Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » بیانیہ کیا ہے!!!۔۔۔ نبیلہ کیانی

بیانیہ کیا ہے!!!۔۔۔ نبیلہ کیانی

انسان نے انسان کے ساتھ رابطے کے لئے کئی ذرائع  اپنائے  زبان  یا language   کا استعمال اُن میں سے ایک ہے۔ languageکو بھی مختلف النوعforms میں ڈھال کر ایک دوسرے سے رابطے کی کوششیں کیں۔ آج کے دور میں جوں جوں علم ترقی کر رہا ہے ایک ہی languageکے بطن سے کئی زبانیں جنم لے رہی ہیں۔ مثلاً انگلش زبان میں تقریباً ہر subjectنے اپنی ڈکشنری مرتب کر لی ہے، فزکس کی اپنی ڈکشنری ہے تو اکنامکس کی بھی اپنی ہے۔ نفسیات نے اپنی  vocabulary  بنا  لی  ہے  تو ادب کی  Literary currencyنے اپنی ڈکشنری مرتب کر لی ہے۔ شاید ایک لفظ نفسیات میں اور معانی دے رہا ہے۔ فزکس والے اُسے اور طرح سمجھ رہے ہیں۔ ان ڈکشنریوں کے volumesمیں اضافہ ہو رہا ہے۔ چونکہ انسان کے تجربات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ہر نیا تجربہ زبان اور الفاظ کو توسیع دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ لہٰذا ڈکشنریوں کے  volumesوسعت پذیر ہیں۔

ہر subjectنے درخت کی طرح ہرسو روشنی اور آکسیجن کی تلاش میں کئی شاخیں پھیلائیں۔ ادب ہی کو لیجئے، شاعری، ڈرامہ، ناول مضامین، تنقید سب ادب ہی کی شاخیں ہیں۔ یہ شاخیں انسان کی Communication کی کوشش کا حصہ ہیں۔ ایک دوسرے سے تعلق اور رابطے کو بڑھانے میں انسانوں کی مدد گار ہیں۔ شاعری نے بھی کئی اصناف کو developکیا۔ ناول اور ڈرامہ بھی شاعری کی طرح کئیformsمیں لکھے جانے لگے۔ انسان نے communicationکے لئے اتنی formsتخلیق کر ڈالیں اور کر رہا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے،انسان جو کچھ دوسرے انسانوں سے shareکرنا چاہتا ہے وہ ابھی تک نہیں کر پایا۔ نئی نئی formsجنم لے رہی ہیں۔ انسان اس کرۂ ارض پر شاید واحد علم کی creatorاور producerنوع ہے۔ وہ ہر لمحے تیزی سے بدلتے اور گوناگوں تجربوں کا experienceکر رہا ہے اور مفہوم بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ ہر لحظہ اپنے دل و دماغ کو نئے علم کی روشنی میں رو بہ ترقی ہوتے دیکھ رہا ہے۔ انسان کا selfوہ نہیں رہا جو اٹھارویں صدی کے ناولوں میں portrayہو رہا تھا یا انیسویں صدی کے ناولوں میں پیش کیا جارہا تھا۔ انسان کے وہ selvesشاید اب ادبی عجائب گھروں میں رکھ دئیے گئے ہیں۔ بیسویں اور اکیسویں صدی کا ادب اور ناول human selfکی نئی جہتیں portrayکر رہا ہے۔ سیدھی سی مثال ہے میری دادی اور نانی کے اور میرے slefمیں کئی ارتقائی منازل طے ہو چکی ہیں۔

انسان experiencer ہے۔ انواع واقسام کے تجربات کا وہ ہر روز تجربہ کر رہا ہے۔ اسی لئے وہ story teller ہے۔ بیانیہ اپنی شکل میں سب سے نزدیک کہانی کی formسے ہے۔

اگر ہم کہانی کو دیکھیں تو اس کے کچھelementsہمیں بیانیے میں بھی نظر آئیں گے۔ مثلاً کہانیوں میں انسان کی سچائی ایسی تلاش کو embodyکرتی ہے۔ کہانیاں اور بیانیے mythسے فرق ہوتے ہیں۔ دیو مالائی کہانیوں میں انسانوں نے امکانات کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن باقی کہانیاں انسان کی علم کی جستجو، سچائی کی پرکھ کی کوشش اور اس کی تیزی سے بدلتی sense of realityکی نمائندہ ہیں۔

کہانیاں اور بیانیے انسان کے انتخاب، فیصلے اور عمل کے legislatorبن جاتے ہیں۔ انسان کے لئے قانون اور اصول بنانے والی formبن جاتے ہیں۔ کہانیوں اور بیانیے میں کیونکہ سچائی کی تلاش نظر آتی ہے۔ اس لئے rationality ،  استدلال اور intellectual  کوشش  ہو گی۔ intellectual  کوشش سے ہم نئےideasتخلیق کرتے ہیں اور اپنے تجربات کو ideas میں تبدیل کرتے ہیں۔ کہانی اور بیانیے کی بنیاد سچائی اور علم کی تلاش ہے اور چونکہ ہمیں نہ پوری سچائی کا علم ہے اور نہ ہی مکمل علم حاصل ہے۔ اس لئے کہانی اور بیانیہ کی تخلیق جاری ہے۔

انسان کوفطرت کی طرف سے بے شمار صلاحتیں عطا ہوئی ہیں۔ صلاحتیں جو اُس کی طاقت بن کر اس کو اس کرہ ارض پر اشرف المخلوقات بنا رہی ہیں۔ ان میں سے ایک طاقت ہے ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش۔ ایک دوسرے کو قائل کرنے کی صلاحیت ہمیں بیانیے کی طرف لے جاتی ہے۔ کچھ فلاسفرز کا خیال ہے کہ ایک دوسرے کو قائل کرنے کی صلاحیت انسان کی سب سے اہم صلاحیت ہے۔ چونکہ یہی صلاحیت ہے جس نے ہمیں اکٹھا رہنا سکھایا، ہم نے شہر بسائے، قانون بنائے Art، Craftsبنائے۔ انہی فلاسفرز کا خیال ہے کہ شاید ہی کوئی institutionہو جس میں ہماری power of speechاور power to pesuadeکام نہ آئی ہو۔ لیکن قائل کرنے کے واسطے صلاحتیں کیا کیا ہونی چاہئیں وہ آپ ایک رومن فلاسفر سائیسیروکی زبان سے سنیں۔

In an orator we must demand the subtlety of the logician the thoughts of the philosopher, a diction almost poetic, a lawyer,s memory, a tragedian,s voice and the bearing almost of the consummate actor.

Tragedianکی آواز ہمیں باخبر کرتی ہے کہ چوکنے اور ہوشیار رہیں کہ جن valuesکو انسانوں نے صدیوں میں تراشا ہے وہ ضائع نہ ہونے پائیں۔ چونکہ المیہ انسان sense of wasteکو بنیاد بنا کر تعمیر کیا جاتا ہے۔

اب یہ دیکھنا ہے کہ علم کیسے حاصل کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے فاشسٹ سٹرکیچر میں ہمیں علم کے نام پر وہی سکھایا اور بتایا جاتا ہے جو ہمیں پہلے سے ہی معلوم ہوتا ہے۔Repetition کو علم حاصل کرنے کا ذریعہ بتایا جاتا ہے۔Repetition صرف دماغ کو سن اور ماؤف کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ سقراط سے لے کر آج تک ہر فلاسفر نے یہ سوچا اور بتایا کہ علم کیسے حاصل کیا جائے۔ ایسا سوال ہے جس پر صدیوں سے اعلیٰ دماغ سوچ رہے ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

ارسطو کا خیال ہے کہ اگر ہم تنقید کا گر سیکھ لیں تو ہم اس راستے پر چل نکلتے ہیں جو علم کی طرف جاتا ہے۔کارل مارکس نے ہمیں یہ بتایا کہ تنقید ایک بہت اہم mode of thoughtہے لیکن thought processمیں کچھ متحرک قوتوں کو جو ترقی کی طرف جاتی ہیں انہیں identifyکرنا بھی ضروری ہے۔ ترقی کی قوتوں کی شناخت کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہم انہیں طاقت دے سکیں۔ زندگی principles and lawsکے مطابق بسر ہوتی ہے۔ لیکن نئے نئے اصولوں اور قوانین کو createکرنے کی کوشش انسانی دل و دماغ کو متحرک رکھتی ہے۔

نئے قوانین اور اصولوں کو createکرنے کے لئے بہت کچھ بھولنا پڑتا ہے۔ یورپ اگر دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کو نہ بھولا ہوتا تو یورپین یونین نہ بنا سکتا۔ James Baldwin افرو امریکن مصنف ہیں اور activitsبھی رہے۔ انہوں نے ایک جگہ لکھا۔

The American Indians were strong and they were on their own land. But they have not survived genocide. You know how we Survived. We put surviving into our poems and into our songs. We put it into our folk tales we danced surviving in Congo square in new Orleans and put it in our pots when we cooked pinto beans. We wore surviving on our backs when we clothed ourselves in the colors of the rainbow. We were pulled down so low we could hardly lift our eyes, so we know if we wanted to survive, we had better lift our own spirits. So we laughed whenever we got the chance.

افرو امریکنز کے قہقہوں اور گیتوں کا بیانیہ سارے امریکہ میں گونجتا ہے۔ اور ہم نے دیکھا ہے کہ White Houseمیں بھی گونجا۔ Scapegaotingاور  Nostalgiaدو بہت خطرناک امراض ہیں جو ان ذہنوں کو خاص طور پر لاحق ہیں جو پاکستان کے educational systemمیں تربیت پاتے ہیں۔ Repetitionہی کی طرح یہ دونوں بیماریاں ذہنی بالیدگی کی راہ میں بہت بڑے Stumbling blocksہیں۔

نئے قوانین اور اصولوں کی متلاشی بصیرتوں کو ان بیماریوں سے رہائی حاصل کرنا ہوگی۔یہ بیماریاں لاعلاج نہیں ہیں صرف ہمیں ان سے باخبر رہناہوگا۔

میں Noslialgiaکوexplainکرنا چا ہوں گی۔ ہم ماضی کی تاریخ سے ایک ٹکڑا لے کر اسے یوٹوپیاکے طور پر پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ ماضی میں بھی انسان دوست اور انسان دشمن طاقتیں بر سر پیکار رہیں۔ تاریخ میں یہ قوتیں ہمیشہ سے ایسے ہی رہی ہیں۔ لہٰذا انسان کی تاریخ میں ایسا کوئی دور بھی نہیں رہا ہے جسے سنہرا دور لکھا یا کہا جائے۔ Noslalgia صرف ہمیں سوچنے سے روکتا ہے۔ نئے حل تلاش کرنے سے روکتا ہے۔ انسان کا دماغ آسان راستہ تلاش کرکے ماضی میں بھٹکنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی لئے یہ ایک ذہنی بیماری ہے۔

آج انڈین مسلمانوں کی پناہ گاہ Secularismہے۔Secularismکی Definition  یہ ہے کہ اپنے ہر قسم کے مسائل کو جدید علم اور تحقیق کی مدد سے حل کرنے کی کوشش جاری رہے۔Secularلوگ جن میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب ہی شامل ہیں، Secularism کی valueکو establishکرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ Secularism کا بیانیہ پاکستان میں کیا ہے یہ ہم سب جانتے ہیں۔

تحقیق اور ٹیکنالوجی سے لیس مستقبل بہت تیزی سے ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔ کیا ہم بھی اپنے بیانیوں میں مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں!۔

Let us put it in our pipe and smoke it. Food for thought.

Check Also

اُمید ۔۔۔ شان گل

لینن دوات کھاتا تھا بہر حال 8، 9دسمبر 1895 کی رات کو پولیس نے لینن ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *