Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » پنّو تھیئی ۔۔۔ بلقیس ظفیر الحسن

پنّو تھیئی ۔۔۔ بلقیس ظفیر الحسن

                سیاہ سے زیادہ سیاہ فام پنو تھئی شادی کے آٹھ برسوں کے اندر یکے بعد دیگرے چار بچوں کو جنم دینے کے باوجود ہٹی کٹی جاذبِ نظر عورت ہے۔ اس کے بچے اس سے بھی زیادہ کالے نکلے۔ اتنے کہ کوئی چاہے تو ان کی جلد رگڑ کے ماتھے پر بندی لگا لے۔ گلیوں میں دوڑتے پھرتے انھیں دیکھو تو لگتا ہے جیسے کوّے اُڑ رہے ہوں۔ پنّوتھئی کا ڈیل ڈول بھی اتنا بھاری ہے کہ تیز تیز چلنے لگے تو زمین کانپ جاتی ہے۔ اسے دیکھ دیکھ آس پاس کی عورتیں ناک چڑھا کے بڑبڑانے لگتی ہیں۔ دیکھو تو، کیسے چل رہی ہے! مردوں کی طرح! عورتوں والی کوئی بات ہے کیا؟ہے ہی نہیں۔ صرف چال ڈھال ہی نہیں اس کی آواز سن کے بھی کانوں میں انگلی دینے لگتی ہیں۔ آواز ہے بھی تو ایسی۔ پنّوتھئی کا گلا تو جیسے تانبے میں ڈھلا ہوا ہے۔ تیز کھنک کے ساتھ لفظ نکل کے سامنے والے پر سیدھی چوٹ کرنے والے! گلی کے اس سرے پر بولے تو دوسرے سرے تک آواز پہنچ جاتی ہے— کھری کھری سنانے والی پنوتھئی کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔ اس کا تو نام ہی رکھ دیا ہے لوگوں نے، لمبی زبان— کوئی کوئی بڑبولی بھی کہتا ہے۔ یہی نہیں اس نے اپنے لیے جو ذریعہئ معاش چنا ہے، اس پر بھی لوگوں کو سخت اعتراض ہے۔ دوسری عورتوں کی طرح کھیتوں پر کام کرنے کیوں نہیں جاتی؟ سر پر ٹوکرا دھرے آوارہ گردی کرتی پھرتی ہے۔ عورتیں منہ ٹیڑھا کرکے کہتی رہتی ہیں۔

                پنوتھئی پڑھی لکھی نہیں ہے مگر ہے ارادے کی بڑی پکی!کوئی کیا کہتا ہے، اس کی اسے ذرہ بھر پروا نہیں۔ صبح اٹھتے ہی نزدیکی شہر جانے والی بس پکڑتی ہے اور وہاں سے سبزیاں، پھل اور دیگر سامان لاد کر دروازے دروازے اپنی آواز کے ساتھ پہنچ جاتی ہے۔

                ایک دن ناریل سے بھری ٹوکری سر پر اٹھائے ”ناریل، ناریل لے لو…… دس روپے میں تین……“ آواز نکالتی پھر رہی تھی تو ایک عورت نے کہہ دیا، ناریل جہاں توڑے جاتے ہیں، وہاں دو روپے میں ایک مل جاتا ہے۔ کیسی نفع خور عورت ہے!“ پھر کیا تھا، پنوتھئی وہیں کی وہیں کھڑی ہوگئی۔

                ”سن لو، میں لڑنے بھڑنے والی عورت نہیں ہوں، مگر کوئی اکسا دے تو پیچھے نہیں ہٹنے والی۔ ٹھیک لگے تو خرید، بک بک کیوں کر رہی ہے؟ یہ میرا بزنس ہے!۔تجھے کیا پتا بزنس کیا ہوتا ہے! اتنا کہہ، ٹوکرا اٹھا کے آگے بڑھی تو مگر باآواز بلند بولتے ہوئے۔ ان کا کلیجا کیوں جلتا ہے؟ حرام زادیاں ہیں سب کی سب۔ رانڈیں! کہے دیتی ہوں، یاد رکھو۔ یہ جو تمھارے دانتوں کے بیچ میں پڑی زبان ہے، اسے سنبھالو۔ نہیں تو کسی دن اسے کھینچ کے باہر نکالنا نہ پڑ جائے مجھے!۔ مجھے ایسا ویسا سمجھ رکھا ہے۔“ اس کا ایسا بھینکر روپ دیکھنے کے بعد کس میں اتنا بوتا تھا جو کچھ اور بولے۔ ہاں پیٹھ پیچھے عورتیں جو منہ میں آتا، کہتی رہتیں۔ بزنس کرتی ہے! بڑی اونچی ذات والی ہے نا! کھیتوں پر کام کرنے سے چھوٹی ہوجائے گی۔ کیسی دیدہ دلیر عورت ہے! مگر یہ باتیں پنوتھئی کے پچھمی دروازے سے پوربی دروازے جاکے لوٹ آنے تک ہی چلتی تھی۔

                اسے واپس آتے دیکھا نہیں کہ سب کی بولتی بند ہوجاتی۔ ایک دن اپنے دروازے پر کھڑی پوتھئی زور زور سے پھنکار رہی تھی۔ میں جو چاہوں کروں۔ کسی کے باپ کا کیا جاتا ہے؟۔ ہاں اپنے دانتوں کو برش کر رہی تھی۔ یہ تانکا جھانکی کیا ہو رہی تھی؟۔اپنے دانتوں کو اپنے برش سے اپنا ٹوتھ پیسٹ لگا کے گھس رہی تھی میں! تمھارا کلیجا کیوں پھٹا جا رہا ہے؟۔ہاں میں اپنے دانت داتن سے نہیں برش سے صاف کرتی ہوں! تم بھی کرو۔ تم چھنالو میری ٹوہ میں کیوں لگی رہی ہو بولو!“

                مگر کون بولے۔ اس کی آواز سن کے سب کی سٹی گم ہوجاتی ہے۔ بک جھک کے جب اندر چلی گئی تو آکاشم پتی کاری کے بولے پھوٹے۔ ”چھی، کیسی لمبی زبان ہے۔ دانت انگلی سے نہیں برش سے صاف کرتی ہے! بڑی جاتی والی ہے نا! کیا عورت ہے! پیتی تو کوزو سے ہی ہے مگر جو نکلتا ہوگا ضرور رسم ہوتا ہوگا۔ مرچی والا رسّم“۔ شش…… چپ بھی رہو! ”یئتھما نے جھٹ اس کی بات کاٹی۔”سن لے گی تو چیتھڑے اڑا دے گی تمھارے۔ معلوم ہے نا! کیا کیا اس نے اپنے جنموں کے بندھن سے بندھے مرد کے ساتھ؟۔کیسا پٹوایا ہے اسے پولیس چوکی میں بلا کے“۔

                پولیس کیس کا یہ قصہ اُن دنوں ہر ایک کی زبان پر ہے۔ پنوتھئی کو اپنے شوہر کو چھوڑ کر اپنی ماں کے یہاں آکر رہتے ہوئے تقریباً دو سال ہوچکے ہیں۔ اپنا یہ بزنس والا کام اس نے یہاں آنے کے بعد ہی شروع کیا۔ روز سویرے ہی سر پر ٹوکرا رکھ کر ماں کے گھر سے نکل جاتی ہے اور دن بھر اس میں رکھا سامان بیچ کر جو بھی ہاتھ آتا ہے، اس سے گھر کے لیے کھانے پینے کا سامان لے کے واپس آتی ہے۔

                شادی ہوئی تھی تو اس نے توقع کی تھی کہ دوسری عورتوں کی طرح اسے بھی اب عافیت والی خوش حال زندگی مل جائے گی مگر ایسا ہوا نہیں۔ اس کا شوہر موکانڈی، بڑی بڑی گھنی مونچھوں والا دبلا پتلا مرد تھا۔ مونچھوں کو خوب تاؤ دے کر ایسی نوکیلی بنائے رکھتا جیسے سانڈ کی سینگوں کی طرح جوابھی کے ابھی حملہ کرنے والی ہیں۔ ہفتے میں چار دن کام کرتا اور تین دن آرام۔ شام ہوتے ہی گھر سے باہر نکل جاتا اور ہوٹلوں میں جاکر اڈلی سانبھر، بڑے، دوسا، اور پتا نہیں الم غلم کیا کیا کھا کے رات گئے گھر آتا تھا۔ کسی دن ناغہ ہوجائے تو وہ ہائے ہائے مچاتا جیسے آج اس کے پیٹ میں کچھ پڑا ہی نہ ہو۔ جن دنوں کام پر نہیں جاتا اور پیسے نہیں ملتے تو پنوتھئی کی کمائی اینٹھ لیتا اس سے۔ ہر اتوار کو گوشت اور مار پاتھیور کے کشید کردہ عرق کے لیے پنوتھئی کی جان متھ کے رکھ دیتا تھا۔

                اپنی شادی شدہ زندگی کے یہ برس تو پنوتھئی نے دانت بھینچ بھینچ کے کسی نہ کسی طرح نکال دیے۔ اپنے اخراجات کے لیے اسے خود ہی انتظام کرنا پڑتا تھا۔ مگر جب یکے بعد دیگرے چار بچے ہوگئے تو پیٹ بھرنا بھی مشکل ہونے لگا۔ جان توڑ محنت کرتی تھی، کھیتوں پر دن بھر کی مشقت کے بعد گھر آتی تو بے جان سی ہوکر پڑ جاتی تھی۔ کسی نہ کسی طرح ایک گائے خریدی کہ بچوں کو دودھ ملتا رہے۔ موکانڈی ایک دن اُسے بھی بیچ آیا اور سارے پیسے اپنے پاس رکھ لیے۔ پھر تو گھمسان کا رن کیے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں تھا پنوتھئی کو— جم کے لڑائی ہوئی۔ اور انجام کار ماری کوٹی، ٹوٹی پھوٹی نیلی پڑی، موکانڈی کا گھر چھوڑ میکے چلی آئی۔ تب سے وہ یہاں رہ رہی ہے۔ اپنے ساتھ صرف دودھ پیتے بچے کو لائی تھی، اسے بھی چار پانچ مہینے ہی اپنے ساتھ رکھا جیسے ہی کچھ کھانے پینے لگا، اسے بھی اپنے شوہر کے گھر چھوڑ آئی۔

                ”دیکھو! ایسی عورت دیکھی ہے کہیں؟۔ بچوں کی موہ ممتا نہیں ذرا بھی“۔ عورتیں ایک دوسرے سے کہتے نہیں تھک رہی تھیں“ایسی کوئی ماں ہوتی ہے!

لوگوں کی زبانیں چلتی رہیں اور پنوتھئی کی بھی۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑا۔ بچے کیا صرف میرے ہیں؟ لوگوں کی یہ باتیں اس کے کان میں پڑتیں تو اپنے آپ سے کہنے لگتی، کون اپنی خواہش سے پیدا کیا ہے میں نے انھیں۔ میں تو دو سے زیادہ چاہتی ہی نہیں تھی— موکانڈی کی مار سے بچنے کے لیے اور کیا کرتی۔ پیدا کردیا انھیں پیٹ پیٹ کر یہ بچے جنوائے گئے مجھ سے— زبردستی— ایک کے بعد ایک! اب پالے انھیں وہ خود۔

                اپنے اپٖٓ کو اس طرح سمجھا بجھا کر اپنے کام میں لگ جاتی۔ ادھر موکانڈی بچوں کی دیکھ بھال کرتے کرتے عاجز ہوجاتا تھا۔ ایک دن پنوتھئی کے میکے آدھمکا۔ ای…… ی…… چل…… گھر چل!

                ”کیوں چلوں؟ کون ہوتا ہے تو میرا؟ تیرا میرا رشتہ ختم ہوئے دو سال ہوگئے۔ میں نہیں جانے والی اب تیرے گھر! کبھی نہیں۔ سمجھا! ”تڑاخ سے جواب دے کر جانے کے لیے مڑی تو موکانڈی طیش سے چلّانے لگا—“ اوندھی عقل والی عورت! اپنے مرد سے کہہ رہی ہے؟ کتیا، رانڈ…… دیکھو، دیکھو، لوگو! دیکھو یہ کیسی عورت ہے! نہ گھر کی پروا ہے نہ اپنے بچوں کی۔ہتھیا تو دیکھو اس کا۔ مرد کے منھ آتی ہے چھنال!

                ”میرا جو جی چاہے گا، کروں گی۔ تو کون ہوتا ہے بولنے والا۔ بچے تیرے نہیں ہیں کیا؟۔تو انھیں پیدا نہیں کرسکتا تھا، میں نے کردیا۔ اب تو پال انھیں!۔یہ تو تُو کر ہی سکتا ہے“۔

                 جواب دینے میں پنوتھئی کچھ کم نہیں بھاری پڑ رہی تھی۔ موکانڈی تو مارے غصے کے پاگل ہوگیا۔ دیوانوں کی طرح چلّانے لگا۔”رنڈی، چھنال کیا سمجھتی ہے اپنے آپ کو۔ شکل دیکھ اپنی، یہ تیری صورت، یہ تیرا ڈیل ڈول، کون بیاہ کرنے والا تھا تجھ سے۔ یہ تو میری عقل ماری گئی جو میں تجھے بیاہ لایا۔ لوگو! مجھ بے وقوف کو مارو، جوتوں سے پیٹو، کتنی بڑی غلطی کی میں نے“۔

                ”صرف جوتوں سے؟ جھاڑو سے بھی پیٹنا چاہیے۔مگر اس پر بھی عقل کہاں آنے والی ہے تجھے۔ نکما زمانے بھر کا…… آخ تھو……“پنوتھئی نے منھ میں تھوک بھر کر جو پھینکا وہ سیدھا مونکانڈی کے چہرے پر پڑ گیا۔ پھر کیا تھا، ہوش و حواس کھو کر موکانڈی اس کی طرف لپکا اور اسے بالوں سے پکڑ کر زمین پر پٹخنے لگا۔ اور پنوتھئی نے اس کا ہاتھ مروڑ کر خود کو چھڑانے کی کوشش میں خود کو ناکام ہوتے دیکھ اپنے تیز دانت اس کے ہاتھ میں گاڑ دیے…… درد سے تلملا کر موکانڈی نے جو لات ماری، وہ زور سے پنوتھئی کے پیٹ پر پڑی اور وہ سیدھی لکڑی کے بھاری موسل پر جاگری۔ اس کا سر پھوٹ گیا۔ درد سے دُہری ہوتے ہوئے وہ کھڑی ہوئی تو خون کی دھاریں بہہ بہہ کر اس کے کپڑوں کو تر کر رہی تھیں۔ لوگ کھڑے دیکھ رہے تھے۔ مگر نہ وہ چیخی نہ چلائی، نہ ہی موکانڈی کو گالیاں دے رہی تھی بس ایک بار اسے دیکھا اور اندھا دھند کھیتوں کی طرف بھاگنے لگی۔

                ”ای…… ای…… بی…… پکڑو اسے“۔ تماش بینوں میں سے کوئی چلّانے لگا۔ ”کھیتوں کی طرف جا رہی ہے…… جان دینے جا رہی ہے…… کود پڑے گی کنویں میں، پکڑو۔

                ”مرنے دو گدھیا کو“۔ موکانڈی آگ بگولہ ہوکر چلّایا۔ ”اسی قابل ہے، میرا کیا، میں دوسری لے آؤں گا۔ ہزار مل جائیں گی مجھے“۔ فاتحانہ انداز میں سینہ پھلائے وہ وہیں کھڑا رہا تو پنوتھئی کی ماں اپنے بال نوچتی روتی چلاتی اس کے پیچھے دوڑ پڑی اور اس کے ساتھ ہی وہاں کھڑے مرد عورتیں اور بچے بھی۔ پورے گاؤں میں ہلچل مچ گئی۔

                مگر پنوتھئی کنویں میں کودنے تھوڑا ہی بھاگی تھی۔ وہ تو سیدھے پولیس سٹیشن پہنچ گئی۔ اس کے سر سے بہتے لہو کی دھاروں اور اس کے اردگرد جمع جمِ غفیر کو دیکھتے ہی انسپکٹر اسے فوراً اندر لے گیااور سوال کرنے لگا۔

                ”سر! میرا آدمی! ایسے ہی مار پیٹ کرتا رہتا ہے میرے ساتھ۔ بھاگ کے اپنی ماں کے پاس چلی آئی تو یہاں بھی آگیا۔ دیکھیے کیا حال بنا دیا میرا؟ کیجیے! کچھ تو کیجیے میرے لیے“۔

                انسپکٹر نے اس کے بہتے ہوئے خون کو دیکھتے ہوئے اس کی شکایت پلک جھپکتے ہی درج کرلی اور اسے سرکاری اسپتال بھیج دیا۔ پنوتھئی کی ماں بھی وہاں آچکی تھی، وہ اس کے ساتھ چلی گئی۔

                خدا کی مدد پنوتھئی کے ساتھ تھی یا پھر انسپکٹر بہنوں والا ہوگا۔ آناً فاناً اس نے موکانڈی کو پکڑ لانے کے لیے دو کانسٹبل بھیج دیے۔ مرہم پٹی کروا کے پنوتھئی واپس آئی تو موکانڈی کی جم کے پٹائی ہو رہی تھی۔

                پیٹ پیٹ کے اسے لاک اَپ میں ٹھونس دیا گیا تو انسپکٹر پنوتھئی سے پوچھنے لگا، ”اب کیا چاہتی ہو؟ دو تین دن اسے یہاں رکھے رہیں یا چھوڑ دیں؟ تمھیں اس کے ساتھ جانا ہے کہ نہیں؟“

                ”سر! اس کا تو آپ جو جی چاہیں کریں۔ میں تو نہیں جانے والی اب اس کے ساتھ بہت سہسہ لیا، میں نے اب اور نہیں سہوں گی“۔ اکیلی رہ کے بھی زندہ رہ سکتی ہوں۔ اتنا کہہ کر وہ اپنی ماں کے ساتھ چلی گئی۔ موکانڈی کو دوسرے دن وارننگ دے کے چھوڑ دیا گیا۔ مگر تب تک یہ بات سارے گاؤں میں پھیل چکی تھی کہ پنوتھئی نے اپنے مرد کو تھانے بلوا کے پٹوایا ہے، اس پر طرح طرح باتیں ہونے لگیں۔

                کچھ بھی ہو، جنم جنماتر کے لیے جس سے گانٹھ باندھی اسے اس طرح پٹوا دیا! کتنی بری بات ہے۔ ایسا کہیں کرتے ہیں؟ بالکل غلط!

پکی چھنال ہے— رانڈ— چھی—!“

                مگر یہ بھی تو سوچو— اور کیا کرتی۔ کتنا جھیل سکتا ہے کوئی۔ ہاں اور کیا۔ دیکھا کیسے پیٹ رہا تھا اسے؟ ایسے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اس کا یہ حال دیکھ کر ایسے دوسرے مردوں کو شاید عقل آجائے۔ کرواما نے کہا تو ایتھما تڑخ کے بول اٹھی، اوہو! بڑی ہمدردی ہو رہی ہے اس سے؟ واہ وا کیا سوچ ہے تمھاری! عورت اپنے مرد کی مار سہے ہی نہیں؟ اس کو پولیس سے پکڑوا کے پٹوائے؟ جیسے پولیس اس کی حفاظت کے لیے ہمیشہ کھڑی ہی رہے گی۔ اور یہ پولیس والے! کب ہوئے ہیں کسی کے۔ میں تو ان پر کبھی بھروسا کروں ہی نہیں۔ موکانڈی کی عورت ہے۔ ابھی نہیں تو کبھی جانا تو اسی کے پاس ہے۔ پھر کیا کرے گی؟ اب کی کسر تب وہ نکالے گا کہ نہیں؟

                ایئتھما کی بات سن کے کرواما کو لاجواب ہوتے دیکھ کنی اما بول اٹھی۔ کیوں جائے گی اس کے پاس۔ اسے تو دو سال پہلے ہی چھوڑ کے آگئی ہے یہاں۔ اکیلی جی رہی ہے کہ نہیں؟ لینے تو وہ آیا تھا اسے! بچے پالے نہیں جا رہے تھے اس لیے آیا، کون سا اس کی محبت میں آیا تھا، اکیلے بچے پالنا کوئی آسان کام تو ہے نہیں۔“

                مگر کرواما کی اس بات کا جواب بھی ایئتھما کے پاس موجود تھا۔ کتنے دن رہے گا اکیلا۔ عورتیں رہ بھی لیں مرد کے بغیر۔ مرد تھوڑا ہی رہتے ہیں۔ دیکھ لینا دوسری عورت لانے میں اسے دن ہی کتنے لگیں گے۔

                عورتوں میں تو اس طرح کی باتیں ہو رہی تھیں۔ ادھر مرد بپھر رہے تھے— ناک کٹا دی مردوں کی۔ اس کی تو اور پٹائی ہونی چاہیے۔ اتنی بڑی بڑی مونچھیں — نامرد کہیں کا اور دیکھو، وہ کیسے دندناتی پھر رہی ہے! میں ہوتا تو وہیں کے وہیں گلا گھونٹ دیتا اس کا۔ پولیس سٹیشن میں جان لے لیتا اس کی۔ کروپا سوامی آپے سے باہر ہو رہا تھا تو کسی نے ٹوک دیا۔ ہاں، ہاں — کیوں نہیں۔ ایسے ہی تو بڑے ہیرو ہو تم! ایک عورت کی جان لے لینے میں کون سے بہادری ہے بھائی۔ جنھیں عورت کو سنبھالنا نہیں آتا، ان کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔

                یہ تو بالکل ٹھیک کہا تم نے۔ اپنے انگوٹھے تلے دبا کے رکھنے کے لیے عورت کو جب تک چار چوٹ کی ایک مار نہیں لگاؤ، قابو میں کہاں رہتی ہے! موکانڈی کو ایسا کرنا نہیں آیا تو اب بھگتے!۔ اتنی بڑی بڑی نوکیلی مونچھیں بس دکھانے کو رکھ چھوڑی ہیں۔

اس بات پر اتنے قہقہے پڑنے لگے کہ پوچھو مت۔

                مردوں میں اپنی اتنی تضحیک برداشت کرتے کرتے موکانڈی اپنی جان سے بیزار ہوا پڑا تھا۔ غصے اور شرمندگی سے دانت کٹکٹا کٹکٹا کے مارا مارا پھر رہا تھا۔ لوگوں کی نظروں کا سامنا کرنے سے کتراتا رہتا— اور ایک دن اس نے اس معاملے سے آر یا پار ہونے کا فیصلہ کرلیا اور پنوتھئی کے میکے جا دھمکا۔ باہر کھڑے ہوکر زور زور سے چلّانا شروع کردیا۔

                ”کان کھول کے سن لو— چھوڑ رہا ہوں میں تمھاری بیٹی کو۔ اب کبھی اسے لینے نہیں آؤں گا۔ اور نہیں پالنے ہیں مجھے اس کے جنے بچے بھی۔ میں دوسرا بیاہ کرنے جا رہا ہوں۔ بہت برداشت کرلیا، اب اور نہیں سہوں گا۔ سن لیا تم نے! میں دوسرا بیاہ کرنے جا رہا ہوں!“

                پنوتھئی کا باپ گھر میں تھا۔ یہ سنا تو جھٹ باہر نکل آیا اور داماد کا غصہ ٹھنڈا کرنے میں لگ گیا۔ ماپلے اتنا غصہ نہیں کرتے، دھیرج رکھو، ایسا تھوڑا ہی کرتے ہیں، سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ارے یہ عورتیں ہوتی ہی ہیں اوندھی عقل والی۔ میری بیٹی کچھ زیادہ ہی اوندھی ہے۔ پہنچ گئی پولیس سٹیشن۔ عقل والی ہوتی تو ایسا کرتی؟ تھوڑا وقت دو مجھے، میں خود اسے سمجھا بجھا کے تمھارے گھر پہنچا دوں گا“۔

                بالکل نہیں۔ نہیں چاہیے مجھے تیری بیٹی۔ اور نہ ہی اس کے بچے! انھیں لا کے پٹخ دوں گا یہاں۔ بہت سہسہ لیا میں نے۔ اب اور برداشت نہیں کروں گا۔ کہتے ہوئے موکانڈی جانے کو مڑا تو سامنے پنوتھئی کھڑی تھی، اب تک چپ چاپ سن رہی تھی، اس پر ٹوٹ پڑی۔

                ”کوئی ضرورت نہیں بچوں کو یہاں لانے کی۔ ایک پل بھی میں انھیں یہاں نہیں رہنے دوں گی۔ کیوں رکھوں انھیں میں؟۔تیرے بچے ہیں۔ تیری مرضی سے پیدا ہوئے ہیں! مجھے بھی نہ تُو چاہیے نہ تیرے بچے۔ ہرگز ہرگز انھیں نہیں رکھنے والی ہوں۔ ایسا کوئی قانون تو ہے نہیں کہ ماں ہی بچے پالے۔ خبردار جو تو یہاں لایا۔“

                ہار کر موکانڈی پیر پٹختاچلا گیا تو پنوتھئی کی ماں زار و قطار رونے لگی۔ اری سنا تو نے! کیا کہہ کے گیا! دوسری عورت لانے جا رہا ہے! اب تیرے بچوں کا کیا ہوگا؟ اری کب عقل آئے گی تجھے! تو کیسی عورت ہے! اپنے مرد سے کیسی باتیں کرتی ہے! ہاتھا کاٹھی! مرد چاہے پتھر کا بنا ہو یا گھاس پھوس کا، اپنا مرد ہوتا ہے۔ اری اُٹھ! دیکھ کیا رہی ہے؟ بھاگ!۔ اپنے بچوں کا تو سوچ۔ انھیں کیسے چھوڑ سکتی ہے تو!۔

                ”اب چپ بھی کر اماں“۔ سنتے سنتے تنگ آئی پنوتھئی ماں کے پاس آ کے کہنے لگی۔ کیوں جاؤں؟ بچے باپ کے نہیں ہوتے کیا؟ وہ کیوں نہیں پال سکتے انھیں؟ نہیں پال سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہیں۔ گھاس پھوس اور پتھر سے عورتوں کو کب تک باندھتے رہو گے تم لوگ؟ کم از کم میں تو نہیں بندھی رہنے والی…… کہتی ہوئی پنوتھئی گھر کے اندر چلی گئی۔ واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں بلیڈ تھا گھر کے سامنے والی مرغی کے ڈربے پر جم کے بیٹھ گئی۔ گلے سے منگل سوتر اتارا اور اس کے بیچ میں پڑی تھالی (لاکٹ) کو کاٹ کے نکالنے لگی۔ ماں نے دیکھا تو بدحواس ہو کے چیخنے لگی۔ اری کیا کر رہی ہے؟ کلموہی رانڈ— یہ کیسی بدشگونی……! اسے کیوں کاٹ رہی ہے؟ اری یہ ایڈوما پیا منگلا ہے…… ہائے ہائے…… کیوں جنم دیا میں نے اس لڑکی کو…… اس سل کا بٹا پیدا ہوجاتا تو اچھا تھا…… منگل سوتر کے دھاگوں کو فرش سے چنتی وہ دھاڑیں مار مار کے روئے جا رہی تھی۔ اس کے رونے کی آواز سن کے آس پاس کے لوگ بھی گھروں سے باہر آگئے اور اس کی ماں کے ہم آواز ہوگئے۔ مگر پنوتھئی نے کسی کی طرف نگاہ اٹھا کے بھی نہیں دیکھا، دل جمعی سے اپنے کام میں لگی رہی۔ جب پوری تھالی نکال چکی تو آرام سے چلتی ہوئی ماں کے پاس جا کے کھڑی ہوگئی۔ اماں کیا چاہتی ہو؟…… پورا گاؤں اکٹھا ہوجائے؟ نہیں نا……! میں تو چلی شہر، تم بھی اب ندی کے گھاٹ چلی جاؤ۔ بے چاری بھیڑ کب سے ممیا رہی ہے۔ اس کے لیے وہاں سے کچھ، لانا ہے کہ نہیں؟ معصوم بے زبان جانور ہے۔ کب تک بھوکا رکھو گی اسے۔

                اس نے منگل سوتر سے نکالی تھالی، کو اپنی کمر میں اُڑس لیا، ٹوکرا اُٹھا لیا اور مزے مزے سے چلتی ہوئی شہر جانے والی بس پکڑنے روانہ ہوگئی۔

                دوسرے دن لوگوں نے اسے چھاواڑی کے ٹھیک سامنے ایک چھوٹی سی دکان کھول کے اسے سجانے میں مصروف دیکھا جو دس برسوں سے اس کے گلے میں پڑے بے مصرف منگل سوتر کی تھالی بیچ کر پائے ہوئے روپوں کی وجہ سے طرح طرح کے فروختنی سامانوں سے لبالب بھر گئی تھی۔

Check Also

کونج ۔۔۔ مصباح نوید

چیری کے شگوفوں جیسے لب ادھ کھلے، چمکیلی آنکھوں سے جن میں جیسے کانچ کوٹ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *