Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » شانتا بخاری ۔۔۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد

شانتا بخاری ۔۔۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد

کامریڈ شانتا کی پہلی اور آخری پہچان ایک انقلابی سیاسی کارکن کی ہے جن کو یاد کرنا صرف ایک فرد کو یاد کرنے کے مترادف نہیں ہے بلکہ اُن کا ذکر غور و فکر اور سوچ بچار کے بہت سے دَر وا کرتا ہے۔ گزشتہ رات جب میں کامریڈ شانتا کے حوالے سے اُس مواد کا مطالعہ کررہا تھا جو محترم مکرم سلطان بخاری نے مجھے عنایت کیا تھا تو ان تحریروں کو پڑھتے وقت بار بار فیض صاحب کی معروف نظم”ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے“ لوحِ ذہن پر تازہ ہوتی رہی۔ یہ نظم کیا ہے ہم جیسے ملکوں کے سیاسی کارکنوں کی آزمائشوں اور قربانیوں پر ایک دل دوز تبصرہ ہے۔

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم

دارکی خشک ٹہنی پہ وارے گئے

تیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم

نیم تاریک راہوں میں مارے گئے

 

لب پہ حرفِ غزل، دل میں قندیلِ غم

اپنا غم تھا گواہی تِرے حسن کی

دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

شانتا بخاری کے بارے میں ہم اب تک بہت کچھ سن چکے ہیں۔ ان کے بارے میں کچھ مضامین چھپے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اپنی یادداشتوں میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ ان کے فرزند مکرم سلطان بخاری صاحب نے سندھی  میں ان پر ایک کتابچہ بھی مرتب کیا ہے جس کا اردو میں ترجمہ کروالیا گیا ہے جو جلد شائع بھی ہوگا۔

یہ بات تو طے ہے کہ جو راستہ شانتا بخاری نے اپنے لیے منتخب کیا تھا وہ ساری عمر بڑے خلوص اور وابستگی کے غیر معمولی احساس کے ساتھ اس پر گامزن رہیں۔ان کی کہانی اس وقت اور بھی زیادہ قدروقیمت کی حامل بن جاتی ہے جب ہم اس کو دیگر بیسیوں کارکنوں کی کہانی کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہیں۔ تب ہمارے ماضی کی سیاسی تحریکوں کے پیچ و خم، قربانیوں کا سیلِ رواں، سماجی شعور کے ابھار کے رجحانات، کامیابیوں اور پھر ناکامیوں سبھی کا ایک زیادہ بھرپور منظر نامہ ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ شانتا بخاری اور ان جیسے دیگر کارکنوں کی کہانیوں کے تناظر میں بہت سے سوالات اجاگر ہوتے ہیں۔ ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے نکلیں تو ماضی کی سیاسی روش، ریاست اور معاشرے کے احوال، حکومتوں کی پالیسیوں اور ترقی پسند جماعتوں اور تنظیموں، سبھی کے حوالے سے سوال در سوال کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے سوال ہمیں بڑے سوالوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ آج جن سیاسی کارکن کے حوالے سے گفتگو ہورہی ہے ان کا موضوع بھی ہمیں چھوٹے سے بڑے سوالوں کی طرف لے کر جائے گا۔

شانتا بخاری کی قابلِ تعظیم جدوجہد کا خلاصہ تو یہ ہے کہ انہوں نے انتہائی غربت کی آغوش میں آنکھ کھولی۔ ان کے والد ایک درزی تھے۔ والدہ ان کو جنم دیتے وقت جہانِ فانی سے کوچ کرگئیں۔ شانتا کی پرورش کی ذمہ داری ان کی نانی اور پھر خالہ نے پوری کی۔ راجھستان کے ایک قصبے’کوٹا بوندی‘ میں جنم لینے والی شانتا بخاری کو جلد ہی عملی زندگی کی تلخیوں سے سابقہ پیش آیا۔ ان کی خالہ ایک ٹیکسٹائل مِل میں کام کرتی تھیں۔ وہیں وہ اپنی بھانجی کو بھی ساتھ لے کر جانے لگیں۔ شانتا کی تعلیم پانچویں جماعت تک ہو پائی، باقی تعلیم انہوں نے درسگاہ میں نہیں بلکہ عملی زندگی کی سنگلاخ زمین پر بیٹھ کر اور حالات کے تھپیڑوں کا سامنا کرکے حاصل کی۔ یوں بہت کم عمری میں ہی ان کو محنت کی عظمت کا احساس ہوا اور ساتھ ہی یہ بھی کہ انسان کی قوتِ محنت کس طرح اُس کے استحصال کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔ بہت کم عمری ہی میں انہوں نے محنت کشوں کے مسائل کوبھی دیکھنا شروع کر دیا۔ اسی کمسنی میں انہیں تنظیم سازی کے بارے میں بھی ابتدائی باتیں پتا چلیں۔ سولہ سال کی عمر تھی جب کامریڈ جمال الدین بخاری سے تعارف حاصل ہوا۔ یہ تعارف بالآخر دونوں کی شادی پر منتج ہوا۔ وہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے شریک حیات ہی نہیں، نظریاتی منزلوں کے رفیقِ سفر بھی بن گئے۔ جمال الدین بخاری ایک انقلابی حیثیت سے ہندوستان میں جانے پہچانے جا چکے تھے، قید وبند کے مراحل سے بھی گزر چکے تھے، تقسیم ہند کے بعد اسیری کی مزید آزمائشیں ان کی منتظر تھیں۔1948میں شانتا بخاری نے اپنے دو بچوں کے ساتھ احتجاج کا ایک نیا اسلوب اختیار کیا، وہ وزیر اعلیٰ اور چیف سیکریٹری کے سامنے یہ کہتے ہوئے مائل بہ احتجاج ہوئیں کہ اگر ان کے شوہر کو رہا نہیں کیا جاسکتا تو ان کو اور ان کے دونوں بچوں کو بھی جیل بھیج دیا جائے۔

۰۵۹۱ء میں کامریڈ جمال الدین بخاری کی رہائی عمل میں آئی۔ سندھ کی معروف سیاسی شخصیت قاضی فضل اللہ جو کامریڈ بخاری کے ہم جماعت رہے تھے اور لاڑکانہ سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے کامریڈ بخاری کو مشورہ دیا کہ وہ لاڑکانہ آجائیں۔ سو شانتا بخاری کی زندگی کا بڑا حصہ لاڑکانہ میں گزرا۔ انہوں نے جب تک وہ کمیونسٹ پارٹی میں فعال تھیں تب بھی اور بعد میں بھی جب وہ سیاسی میدان میں زیادہ سرگرم نہیں رہیں، انہوں نے سماجی نوعیت کی خدمات کے میدان سے خود کو الگ نہیں کیا۔ انہوں نے گھریلو خادماؤں کی تنظیم سازی کی، خاکروب عورتوں کو منظم کیا، چوڑی سازی کی صنعت سے وابستہ عورتوں کا پلیٹ فارم بنایا، سوت کاتنے والی عورتوں کی انجمن سازی کی، دائیوں کو اکھٹا کیا، غرض خواتین کے بہت سے وہ پیشے جو محنت و مشقت کے ذیل میں آتے ہیں، مگر جن کی طرف عام طور پر ہماری توجہ نہیں جاتی، کامریڈ شانتا نے ان تمام شعبوں سے وابستہ عورتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بِنا ڈالی۔ کیا یہ بجائے خود ایک غور طلب اور فکر انگیز بات نہیں ہے کہ جب ہمارے ملک میں سیاسی، جمہوری اور انقلابی حرکت پذیری کا دور دورہ تھا، اس وقت جمہور کی صفوں میں کام کرنے کے کیسے کیسے پہلو اور کیسے کیسے اندازِ کار سامنے آتے تھے۔ سیاست خاموش ہو تو ہر طرف خاموشی ہی خاموشی نظر آتی ہے۔ نہ کوئی سوال نہ کوئی جواب، نہ کوئی حرکت اور نہ ہی اس کا کوئی رد عمل، نہ کوئی غزل اور نہ ہی جوابِ غزل۔ غیر سیاسی معاشرے اپنی ہی صدائے باز گشت کے معاشرے ہوتے ہیں۔ پچھلے دنوں کسی نے کیاخوب تبصرہ کیا کہ ہمارے ۰۸، ۵۸ ٹی وی چینلز اِن دنوں پی ٹی وی بنے ہوئے ہیں۔ معاشرے میں سیاست زندہ ہو تو ہر قسم کی حرکت پذیری جنم لیتی ہے، اپنے اظہار کے طریقے وضع کرتی ہے اور معاشرے کو آگے لے کر جاتی ہے۔ اقبال نے ایسے ہی تو نہیں کہا تھا کہ

غلامی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اِک جوئے کم آب اور آزادی میں اِک بحرِبے کراں ہے زندگی

کامریڈ شانتا اور اپنے ماضی کے دوسرے سیاسی کارکنوں کی انفرادی کہانیوں کو پرخلوص خراج تحسین پیش کرنے کے بعدآئیے اب ہم چند لمحوں کے لیے ان سوالوں کو ذہن میں محفوظ کرلیں جن کا جواب آج ہی ضروری ہے اور آئندہ بھی اس وقت تک ضروری رہے گا جب تک کہ ان کے بارے میں ہمارے ذہن مطمئن نہیں ہوجاتے۔

پہلا سوال تو یہ ہے کہ وہ بے لوث سیاسی کارکن جن کی قربانیوں سے ہماری تاریخ کے صفحے روشن ہیں اب ہمیں خال خال ہی کیوں نظر آتے ہیں۔ ہماری سیاسی جماعتوں کے مزاج بدل چکے ہیں یا پوری بساطِ سیاست ہی کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ نظریاتی سیاست جو کارکنوں کو فعال رکھتی تھی ان کو مستقبل کے آئیڈیل فراہم کرتی تھی، جس کی وجہ سے وہ قربانیوں پر آمادہ رہتے تھے، اس وقت نظریاتی سیاست کا دور کیونکر ختم ہوا، کیا آج کے بدلے ہوئے سیاسی منظر نامے کی اساس اور بنیاد ی اسباب صرف ہمارے ملک میں اپنی بنیادیں رکھتے ہیں یا کچھ عالمی منظر نامے کی تبدیلی نے بھی ہماری نئی صورت حال پر اثر ڈالا ہے۔ان عنوانات سے بہت طویل گفتگو ہو سکتی ہے۔ بہت اختصار سے کہاجائے تو یہ کہنے پر اکتفا کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں آنے والی فوجی آمریتوں نے معاشرے کو غیر سیاسی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان فوجی آمریتوں نے ملک کے آئین کوبار بار توڑا۔ جب کبھی انہیں آئین کو یکسر رد کرنے کی ضرورت پیش نہیں بھی آئی تب بھی انہوں نے آئین شکنی جاری رکھی۔ جس کے نتیجے میں وہ ادارے بھی رفتہ رفتہ مضمحل ہوگئے جن کے سہارے بہتری کی کچھ امید قائم کی جاسکتی تھی۔ بنیادی حقوق پر ایک پورا باب آئین میں شامل ہے لیکن ان حقوق کا عملاً ہماری زندگی میں کوئی گزر نہیں۔ طالبعلموں کی انجمنیں ختم کردی گئیں، ٹریڈ یونینز کو غیر فعال بنا دیا گیا، حقوق کے حصول کے لیے جہاں جہاں سے آواز اٹھائی جاسکتی تھی وہاں قدغنیں عائد کردی گئیں۔ یہ پہلا آپریشن تھا۔ اگلے مرحلے میں سرکاری پالیسیوں، معاشی حکمت عملیوں اور زرائع ابلاغ سے متعلق منصوبہ بندی کے ذریعے ملک میں ایک ایسی صارفانہ معیشت کو عام کردیا گیا جس میں ہر کسی کی کوشش اول و آخر یہی ہے کہ وہ کس طرح سے اس معیشت کا حصہ بنے۔ اس معیشت پرستی(Economism) کو عالمی سرمایہ دارانہ رجحانات نے اور بھی زیادہ ناگزیر اور مستحکم بنا دیا ہے۔ ملک میں ایسی اسٹیبلشمنٹ تقریباً آغازِ کار ہی میں وجود میں آگئی تھی۔ جس نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ اس کی نت نئی شرائط کے ساتھ مل کر چلنے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کا ایک تاریخی تجربہ حاصل کرلیا ہے۔ اب اس اسٹیبلشمنٹ کو آئی ایم ایف اور عالمی بینک ہی کے ساتھ مل کر چلنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی حکومت یا جمہوریت اس کے لیے ایک تکلف ہی ہے۔ اس تکلف سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اس کو زیادہ سے زیادہ ایسے سیاسی چہرے اور جمہوری نقاب چاہیے ہوتے ہیں جن کے پیچھے اصل چہرے بھی چھپ جائیں اور دوسری طرف سے دیکھنے والوں کو کچھ نہ کچھ سیاسی نظر بھی آتا رہے۔

سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کو کہ جسے حبیب جالب صاحب ذہن کی بھول اور کھلے جھوٹ سے تعبیر کرتے تھے، اس سے کس طرح عہدہ برآ ہوا جائے۔ بات پھر وہیں پہنچتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ جب تک اس بربریت اور استحصال پر استوار نظام کو اس کی بنیادوں کے ساتھ نظری اور عملی دونوں اعتبار سے ہدف نہیں بنایا جائے گا، چاہے اس کے لیے حکمت عملی کوئی بھی وضع کی جائے، وہ قلیل المدت ہو یا طویل المدت، اس کے بغیر اصلاحِ احوال کا کوئی راستہ ممکن نہیں۔ ریاست و سیاست اور معیشت کی از سرِ نو تشکیل ہی سے نجات کی سمت سفر کا آغاز ہوسکتا ہے۔ اس طویل اور مشکل سفر کی شروعات میں ہی اور اس کے ہر مرحلے پر شانتا بخاری جیسے کارکنوں کی ضرورت درپیش ہوگی۔ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔

Check Also

روشن فکری کا جہانِ نو ۔۔۔ صلاح الدین شہبازی

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود روشن فکری کی صراطِ مستقیم پر نئی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *