Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » خودی کا بوجھ ۔۔۔ بشریٰ ملک

خودی کا بوجھ ۔۔۔ بشریٰ ملک

                اس وقت شام کے چھ بج رہے ہیں۔ میں شہر کے ایک شاندار سے ہوٹل میں بیداریِ نسواں کی میٹنگ میں شمولیت کے لیے آئی ہوئی ہوں۔

                 کارڈ پر پروگرام کا وقت تو یہی ہے، مگر کوئی ابھی تک نہیں پہنچا۔ گھنٹہ ڈیڑھ دیر سے آنے کی روایت اور بہت سی نہ سمجھ میں آنے والی معاشرتی روایات کی طرح ہی ہے۔ مہمانِ خصوصی کا دیر سے آنا تو باعث ِ فخر ہی سمجھا جاتا ہے۔ بہت اہم اور مصروف ہیں، مشکل سے وقت نکال کر صرف ہمارے پروگرام کے لیے پہنچے ہیں۔ ہم ان کے بے حد شکر گزار ہیں۔ واہ کیا جملہ ہے۔ چاپلوسی۔ سوچتے نہیں کہ وقت پر آنے والوں کو انتظار کی کوفت کی سزا کیوں بھگتنا پڑتی ہے۔ میں انتظار کی بوریت سے چِڑ چِڑ ی ہو کر سوچے ہی چلی جارہی ہوں۔

                 بے زاری سے بچنے کے لیے مخلوق ِ خدا کا جائزہ لینے اور ان کی شخصیات کے تجزیے جیسے امر میں خود کو مصروف کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

                 سامنے کاؤنٹر پر معلومات لیتی ایک تقریباً پچاس سالہ پُر وقار سی خاتون نے میری تمام توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ چال اور گفتگو کے انداز میں خود اعتمادی سے وہ عین میری خواہش کے مطابق ایک خاتون ہے۔ جب بھی میں اس قسم کی خواتین کو دیکھتی ہوں تو میری سوچ کے سارے ڈائمینشن چمکنے لگتے ہیں۔ میرے تصور میں میرے خوابوں جیسا ملک  آجاتا ہے۔

                 نیا ء نظریہ Gender mainstreamingواہ کیا مضبوط، خود اعتماد  عورت ہے۔ بے بس اور محتاج ہونے کے ہر خوف سے آزاد۔

                میں تقریب کا وقت پوچھنے کے بہانے کا ؤنٹر پر اس کے قریب آکھڑی ہوئی ہوں اور نگاہیں ملنے پر بھر پور مسکراہٹ سے تعارف کی راہ نکالنا چاہتی ہوں۔ اس رُو کھی پھیکی لاتعلق سی نگاہوں اور سپاٹ چہرے نے مجھے ناکامی سے دوچار کیا ہے، لیکن کچھ مزید تجسّس بھی دے دیا ہے۔

                اب میں سی آئی ڈی کے کارکن کی طرح اس کے پیچھے چل پڑی ہوں۔

                وہ شدید بے چینی سے کسی کی منتظر باربار گھڑی کی طرف دیکھ رہی ہے۔ میں اُس کی قریب ترین میز پر براجمان ہوں۔

                چلیے انتظار کی گھڑی ٹلی ٹیل، اس کی ٹیبل کی طرف ایک ادھیڑ عمر صاحب بڑھ رہے ہیں۔ خوش شکل اور خوش لباس، ہاتھ میں قیمتی سگریٹ باکس جس پر سونے کالائٹر ہے۔

                چمکتی ہوئی راڈ وگھڑی  دولت کی فراوانی کا ثبوت بنی ہوئی تھی۔

                 چہرے پہ چھائی رعونت سے لگ رہا ہے کہ جناب کسی بڑی سرکاری پوسٹ پر فائز ہیں اور چہرے کی بیزاری بتا رہی ہے کہ وہ بادلِ نخواستہ ہی آئے ہیں۔ صاحب کے آتے ہی وہ پُراعتماد خاتون اچانک کمزور سی روایتی عورت محسوس ہونے لگی ہے ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو ہونٹوں پر شکوے اُبھر آئے تھے۔

                 وہ دونوں میز پر ایک دوسرے کی جانب جُھکے سرگوشیوں میں جیسے لڑ رہے ہیں۔و ہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ٹشو پیپر سے ناک پونچھتی جارہی ہے ۔شاید رو رہی ہے۔ اور میرا متجسس ذہن نئی نئی کہانیاں  بناتا جارہا ہے۔

                یہ یقینا اس کا محبوب ہوگا۔ یا عاشق رہا ہوگا۔ یا پھر کوئی بلیک میلر ہوسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے شوہر ہو یا شوہر کے ہوتے ہوئے رکھا کوئی یار۔

                 میرا دل چاہا کہ جو تقریر میں آج خواتین کی میٹنگ میں کرنے آئی ہوں ان محترمہ کے سامنے ہی شروع کردوں اور کہوں کہ اے مضبوط عورت!خود کو کمزور اور مجبور ثابت نہ کرو،تم تو پڑھی لکھی ہو، خودکو کیوں ان معاشرے کے ٹھیکیداروں کی سازش کا حصہ بننے دے رہی ہو۔۔۔ اعتماد سے اُٹھ کر اپنا حق مانگو، یہ ٹسوے نہ بہاؤ۔ آنسو تو کمزوری کی نشانی ہیں۔

                 مرد کے لہجے اور چہرے کی بڑھتی ہوئی سختی اور عورت کی پگھلتی شخصیت کو دیکھ کر اندازہ ہورہا ہے کہ وہ صاحب اس کی کمزور یوں اور مجبوریوں سے بہ خوبی واقف ہیں۔

                 ”یہ شوہر نہیں ہوسکتا۔“ میں نے خود کو بتایا۔

                 سارا وقار، اعتماد، رنگ روغن ہی نکلا۔ مادام کا عام عورت جیسا، چھوڑوا سے۔ میں بور اور مایوس ہو کر وہاں سے اُٹھنے لگی ہوں۔

                 یہ خاتون بھی اپنے معاشرے کی بنائی ہوئی پروڈکٹ ہی نکلی کم بخت۔

                 میں نے بے زاری سے ناک چڑھائی اور اُٹھنے کے لیے اپنا بیگ سنبھالا ہی تھا کہ اچانک میرے کھڑے کانوں میں مرد کی سرگوشیاں سرکنے لگیں۔ صاف سنائی دینے لگا، وہ اس کے جرم گنوا رہا تھا۔

”گھر سے تم خود نکلی ہو، میری پناہ تم نے خود ٹھکرائی ہے۔ طلاق مانگی تھی نا! اب بھگتو۔ فریاد کیوں کر رہی ہو؟“

                 ”بچے۔۔“ وہ سسکی۔

                ”ہا۔۔۔ بچے، مت کروا موشنلی بلیک میل مجھے،تمہارے بھی ہیں۔ لے کر گئی تھی ناساتھ، اب سنبھالو ان کو، کرو اُن کی خواہشات بھی پوری۔ تم جانتی ہو میری دوسری ذمہ داری بھی ہیں۔“

                 وہ تلملا کر منمنائی۔

                ”جانتی ہوں آپ کی تمام ذمے داریوں کو، ان ہی عیاشیوں اور غیر ذمہ داریوں سے تنگ آکر مجبوراً گئی ہوں“۔

                 ”معلوم ہے آپ کی اصل ذمہ داری میں اور بچے تھے۔ وہ تو کبھی پوری نہ ہوئیں تھی آپ سے۔ میرا احتجاج کتنا بُرا لگا تھا نا آپ کو“۔

                 صاحب ناک سکوڑے حقارت سے اُسے دیکھ رہے ہیں۔ وہ فرمارہی ہیں:۔

                 ”سنیں، جب تک پاپا زندہ تھے تو گزارہ چل رہا تھا۔ سنبھال رکھا تھا، آپ کا اور اپنا بھرم میں نے بچوں کے سامنے۔ اب سب بھائی کے کنٹرول ہے۔ وہ کچھ نہیں دیتا ہمارے بچوں کے لیے۔ اور میری آمدنی سے سب پورا نہیں ہوتا۔ کہاں سے لاؤں اتنا۔ بچوں نے تعلیم پوری کرنی ہے۔ اُن کی ہزاروں خواہشات ہیں، زمانے کے ساتھ چلنا ہے آخر ان کو“۔

                 صاحب ہاتھ میں پکڑے گلاس کو میز پریوں رگڑ رہے ہیں جیسے وہ اپنی ذمہ داریوں کو کچل رہے ہوں اور دانت پیس کر کہہ رہے ہیں۔

                 ”زمانہ۔۔۔ زمانے کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں بچے، کہ ان کی آڑ میں تم، پیسے بٹورنا چاہتی ہو ان کے نام پر بس۔ بہت ہے تمہارے پاس، پتا ہے مجھے۔“

                 اس بات کا جواب میری جدید عورت کے پاس نہیں ہے۔  اس کا حلیہ اور رویہ دونوں ہی ان صاحب کے وکیل ثابت ہورہے ہیں۔

                ایک بنی تھنی، کوٹھی کار اور جاب کرنے والی خود مختار عورت دنیا پر اپنی مظلومیت کیسے ثابت کرے گی۔ اس کا سلیقہ، اس کا ذوق، اس کے معیار، اس کے مسائل کوکب منظر پر آنے دیں گے۔ مظلوم ہوتی تو خاک میں رُل کر دُہائی دیتی، بال بکھیرے غم کی تصویر بنی پھرتی، سابقہ سسرال والوں کے پاؤں شاؤں پڑتی توتب یہ معاشرہ بھی ہمدرد ہوجاتا اور کسی عدالت کے جج صاحب بھی اس کی سن لیتے۔

                اب تو جج سمیت لوگ ہنسیں گے ان کے آنسوؤں پر یا پیسے بٹورنے والی ہی کہیں گے۔

وہ خاموش ہوگئی ہے۔ بالکل چپ۔

                 جیت کے احساس نے صاحب کو مطمئن کررکھا ہے۔ وہ بڑی اَدا سے سگریٹ کیس سے سگریٹ نکال کر قیمتی لائٹر سے سُلگا رہے ہیں۔ اور قیمتی سوٹ کی سلوٹوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

                 ان سے تویہ سوالات ہر گز نہیں ہوں گے کہ وہ اپنی ذات پر کتنا خرچ کرتے ہیں،کیا پہنتے اوڑھتے ہیں ۔ کہاں اُٹھتے بیٹھتے ہیں۔ بچوں کا حق ادا کرتے ہیں یا نہیں؟

                 میں سوچ رہی تھی۔ طلاق کے بعد اکثر باب اور یتیمی کے بعد اکثر دوھیال والے خو د کو بچوں کی ذمہ داری سے بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔ بچے ماں کی ذمہ داری بن جاتے ہیں۔ یہ احساس آج مجھے شدت سے ہوا کہ اپنی خود ی اور عزت کی خاطرعلیحدہ ہوجانے کی ہمت کرلینے والی عورت، معاشرے اور قانون کے لیے تماشہ بن کے رہ جاتی ہے۔

                 ”اُف‘‘ میں نے اپنے آپ کو کوسا۔ ”میں کیوں والدین اور بھائیوں کے خلاف پروپگنڈے کرتی رہتی ہوں کہ وہ اپنی بیٹی اور بہن کو اس کے شوہر کے ساتھ رہنے پر کیوں مجبور کرتے ہیں۔ وہ اسی وجہ سے اپنی بہن بیٹی کی ہر قسم کی تذلیل برداشت کرلیتے ہیں اور گھٹیا سے گھٹیا داماد اور بہنوئی کے جوتے سیدھے کرتے رہتے ہیں“

                 میں شرمندگی کے دریا میں غوطہ زن ہوں۔ میری آئیڈیل عورت نے تو وہ سب کر دکھایا جس کا درس میں ایک سٹیج سے دوسرے سٹیج پر دیتی پھرتی ہوں۔

                 اُس نے تو معاشرے کی توقعات والی خاتون بننے کی روایت توڑ ڈالی ہے۔ رواج اور غیرت کے دیو کو بھی اپنے دولت مند پاپا کی مدد سے ہرادیا ہے۔

                اپنے پڑھے لکھے ہونے اور شاید کسی فرم کے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے رعب سے زمانے کی بولتی بھی بند کر وادی ہے۔

کسی کی جرات نہ ہوتی ہوگی، اُس کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے بھی۔ سب وہی جو میں سکھاتی اور سمجھاتی رہتی ہوں۔

                 مگر وہ بچوں کے اخراجات ان کی خواہشات اور باپ کی ضرورت کے جن کو کسی بوتل میں بند نہیں کر پارہی ہے۔ اس وقت وہ اتنی بے وزن اور بے وقعت ہوئی بیٹھی ہے، بچوں کے باپ کو اُس کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری کا احساس دلانے کے  لیے بے بسی سے گڑ گڑا رہی ہے۔

                 میں اپنے ہاتھ میں پکڑی تقریر کو دیکھ رہی ہوں جس میں آزادی اور بیداریِ نسواں کی بہت سی نئی بڑھکیں درج ہیں۔

                 مگر بچوں کے اخراجات اور تحفظ کاکوئی حل موجود نہیں۔

                 میں نے ان بے کار کاغذوں کو پھاڑ دیا ہے۔ کاغذپھاڑ نے کی آواز پر وہ حساس چونک کر مڑی اور میں نے دیکھا کہ اُس کی آنکھوں اور چہرے کا سارا وقار جھڑ چکا ہے۔

                اب وہ ایک عورت نہیں ماں تھی۔ میرے دل پر چھانے والی اُداسی نے مجھے جھنجھوڑ کر کہا:۔

                 ”اگر یہ معاشرہ اپنی سوچ کا زاویہ بدل بھی لے،عورت کو طلاق یا خلع کوئی بڑا مسئلہ ہی نہ رہے، تو ایسے ٹوٹے ہوئے گھر کے بچوں کو معاشی تحفظ کون دے گا؟“ مجھے خود اپنا زاویہ نظر بدلتا ہوا محسوس ہورہا ہے، سوچ رہی ہوں کہ خواتین کو معاشرتی نظام کی بہتری کی ضرورت ہے یا معاشی نظام کی تبدیلی کی۔ بچوں کا خرچ کیسے لیا جائے۔

وہ صاحب تو میز پر پڑے نپکن کو اس پڑھی لکھی خوداعتماد اور برسرِروزگار خاتون کے سامنے پٹخ کر یوں شان سے جا رہے ہیں جیسے ہم دونوں جیسی تمام خوددار خواتین کو خودسر کہہ کر پٹخ رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں:۔

”یہ انجام ہوتا ہے ایک مطلقہ کا سابقہ شوہر سے بچوں کے حقوق مانگنے کی گستاخی کرنے کا۔“

صاحب تو جا چکے ہیں پر میری آئیڈیل اور میں اپنی اپنی جگہ پر تنہا بیٹھی رو رہی ہیں۔

وہ بچوں کے اخراجات کے لیے اور میں اس لیے کہ بیداریئ نسواں کے لیے میں نے آج تک جو کہا، کیا وہ صحیح تھا یا میں بہت سی خواتین کو اکیلا رونے کے لیے چھوڑ آئی ہوں۔

Check Also

مئیزل ۔۔۔ مہتاب جکھرانی

روشا ٹک ڈاثغ اث۔درشکانی سرا مرگانی چیکار اث۔کڑدے مرگ اے درشکا شہ آں درشکا روغ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *