Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شونگال » ادیب اور ادبی انعام ۔۔۔ انوار احمد 

ادیب اور ادبی انعام ۔۔۔ انوار احمد 

ارادہ تھا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کی سربراہی کے لئے سرائیکی،سندھی اور اردو زبان کے ادیب اور خیرپور یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر یوسف خشک کے حسنِ انتخاب پر ایک اداریہ لکھا جائے،مگر آج ہی ڈاکٹر یاور یعقوب نے اتر پردیش اکادمی کا ایک لاکھ روپے کا انعام واپس کر کے ہمیں عبداللہ جمال دینی،رفعت عباس اور زاہدہ حنا کی یاد بھی دلائی ہے اور بھارت کے روبہ زوال معاشرے کے بارے میں چھڑی بحث بھی۔جن کا اپنا گھر بگڑا ہوا ہو اصولی طور پر اُنہیں ہمسایوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنی چاہیے۔ مگر کئی عشرے، ہم ایک طرح سے احساس کمتری میں مبتلا رہے کہ بھارت ہمارا ایسا ہمسایہ ہے جو سیکولر بھی ہے اور جمہوریت کے تسلسل نے وہاں ایک روادار معاشرہ پیدا کردیا ہے جس نے مذاہب، زبانوں، ثقافتوں  اور سیاسی نظریوں کی کثرت کو رفتہ رفتہ متصادم ہونے سے روک دیا ہے۔ مگر ’خدا کا شکر‘ ہے کہ بھارت نے یہ نقاب اُتار پھینکا ہے اور وہ اپنے اُس چہرے کے ساتھ ظاہر ہورہا ہے جسے ہمارے ہاں پاکستان سٹڈیز کی کتابوں میں ظاہر کیا گیا تھا اور ترقی پسند عناصر اُس لب ولہجے پر اعتراض کرتے تھے۔ بھارت میں مسلمانوں کی شہریت کا راستہ بند کرنا اور دوسرے مذاہب کے لئے بازو کشادہ کرنا وہ تازہ اقدام ہے جس پر بھارت کے بعض ادیبوں نے احتجاجاً ادبی انعامات چیک سمیت واپس کردئیے ہیں۔ اُنہی میں ڈاکٹر یاور یعقوب بھی ہیں جو ہندو یونیورسٹی بنارس میں صدرشعبہ اُردو رہے، گویا اُن کا وجود اور کیرئیر رواداری کا مظہر تھا۔

جہاں تک  التفات ِ شاہ یا ادیبوں کے انعام و اکرام کا تعلق تھا،بادشاہ یا ولی عہد کے استاد ملک الشعرا ہوتے تھے مگر عتابِ شاہی نازل ہوتے بھی دیر نہیں لگتی تھی

جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

آج مابعد نو آبادیات تنقید کے دور میں ہم انگریزوں کے دور حکومت پر بڑے اعتراضات کرتے ہیں،مگر اس حقیقت پر پردہ نہیں ڈال سکتے ہیں کہ انہوں نے سر،رائے بہادر،یا خان بہادر کے خطابات میں تو ڈنڈی ماری ہوگی مگر جسے شمس العلما کا خطاب دیا،وہ ظالم شمس العلما ہی نکلا۔مگر آزادی کے بعد ہم نے ان انعامات کو بے توقیر کیا۔

یہی نہیں ہمارے ہاں علمی و ادبی اداروں کی سربراہی میں ہی غلط بخشیاں اکثر زیر بحث رہتی ہیں۔میں خود ایک ایسے ادارے کا سربراہ رہا،جہاں ادبی انعامات کے طلبگاروں،انہیں نوازنے والوں کی شرائط اوراکا دکا انہیں ٹھکرانے والوں سے بھی واسطہ پڑا۔مگر میں اکثر اقبال کے نام پر قائم اداروں،اکیڈیمیوں اور سنٹروں کے ذمہ داروں سے کہتا رہا کہ اقبال کی شاعری اور فکر کا ایک بڑا حصہ آپ سنسر کیوں کر دیتے ہیں؟ آپ خود کرتے ہیں،یا آپ کا خیال ہے کہ

دینِ ملا فی سبیل اللہ فساد

کہنے والے سے ملائیت کے پیروکاروں نے جو انتقام لیا،اس میں کیوں مددگار ہو گئے؟۔پاکستان میں نظریہ پاکستان کے نام پر ذہنی عقوبت خانے بنانے والوں نے فکر ِاقبال کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔تاہم اسی اقبال نے ”پیامِ مشرق“ میں قسمت نامہ ئ سرمایہ دارومزدور کے عنوان سے سرمایہ داری کے نظام پر قائم ورلڈ آرڈر کے جو خدوخال یاعہد نامہ پیش کیا ہے اس میں یہی ہے کہ ایک دنیا پروڈیوسرز کی ہے جو غریب صنعتی نظام کا جنجال اپنے گلے میں ڈالے ہوئے ہیں، اور ایک دنیا محنت کشوں اور کنزیومرز کی ہے جن کے لیے کلیسا، مندر اور معبد کی ازلی سریلی آوازیں وقف ہیں۔ جن املاک اور باغا ت پر مالیہ، آبیانہ، عشر اور ٹیکس دینا ہوتا ہے وہ بیچارے زراندوزوں کے حصے میں ہیں اور باغِ بہشت، سدرہ و طوبیٰ بے زروں کے لیے۔ مرغابی تذروکبوتر پہلے طبقے کے لیے اور ظل ہما اور شہپرِ عنقا دوسرے طبقے کے لیے۔اور پھر اس نظم کا کلائمکس یہ ہے کہ جب سرمایہ دار وسیع القلبی سے کام لے کر بے زرمزدور سے کہتا ہے کہ اس مٹی اور اس کے شکم میں چھپی معدنیات چلو میں لے لیتا ہوں اور اس زمین سے لے کر عرشِ معلی تک کا علاقہ تمہارے لیے ہے۔ چنانچہ اب یہ امر تعجب خیز یا تاسف انگیز نہیں رہتا کہ امریکہ کی کسی ریاست میں سمندری طوفان آتا ہے تو نقصان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور جب فطرت سونامی کی صورت میں انڈونیشیا میں چنگھاڑتی ہے، یا کشمیر اورکوئٹہ میں زلزلے کی صورت میں اپنا بے رحم چہرہ دکھاتی ہے تو لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور باقی بچے کھچے نیم جانوں کے سرہانے بیٹھا مذہبی طبقہ تلقین کر رہا ہوتا ہے کہ اپنے حقیقی اور مفروضہ گناہوں کے لیے توبہ واستغفار کریں۔ سومیرا نقطہ نظر ہے کہ دنیا میں بظاہر تبدیلیاں آئی ہیں مگر جوہری طور پر دنیا اسی طرح دو حصوں میں منقسم ہے۔ اس نقطہئ نظر کی پرکھ کے لیے ہم تخیلی طور پر ایک آزمائش کرسکتے ہیں۔وہ یوں کہ فرض کر لیجیے کہ وہ چند سچے لوگ اس دنیا میں دوبارہ پیدا ہوگئے، جنھوں نے اپنے نظریات کی صداقت کی خاطر زہر کا پیالہ پیا تھا۔ پھانسی پر جھولے تھے، سنگ سار ہوئے تھے، جلا وطن ہوئے تھے اور معتوب ٹھہرے تھے مگر مسلمہ طور پر ان کے نام تخلیقی دنیا میں فیض رساں رہے ہیں۔ کیا ہم میں سے کوئی سچ مچ یہ خیال کرتا ہے کہ ہماری یہ بدلتی ہوئی دنیا سقراط، منصور، سرمد اور منٹو سے کوئی مختلف سلوک کرے گی۔ سو میں بڑے ادب سے عرض کروں گا کہ اوزاروں، ہتھیاروں، حکمت عملیوں اور ایجنسیوں کے ناموں اور اثر پذیری کے فرق کے باوجود ایک دنیا سیانوں اور سورج مکھیوں کی ہے۔ جس میں صارفیت، آسودگی اور کامیابی وکامرانی کے اپنے طریقے اور معیارات ہیں۔ اور ایک دنیا ان معیارات سے انحراف کرنے والوں کی بھی ہے اور اس کی قیمت ادا کرنے والوں کی بھی ہے، جنھیں آپ ابنارمل کہیں، دیوانہ کہیں مگر وہ لوگ ہمیشہ سے ہیں اور ہر دور میں ان آفاقی قدروں کی حفاظت کرتے ہیں جنھیں زمینی حقائق کے نام پر موقعہ پرستی نامعتبر کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔

تاہم جیسے ذکر آیا کہ بعض ادبا کا مثالی طرز عمل ہمارے لیے سبق آموز بھی ہے جیسے مشتاق احمد یوسفی اور اجمل خٹک نے اپنے اپنے کمالِ فن ایوارڈ کی رقم(پانچ لاکھ روپے) مختلف اداروں کو دے دی۔ اسی طرح  2006میں احمد فراز، زاہدہ حنا اور چاردیگر اہلِ قلم نے اپنے اعزازات حکومت کو واپس کیے، یہ اور بات کہ بہت کم اہل قلم کی طرف سے کلمہئ تحسین آیا۔ ضیاء الحق کے دور میں ایوب خان کے زمانے میں بھی ادیب اوردانشوروں کے مشترکہ اعلامیے ’مردانِ آہن‘ کو خلجان میں مبتلا کرتے تھے۔ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ جب پاکستانی جنگی قیدیوں کی رہائی کے لیے کرشن چندر نے بھارت میں ادیبوں اور دانشوروں کی دستخطی مہم چلانے کا عندیہ ظاہر کیا تھا، تو بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ان سے رابطہ کر کے چند ہفتے توقف کرنے کو کہا تھا۔ اسی طرح پاکستان میں منٹو کی پچاس  ویں برسی پر بعض مزدور انجمنوں نے تقاریب کیں اور ان کے ایک ترجمان رسالے نے منٹو نمبر چھاپا، یہ کیا ماجرا ہوا۔ پاکستانی ادیبوں میں سے سب سے زیادہ معتوب اور مقہور افسانہ نگار سے استحصالی نظام میں ستائے جانے والا طبقہ والہانہ انسیت محسوس کرتا ہے؟۔ پس یہ بھی ثابت ہوا کہ ترقی پسند تنظیم نے بعض فیصلے ایسے بھی کیے جو ملائیت ہی سے سرزد ہوسکتے ہیں؟ آج فیض،شیخ ایاز،گل خان نصیر یا منٹو کے بعد کس کس کو یہ مقام ملا ہے کہ معاشرے کے ہکلے انھیں اپنی زبان خیال کر کے اس طرح بولیں کہ جن کے خوف نے انھیں فطری صلاحیت سے محروم کیا تھا، اپنی حکمتِ عملیوں اور وسائل کے باوجود نہتے ہوجائیں؟۔

Check Also

کورونا وبا میں تیسرا اداریہ 

  ہم کپٹلزم کے آخری بحرانوں میں سے ایک کے گواہ بن رہے ہیں۔آخری بحرانوں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *