Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » صفدر صدیق رضیؔ

صفدر صدیق رضیؔ

کئی تقاضے تھے قلب و نظر کے بُھول گیا
میں زندگی میں بس اک عشق کر کے بھول گیا
ہوا کی سانس بھی پہروں رُکی رہی کل رات
چراغ میں بھی ہتھیلی پہ دھر کے بھول گیا
کہاں تلاش کروں گمشدہ محبت کو
میں یہ خزانہ کہیں دفن کر کے بُھول گیا
مجھے خبر تھی کہ اب نیند پھر نہ آئے گی
میں گہرے خواب میں اک شب اُتر کے بُھول گیا
وہ چھت جو سر پہ تھی اب تک اسے بُھلا نہ سکا
تو پھر میں کیوں درو دیوار گھر کے بُھول گیا
اگر چہ شہد گُھلا تھا کسی کی باتوں میں
مگر میں زہر کے دو گھونٹ بھر کے بُھول گیا

 

Check Also

یہاں خوش گمانی کا راج تھا  ۔۔۔  ازہر ندیم

یہاں آرزوؤں کی سلطنت تھی بسی ہوئی یہاں خواب کی تھیں عمارتیں یہاں راستوں پر ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *