Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزلیں ۔۔۔  شمیم نصرت

غزلیں ۔۔۔  شمیم نصرت

(آواران)

 

زندہ درگور ہو گیا ہوں میں

تیرے بعد اور ہو گیا ہوں میں

کچھ سنائی نہ کچھ سجھائی دے

اندر ایک شور ہو گیا ہوں میں

آنسوؤں کے نصیب جاگے ہیں

ناچتا مور ہو گیا ہوں میں

میں اب تجھ کو بھول سکتا ہوں

اب ترے طور ہو گیا ہوں میں

اپنے پُرکھوں کی پیروی کر کے

خود نیا دور ہو گیا ہوں میں

۔۔۔۔۔

آئینہء خیال میں دیکھا نہ کر مجھے

میں نقشِ ناتمام ہوں سوچا نہ کر مجھے

آوارگی ء شوق ہو یا نیرنگی ء جنوں

اے وحشتِ خیال تماشا نہ کر مجھے

اک رازِ آشنا ہوں ترل دل کی سیج پر

اپی سہیلیوں سے بتایا نہ کر مجھے

لوحِ طلب پہ حرفِ امر کرے جو بن پڑے

لکھا نہ کریا لکھ کے مٹایا نہ کر مجھے

۔۔۔۔۔۔

طبع‘ خوشی سے گریزاں ہے، کیا کیا جائے

سکوں بھی بارِ دل و جاں ہے، کیا کیا جائے

جو پاؤں کانپ رہے ہیں، دھڑک رہا ہے دل

قریب کوچہ ء جاں ہے، کیا کیا جائے

نظر میں لاکھ قلعے ہوں بہار پر یاروں

ہمارا دل جو ویراں ہے، کیا کیا جائے

چلو لگاکے دو کش، دو گھونٹ ہی پی لیں

شمیمؔ حلقہ ء یاراں ہے، کیا کیا جائے

۔۔۔۔۔۔

کاسہ ء چشمِ ندامت کو لہو سے بھر دے

میرے احساس کے قطرے کو سمندر کر دے

دولتِ درد سہی، اشک کے گوہر ہی سہی

خاطرِ ناز جو چاہے‘دے وہی کچھ‘ پر دے

دشت ِ امید پہ سایہ ہے سرابوں کا ہنوز

کعبہ ء حسن سے اٹھتے ہی نہیں ہیں پردے

عشق کے دشت میں اشکوں کا سمندر لے کر

عمربھر پھرتا رہوں یوں ہی، مجھے بے گھر کر دے

Check Also

ٹیڑھی پسلی ۔۔۔  انجیل صحیفہ

مجھ کو چھونے کی چاہت میں کھوئے ہوئے اے زمینی خداؤ ادھر آؤ! میں کائناتوں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *