Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » ادب اور کمرشلائزیشن ۔۔۔ ڈاکٹر منیر رئیسانی       

ادب اور کمرشلائزیشن ۔۔۔ ڈاکٹر منیر رئیسانی       

ادب اور شاعری کا دیگر تمام فنونِ لطیفہ کی طرح کمرشلا ئیزیشن سے تعلق متنازعہ لیکن قائم رہا ہے۔ ایک طرف لوگ سمجھتے ہیں کہ ادب اور شاعری ایک طرح کی الہامی اور مقدس شے ہے جسے جنس بازار بنانا یعنی حصولِ زر کے لیے استعمال کرنا غلط ہے۔ تخلیقی ادب کو خصوصاً کموڈٹی بنانا قابل اعتراض جانا جاتا ہے۔ دوسری طرف کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر موسیقی، مصوری، گلوکاری وغیرہ کو نان و نمک کے حصول کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے تو شعر و ادب کو کیوں نہیں؟ دونوں گروہوں کے لوگ صدیوں سے اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

آئیے دیکھتے  ہیں کہ ادب کا کمرشل استعمال کس طرح اور کن طریقوں سے ہوتا ہے یا ہوسکتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ادب کے کمرشل استعمال کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں اور اس کے فائدے یا نقصان کیا ہیں۔

ادب زمانوں تک قربِ شاہی کے حصول کا ذریعہ رہا ہے۔ دربارِ شاہی سے وابستگی شاعر و ادیب کے لیے حصولِ رزق اور بلند سماجی رتبے کا باعث بنتی تھی اور یہ روایت آج بھی مختلف رنگوں میں موجود ہے۔

دربار شاہی سے وابستگی شعر وادب کے سُچے پن پر کیا اثرات چھوڑتی ہے اسے واضح کرنے کے لیے درباری شاعر کی اصطلاح کافی ہے۔ بہت سے موضوعات پر خیال و فکر کی آزادی ختم ہوجاتی ہے۔ جسے اور رنگ زیب کی شاعر بیٹی نے یہ کہہ کر واضح کردیا تھا کہ:

نازک مزاج ِ شاہاں، تابِ سخن نہ دارد

البتہ جن موضوعات کو مزاجِ شاہاں برداشت کرتا ہے اور اُن سے لطف اندوز ہوتا ہے اُس میں ادیب اپنے کمالِ فن پر پہنچ سکتا ہے۔ اپنی صلاحیتیں اور فن پر اپنی دسترس دکھا سکتا ہے اور گیسوئے سخن سنوار سکتا ہے۔ اس کے بدلے میں اپنی معاشی اور سماجی حیثیت سدھار سکتا ہے۔ لیکن اس میں مجبوری یہ ہے کہ مرزا اسداللہ خان غالب جیسے شاعرِ سخن کو لال قلعہ تک محدود بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو شاہِ سلیمان جا اور کئے خسرو و داراب  و بہمن سے بڑا بادشاہ قرار دینا پڑتا ہے۔ بڑی بڑی نام نہاد ادبی کانفرنسیں کروا کر سرکار اور بڑے بڑے کاروباری اداروں سے پیسے کمانا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ ادب سے پیسے کمانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کتابیں جیسے ناول، شعری مجموعے یا افسانوں کی کتابیں چھاپ کر پیسے کمائے جائیں۔ یہ طریقہ باوقار لگتا ہے۔ لیکن اس میں شرائط بہت سی ہیں۔ مثلاً آپ جس معاشرے یا ملک سے تعلق رکھتے ہیں وہاں پر ادب کو کس حد تک زندگی کی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ وہاں پر تعلیمی اوسط کتنا ہے اور لوگوں کی قوتِ خرید کتنی ہے۔لوگ اپنی ضروری معاشی حاجتیں پوری کرنے کے بعد کتاب خریدنے کی کتنی قوت رکھتے ہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ کتنے لوگ آپ کے لکھے  ہوئے کو پیسے خرچ کر کے پڑھتے ہیں۔ عموماً یہی دیکھا گیا ہے کہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی لکھنے والا اپنی مرضی سے لکھ رہا ہے اور لوگ اسے خرید کر پڑھ رہے ہیں۔ یہ کہنا تو یقینا غلط ہے کہ پاپولر لکھنے والے اپنے دل کی آواز اور اپنی سوچ کے مطابق نہیں لکھتے لیکن معدودے چند کو چھوڑ کر زیادہ تر کو رائج الوقت پسندیدہ موضوعات اور سطح کے مطابق لکھنا پڑتا ہے۔ جن ممالک میں کتاب کلچر مقبول ہے اور لوگوں کی قوت ِ خرید اچھی ہے وہاں پر تو ایک ناول یا شاعری کا مجموعہ لکھنے والے کو مالا مال کرسکتا ہے لیکن جہاں کتاب کلچر موجود نہ ہو، لوگوں کی قوت ِ خرید کم ہو یا نہ ہونے کے برابرہو، قابل تحریر موضوعات محدود ہوں وہاں کتاب کا شائع ہونا ہی لکھاری کے لیے جاں گسل مرحلہ بن  جاتا ہے۔ کتاب کے بکنے سے آمدن کا خیال ہی مضحکہ خیز لگتا ہے۔ شعرا کے لیے ادب سے رزق کمانے کا ایک طریقہ غنائی شاعری بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن  یہاں بھی مسائل ہیں۔ مثلاً کوئی فلم انڈسٹری اور میڈیا کا موجود ہونا اور وہاں مواقع کا ملنا یا کسی اچھے گلوکار کا دستیاب ہونا۔ پھر یہ بھی ہے کہ غنائی شاعری میں آپ کس حد تک اپنے خیالات شامل کرسکتے ہیں۔ سوائے ساحر لدھیانوی، کیفی اعظمی اور چند اور لوگوں کے سب کو اپنے ادبی معیار اور مرتبے سے نیچے آنا پڑا ساحر نے ادب کی کمر شلا ئیزیشن کے کرب کو اپنی نظم فن کار میں خوب اجاگر کیا ہے۔

میں نے جو گیت ترے پیار کی خاطر لکھے

آج اُن گیتوں کو بازار میں لے آیا ہوں

ادب کو جنسِ بازار بنانے کی سب سے کریہہ صورت اور لکھنے والے کی بے بسی کی انتہاء گھوسٹ رائٹنگ ہے جب لکھنے والا اپنی تخلیق یا تالیف دوسرے فرد کو پیسوں کے عوض اس طرح بخش دیتا ہے کہ دوسرا فرد اسے اپنے نام سے لوگوں کے سامنے لاتا ہے۔ بہت سے لوگ ایسا کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو بصورت دیگر بڑے اور اہم نام ہیں۔ اقبال ساجد نے اسی لیے کہا تھا

کیا مِلا اقبال ساجدؔ ندرتِ فن بیچ کر

اب گزر اوقات کر دانتوں کا منجن بیچ کر

لکھنے والے کی مجبوری کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ کہ لوگ پیسے دے کر ان سے Thesisلکھواتے ہیں جو خریدنے والے کو مختلف ڈگریوں کے حصول کے لیے چاہیے ہوتے ہیں۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ زرکی مجبوری کے باعث اچھا لکھنے والے لوگوں نے فرضی نام سے سستی جذباتیت اور جنسی تلذذ پر مبنی کہانیاں لکھیں مثلاً ایک فرضی نام وہی وہانوی ہے۔ قلم کی ایک قیمت کالم نگاری کی صورت میں بھی موجود ہے۔ سب نہ سہی لیکن بہت سے کالم نگار تو صیف نگاری، بلیک میلنگ وغیرہ کی بنا پر صاحب زرِ کثیر بن گئے۔

اب ایک اور طرف نظر کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ادیب وشاعر کی ضروریات زندگی۔ چونکہ لکھنے والا بھی گوشت پوست کا بنا ہوا انسان ہے جو کہ معدہ رکھتا ہے۔ جسے بھوک پیاس بھی لگتی ہے۔ اسے لباس بھی چاہیے، رہنے کو چھت کی ضرورت بھی ہے وہ اپنے اہل خانہ کا کفیل بھی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا اسے پیسے کی ضرورت ہے۔ اب اس کی دو صورتیں ہیں پہلی یہ کہ اُس کے پاس حصول ِ زر کی کوئی اور صورت موجود ہو جیسے نوکری کا روبار، زمینداری وغیرہ۔لیکن اگر اُس کے پاس حصولِ زر کا واحد ذریعہ لکھنا  ہی ہے تو پھر وہ کیا کرے۔

یہ بڑا اہم سوال ہے۔

لکھنے والے سے ایک تو قلم کی حرمت کا تقاضہ ہوتا ہے اور اگر لکھنے والا انسان دوستی کے نظریے سے وابستہ ہے تو پھر اُس سے کھراہونے کی توقع کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اب قلم کی حرمت اور نظریے سے وفاداری نبھاتے ہوئے ضروریات زندگی کا حصول کیسے ممکن ہو؟۔

نمبر ایک قلم کی حرمت اور ضمیر کو بیچ دیا جائے، نمبر دو خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو مفلسی کی نذر کردیا جائے یا کوئی درمیانی صورت اختیار کر ے۔ تاریخ میں ہمیں تینوں کی مثالیں ملتی ہیں۔ عظمت انساں کی جدوجہد میں مصروف لکھنے والوں نے ہر قیمت پر اپنے خیال اور فکر سے اپنی وابستگی نبھائی ہے۔ اور کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔اسی طرح ماضی و حال میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ لوگوں نے لکھنے کی صلاحیت اور نظریے کو محض جنسِ بازار بناڈالا۔ جب کہ کئی لوگ حرمتِ قلم کو نبھاتے ہوئے ضروریاتِ زندگی حاصل کرتے رہے۔

باقی انسانوں کی طرح اہلِ قلم سے بھی خامیوں اور خطا سے مبرا ہونے کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔اگر کوئی قلم کو روزگار بناتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور اس پر کوئی قدغن نہیں ہونی چاہیے لیکن قلم کو زر کا غلام نہیں بنانا چاہیے۔زندگی اگر مسلسل کربلا ہے تو تلاشِ آب بھی برحق ہے بلکہ لازمی ہے۔لیکن کسی یزید کسی شمر کے آگے سر جھکائے بغیر۔

Check Also

سردار جعفری کی لکھنو کی پانچ راتیں ۔۔۔ نسیم سید

                بمبئی سے ڈیڑھ ہزار میل دو ر، پندرہ بیس ہزار کی آبادی پر مشتمل ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *