Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » وحید نور

وحید نور

نفرت ہے کیوں فضا میں محبت کے باوجود

کھلتی نہیں یہ بات وضاحت کے باوجود

 

دشمن بھی اور میں بھی ہلاکت کی زد پہ ہیں

ڈٹ کر کھڑا ہوں سب سے عداوت کے باوجود

 

کرنے لگا ہے چوک پہ انصاف اپنے آپ

بپھرا ہوا ہجوم عدالت کے باوجود

 

دِکھ کیوں نہیں رہے ہمیں آثار انقلاب

باغی ہوئے  نہ لوگ بغاوت کے باوجود

 

رِندی، شعور عشق، سرو ساز ِزندگی

ہرکام ناتمام ہے فرصت کے باوجود

 

جو سچ تھا جو صحیح تھا وہی سرخرو رہا

ثابت ہوا نہ جھوٹ وکالت کے باوجود

 

منکر بھی جنتوں میں تو مشرک بھی جنتی؟

دوزخ میں جل گیا میں عبادت کے باوجود

 

ہوتی نہیں ہے کوئی کبھی ان کے بھی خلاف

تادیبی کاروائی شکایت کے باوجود

 

جس کو امیر درد سمجھتے تھے ہم وحیدؔ

وہ بھی فقیر نکلا سخاوت کے باوجود

Check Also

ٹیڑھی پسلی ۔۔۔  انجیل صحیفہ

مجھ کو چھونے کی چاہت میں کھوئے ہوئے اے زمینی خداؤ ادھر آؤ! میں کائناتوں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *