Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » گلناز کوثر

گلناز کوثر

مراجعت

 

میں انسان ہوں

اور میں انسان ہونے سے

گھبرا گیا ہوں ……۔

میں گھبرا گیا ہوں

بہت چلچلاتی ہوئی دھوپ سے ……۔

شور کرتے ہوئے شہر سے…۔

بھوک سے……۔

اور گلے میں پھنسے

آنسوؤں کی چبھن… درد کی لہر سے

جو مسلسل مرا جسم

جکڑے ہوئے ہے

کروں کیا

دہکتی ہوئی سرخ چنگاریوں کا

جو میرے لہو میں بھڑکنے لگی ہیں

مرے سر میں وحشت ہے

آنکھوں میں دہشت

بڑھوں… توڑ دوں…۔

کاٹ دوں یا جلا دوں

مرے بس میں ہے آج دنیا مٹا دوں

نہیں پر نہیں

میں تو انسان ہوں

پھر میرے گیت..خواب اور کتابیں کہاں ہیں

مرے پھول میرے چہکتے پرندے

کہیں بھی نہیں ہیں

یہاں بس لہو ہے

اچھلتا…سسکتا… بلکتا لہو

اور مرے سر میں وحشت ہے

اب تو مجھے اپنے انسان ہونے سے

خوف آ رہا ہے

مجھے باندھ لو اور جکڑ لو

کہیں لے چلو پھر سے

اْن جنگلوں میں

جہاں پر ہوائیں

درختوں کی شاخوں۔۔

پرندوں کے کومل پروں کو

جھْلاتی ہیں

اْن پربتوں۔۔۔ وادیوں میں

بسیرا کروں گا

میں اب چار ٹانگوں پہ

چلتا رہوں گا

بچا لو مجھے

آسمانوں پہ سوئے ہوؤ

سخت نازک گھڑی ہے

مرے سر میں وحشت بھری ہے

مجھے اپنے انسان ہونے سے

خوف آ رہا ہے

 

 

دل کب مانتا ہے

 

ہمیں کہاں رہنا ہے

سارے موسم

کب جینے ہیں

ساری ندیوں اور درختوں سے

کب ملنا ہے

ان بجھتی ہوئی آنکھوں سے

کتنی دنیا دیکھی۔۔۔۔

کتنی دیکھ سکیں گے

لاکھوں کروڑوں برسوں کا

اک ننھا ساحصہ ہے

اپنا جیون یونہی

چار گھڑی کا قصہ ہے

سب سچ ہے۔۔۔ لیکن

دل ایسے ضدی کو

کون منائے

جب وہ ہنس کے کہتا ہے

تم جاؤ صاحب۔۔۔۔

میں تو یہیں رہوں گا

نیلے گگن پہ

بادل بن کے

کھلے سمندر کی لہروں پر بہتے کھیلتے۔۔۔۔

گیت بْنوں گا۔۔۔۔

تم جاؤ

مٹ جاؤ

دھند میں کھو جاؤ

میں یہیں رہوں گا۔

 

Check Also

چند برس ہی ہوتے ہیں ۔۔۔ ابرار احمد

چند برس ہی ہوا کرتے ہیں دوڑ لگائیے آگے نکلیے اور جان جائیے اچھل کود ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *