Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » جاگیردار اور کسان۔۔۔ نواز کھوسہ

جاگیردار اور کسان۔۔۔ نواز کھوسہ

نصیر آباد کے میدانی بارانی زمینوں کو جو قدرتی طور پر زرخیز تھیں صرف پانی کی کمی تھی، دریائی پانی سے آباد کرنے کے لیے 1967میں گڈو بیراج سے نکالی گئی پٹ فیڈر نہر کی تکمیل ہوئی۔۔ اس وقت ملک پہ ایوبی آمریت مسلط تھی اور ون یونٹ کا سیاہ دور تھا۔  ہر جگہ، ہر محکمے میں انتظامی تہدوں پر حاضر سروس، ریٹائرڈ وفوجی اور سولین آفیسر ز بڑی تعداد میں براجمان تھے، جن کی اکثریت کا تعلق پنجاب سے تھا۔ بلوچستان کے دیگر حصوں کی طرح نصیر آباد کی انتظامیہ میں بھی بلوچ نہ ہونے کے برابر تھے۔ پولیس عدلیہ، ریونیو اور آبپاشی کے اہم محکمے دیگر لوگوں خصوصاً پنجابیوں کے قبضے میں تھے۔ پٹ فیڈر کی زمینوں کو آباد کرنے کے نام پر پنجابی آباد کاروں کو آباد کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ون یونٹی دارالحکومت لاہور میں تھا۔ جس کا فائدہ لے کر پنجابی آباد کاروں نے پٹ فیڈر کی بہت ساری زمینیں اپنے نام کروالیں۔(1)۔

نصیر آباد میں قبائل کی مشترکہ حد بندیاں تھیں جنہیں شاملات کہتے تھے۔ اور ان کی ملکیت سرداروں، میروں اور معتبرین کے قبضے میں تھی۔ پٹ فیڈر نہر کی تکمیل کی وجہ سے زمین کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ شاملات پہ قابض معتبرین نے دولت کی لالچ میں ان کو جلدی جلدی بیچنا شروع کردیا۔ جس کے نتیجے میں مقامی آبادی بڑی تعداد میں نقل مکانی کر کے دوسرے علاقوں میں جاکر آباد ہوگئی۔ اور پٹ فیڈر کی زمینوں کو آباد کرنے کے لیے بلوچستان کے دیگر علاقوں سندھ کے سرداری اضلاع اور سکھر خیرپور نواب شاہ تک کے لوگ زمین خرید کر یاہاری بن کر زمین آباد کرنے لگے (2)۔

قریبی بلوچ قبائل مری اور بگٹی جو اپنے علاقوں میں باہمی جھگڑوں سے تنگ آچکے تھے۔ انہیں اپنے مویشیوں کے لیے میدانی چراگاہوں کی بھی ضرورت تھی، وہ آکریہاں آباد ہوئے کیونکہ وہ لڑاکو اور مُسلح بھی تھے اس لیے وہ کئی جگہوں پہ قابض بھی ہوئے۔ پٹ فیڈر کی زمینوں پر آباد ہونے والے یہی مسلح قبائلی برادریاں فیصلہ کن آبادیاں تھیں۔ جنہوں نے زمینوں اور علاقے کو خارجی آباد کاروں کے قبضے سے بچایا(3)۔

زرخیزی اور بہترین پیداوار دینے کی وجہ سے پٹ فیڈر کی زمینوں پر جھگڑے اور کشمکش پہلے دن ہی سے چلا آرہا ہے، ابتدا میں ون یونٹ کے زمانے میں پٹ فیڈر کی زرخیز نہری زمینیں غیر مقامی انتظامی عہدیداروں کی وجہ سے غیر مقامیوں کو دی گئیں۔ مقامی آبادی کی غیر مقامی خصوصاً پنجابی آباد کاروں سے نفرت کی وجہ قومیت یا زبان نہیں تھی بلکہ نفرت کی وجہ یہ تھی کہ پنجابی آباد کار ون یونٹ انتظامیہ کی طاقت سے یہاں آکر نہر ی زمینیں حاصل کر کے مقامی آبادی کے وسائل پر قابض ہوگئے تھے (4)۔

نیشنل عوامی پارٹی جو قوموں کی زمین اور وسائل پر انہی کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی تھی ایوبی آمریت اور ون یونٹ کے خاتمے کے بعد 1970کے ہونے والے عام انتخابات جیت کر بلوچستان میں برسرِ اقتدار آگئی۔ اس دوران مقامی کسانوں اور پنجابی آبادکاروں بیدار میں مختلف مقامات پر مسلح لڑائیاں ہوئیں۔ فیصلہ کن لڑائی موضع بیدار میں ہوئی۔ جہاں پنجابی آباد کاروں کا بہت نقصان ہوا۔ پنجابیوں کا قائد تاج محمد پنجابی قتل ہوا۔ جس کے بعد پنجابی آباد کار بیدار اور بالان شاخ سے نقل مکانی کرنے لگے۔ (5)۔

غیر مقامی آباد کاروں کی بیدخلی کی جدوجہد تک تو سردار، میر، معتبر اور غریب بلوچستان کے عوام کی قومی حقوق  کی مشترکہ جدوجہد کے نام پر سب ساتھ ساتھ تھے مگر پنجابی آباد کاروں کی بیدخلی کے بعد نصیر آباد میں طبقاتی کشمکش کا آغاز ہوا تھا۔

اسلام ہمارا دین، سوشلزم ہماری معیشت اور طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں کا نعرہ لگا کر ذوالفقار علی بھٹو جب باقی ماندہ پاکستان کا چیف مارشل لاایڈمنسٹر یٹر بنا تو اس نے کچھ عملی اقدامات کرنے کے لیے۔ 20مارچ1972کو مارشل لاء  ریگولیشن 115کے ذریعے ملک میں زرعی اصلاحات کا اعلان کیا۔ جس میں اراضی کی حدِ ملکیت خاندان کے بجائے فرد کی بنیاد پر مقرر کی گئی۔ اور فی فرد اراضی رکھنے کا تعین کیا گیا۔

18مارچ 1972کو مارشل لاء ریگولیشن 117جاری کیا گیا۔ جسے بلوچستان پٹ فیڈرزرعی اصلاحات ریگولیشن 1972کا نام دیا گیا۔ جس میں کیا گیا کہ بلوچستان کے پٹ فیڈر کمانڈر ایریا کی قابلِ کاشت سرکاری زمین بے زمین کسانوں اور بے زمین مقامی افراد کو دی جائے گی۔ ریگولیشن کے شق 3(a) کے مطابق یہ زمین بے زمین کسانوں اور بے زمین مقامی لوگوں کو32ایکٹر کے حساب سے دیجائے گی۔ (b) کے مطابق مشترکہ خاندان میں کسان اور ایک بالغ بیٹے کی صورت میں 64ایکڑ اور (c) کے مطابق خاندان میں کسان اور دوبالغ بیٹوں کی صورت میں 96ایکٹر سے زائد زمین نہیں دیجائے گی۔

مارشل لا ریگولیشن کی زد میں علاقے کے بڑے بڑے جاگیردار سردار، زمیندار اور میر معتبرین آئے۔ ان کی زمین غریب کسانوں کو مفت میں ملنے لگی۔ مزے کی بات یہ تھی کہ بڑے بڑے جاگیردار ایوب و یحیٰ کے ساتھ رہنے کے بعد پلٹا کھا کر سب کے سب بھٹو کی پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے مجبوراً زرعی اصلاحات کے قانون کو قبول کیا مگر دل سے نہیں۔اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد پٹ فیڈر کے جاگیردار خاندانوں جس میں جمالی، کھوسہ، عمرانی شامل تھے،نے پٹ فیڈر کی زمینوں پر آباد مقامی کسان خاندانوں کو بے دخل کرنے کے لیے مختلف کاررروائیاں شروع کردیں۔ انہیں مختلف طریقوں سے مجبور کیا گیا کہ وہ زمین چھوڑ کر بھاگ جائیں ان طاقتور لوگوں کی خواہش تھی کہ زرعی اصلاحات کے تحت جو زمین کسانوں کے نام ہونی تھی اُن سے چھین کر اپنے پیش کردہ جھوٹے ناموں پر الاٹ کروائی جائیں تاکہ پٹ فیڈر کی نہری زمینوں پر قبضہ کسانوں کا نہیں بلکہ سرداروں جاگیرداروں اور ان کے بٹھائے ہوئے لوگوں کا ہوَ(7)۔

مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد زرعی اصلاحات کے تحت کسانوں کو زمین ملنے کا عمل 1975کے بعد شروع ہوا۔ اس دوران جاگیرداروں نے ایک چال اور چلی۔ زرعی اصلاحات کا اثر توڑنے کے لیے سب کے سب جاگیردار پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔ اور اثر رسوخ سے اپنی زمینیں اپنے گھر کے افراد، عزیز، رشتہ داروں اور اپنے ایسے ملازمین اور کسانوں کے نام کروادیں جو بعد میں اپنے نام الاٹ شدہ زمینوں کا قبضہ نہ لے سکیں اور مالکی کا دعویٰ نہ کرسکیں۔ پیپلز پارٹی کا کارکن کسانوں کے ساتھ تھا۔

کامریڈ پیر بخش سامت سیاسی و سماجی  خدمات کے حوالے سے ایک معتبر نام ہے۔ اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ زرعی اصلاحات کے نتیجے میں ملنے والی زمینوں کو ہاریوں کے نام الاٹ کروانے میں رضا کا رانہ طور پر کام کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے پیپلز ہاری کمیٹی بھی بنائی۔ جس کے ذریعے اصلاحات کے تحت کسانوں کو زمین دلانے کے لیے کامیاب کوشش کیں۔ بعد میں ان میں سے کئی ساتھیوں کے ساتھ انتقامی کارروائیاں بھی کی گئیں ۔ ان کے گھر بھی گرائے گئے (8)۔

مشرقی نصیر آباد موجودہ ضلع صحبت پور میں زمینیں کھوسہ قبائل کے جاگیرداروں میر نبی بخش کھوسہ ودیگر اور گولہ قبائل کے قبضے میں تھیں۔ کھوسہ جاگیرداروں کی زمینیں میر دین مانجھی پور سے لے کر آدم پور صحبت سے لے کر جعفر آباد و چھتر تک تھیں۔ میر آدم خان کھوسہ کو 12دسمبر1911، اور میوہ خان کھوسہ  کو یکم جنوری 1925کو انگریز نے خان صاحب کا خطاب عطا کیا تھا۔ مانجھی پور سے حیر دین تک اور آدم پور کے ارد گرد ان دونوں جاگیردار خاندانوں کی زمینیں تھیں بلکہ اب بھی ہیں۔ صحبت پو ر اور آس پاس کی زمینیں گولہ قبیلے کے صحبت خان گولہ کے قبضے میں تھیں۔ اُسے انگریز سرکار نے یکم جنوری 1919کو MBE(ممبر آف دی برٹش ایمپائر) کا خطاب عطا کیا۔ یہاں کے جاگیرداروں نے اپنی زمینیں ساز باز کر کے اپنے قریبی افراد اور نوکروں چاکروں کے نام الاٹ کروادیں۔ ان میں سے اکثر ایسے لوگ تھے جو نسل در نسل ان جاگیرداروں کے ہاری چلے آرہے تھے۔ اکثر کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ زمینیں ان کے نام بھی ہیں۔ وہ آدھی بٹائی پر زمین آباد کرتے آرہے تھے انہیں مختلف مواقع پہ صرف ضروری کاغذات پہ انگوٹھے لگانے پڑتے تھے۔ کئی لوگوں نے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اور آج تک ان کے مقدمے عدالتی فیصلے کے منتظر ہیں۔

ظہور حسین کھوسہ اور عبدالنبی کھوسہ کے درمیان مقدمہ باز ہی کئی سالوں تک ہوتی رہی۔ صحبت پور کے علاقے دیہی نوز بند در بھانی میں آج بھی ماما کسانوں (محمد ایوب و محمد عالم) اور بھانجے جاگیرداروں (نبی بخش کھوسہ کے بھتیجوں) کے درمیان جھگڑا اور کیس چل رہا ہے۔

پٹ فیڈر میں بلوچ اور جاموٹ جاگیرداروں کے مقابلے میں کسان بھی چونکہ بلوچ اور جاموٹ ہی تھے۔ اس لیے کسانوں پر جبر یا تشدد ریاستی انتظامیہ کی مدد کے بغیر ناممکن تھا۔ بھٹو انتظامیہ کی بھی جاگیرداروں کو مدد حاصل تھی۔ بھٹو کے بعد ضیاء الحق سرکارنے جاگیرداروں کی بھرپور حمایت کی۔ 5جولائی 1977کو بھٹو حکومت کوچلتا کر کے ضیاء الحق اسلام کا نعرہ لگاتا ہوا اقتدار پر قابض ہوا۔ سرمایا داروں اور جاگیرداروں نے مارشل لا کی کُھلم کُھلا حمایت کی۔ انہوں نے کسانوں کو حکومتی مشینری کے بجائے در پردہ خفیہ مدد کے ذریعے انہیں کچلنے کا طریقہ استعمال کیا۔ ایک مرتبہ پھر پٹ فیڈر کے جاگیردار پلٹا کھا گئے۔ سب کے سب پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر ضیاء الحق کے حامی بن گئے۔ میر محمد مراد جمالی نے اپنی سابقہ حیثیت مسلم لیگ بلوچستان کی صدر والی بحال کرادی۔ ضیائی مارشل لاء کے فوراً بعد کسانوں سے الاٹ شدہ زمینیں واپس لینے اور دوبارہ بٹائی لینے کی مہم شروع کردی گئی(9)۔

کسانوں نے اپنے نام الاٹ شدہ زمینیں اور عمرانی جاگیرداروں کو دوبارہ بٹائی دینا شروع کی کچھ نے اپنے نام الاٹ شدہ زمینیں چھوڑ کر بھاگنے میں عافیت سمجھی۔ ہر جگہ کچھ نہ کچھ کسان ڈٹ کر کھڑے ہوگئے نہ قبضہ چھوڑا اور نہ ہی بٹائی دی۔ جنرل ضیاء کی خواہش تھی کہ اس کے اتحادی جاگیردار و سردار مضبوط ہوں۔ اس مقصد کی خاطر ضیاء شاہی نے مختلف جگہوں پر ریاستی اداروں کی مدد سے قبائلی جھگڑے کرنے کے منصوبہ بنائے۔ اس کے لیے ان علاقوں کا اتنخاب کیا گیا۔ جہاں کسانوں نے جاگیرداروں کو زمین کا قبضہ واپس دینے یا آدھا بٹائی دینے سے انکار کیا۔ موقع جھڈ کر کے گاؤں نور محمد جمالی جس کا موجودہ نام میر گل موسیانی ہے کے کسانوں نے جمالی جاگیردار خاندان کو زمین کا قبضہ دینے یا آدھا بٹائی دینے سے انکار کرتے ہوئے عدالت سے  رجوع کیا۔

 

 

Check Also

اُمید ۔۔۔ شان گل

لینن دوات کھاتا تھا بہر حال 8، 9دسمبر 1895 کی رات کو پولیس نے لینن ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *