ڈاکٹر خدائیداد اور عبداللہ جان جمالدینی پراگریسو رائٹر ز کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *