Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » خوش بخت۔۔ سیما پیروز

خوش بخت۔۔ سیما پیروز

وہ شاید گہری نیند میں تھی۔ اماں اسے آوازیں دے رہی تھیں۔ ”خوش بخت“ بیٹی اٹھ جاؤ، نماز قضا ہوجائے گی۔“ اس نے اٹھنا چاہا، کروٹ بدلنی چاہی لیکن وہ بہت گہری نیند میں تھی۔ گیتی کہیں دُور سے پکاری، ”اپیا اٹھو نہ! یونی ورسٹی نہیں جانا، دیر ہو رہی ہے۔“

ابا میاں کی مہربان آواز سماعت سے ٹکرائی، ”خوش بخت بیٹے مجھے ڈر لگتا ہے۔ سیاست بڑے لوگوں کا کھیل ہے، تم ٹھہریں ایک غریب منیاری والے کی بیٹی، ہم بہت معمولی اور چھوٹے لوگ ہیں۔ بیٹی کہیں تاریک راہوں میں نہ ماری جانا۔ اللہ تیرا نگہبان ہو۔“

”خوش بخت آپ کی بیٹی نہیں، ہماری بیٹی ہے۔ اس پر کوئی آنچ نہیں آسکتی۔ بھائی صاحب زمانہ بہت بدل گیا ہے، بڑے چھوٹے کی اب کوئی بات نہیں۔ نئے خون کو ہی آگے آنا ہے۔“ بیگم ہمدانی کی تسلی بھری آواز گونجی۔ پھر اس کی کان کی لَو کے پاس اُس کی آواز کا لمس جاگا۔

”سنو!“ یہ کس نے پکارا۔ وہ خوش گوار حیرت سے اُسے دیکھا کی۔ پورے سوا سال کے بعد پتا نہیں وہ کیسے خوش بخت سے بات کرنے کی ہمت جٹا پایا تھا۔ اسے یونی ورسٹی کا پہلا دن یاد آگیا۔ وہ نوٹس بورڈ پر اپنا رول نمبر تلاش کر رہی تھی۔ کسی بڑے ہی اچھے مردانہ کلون کی خوشبو کا جھونکا اُسے چھو کر گزرا۔ خوش بخت نے کنکھیوں سے دیکھا، ایک لمبا سایہ اُس کے بالکل ہی پاس کھڑا تھا۔ پھر اکثر اُس کا سامنا رہتا۔ کبھی کلاس میں، کبھی کسی برآمدے میں آتے جاتے۔ کبھی کینٹین میں چائے کی بھاپ کی اوٹ میں اکثر دو بھوری آنکھیں اُسے نگران ملتیں۔ تھوڑے ہی عرصے میں ساری کلاس ایک دوسرے سے فری ہوچکی تھی۔ نہ جانے کیوں اُس کی اور زین کی آج تک کبھی ایک بات بھی نہیں ہوئی تھی اور آج وہ اُس سے مخاطب تھا۔

”سنو! تم جن راہوں پر چل رہی ہو، یہ تمھارے لیے نہیں ہیں۔ سیاست بڑے لوگوں کا کھیل ہے۔ یہ سارے ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہوتے ہیں، باری باری چہرے بدل بدل کر آتے ہیں۔ جب یہ کرسی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو عوام سے ہمدردی، برابر کے حقوق، انسانیت کا درد اور غریب پروری کا دھوکا دے کر ووٹ بٹورتے ہیں۔ جب اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں تو یہ سارے نعرے اور وعدے بھول جاتے ہیں۔ پھر انصاف مانگنے والوں کو، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو غدار کہا جاتا ہے۔ ان کو آنسو گیس، لاٹھیوں اور گولیوں کا تحفہ دیا جاتا ہے۔ جب یہ اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو پھر یہ لوگوں کو اُبھارتے ہیں کہ ظلم کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں۔ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔ اور تمھارے جیسے بے وقوف ان کی خوش نما باتوں میں آجاتے ہیں۔ جھوٹے وعدوں کا اعتبار کرلیتے ہیں۔ لاٹھیاں کھاتے ہیں، گولیاں کھاتے ہیں اور یہ مزے سے حکومت کرتے ہیں اور قربانیاں دینے والے لوگوں کو بھول کر بھی یاد نہیں کرتے۔“

”اچھی لڑکی! میری بات غور سے سنو۔ اپنی پڑھائی ختم کرو اور پھر کسی اچھے سے لڑکے سے شادی کرکے گھر بساؤ۔“

”اچھا لڑکا کہاں سے ملے گا۔“ وہ شوخی سے بولی۔

”تمھارے آس پاس ہی ہے۔“

پھر کسی نے اُس کا بازو پکڑ کر جھنجھوڑا۔ اُس کی آنکھ کھلی تو نہ وہ نرم گرم بستر تھا، نہ وہ محبت بھری آوازیں تھیں۔ پل بھر کو اُسے سمجھ نہیں آئی کہ وہ کہاں تھی اور کیوں تھی۔ کروٹ بدلنے پر اُس کی کراہ نکل گئی۔ اُف اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا اور آنکھوں میں تو جیسے کانچ بھرا ہوا تھا۔ سارا جسم کچے پھوڑے کی طرح دُکھ رہا تھا۔ اور نچلا دھڑ تو گویا مفلوج ہوچکا تھا۔ ٹانگیں پیٹ سے الگ نہیں ہو رہی تھیں، کھردُرے فرش نے اُسے سب کچھ یاد دلا دیا۔ ساری آوازیں اُس کی سماعتوں کا دھوکا تھیں۔ جو کچھ اس پر بیتا، وہ کسی خواب کا حصہ نہیں تھا، ننگی حقیقت تھی۔ ”اُف میرے خدا۔“ اس نے وردی والی سے پوچھا، ”آج کیا دن ہے؟“

”تو گویا مجھے یہاں قید ہوئے تین روز گزر گئے۔ میرے خدایا۔ میرے ابا میاں، میری اماں پر کیا گزری ہوگی۔ ان تین دنوں میں وہ تو قیامت سی گزر گئی۔ گھر والے بھی قیامت سے گزر رہے ہوں گے۔“

وردی والی کھانا رکھ کر جاچکی تھی۔ اُس نے کھانے کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ حالاں کہ وہ تین دن سے بھوکی پیاسی تھی۔ بھوک سے اُس کی انتڑیوں میں گرہ سی پڑ رہی تھی۔ کلیجے میں جیسے کسی نے انگارے بھر دیے تھے۔ پیاس سے حلق میں کانٹے پڑ رہے تھے۔ وہ جب جینا ہی نہیں چاہتی تو وہ کھانا کیوں کھائے۔ مُردوں کو کھانے پینے کی کیا ضرورت۔“ اب جینے کا اس کے پاس جواز بھی کیا تھا۔

وہ دوبارہ لیٹ گئی۔ بیٹھنے کی اس میں سکت ہی نہیں تھی۔ اُس نے اپنے آپ کو سمیٹا اور گٹھڑی سی بن گئی۔ ٹانگیں ہلانے سے درد کی ایک لہر سی اُٹھی اور اُس کے پورے حواسوں کو جکڑ لیا۔ وہ شاید پھر سو گئی تھی۔ اماں اس کا ماتھا چوم رہی تھیں، ”میری چندا! تو کہاں چلی گئی تھی؟ تیرے بابا تجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے پاگل ہوگئے تھے۔“

”زین! مجھے معاف کردینا۔ آئندہ میں تمھارا کہنا مانوں گی۔“

وردی والی نے اُسے بازوں سے پکڑ کر بٹھا دیا، ”کھانا کھاؤ۔“

وہ اُس کی شکل دیکھا کی۔ اُس نے اپنے آپ سے سوال کیا، میں کون ہوں؟ ”خوش بخت۔“ وہ استہزائیہ ہنسی۔ ہنسنے سے باچھیں جیسے چر سی گئیں۔ اس نے اپنے پپڑی زدہ ہونٹوں کو چھوا۔ خون رِس رِس کر اُن پر جم گیا تھا، ”ہائے میری ماں! میرا نام خوش بخت کیوں رکھا تھا؟“

تین دن پہلے وہ گھر سے یونی ورسٹی گئی تھی۔ وہ سب اکٹھے جلوس کے ساتھ تھے۔ جلوس میں سب سے آگے شعلے جگاتی خوش بخت کی آواز تھی، ”آمریت نامنظور۔“ واپس جاؤ۔ جمہوریت کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔“

وہ یونی ورسٹی سے اسمبلی ہال تک ہی گئے تھے کہ پولیس نے گھیرا ڈال لیا۔ پھر اُنھیں گھسیٹ گھسیٹ کر جیپوں میں بھرا جا رہا تھا۔ اُسے اتنا یاد ہے کہ اس پکڑ دھکڑ میں اُس کی چادر سر سے اُتر کر جانے کہاں گر گئی تھی۔ وہ سب ساتھ تھے۔ بیگم ہمدانی بھی تھیں۔ اُس کے اور ساتھی لڑکیاں لڑکے بھی تھے۔

پھر نہ جانے وہ اکیلی کیسے رہ گئی۔ اور پھر وہ قیامت کی رات وہ کیسے بھول سکتی ہے، وہ چار پانچ دندناتے ہوئے اس کوٹھڑی میں گھس آئے تھے۔ اُن کی شکلوں سے خباثت ٹپک رہی تھی۔

”اچھا تو تم ہو وہ شعلہ بیاں مقرر۔“ بڑے پیٹ اور مکروہ صورت والے نے چھڑی سے اُس کے سینے کو چھوا۔

تلملا کر اُس نے چھڑی کو جھٹک دیا۔

”بڑا طنطنہ ہے۔“ باقی چاروں نے شیطانی قہقہہ لگایا۔

وہی خبیث آگے بڑھا، خوش بخت نے اُس کے منھ پر کس کر تھپڑ مارا، ”دُور رکھو اپنے ناپاک ہاتھ۔“

اُس کے بعد ابلیس کا رقص جاری تھا۔ وہ بے بس بکری بھیڑیوں کے نرغے میں تھی۔

”اس کو ایسا سبق سکھاؤ کہ کسی کو منھ دکھانے کے لائق نہ رہے۔“ ذلیل، کم ذات نے چھڑی کی نوک اُس کے سینے میں کھبو دی۔

خوش بخت نے اُن کے ہاتھ جوڑے، پاؤں پڑی، منتیں کیں، اُنھیں اُن کی بہنوں اور بیٹیوں کے واسطے دیے، وہ غالباً سب کے سب حرامی تھے جن کی کوئی بہن بیٹی نہیں ہوتی۔ وہ کسی کے بھائی، کسی کے باپ نہیں ہوتے، بس دلال ہوتے ہیں۔ اے خدا آسمان کیوں نہیں گر پڑا۔ زمین کیوں نہیں شق ہوئی۔

”اب بلاؤ اپنے لیڈروں کو، سالے سو رہے ہوں گے۔“ بڑے پیٹ والے نے سب کی ماں بہن ایک کردی، ”بڑی چلی تھی آمریت کے خلاف بولنے والی۔“

وہ آبادی ہماری تمام پس ماندہ اور سہولتوں سے محروم آبادیوں جیسے تھی۔ ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی تنگ گلیاں، اوپر چڑھے ہوئے تین تین منزلہ مکان، کائی زدہ دیواریں، سیلن زدہ ہمہ وقت گرنے کو تیار چھجے، غلاظت سے بھری ہوئی نالیاں۔ ان کے کنارے ننگ دھڑنگ کالے پیلے زرد اور کم زور رفع حاجت سے فراغت پاتے ہوئے بچے، بے کار ایک دوسرے سے لڑتی ہوئی عورتیں۔ وقت سے پہلے جوان ہوتی ہوئی لڑکیاں اور لڑکے۔ اسی گلی کے ایک تنگ سے مکان میں خوش بخت پل کر جوان ہوئی تھی۔ لیکن حیرت ناک حد تک اس ماحول سے الگ تھلگ دکھتی تھی۔ گلی کی نکڑ پر چھوٹے بازار میں خوش بخت کے ابا کی منیاری کی دکان تھی۔ دکان پر دھاگا، بٹن، نالے، رنگ برنگے پھندنوں والے پراندے، سستے بالوں کے کلپ، گھٹیا نقلی تیز خوشبو والے پرفیوم، دیسی میک اَپ کا سامان، جھوٹے نگینوں والی جیولری، کانوں کی بالیاں، ٹاپس، ناک کی کیل، ایسے نقلی موتیوں کے ماحول میں ہیرے جیسی خوش بخت جانے کیسے پیدا ہوگئی تھی۔ وہ بچپن سے انوکھا مزاج لے کر پیدا ہوئی تھی۔ اس گلی کی دوسری لڑکیوں کی باتوں سے اُسے گھن آتی تھی جو سارا دن دروازوں سے جھانکتی رہتیں۔ ہر گزرنے والے پر فقرے چست کرتیں۔ خوامخواہ مسکراتیں، ادائیں دکھاتیں، بازار سے گزرتے ہوئے ان کا دھیان دکانوں پر بیٹھے ہوئے لڑکوں کی طرف ہی رہتا، ”ہائے آج تُو نے پان کی دکان پر بیٹھے نذیر کو دیکھا، ایمان سے بالکل وحید مراد لگ رہا تھا۔ میں گزری تو مجھے سنانے کو بولا، ”حضور پان کھاؤ گے؟“ خوش بخت کو ان باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسے تو بس ایک ہی دُھن تھی کہ وہ پڑھ لکھ کر کچھ بن جائے۔ اس کی بڑی دونوں بہنیں پانچویں تک پڑھی تھیں۔ پھر اُن کی شادی ہوگئی تھی۔ بڑا بھائی ایف اے کے بعد ہمت ہار بیٹھا تھا۔ کلرکی ڈھونڈتے ڈھونڈتے مایوس ہوکر سنیما کے ٹکٹ فروخت کرتا تھا۔ چھوٹے چاروں بہن بھائی ابھی چھوٹے تھے۔ خوش بخت اُنھیں پڑھا لکھا کر اچھا انسان بنانا چاہتی تھی۔ خوش بخت اپنی محنت کے بل بوتے پر بی اے میں پہنچ گئی تھی۔ وہ گھر میں چھوٹے بچوں کو ٹیوشنز پڑھاتی۔ کپڑے سیتی اور کروشیے کا کام کرکے اپنی کتابوں اور فیس کی رقم اکٹھی کرتی تھی۔ خوش بخت ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھی۔ وہ زندگی میں کچھ بننا چاہتی تھی۔ وہ بڑی پُراعتماد اور انقلابی سے خیالات کی مالک تھی۔ کھیلوں میں پڑھائی میں ڈیبیٹس میں ہر چیز میں وہ آگے آگے تھی۔ دو کمروں کے گھر کی بیٹھک کی کارنس پر اس کے جیتے ہوئے کپ قطار اندر قطار سجے ہوئے تھے۔ وہ گھر والوں کے لیے باعثِ فخر تھی۔

اماں اکثر اُس پر پڑھ کر پھونکا کرتی تھیں۔

”اللہ میری بیٹی کو نظرِ بد سے بچائے۔“ محلے میں بھی سب اُس کی تعریف کرتے تھے، اپنی بیٹیوں کو اُس کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ دیکھنا بہن، تمھاری خوش بخت بڑی بختوں والی ہوگی۔“ اور پھر بقول محلے والوں کے ان کا کہا سچ ثابت ہوا۔

حسبِ معمول ڈیبیٹ میں اُس نے فرسٹ پرائز جیتا۔ چیف گیسٹ بیگم ہمدانی نے خاص طور پر اُس کے جوشیلے انداز کو سراہا۔ پھر کچھ ہی عرصے میں وہ بیگم ہمدانی کی پارٹی کی سرگرم سٹوڈنٹ لیڈر تھی۔ اُنھوں نے اُسے خوش کرنے کو اُس کے چھوٹے موٹے کام بھی کیے۔ کمیٹی کا نلکا عرصے سے ٹوٹا ہوا تھا، وہ درست ہوگیا، گلی کی نکڑ پر جلنے والا اکلوتا بیمار بلب کب سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا، گلی رات کو مکمل اندھیرے میں ڈوبی ہوتی تھی۔ یہ دونوں کام بیگم ہمدانی نے تھوڑے ہی دنوں میں کروا دیے۔ سارا محلہ خوش بخت کا شکر گزار تھا۔ بیگم ہمدانی نے سب سے بڑا اور واحد کام جو خوش بخت کی ذات کے لیے کیا، وہ اُس کے بڑے بھائی کو امریکا بھجوا دیا تھا۔ ابا میاں نے اِدھر اُدھر سے پیسے پکڑ کر بیٹے کو جہاز پر سوار کرادیا۔ دو سالوں میں ہی اُس کے بھیجے ہوئے روپوں سے گھر کی حالت کافی سدھر گئی۔ وہ سب بیگم ہمدانی کے تہِ دل سے مشکور تھے۔ خوش بخت اُن کی ایک آواز پر بھاگی جاتی تھی۔

تین دن پہلے وہ گھر سے اچھی بھلی یونی ورسٹی گئی تھی۔ جب شام تک وہ واپس گھر نہ پہنچی تو گھر والے پریشان ہو اُٹھے۔ ابا میاں دیوانہ وار یہاں وہاں اُس کی سہیلیاں، کلاس فیلو، اُس کے وہ ساتھی جو انقلاب اور حقوق کی باتیں کرتے نہیں تھکتے تھے، ان سب سے پوچھ پوچھ کر ہار گئے، یہ تو پتا چل گیا تھا کہ دوپہر کو جلوس نکالنے پر پولیس اُنھیں گرفتار کرکے لے گئی تھی۔ ان میں سے بہت سارے رہا ہوکر گھروں کو جاچکے تھے۔ ابا ساری رات ایک تھانے سے دوسرے تھانے، ایک پولیس چوکی سے دوسری پولیس چوکی پھرتے رہے، کسی نے ڈانٹ کر بھگا دیا، کسی نے کسی اور تھانے کا پتا بتا دیا کہ وقوعہ اُن کے علاقے میں نہیں ہوا تھا۔ صبح کی اذانوں کے وقت وہ مایوس ہوکر پریشان حال، غم زدہ گھر لوٹ آئے۔ اماں اور بہن بھائیوں کی رو رو کر آنکھیں سوج گئی تھیں۔

اس کی ایک کلاس فیلو نے بیگم ہمدانی کے پاس جانے کا مشورہ دیا۔

اُنھیں کسی نے گیٹ سے اندر گھسنے ہی نہیں دیا۔

”بزرگو! آپ کہاں منھ اٹھائے چلے آرہے ہیں۔“ گن مین نے گیٹ پر ہی روک لیا۔

”میں نے بیگم صاحبہ سے ملنا ہے۔“

”وہ تو کل سے بیمار ہیں، اُنھیں ڈاکٹروں نے لوگوں سے ملنے سے منع کیا ہے۔“

”بھائی تمھیں اللہ کا واسطہ! میرا اُن سے ملنا بہت ضروری ہے۔“

”بابا کہہ دیا نہ، وہ نہیں مل سکتیں۔“

”اچھا! میرا ایک پیغام پہنچا دو۔ اُنھیں صرف یہ بتا دو کہ خوش بخت کا بوڑھا باپ آیا ہے، وہ کل سے گھر نہیں آئی۔“

”کمال کرتے ہو بزرگو، تھانے میں جاکر رپٹ درج کراؤ۔“

”خود ہی کدھر چلی گئی ہوگی۔“

”نہیں! وہ کل جلوس میں گرفتار ہوئی تھی پھر گھر نہیں آئی۔“

  ہزار منتوں کے بعد وہ مایوس واپس لوٹ آیا۔

”کیا اُس نے کھانا نہیں کھایا۔“ غالباً کوئی وردی والا پوچھ رہا تھا۔

”نہیں صاحب! تین دن سے بھوکی پیاسی ہے۔ اُس کی حالت کافی خراب ہو رہی ہے، کہیں کچھ ہو نہ جائے۔“

”یہ تو بہت برا ہوگا، اُس کو چھوڑ دیں۔“

”چلو اُٹھو! شاباش، تمھیں گھر چھوڑ دیں۔“ ایک وردی والی قدرے مہربان تھی۔

وہ شامِ غریباں ایسی شام جب اُس نے دہلیز عبور کی۔ دور مسجد سے مؤذن کی آواز آرہی تھی۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر! ابا میاں اور اماں نے اُسے زمین پر گرنے سے پہلے تھام لیا۔ وہ بخار سے پھنک رہی تھی۔ اُس کے کچھ بتانے سے پہلے شبِ غم کی ساری داستان ابا میاں پر عیاں ہوچکی تھی۔ اُن کا کلیجا کٹ کر رہ گیا۔ ہائے میری مظلوم بچی! میں تیرا انصاف کس سے طلب کروں؟ اُن سے جو خود رہ زن بنے بیٹھے ہیں۔ صفیہ اسے سنبھالو، میں ڈاکٹر کو لے کر آتا ہوں۔“

”نہیں ابا میاں مجھے چھوڑ کر مت جایئے! بس میرے پاس بیٹھے رہیے۔ مجھے سورہئ یٰسین پڑھ کر سنایئے۔ اماں آپ پڑھیں۔ ان اللہ مع الصابرین۔“

اور ابا میاں اور اماں کو پتا ہی نہ چلا کہ کب وہ اللہ میاں سے انصاف طلب کرنے اکیلی ہی چل پڑی۔ اس نے اتنی خاموشی سے آنکھیں موند لیں کہ پاس بیٹھے ابا اور اماں کو بھی خبر نہ ہوئی۔

اماں ابا پر تو جیسے سکتہ طاری ہوگیا تھا۔

وہ لوگ دل بھر کے اس کا ماتم بھی نہیں کرسکے تھے کہ آناً فاناً ایک ہجوم اکٹھا ہوگیا، ”ہم اس کا پوسٹ مارٹم کروائیں گے۔“

”میں آپ لوگوں کے ہاتھ جوڑتا ہوں، جائیں اپنے اپنے گھروں کو جائیں، ہمیں نہیں کروانا پوسٹ مارٹم۔ اس کا ہارٹ فیل ہوا ہے، اس نے میرے ان ہاتھوں میں دم دیا ہے۔“

”آپ کمال کرتے ہیں، ہماری ایک پارٹی ورکر پولیس تشدد سے مرگئی اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔ آپ دیکھتے جایئے آپ کی بیٹی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔“

ابا میاں کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔

”ہم غریب لوگ ہیں، ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیں، ہمیں کیا لینا دینا جمہوریت ہو یا آمریت۔ ہم نے وہی دو روٹیاں کھانی ہیں، وہی محنت مزدوری کرنی ہے، تین دن پہلے آپ کہاں تھے؟ اب اس کا مردہ کیش کراؤ گے۔“

ابا میاں کا احتجاج کسی نے نہ سنا۔اُس کی ڈیڈ باڈی ایمبولینس میں ڈال کر لے گئے۔

اس کے جنازے پر اتنے لوگ تھے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ سابقہ وزیر، پارٹی لیڈر، ورکر، اتنی ہی تعداد میں پولیس، ہر طرف سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ وہ زندہ تھی تو شاید اُس کی قیمت ایک کوڑی کے برابر بھی نہیں تھی۔ مرنے کے بعد مرے ہوئے ہاتھی کی طرح سوا لاکھ کی ہوگئی تھی۔ پولیس کی کوشش تھی کہ جنازہ خاموشی سے اٹھے لیکن پارٹی اس کا جنازہ جلوس کی شکل میں لے جانا چاہتی تھی۔ جنازے کے آگے جھنڈے کی شکل میں بانسوں پر اس کے لباس کی نمائش جاری تھی اور بڑے بڑے پوسٹروں پر بڑے بڑے حروف میں اُس کی میڈیکل رپورٹ تھی۔ نعروں سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ دہلیز پر بیٹھی اماں سوچ رہی تھی کہ ان کی بیٹی خوش بخت تھی کہ بدبخت۔

”آمریت کے تابوت میں آخری کیل— شہیدِ جمہوریت زندہ باد—آمریت مردہ باد۔“

نہ کہیں کلمہ پڑھا جا رہا تھا نہ درود۔ ابا میاں ہجوم میں سب سے آخر میں آنسوؤں سے تر داڑھی کے ساتھ جانے کہاں اور کسی کے جنازے پر چلے جا رہے تھے۔

Check Also

نِل بائی ماؤتھ ۔۔۔ نجمہ عثمان 

          بیڈ نمبر پندرہ کی مریضہ کی دائیں ٹانگ پلاسٹر میں جکڑی ہوئی تھی۔ ستر ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *