Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » آہ ۔۔۔ زرغونہ خالد

آہ ۔۔۔ زرغونہ خالد

سمیرا باجی آج بھی روز کی طرح چہک چہک کر اپنی کہانیاں سنا رہی تھیں۔ اور ہم ساری کلاس کی لڑکیاں ان کے گرد جمگٹھا بنا کر بیٹھیں تھیں۔اور ان کی محبت کی کہانیاں،تحفے،چو نچلے، ادائیں سب مزے لے کر سنتیں اور اس کی قسمت پر رشک کرتیں۔ ہم آٹھویں کلاس میں تھے اب،اور چھٹی کلاس میں ہمارے سکول میں سمیرا باجی نے داخلہ لیا تھا۔ جب وہ پہلی بار کلاس میں آئیں تو ان کو دیکھ کر ہمیں ایسا لگا جیسے میٹرک کی کو ئی بڑی باجی ہیں۔ لیکن ہماری کلاس ٹیچر نے انکا تعارف ہماری نئی کلاس فیلو کی حیثیت سے کرایا تو ہم حیرانگی سے انہیں دیکھنے لگے۔ اتنی بڑی اور چھٹی کلاس میں۔

پھر وہ آتے ہی ہماری کلاس پر حکمرانی کرنے لگیں ہم سب کو بچہ بناتی اور خود جیسے ٹیچر ہوتیں اور ہم سب کو چیزیں دکھاتی اور نئی نئی چیزیں لائی تھیں کبھی کھانے کی کبھی کھیلنے کی کبھی جیولری کبھی کہانی کی کتابیں۔ کبھی میک اپ کا سامان اور ہم سب بچے انہیں دیکھتے کبھی رشک کرتے کبھی حسد کبھی جلتے کبھی خوش ہوتے۔چلتا رہا 2سال ہم بچے ان کو اپنا گرومانتے رہے۔ہم سے ہوم ورک کرواتیں بیگ ہم سب ان کا گیٹ تک اٹھا کر لے جاتے۔ دو سال چھٹی،ساتویں اسی خوشامد میں گزر گئے۔ہم سوچتے تھے یہ سب چیزیں ان کو کون دیتا ہے۔ ہم پوچھتے تو کہتیں سب کو اچھی لگتی ہوں سب دیتے ہیں۔ہم چپ کر جاتے۔ گھر جا کرمجھ سمیت سب سوچتے ہوں گے۔ہم کیوں نہیں اچھے۔ آٹھویں کلاس میں ہم بھی تھوڑا بڑے ہوگئے سمجھدار ہو گئے عقل آگئی اور سمیرا باجی بھی اپنی محبت کی داستانیں سنانے لگیں۔

اب سمیرا باجی ہر بریک میں ہمیں بتاتی کیسے محلے کے سارے لڑ کے ان پر مر تے ہیں۔صبح سکول آتے ہوئے گلی کے ہر ہر موڑ پر لڑکے انہیں دیکھنے کیلئے ٹھہرتے ہیں۔پھر چپکے چپکے کوئی کوئی پیچھے آتا ہے کوئی صبح کوئی دوپہر پر تحفہ دیتا ہے۔مزے کی زندگی ہے پڑھنے کو ویسے سمیرا باجی کا دل نہیں چاہتا تھا۔ بس روز نئے محبوب سے شادی کا خواب دیکھتی تھیں۔ کبھی ایک کی دولہن بنی خوابوں میں،کبھی دوسرے کی۔کبھی ایک کا گلہ تو کبھی دوسرے کا گلہ۔

آخر آج میں نے پوچھ ہی لیا سمیرا باجی ہم میں ایسا کچھ نہیں کہ لوگ صرف آپ کے دیوانے ہیں۔ سمیرا باجی نے قہقہہ لگایا۔ارے پگلی تم ابھی بچی ہو اور دوسرا تمہیں پتہ ہی نہیں چلتاکسی بات کا، نہ منہ دھوتی ہو نہ تیار ہوتی ہو۔شکل دیکھی ہے اپنی نہ ڈھنگ سے بال بنے ہوتے ہیں، نہ کریم نہ لباس فیشن کا۔ کیسے کوئی تمہارے پیچھے آئے گا۔

اچھا ایسا ہوتا ہے باجی مجھے تو کچھ نہیں آتا ایسا کرنا پھرمیرا کیا ہوگا۔کوئی مجھے پسند نہیں کرے گا۔

ارے نہیں پگلی! سب پسند کریں گے تم طریقے سیکھو۔ ادائیں سیکھو۔ ناز اٹھکیلیاں ہا ہا ہا!

میں حیرانگی سے سمیرا باجی کا منہ تکتی رہی۔ یہ کیالوگ اصل کی بجائے نقل چیز کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ میں حیران ہوئی کیا۔

پھر ہم میٹرک میں پہنچ گئے۔ پتہ چلا سمیرا باجی کی شادی ہونے والی ہے سمیرا باجی اداس رہنے لگیں۔

میٹرک میں ہم سب سمجھ دار ہوگے تھے۔ سمیرا باجی کی اُتری شکل دیکھ کر مجھے دکھ ہوا۔ ہم سب ایک ساتھ4سال سے پڑھ رہے تھے سمیرا باجی سے بہت اُنسیت ہوگئی تھی۔

سمیرا باجی کیا ہوا کیوں ایسی اتری شکل ہے؟

رابعہ نہ پوچھودل کتنا اداس ہے۔شادی کی تاریخ رکھنے آرہے ہیں۔ میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔

سمیرا باجی ایسا کیوں؟

رابعہ مجھے تو روز نیا بندہ پسند آتا ہے۔ایک کے ساتھ کیسے رہوں گی۔

یار سمیرا باجی یہ کیا۔ ایسا نہ کہیں۔ شادی تو ایک کے ساتھ کرتے ہیں۔

رابعہ وہ مولوی ہے بڈھا ہے میں نہیں کروں گی شادی بھاگ جاؤں گی۔

نہ نہ سمیرا باجی اللہ کا واسطہ ماں باپ کی عزت خاک میں ملائیں گی کیا؟

تو اور کیا کروں رابعہ۔بڈھے سے شادی کروں؟میرے پیچھے لائن لگی ہوتی ہے لڑکوں کی۔ ایک چھوڑ دوسرا حاضر۔ خوبصورت، کچھ بڑے کچھ چھوٹے۔۔۔میں نے تو اماں سے کہا ہے بھا گ جاؤں گی۔ اماں نے خوب مارا ہے مجھے بہت مارا ہے۔

سمیرا باجی اماں کو سمجھا لیں۔ نہ مانیں تو وہیں کریں جہاں گھر والے کہتے ہیں۔

کبھی نہیں۔سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں اُس بڈھے سے بد صورت انسان سے شادی کروں۔ میں تو بھاگ جاؤں گی پکا۔

نہ نہ سمیرا باجی ایسا بالکل نہ کیجئے گا۔

اور پھر چھٹی ہوگئی ہم گھر چلے گئے۔ اگلے دن سمیرا با جی سکول نہیں آئیں۔ پھر ہمارے سالانہ پیپرز شروع ہو گئے۔ ہم پرچوں میں اتنا مصروف رہے سمیرا باجی کی یاد نہیں آئی۔ پھر آخری  پیپر والے دن پتہ چلا سمیرا باجی کی شادی ہو بھی گئی۔ جسے وہ بڈھا کہتی تھیں اُس کے ساتھ۔

میرا بڑا دل چاہا ان کے گھر جاؤں مگر گھر کا پتہ نہیں تھا۔سوچا ایک دن سمیرا باجی کے امی ابو کے گھر جائیں گے وہاں سے ایڈریس پوچھ کر سمیرا باجی کے گھر جائیں گے۔

پھر ہم آخر ی پریکٹیکل والے دن سمیرا باجی کے امی ابو سے ملے اور سمیرا باجی کا ایڈریس لیا اور اسی دن رکشے میں بیٹھ کر ہم چار دوستیں سمیرا باجی کے گھر پہنچے۔ دروازے سے اندر داخل ہوئے ہی تھے کہ سامنے صحن میں سمیرا باجی جھاڑو لگاتی نظر آئیں۔دومہینے ہوئے شادی کو اور ایسے حال میں جیسے مائی ہو۔ہم چاروں ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے۔

سمیرا باجی نے جیسے سر اُٹھایا کھیسانی سی ہوگئیں۔مگرمسکر ا کر پر جوش انداز میں ہمیں گلے لگایا۔ اپنے روم میں لے گئیں۔ جس میں ابھی تک گلابوں،میک اپ، پروفیوم کی ملی جھلی خوشبو نے ماحول کو خوابناک بنا یا ہو ا تھا۔ جیسے نئی نئی شادی شدہ جوڑے کا کمرا ویسے ہی مہکتا ہے۔پر سمیرا باجی کے چہرے پر خوشی نہیں تھی یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی۔

فرج کمرے میں رکھا تھا اس میں سے سامان نکالا ہمیں دیا۔ ہم سے بہت بولتی رہیں مگر سب جھوٹی باتیں لگ رہی تھیں۔ ہم مل کر تحفہ دے کر واپس آگئے۔ میں نے سوچا میں دوبارہ اکیلی جاؤں گی۔ پوچھوں گی کیا بات ہے۔ایک ہفتہ گزرا میں اتوار کو سمیرا باجی کی امی کے گھر گئی۔

سمیرا باجی موجود تھی۔ اس دن کہا تھا ہفتہ کو جاتی ہوں رات کو وہیں سوتی ہوں اتوار رات کو واپس آتی ہوں۔

میں سمیراباجی کے ساتھ اکیلی چھت پر گئی اور پوچھا کیا خوش نہیں ہیں آپ۔

سمیرا باجی مسکرائی۔

رابعہ تم چھوٹی ہو مجھ سے۔ پر پتہ نہیں کیسے مجھے جان لیتی ہو۔ سنو میں واقعی خوش نہیں۔ اکبر اچھا ہے پر مجھے پسند نہیں،کیا کروں۔

یہ کیا بات ہوئی سمیرا باجی۔

رابعہ بہت اچھے لوگ بھی ہضم نہیں ہوتے۔ دم گھٹتا ہے۔ وہ عجیب ہے، وہ بہت اچھا ہے۔ وہ کام نہیں کرنے دیتا۔ کہتا ہے ماسی رکھ دوں گا۔ مجھے اس کی ہر بات سے چڑ ہونے لگتی ہے۔ وہ چاہتا ہے میں بنی سنوری رہوں،میں اس کے اُلٹ کرتی ہوں۔پتہ نہیں کیا ہوا۔ مجھے سکون نہیں۔

سمیرا باجی آپکو نظر لگی ہوگی۔

ہاہاہاہا!

پگلی نظر نہیں آہ لگی ہے۔تمہیں پتہ ہے میں نے پچپن سے لوگوں کا دل دکھایا۔واقعی لوگ مجھ سے محبت کرتے تھے۔ شادی کرنا چاہتے تھے میں نے دل دکھایاسب کا،اب دیکھو دل کو سکون نہیں کوئی اچھا نہیں لگتا۔نہ بننے کو دل چاہتا ہے نہ سنورنے کو۔

رابعہ آہ سے ڈرو،دل کا سکون چھین لیتی ہے یہ۔

تو سمیراباجی جس کے ساتھ آپ رہ رہی ہیں وہ کتنا چاہتا ہے آپ کو۔ اس کی آہ لگی آپ کو تو کیا ہوگا؟

”رابعہ یہی سوچتی ہوں میں کب تک دل دکھاتی رہوں گی لوگوں کا۔ سکون ہی نہیں ہے مجھے۔کیا کروں“۔

”جو آپ کو چاہتا ہے اس کی قدر کریں“۔

”نہیں رابعہ میرا دم گھٹتا ہے میں آہوں کے سائے میں ہوں۔دعا کرو میں نکل سکوں وگرنہ مر جاؤں گی دم نکل جائے گا“۔۔اور سمیراباجی رونے لگیں۔

میں حیرت وحیرانگی سے تکتی رہی۔یہ وہی سمیرا ہے جو تحفے،پیار، اورمیک اپ میں کھیلتی تھی۔

Check Also

ہوم ورک ۔۔۔ مصطفی مستور/شائستہ درانی

شروع شروع میں سب کچھ بہت دھیرے دھیرے گذرتا تھا۔ہر کام کی جیسے برسوں کی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *