Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » غزل ۔۔۔ نوشین قمبرانی

غزل ۔۔۔ نوشین قمبرانی

جو بَن کے چھاؤں کِھلے سفر میں فریبِ گْل کے وہ شاخچے تھے

جو خاک زاروں سے رِس رہے تھے وہ جستجووں کے آبلے تھے

 

زمیں پہ جادو بھری فِضا کا یہ المیہ تھا بنامِ حیرت

نظر شبستاں میں کھو گئی تو وہی توَہْم کے دائرے تھے

 

جو “کچھ” تھے اپنے مْخالفوں کے “کچھ” اور ہونے پہ سوختہ تھے

جو “کچھ نہیں ” تھے، نہیں کی سِیخوں سے اپنے سینوں کو داغتے تھے

 

وہ گرم جلتی ہوئی سلاخیں تھیں میری آنکھیں نکالنے کو

جو پھیلتے جا رہے تھے پیہم وہ خواب میرے ہی طاس کے تھے

 

جو  دْوریوں  میں مَرے تھے اْن کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں تھا

کوئی دِیا اْن کے نام کا تھا، نہ پھول تْربت کے واسطے تھے

Check Also

لفظ ۔۔۔حاجرہ بانو

زندگی کی راہوں میں لفظ ہی تھرکتے ہیں اس بہار گلشن میں لفظ ہی تو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *