Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » محکوم طبقات کی دانشور: عابدرہ رحمن۔۔۔ شاہ محمد مری

محکوم طبقات کی دانشور: عابدرہ رحمن۔۔۔ شاہ محمد مری

ہمارا معاشی، سیاسی اور سماجی نظام فیوڈل اور پسماندہ ہے۔ ایسا نظام جو کہ سرکار، سردار اور خود سماج کی طرف سے بندشوں، پابندیوں اور سختیوں کے سیمنٹی چھلکوں میں لپٹا  نظام ہے۔اس کی ایک ہی بنیادی خاصیت ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ  اس کا ہر لمحہ شعورو تفکر کادم گھٹا دینے والا ہوتا ہے۔ فیوڈل نظام ہمہ جہت، خود کفیل اور ٹھوس نظام ہوتا ہے۔ اس قدر  ٹھوس کہ اس میں زندگیاں گزارنے والے لوگ چاہیں یا نہ چاہیں اِسی نظام کے زیرِ اثر گردن گردن ڈوبے ہوتے ہیں۔ ہم اسی نظام کا لباس پہنے ہوئے ہیں اور اسی کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ حتی کہ ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ، نظریات، فلسفے اور تنظیمیں اس نظام کو ڈھا دینے کا کام کرتی ہیں، وہ خود بھی اس کے کسی نہ کسی رنگ اور، بُو سے انفیکٹ ضرور ہوتی ہیں۔ یعنی جو لوگ اس نظام کی گھٹن سے نجات چاہتے ہیں، اُس کے خلاف جدوجہد بھی کر رہے ہوتے ہیں، ان کے نظریات، حکمت عملی اور اپروچ اس نظام کی چھینٹوں سے شاذونا درہی مبرا ہوتے ہیں۔ ان کے نظریات اور اپروچ کے لباس پہ اس کی چھینٹیں ضرور پڑتی ہیں۔ کسی پہ کم کسی پہ زیادہ۔ کوئی ایک شعبے میں میلا ہوجاتا ہے تو کوئی دوسرے حوالے سے۔

ایسے سَنگ معاشروں میں نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والوں میں صاف ستھرے رہ پانے والے لوگ یقینابہت باصلاحیت اور استثنائی ہوتے ہیں۔عابدہ رحمن،ایک ایسی ہی استثنائی انسان ہے۔

دراصل اس خاتون کا باپ عبدالرحمن اپنے زمانے اور حالات کے مطابق ایک روشن فکر انسان تھا۔وہ پولیس والا مردان کے شیر گڑھ کے ہاتھیان گاؤں کا رہنے والا یوسفزئی تھا۔ عبدالرحمان جوانی ہی میں بلوچستان آیا اور بلوچستان پولیس میں نوکری کے باعث یہیں کا ہو کر رہ گیا۔پوسٹنگ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دوسرے شہروں میں رہی۔ چنانچہ ساری زندگی یہیں گزار دی  اور پھر کبھی مردان واپس جانے کا نہ سوچا۔عابدہ رحمن یہیں پیدا ہوئی، 23مارچ1977میں۔

قدرت عابدہ پر بہت مہربان رہی۔ اس کے والد عبدالرحمن کے دل میں بچیوں کی تعلیم اور تربیت کا جذبہ موجود تھا۔چنانچہ والد نے عابدہ کو بھی پڑھایا۔ یوں 1993 میں اس نے میٹرک کر لیا،1996میں ایف ایس سی کی،اور 2001میں اس نے بلوچستان ایگلریکلچر کالج سے بی ایس سی آنرز زراعت میں کیا۔ اس نے 2004میں ایم اے پشتو بھی پاس کیا۔

پشتو چونکہ اُس کی قومی مادری زبان ہے اور اس میں اس نے ماسٹرز بھی کر رکھا ہے اس لیے اسے پشتو فوک اور کلاسیک پہ مکمل دسترس حاصل ہے۔اردو تو ویسے ہی لنگو آفر انکا ہے۔ انگلش اس کی اعلیٰ تعلیم کا میڈیم رہی ہے۔  وہ براہوی اور بلوچی کی شدبد بھی رکھتی ہے۔اس طرح وہ جدید علوم کے ساتھ ساتھ یہاں کے کلچر اور تاریخ سے اچھی خاصی شناسائی رکھتی ہے۔

عبدالرحمن کمال آدمی تھا۔ وہ اپنی بچیوں کو کالج یونیورسٹی تک تعلیم دلواتا تھا، اور اُن کی شادیاں اُن کی مرضی سے کراتا تھا۔ اُس نے، ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ معاشرے اور خاندان کی مخالفت کے باوجود کیا۔ذرا دیکھیے:سات بہنوں میں سب سے بڑی یعنی عابدہ مخلوط زرعی کالج سے گریجوئیٹ،گریڈ سترہ کی افسر ہے۔عائشہ مخلوط تعلیم والے زرعی کالج سے گریجوئیٹ  اور گریڈ سترہ کی افسر  ہے،عارفہ ایم اے سوشل ورکس ہے۔ عذرا نے ایم پی اے کیا اور سینیئر سائنس ٹیچرہے۔بحرالحیا، اور فاتحہ ایم ایس سی مائیکروبیالوجی کرکے ایم فل کررہی ہیں۔اور بشری نے ایم اے اکنامکس کیا ہے۔

وہ پولیس والا نہ صرف خود سیاست سے دلچسپی رکھتا تھا بلکہ وہ اپنے بچوں سے بھی سیاست پر گفتگو کرتا تھا۔وہ اُن کے لیے نئی باتیں، رسالے، نئے موضوعات اور کتابیں خرید کرلایا کرتا۔

اس نے اولاد کو اتنا اعتماد بخشاکہعابدہ  کتاب اٹھا کر اُسے رحمن بابا کی شاعری سناتی جاتی تھی اور وہ بیٹی کے لیے رحمن کی شاعری کی تشریح کرتا تھا اور اسے اس کے اشعار کی فکری گیرائی سمجھاتا جاتا تھا۔ ایسے، جیسے ایک سہیلی ہو۔ اب جس گھر میں شاعر رحمن بابا کا بسیرا ہو، اور جس خاندان کا سربراہ وسیع النظر عبدالرحمن ہو، تو بچوں پہ تو اُس کا بہت دور رس اثر ضرور ہوگا۔

مگر باقاعدہ سیاسی پراسیس سے گزرے بغیر ایک فیوڈل شہری کی روشن خیالی بھی دلچسپ ہوا کرتی ہے۔ایک مڈل کلاس سوچ جس میں سماجی معاملات میں ملّا کے کنجوس اپروچ کو تو مسترد کیا جاتا ہے۔ مگروہ خودمروج ریاستی بنیاد پرستی میں گردن گردن ڈوبا ہوتا ہے۔ ارسٹو کریسی کارواج دیا ہوا نیل سے کا شغر تک جھنڈے گاڑتے رہنے کا جذبہ۔ یہود وہنود کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے عزائم اور ایک ہٹلر یا خمینی جیسا تھوک کے حساب سے چوک میں پھانسی چڑھانے والے لیڈر کی خواہش۔ایسی مڈل کلاس جس کے لوگ ملّا کو برا بھلا کہتے ہوئے خود اندر سے کٹر ملّا ہوتے ہیں۔ ماڈرن ازم، کی بات بھی کرتے ہیں مگر ماڈرن ٹکنالوجی اور چندہ سعودیہ سے آنے والے جنگبازملّاؤں کی خدمت میں پیش کیاجاتا ہے۔

عابدہ رحمن اور اس کے خاندان کی خوش قسمتی تھی کہ انہوں نے مردان چھوڑ دیا اور ایک انجانے اور ناشناختہ علاقے چلے آئے۔ دیکھا جائے تو مردان ویسے بھی قبائلیت سے نکلا ہوا زرعی علاقہ ہے۔ اوراس کی کرخت وبے بخت فیوڈلزم کو بھی بڑے پیمانے کی اربنائزیشن،ملازمتوں،اور دور دراز کاروبار نے اچھا خاصا کھوکھلا کر کے رکھ دیا  ہے۔ مگر اس کے باوجود فیوڈلزم تو فیوڈلزم ہوتا ہے۔ غیرت، مردانگی، روایت اور رواج بہر حال ترک نہیں کیے گئے۔ اس لیے وہاں سے نکلنے سے خاندان بالخصوص خواتین کے نصیب کھل گئے۔چنانچہ خاندان کے اندر شادیوں کا رواج ختم ہوگیا۔بالخصوص عابدہ رحمن  جیسے پڑھے لکھے اور  ملازم پیشہ خاندان میں اُسے ختم ہونا ہی تھا۔

مخلوط تعلیم حاصل کرنے اور دنیا کو دیکھنے،جاننے کی سہولت کی دستیابی نے اِن لڑکیوں کو اعتماد و حوصلہ بخشا۔ چنانچہ چھوٹی بہن  عائشہ نے خود اپنے لیے  شریک حیات کو پسند کیا۔دنیا ادِھر سے اُدھر،مگر باپ نے عائشہ کے فیصلے کو تسلیم کیا اور اُس کی شادی وہیں کردی۔

عارفہ نے بھی اپنا فیصلہ خود کیا، اور باپ نے اس کاساتھ دیا۔ بشریٰ نے بھی اپنے پسند کا ساتھی چنا۔ایسا ہی اس نے بیٹوں کی شادی کے معاملے میں بھی کیا۔

عابدہ رحمن کا والد 2000ء میں ریٹائر ہوگیا۔ عائشہ اور عابدہ نے گھر سنبھالا۔ اور محدود آمدنی، بے شمار اخراجات کے باوجود اچھی گھرداری کی۔ عائشہ نے 2013میں شادی کرلی۔عابدہ ابھی تک ”بے گھر“ ہے۔

عابدہ کی ماں مومند تھی۔ روایتی ماؤں کی طرح اولاد سے پیار کرنے والی، بالخصوص نرینہ اولاد سے۔ لہٰذا(میں یوں تصور کرتا ہوں کہ) وہ سب کی طرح بچیوں کودوسرے درجے کی شہری قرار دیتی تھی۔

عابدہ کے چاروں بھائی اور ساری بہنیں اُس سے چھوٹی  ہیں۔

عابدہ کچھ اچھی انسانی اوصاف رکھتی ہے۔ وہ بہت ہمدرد انسان ہے۔ اپنے فکر اور نظریہ پہ قائم و دائم اور یک سُو۔عابدہ رحمن دانشورانہ لیڈر شپ کی خصوصیت رکھنے کے باوجود اچھی ٹیم ورکر ہے۔بحث مباحثے کی محفل میں تو ازن برقرار رکھنے کی زبردست اہلیت رکھتی ہے۔ اسی لیے وہ جمہوری تنظیموں کی سرگرم اورفعال ممبرہے۔

ادب کے میدان میں عابدہ رحمن کی آمد بغیر ہاؤہواور بغیر  گرج چمک کے ہوئی۔ کسی قسم کا شور شرابا، اورتشہیرو پروپیگنڈہ کیے بغیر وہ ادبی دنیا میں آن موجود ہوئی ۔ اس کا ناول ”صرف ایک پُل“آیا تو ہی دنیا کو خبر ہوئی کہ قلم کی گل بی بی کوہِ مہر دار کی چوٹی سے وادی میں طلوع ہوگئی۔

اُس کے بعد نہ تو وہ سستائی، نہ اُس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔نہ اُس سے  سنجیدہ اور  مطالعے کے قابل کوئی  کتاب سلامت بچی، اور نہ ہی اس نے قلم کی سیاہی  خشک ہونے دی۔وہ علم وشعور کی دنیا پہ ایسے چھپٹی جیسے بے زمین کسان کو بڑھاپے میں قطعہ ِ زمین ملے، جسے نادیدہ کو ہر بوئی کا خوبصورت منظر میسر ہو۔ جیسے متحرک مزدور کو ٹریڈ یونین ملے۔۔۔کیا ناول،کیا افسانہ، کیافلسفہ اور کیا معیشت!۔ وہ پڑھتی رہی، لکھتی رہی۔ ٹرانسلیشن کرتی رہی، اس نے کتابوں پہ تبصرہ نگاری شروع کی، علمی محفلوں سمیناروں پہ رپوتاژ لکھنے لگی۔ اس نے مقالے لکھے، مضامین کے انبار لگا دیے۔ اس نے حتی کہ شاعری کرنے کی بھی کوشش کی۔

یہ خاتون کسی بھی چوکھاٹ کی محدودیت میں نہ سما سکنے والے اپنی بے کراں تخلیقی صلاحیت کی طنابیں کھینچ کر رکھنے میں ناکام چلی آرہی ہے۔ نیچر اُس پہ مہربان کہ اس کی ہر تخلیق دلیل و مشاہدہ کے باوقار کپڑوں میں ملبوس سامنے آئی۔

عابدہ کی تحریر محض اس کے ذہن کی کتھار سز نہیں ہے۔ یہ  محض اس کے زرخیز دماغ میں تخلیق کی مچلتی ہرنی کو پُچکار نانہیں ہے۔بلکہ وہ ہر صنف سے انصاف بھی کرتی رہی۔ آپ کو کہیں بھی مشاہدے میں اُتھلاپن نظر نہیں آئے گا، کہیں منظر نگاری میں بخیلی نہیں دیکھیں گے آپ، کہیں کردار اپنا توازن نہیں کھودیتے۔ ہر فقرہ چبا کر نکلا ہوا، ہر خیال پراسیس سے گزارا ہوا۔

عابدہ رحمن میں پڑھنے کی عادت بھی عجیب ہے۔ ایک تو وہ تیز رفتار مطالعہ کرنے والی ہے۔ اُس پہ اگلی نعمت یہ ہے کہ وہ برق رفتار مطالعہ کو زود ہضم کرنے والی قاری ہے۔اور اس کا ہاضمہ خراب نہیں ہے۔چنانچہ وہ ہضم شدہ مقوی خوراک کو اپنی یادداشت کے خانے میں سنبھال کر رکھتی ہے۔

عابدہ مطالعہ برائے مطالعہ نہیں کرتی، بلکہ متعین اور منصوبہ بند موضوعات پہ منتخب کتاب ہی پڑھتی ہے۔ دوستوں سے اچھی کتابوں کے حصول کی ٹوہ میں لگی رہتی ہے ۔

وہ اس مطالعہ سے زبردست طور پر مستفید ہوتی ہے۔ اس لیے کہ  یاد داشت والا اُس کا بے مثال ہارڈ ڈسک اُس کا زبردست مدد گار رہا ہے۔

اُس کا مطالعہ اچھاہے، مطالعہ کا انتخاب توبہت ہی اچھا ہوتا ہے۔وہ تاریخ کو تاریخی میٹریل ازم کی عینک سے دیکھنے والا مواد پڑھتی ہے۔ وہ دنیا کی حرکت، سمت اور رفتار کو جدلیاتی قوانین کے تابع قرار دینے والا مواد پڑھتی ہے۔  اس نے عالمی کلاسیکی ادب خوب پڑھا ہے۔ انقلابات کی تاریخ اس کا محبوب موضوع ہوتا ہے۔

ہماری یہ دانشور طبقاتی نکتہ نگاہ رکھتی ہے۔ چیزوں کو، واقعات کو،اور  اُن کے اسباب وعلل کو جدلیاتی پیمانے سے جانچتی ہے۔ وہ عورت کی پست سماجی حیثیت کو بھی استحصالی طبقاتی نظام کے عینک سے دیکھتی ہے۔ اس لیے وہ بورژوا فیمنزم سے کوسوں دور ہے۔ وہ عورتوں کی پست سماجی حالت کو محنت کشوں کی ذلت و محکومی سے الگ نہیں سمجھتی۔ چنانچہ وہ عورتوں کے نجات کی تحریک کو کسانوں اور مزدوروں کی آزادی کی تحریک سے جوڑے رکھتی ہے۔ نہ صرف اپنی تحریروں میں،بلکہ تنظیمی طور پر بھی۔

بلوچستان کی دانشور خواتین میں عابدہ رحمن اب تک کی وہ واحد خاتون ہے جس کی سوچ میں زبردست کلیرٹی موجود ہے۔اُس کا اپروچ سائنسی ہے۔ وہ نیکی لکھتی ہے، خیر کی تبلیغ کرتی ہے، اتحاد و بھائی بندی کو فروغ دیتی ہے۔ وہ سماج میں قاعدہ قانون، عدل و انصاف اور برداشت ورواداری کی قلمکار ہے۔  اس کی تحریروں کی بنیاد میں آپ کو میٹیریلزم نظر آئے گا، غیر متز لزل اور مضبوطی کے ساتھ۔عابدہ نعرے بازی کے تیزو تند اور ہمہ وقت موجود سیلاب میں کبھی بہہ نہیں جاتی۔ اس کے قلم نے کبھی بھی اپنی طبقاتی عینک نہیں اتاری۔ فکر کی یہ کلیرٹی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے جو بہت کم لکھنے والوں کو نصیب ہوتی ہے۔

ایک اور امتیازی صفت اس میں یہ ہے کہ وہ اپنے دانش کو، اپنے قلم کو عوام کی تنظیم کاری اور اتحاد پر استعمال کرتی ہے۔ وہ روشن فکر تنظیموں کی متحرک ترین رکن و رہنما ہے۔ عابدہ رحمن برسوں سے سنگت اکیڈمی آف سائنسز سے وابستہ ہے۔ وہ سموراجہ ونڈ موومنٹ، دزگہار اور سنگت ویمن فیکلٹی کی بانیوں میں سے ہے۔ مستقل طور پر پچھڑے ہوئے طبقات بالخصوص عورتوں کو باشعور اور منظم بنانے پہ لگی رہتی ہے۔

اس نے شاعری بھی کی۔ زیادہ تو نہیں مگر اچھی شاعری کی۔اس کی نظم تو بالخصوص پڑھنے کے لائق ہے۔

اس کے علاوہ وہ بہت ہی خوبصورت انداز سے کتابوں پہ تبصرے لکھتی ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ وہ اب تک چالیس پچاس کتابوں کے ریویولکھ چکی ہے۔سٹائل بالکل نیا۔ زبان، لہجہ، ٹریٹمنٹ ہر تبصرے میں جداہے۔ حتی کہ اِن تبصروں کے ٹائٹل بھی اُس کے اپنے ہوتے ہیں۔ کمال کے عنوانات ۔یوں کہ اس کا تبصرہ محض زیرِ نظر کتاب پہ تبصرہ نہیں ہوتا بلکہ یہ تخلیقیت کا ایک الگ روپ دھار لیتا ہے۔کہیں وہ خواب دیکھنے کے انداز میں پوری کتاب بیان کرجاتی ہے تو کہیں اُس کتاب کو اپنا سفر نامہ بناتی ہے۔ یا پھر کسی اور لطیف انداز اپناتی ہے۔  میں تو کتابوں پہ اُس کے اِن تبصروں کو کتابی شکل دینے کی سفارش کروں گا۔ یہ سارے تبصرے ماہنامہ ”سنگت“ میں چھپتے رہے ہیں اور وسیع مقبولیت پاتے رہے ہیں۔

وہ ایک طویل عرصے تک رسالہ سنگت پہ بھی تبصرے لکھتی آرہی ہے۔ ایسے دور بین اور خوردبین تبصرے جو رسالے کو بہتر بنانے میں بہت معاون ثابت ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ عابدہ رحمن روشن فکر ادبی سیاسی انجمنوں کی تقریبات کی رپورٹیں اپنے مخصوص خوبصورت انداز میں تحریر کرتی  رہتی ہے۔یہ رپورتاژ سنگت اکیڈمی، بلوچستان سنڈے پارٹی، سموراجہ  ونڈ تحریک اور دزگہار کی میٹنگوں، سیمیناروں اور کانفرنسوں کے ہوتے ہیں۔

تحریر میں وہ کبھی بھی یکسانیت کا شکار نہیں ہوتی۔ ہر بار وہ اس کا اسلوب اورطرز بدل ڈالتی ہے۔کہیں وہ پنجابی زدہ لہجہ استعمال کرتی ہے تو کبھی دیکھو تو خاص کوئٹہ کی اردو مکمل عبور کے ساتھ استعمال کررہی ہے۔  وہ بہت عرق ریزی کے ساتھ اِن تنظیموں کے فنکشنز اور میٹنگوں کی رودا دلکھتی ہے۔۔۔مزیدار سے ، چٹپٹے سے۔ کچھ کچھ مزاح،کچھ کچھ لطافت، اور کچھ نیانیا۔

اس نے ترجمے بھی کیے ہیں۔ اس میدان  میں اُس کا سب سے بڑا کام کرشن چندر کے آفاقی ناول ”غدار“کو پشتو میں ترجمہ کرنا ہے۔ اُس نے اس ناول کو اُس کی اصل روح کے ساتھ ترجمہ کیا۔ جس طرح ناول سادہ زبان میں لکھا گیا، اُسی طرح کی سلیس اور عام فہم پشتو، مترجم نے استعمال کی ہے۔  ترجمہ کی یہ کتاب سنگت اکیڈمی کی طرف سے چھپی اور پسند کی گئی۔

علاوہ ازیں اس نے عورتوں کے بارے میں کلاراز ٹیکن اور لینن کے بیچ گفتگو پہ مبنی کتابچہ کو بھی پشتو میں ترجمہ کیا جس نے ابھی اشاعت کے مراحل سے گزرنا ہے۔

اسی طرح اُسے براہوی میں اچھی خاصی شُد بد حاصل ہے۔ اس نے توکّل کی اتنی بڑی چھلانگ ماری کہ براہوی شاعری کا منظوم ترجمہ تک کرنے لگی۔

اُس کے افسانے اخبارات ورسائل میں چھپتے رہے ہیں اور پذیرائی پاتے رہے ہیں۔ ماہنامہ سنگت تو خیر اُس کے فکری قبیلے کے گھر کا رسالہ ہے۔ لہذا وہ یہاں تسلسل سے چھپتی رہی۔

عابدہ رحمن کے افسانے روشن فکری اور وسیع النظری کے عطر میں بھگوئے ہوتے ہیں۔  اس نے خاندانی اور گھریلو موضوعات سے لے کر عالمی دہشت گردی تک (معاشی اور عسکری دونوں) ہر بشری موضوع پہ لکھا۔وہ اپنے افسانوں میں سماجی انصاف، صنفی جمہوریت اور طبقاتی برابری کی ضرورت کی بات کرتی ہے۔ لیکن اس انداز میں کہ فنی اور جمالیاتی پہلو نظر اندازنہ ہوں۔ اس کے افسانوں میں تقریر اور تبلیغ نہیں ہوتی۔ کردار کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس کے افسانوں کا اختتام ہمیشہ سبق آموز ہوتا ہے۔

اس کا افسانوی مجموعہ ”بارش کے قطرے“ کے نام سے چھپنے والا ہے۔میں نے اُس کا مسودہ پڑھا۔یہ کتاب سولہ افسانوں پر مشتمل ہے۔ یہ افسانے ہیں:حاجی ابنِ حاجی، کا نچ کی گڑیا، بارش کے قطرے، سفر کی دھول، میلی چادر، مسکراہٹ کے چند ذرے، بانجھ، ساتواں نمبر، ماہی  بے آب، مکٹری کا جالا، برائے فروخت، زرد پتوں کا بن، میں گروی میرا تن گروی، امر بیل ماہکان اور پرچھائی۔

اُس کے افسانوں میں کوئی موٹے لفظ اور مشکل جملے نہیں ہوتے۔ عام آدمی کے ارد گرد کی عام زندگی۔ وہ اُس عام آدمی کی زندگی سے وابستہ باتیں لکھتی ہے۔ نہ تو وہ ذات کی صلیب اٹھائے پہاڑیاں چڑھتی جاتی ہے اور نہ ہی متن کی باجگذاری کرتی ہے۔ ظاہر ہے جب وہ کتاب چھپنے کو بھیجتی ہے تو دوسرے فریق یعنی قاری (عوام)کے لیے ایسا کر رہی ہوتی ہے۔ اور جب قاری بیچ میں آجائے تو وہ مصنف کو پڑھے گا ہی اُس وقت، جب وہ اُس میں اپنی دلچسپی کی کوئی چیز دیکھے گا۔ ایسا موضوع، کوئی تجربہ، مشاہدہ، مطالعہ اور نچوڑ جو قاری کے فائدے کا بھی ہو۔

وہ اپنے افسانوں میں یہ بھی دکھاتی ہے کہ گوادر کا ماہی گیر غیر ملکی ٹرالروں کے ہاتھوں بے روزگار ہوجاتا ہے۔بغیر ٹریڈ یونین اور کلاس سیاسی پارٹی کے وہ ماہی گیر کوئی حل نہیں دیکھتا توپھر وہ ٹرالر جلاڈالتا ہے۔ اور یہ بھی لکھتی ہے کہ انسانوں کی صلاحیتوں کے نشوونما میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے تو بشر کی بھلائی کے کام سہل اور سرعت پاتے ہیں۔

وہ اپنے قاری کا انتخاب بھی خود کر جاتی ہے۔عابدہ لوئر مڈل کلاس کے لیے لکھتی ہے، یا اُن دانشوروں، سیاسی ورکروں کے لیے جو ”سب اچھا ہے“ والے نہ ہوں۔ اور سچی بات یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے پہلے نصف کے بلوچستان کے لیے اشد اہمیت ہی اسی بات کی ہے۔

ہر سماج میں ایک ”چُھپایا“ ہوا جہاں بھی موجود ہوتا ہے۔ وہاں اشیا اور مظاہر کے نام، اصطلاحات، محاورے استعارے سب عمومی سماج کے لیے نا آشنا ہوتے ہیں،شرافت میں خلل ڈالتے ہیں۔

اُس ”چُھپائے“ ہوئے جہاں میں کِھسکے ہوئے لوگ ہی دھڑلے سے جاسکتے ہیں۔ عابدہ کبھی کبھی ”ممنوعات“‘ کے میدان میں بھی جا کُودتی ہے۔ میں نے اُس کے ایسے سارے افسانے آخر میں پڑھے۔ اس خوف سے کہ وہ کہانی نبھانہ پائے گی۔ ہماری افسانہ نگار ”بارش کے قطرے“ نامی افسانہ میں اُسی جہاں کے  فلسفہ کا نچوڑ لکھ آئی ہے۔ اور وہ ایک حد تک کامیاب ہی آئی ہے۔ بھئی جس جہاں کا بادشاہ ڈائی سن کارٹر، منٹو اور ساحر ہوں وہاں تو قدم رکھنا بھی بہادری کا کام ہوتاہے۔ عابدہ بہادر انسان ہے۔

اس کے کیر یکٹر بھی اُس  کے قارئین کی طرح عموماً مڈل کلاس کے پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں۔ اور اُس صورت میں خدشہ رہتا ہے کہ شہری مڈل کلاس ذہنیت اپنے اثرات تحریروں میں ڈال نہ دے ۔ مگر عابدہ کا کمال یہ ہے کہ  وہ مڈل کلاس کی ہوائی اور تخیلاتی روما نٹسزم کا شکار نہیں ہوتی۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ عابدہ رحمن اردو میں لکھتی ہے۔ اس لیے فطری بات ہے کہ اُس کی تحریروں میں اردو اپنے پس منظر کے ساتھ موجود ہوگی۔ جہاں دیہات سے لاتعلقی اور شہری مزدور طبقہ سے بے رخی سب سے بڑے مظاہر ہیں۔ ہم کبھی کبھی اس کے افسانوں میں یہ رنگ وبو محسوس بھی کرجاتے ہیں۔ کتنا اچھا ہوتا اگر اس کی تحریروں کا آب و گِل اور قالب وڈھانچہ مکمل طور پر بلوچستان کی دھرتی سے لیا جاتا۔

کپٹلزم کی دنیا بہت پرکشش، پُر فریب، اور کنفیوز کرنے والی دنیاہے۔توجہ ہٹانے  اور بھٹکانے کو گھڑی گھڑی ایک نئی تھیوری، ایک نئی اصطلاح اور  ایک نیا موضوع مارکیٹ میں پھینک دیا جاتا ہے، اور کرائے کے دانشوروں کو اُس پر چھپٹنے بھنجھوڑنے پہ لگایا جاتا ہے۔ تب ناپختہ جینوئن لوگ بھی ”کلاس تضاد“ سے ماورا چیزوں میں لگ جاتے ہیں۔اور اگر بالخصوص مزدور طبقے کی تحریک موجود نہ ہو تو خود کو فکری طور پر برقرار رکھنا بڑا مشکل ہوجاتا ہے۔سامنے کہیں سبالٹرن تھیوری بن ٹھن کر کھڑی ہوتی ہے تو کہیں بے مقصد یت میں لپٹے وجودیت وماڈرن ازم۔ کرنے کو کچھ نہ ہو تو فراغت ازم کے کئی ماسک پہننے کو موجود ہوتے ہیں۔

بے شمار نوجوان دانشوروں کی طرح عابدہ رحمن کو بھی یہ چیلنج درپیش ہے کہ وہ کس طرح چمک اور چھنکار کو نظر انداز کرتے ہوئے عوامی نجات کی منزل کے چراغ پہ ہی توجہ مرکوز کیے رہے گی۔ زبردست مطالعہ، نچلے طبقات کے ساتھ گہری وابستگی اور اچھی باوقار تنظیم اُس نوبل کمٹ منٹ کی پاکیزگی کے دوام کی ضامن ہیں۔

تمنا ہے کہ عابدہ رحمن کے قلم میں برکت، تحریروں میں تاثیر، اور عوامی وابستگی میں استقامت ہو!!۔

Check Also

سردار جعفری کی لکھنو کی پانچ راتیں ۔۔۔ نسیم سید

                بمبئی سے ڈیڑھ ہزار میل دو ر، پندرہ بیس ہزار کی آبادی پر مشتمل ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *