Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » مست توکلی

مست توکلی

۔(بارش)ایک مختصر ساعت کے لیے لورالائی ؔ کی پشت پہ ٹھہر جاتی ہے

 

شمس ؔ’کے روضے پر، اور ”فقیرؔ دُھبہ“پر جھنکار کرتی ہے

شبینہ بجلیاں سلگتی ہیں، رخ کرتی ہیں کم آب علاقوں کی طرف

وہ آدھی رات کو اپنی آمد کی خوشخبری والی مشعلیں جلاتی ہیں

ترخانؔ پہ برستی ہیں، پیاسے پہاڑی دنبوں کو پانی پلاتی ہیں

”مانڑ ؔکی شانک“پر بارش کے ریلے اونٹوں جیسی قطاریں بناتے ہیں

سالُو ؔپر برلتی ہیں، بارش کے ریلے کونج کی ڈاریں بنا کر

گھیرے میں لیتی ہیں دکی ؔ کو، تکڑیؔ کے گڑھوں کو بھر دیتی ہیں

کوہ ِکپڑی ؔ پہ بادل چھتری بن جاتے ہیں

۔ (اڑتے پرندوں کی طرح) ایک پَر جھکا دیتے ہیں اور ڈنئی ؔدریا پر جا اترتے ہیں

طویل بیجی دریا نیم شب دھماکہ خیز ہو(طغیانی میں آئے)۔

دھند اور غبار میں گھنے بادلوں میں گھن گرج تھی

سمو کے علاقے پہ بادلوں کی موسیقی ہے، نغمے ہیں

محبوبہ کے علاقے پر بادل کی بجلیاں سوکنوں میں مقابلہ بازی کی طرح چمکتی جاتی ہیں

۔ (بادل) باہم مجتمع ہو ہو کر پہاڑ پہ چڑھتے جاتے ہیں

بُھٹر ؔ پہ برس کر موتی چہرے والی محبوبہ کی بکریوں کو پانی پلاتے ہیں

چیٹیال ؔکے بڑے سینگوں والے پہاڑی بکروں کی پیاس بجھاتے ہیں

سیمرؔ کی خم دار سینگوں والے دنبے پیاسے ہوچکے ہیں

اور منتظر ہیں بادلوں بارشوں کے مناظر کے

بادل ساون میں شام کے وقت تشکیل پاتے ہیں

علاقوں کے علاقے چکر دار جھپٹے کھاتے ہوئے، سر سبز وادیوں پہ قبضہ کر لیتے ہیں

برستے ہوئے آؤ تمہارے حتمی برسنے کی جگہ کا مجھے پتہ ہے

۔(ہاں) آؤ تمہیں ماہ رخ کا مضبوط خیمہ دکھاؤں

گِر ؔبند پہ برستے ہیں اور سِنٹر یں ؔ کے اس جانب برستے ہوئے

سمو کے پتھر سے بنے نقل مکانی کرنے سے پہلے کے گھروں پہ بار بار حملہ آور ہوں

برہنہ میدانوں کو شبینہ حملوں سے سیراب کردیں

میری محبوبہ کے  پراندوں کونہ بھگونا کہ خوشبوؤں کو نمی لگ جائے گی

سمو کے خیمے کو بھگودواس کی ساری چٹائیوں سمیت

میں اُن سفید بادلوں سے تب خوش ہوں گا

جب وہ گرجتے ہوئے ڈائنٹر کے پہاڑ کا محاصرہ کرلیں

کوہِ رسترانیؔ کا دامن اور زرعی زمینیں سیراب کردیں

گول چہرے والی میری محبوبہ کے وسیع خیمے پہ سایہ کردیں

تتڑا ؔکے پہاڑ پہ بادل سایہ فگن ہوجائیں

برس جائیں اور مست کے تالاب پہ پہاڑی دنبوں کے بچوں کی پیاس بجھادیں

کاہان ؔشہر پہ ایک پوری رات مہمان بن جائیں

بانبور ؔکے پہاڑ تک سارا علاقہ گھٹاؤں میں چھپ جائے

برسات کے نقش ہائے پاسمو کے چہرے کی طرح خوبصورت ہوتے ہیں

جب برسات کے بعد چراگاہ اگتی ہے

جئے ہوبارش کے قطروں کی آدھی راتوں کی میٹھی آہٹوں کی

بارش کا پانی خیموں کے اطراف میں خوبصورت آوازوں سے بہتا ہے

بارشیں ضرور برسیں گی اور اس مجنوں (مست) کو خوش کردیں گی

اور اس پالتو گھریلو لیموں جیسے زامر کی ٹہنی (سمو) کو سیراب کریں گی

Check Also

چند برس ہی ہوتے ہیں ۔۔۔ ابرار احمد

چند برس ہی ہوا کرتے ہیں دوڑ لگائیے آگے نکلیے اور جان جائیے اچھل کود ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *