Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » روشن فکری کا جہانِ نو ۔۔۔ صلاح الدین شہبازی

روشن فکری کا جہانِ نو ۔۔۔ صلاح الدین شہبازی

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود

روشن فکری کی صراطِ مستقیم پر نئی تسبیح اور نئے ورد کی ضرورت

ایک عرصے سے قوم کو دو بڑے اور بنیادی چیلنج درپیش ہیں۔ ایک معاشی تنزلی اور دوسرا اخلاقی تنزلی۔ یہ حوالہ قوم کو مضطرب کر دیتا ہے کہ اس پر قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، غیر ملکی قرض 115 ارب ڈالر اور اندرونی قرض اس سے بھی زیادہ ہے۔ ان قرضوں کی وجہ سے دنیا میں بدنام الگ ہو رہے ہیں۔ آئے روز کی بڑھتی مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں، ہر جانب دُہائی ہی دُہائی ہے۔ اخلاقی دیوالیہ نکل چکا ہے۔ قوم اوپر سے نیچے تک جھوٹ، دھوکہ، بددیانتی، لوٹ مار، رشوت، چور بازاری اور قانون شکنی جیسے جرائم کے سرطان میں مبتلا ہے۔ غرضیکہ ’پاک قوم‘ میں نہ پاک معاش ہے اور نہ پاک اخلاق۔

سوال یہ ہے کہ ان پستیوں اور اس کینسر کا موجب و سبب ِاوّل کیا ہے؟  یہ تنزل اور زوال شروع کہاں سے ہوا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے سرے سے ترقی اور عروج کا راستہ اختیار ہی نہ کیا ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ المیہ شروع پاکستان کے ساتھ ہی چلا آ رہا ہے کہ ہمارے اربابِ حل و عقدنے عاقبت اندیشی سے کام لیتے ہوئے زمانہ کا رُخ نہ پہچانا۔ تدبر اور بصیرت کے ساتھ ادھر کو نہ چلے جو معاشی ترقی کا اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ تخلیق کرنے کا راستہ تھا۔ معاشی ترقی کے عوامل کو بروئے کار نہ لایا گیا۔ عالموں اور حاکموں نے ایسی تعلیمی اور معاشی پالیسیاں نہ چلائیں کہ جن سے ملکی پیداوار اور دولت میں بیش از بیش اضافہ ہوتا۔ قوم امیر و خوش حال ہوتی اور ملک سربلند و طاقت ور ہوتا۔ ہمارے راہ نما نہ خود ترقی پسند بنے اور نہ قوم کو ترقی پسندی کی صراطِ مستقیم پر چلایا، جبکہ ترقی پسندی کا راستہ ہی یہ بتاتا ہے کہ یہ زمانہ سائنس و ٹیکنالوجی کی اقتصادی فتوحات کا زمانہ ہے۔ ترقی پسندی کو چھوڑ کر دوسری راہ ظاہر ہے تنزلی کی راہ تھی۔ آج کی معاشی و اخلاقی تنزلی اسی کل کا تسلسل ہے۔ معاشی زوال لازماً اپنے ہمراہ اخلاقی زوال لا کر رہتا ہے۔ معیشت اور اخلاق کے باہمی لزومی اور جوابی و وجوبی تعلق پر شاہ ولی اللہ ؒکے حوالے سے قاضی جاوید لکھتے ہیں: ”شاہؒ کے افکار سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ معیشت وہ اساس ہے جس پر تہذیب کی بلند و بالا عمارت تشکیل پاتی ہے۔ ان کے نزدیک اخلاقی اقدار کا تعین مادی صورتِ حال سے ہوتا ہے۔ اور مادی صورتِ حال کی تشکیل میں معاشیات بنیاد کا کام دیتی ہے۔ (البدور بازغہ)

اسی ضمن میں شاہؒ صاحب کی ایک کوٹیشن، مثال اور ایک رہنما قول کی حیثیت رکھتی ہے۔ فرماتے ہیں: ”انسانیت کے اجتماعی اخلاق اس وقت برباد ہو جاتے ہیں جب کسی جبر سے ان کو اقتصادی تنگی پر مجبور کر دیا جائے۔۔۔

شہر ہوں یا دیہی دنیا، یورپ اور جاپان کی طرح وسائلِ رزق کی تخلیق کے مواقع کی فراوانیاں یہاں کبھی نہیں رہیں۔ معاشی انصاف کی ترویج و نفاذ تو دور کی بات، یہاں ”سٹیٹس کو“ کی قوتیں اس انسانی ضرورت کو نہ مانتی ہیں اور نہ ہی لائقِ توجہ سمجھتی ہیں۔ چنانچہ انصاف نہ ملنے کی وجہ سے یہاں اکثریت ہمیشہ اقتصادی ظلم کی چکی میں پستی رہی اور پس رہی ہے۔ کراچی تا خیبر عاملینِ اقتصاد کو جبر کے شکنجے نے الگ الگ طور سے کس طرح جکڑا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں دو واقعات عرض ہیں:

یہ دو واقعے بطور نمونہ مشتے از خروارے ہیں۔ ورنہ یہاں کاروبار، تجارت ہو یا سرکاری محکمے ہوں۔ تھانہ کچہری سے اعلیٰ عدلیہ، مالیاتی ادارے یا عوامی بہبود کے ادارے حتیٰ کہ تعلیم کا محکمہ ہو، سب شاہ صاحب کے گرانقدر قول کا عملی ثبوت ہیں۔ ان میں ظلم، لوٹ مار، کرپشن اور اخلاقی گراوٹ اس لیے ہیں کہ ان کے پیچھے اقتصادی تنگی کا بچھو ڈس رہا ہوتا ہے۔ ایک طبقہ کو حاضر جبر اور دوسرے اوپر کے طبقہ کو مستقبل کی اقتصادی تنگی کا خوف کھائے جاتا ہے۔ ایک جبر کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے تو یہ دوسرے کے سر پہ لٹک رہا ہے۔ اس دوسرے شکنجے کو ہم عام طور پر حرص و ہوس کا نام دیتے ہیں اور یہ کچھ غلط بھی نہیں۔ لیکن ہے یہ گہرے تجزیے میں خوف کے جبر کا شکنجہ، جس کی بنیاد اقتصادی تنگی ہے۔ بہرحال اپنی معاشی اور معاشرتی زندگی میں ریاست کی طرف سے دونوں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

میں آفس میں بیٹھا سُن رہا تھا کہ دو بڑے کاروباری سیٹھ …… ایک اپنے دوسرے ساتھی کے سامنے اپنے من کا دُکھڑا یوں رو رہا تھا:  ”یار! ہم جو جھوٹ، دھوکہ اور کاروبار میں بے ایمانی کرتے ہیں، یہی بے ایمانی ہی ہماری بچت اور ہمارا منافع ہوتا ہے۔ بتاؤ دوست کیا کریں اور کدھر جائیں؟“۔

سیٹھ کی بات میں بے بسی اور مجبوری کا کرب ہماری خصوصی توجہ چاہتا ہے، کہ سیٹھ صاحب کے اپنے اندر کی کڑھن کے یوں مضطربانہ اظہار کا کیا مقصد ہے؟ اسی طرح ریڑھی والا جب آپ سے دونمبری کرنے لگتا ہے تو آپ اس کا ہاتھ روک دیتے ہیں کہ بھائی! اللہ کانام مانو اور یہ جو اچھے اچھے سیب رکھے ہیں، یہ مجھے چاہیے ہیں۔ جواب میں وہ اپنا رونا رونے لگ جاتا ہے کہ منڈی سے لائی ہوئی پیٹیاں کھولتا ہوں تو اوپر کچھ اور، اور نیچے کچا اور گلا مال ہوتا ہے۔ بتائیے جناب میں کیا کروں۔ میں نے بھی تو بچوں کے لیے روزی کرنی ہے!۔  چائے کی پتی، دودھ، مرچ مصالحے اور اجناس دالیں وغیرہ کیا یہاں خالص ملتی ہیں؟ اِلا ماشاء اللہ!  یہاں سب کو بے ایمانی ہی بچتی ہے۔ جہاں تک میرا مشاہدہ ہے پاکستان میں ریڑھی والوں سے،بازاروں، منڈیوں، مِلوں اور فیکٹریوں تک سب بے ایمانی کی روٹین کے اور بے ایمانی کے جبر کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ لوگ ایسے کرتوت مجبوری سے کرتے ہیں، خوشی یا شوق سے نہیں۔ ان میں یقینا کچھ ایسے بھی ہوں گے، وقت کے ساتھ جن کے دل سیاہ اور ضمیر مردہ ہو چکے ہوں۔  بلاشبہ یہاں روشن ضمیر اور ایماندار بھی مل جاتے ہیں، مگر بہت ہی کم!

رہبرانِ عظام، رہنمائی فرمائیں کہ ان کے پاس قصے، کہانیوں اور حکایتوں کے علاوہ کوئی ایسا نسخہئ کیمیا ہے جس سے ستم رسیدہ مجبوروں کو اس پاجی اور ظالم شکنجے سے آزاد کرایا جا سکے؟

دوسرا واقعہ:  میں بطور کیشیر فیکٹری مالک سے واؤچر چیک اور سائن کرا رہا تھا، جب صاحب ایک بڑا انبار سائن کر چکے تو کچھ دیر کیلئے سستانے کو گپ شپ کرنے لگے۔ میں نے اپنی مطلب کی بات کہنے کیلئے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خواجہ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے یہ موبائل کتنے میں خریدا ہے؟ وہ بتانے لگے کہ اب تو چالیس ہزار میں مل جاتا ہے، لیکن پہلے ستر اَسی ہزار میں ملتا تھا۔ میں نے موبائل کو ان کے اور اپنے درمیان رکھتے ہوئے سوال کیا کہ چالیس ہزار کے اس موبائل کے اندر باہر کا میٹریل کتنی مالیت کا ہو گا؟ انہوں نے کہا:”یہی کوئی دو تین ہزار، زیادہ سے زیادہ، بہت ہی زیادہ چار ہزار کا ہو گا“۔ تب میں نے عرض کی کہ وہ ملک اور قوم جو دو تین ہزار کے میٹریل میں اپنا علم اور ٹیکنالوجی ڈال کر بیس تیس ہزار میں ایکسپورٹ کرے جو آپ کو چالیس ہزار میں ملتا ہے اس کو کہتے ہیں اصل صنعت!۔ اس کے مقابلے میں تیل، گھی، روئی، دھاگے، چاول اور گارمنٹس، فٹ بال وغیرہ کی خاک بھی اہمیت و وقعت نہیں۔ ان کی ٹیکنالوجی کی وہ صنعت ہے کہ جو انتہا کے وسیع و بھاری زرِمبادلہ کی ضامن صنعت ہے۔ ان کی ترقی و بے پناہ دولت اور خوشحالی اور ادھر ہماری غربت و محتاجی کی اصل وجہ صنعتوں کا فرق ہے۔ ان کی صنعتیں انتہائی جدید و ترقی یافتہ اور ہماری صنعتیں فرسودہ و پس ماندہ اور بہت کم نفع آور ہیں۔ اور پھر ایک موبائل کی ہی بات نہیں۔ آپ بائیک، موٹر کاروں سے کمپیوٹرز اور ایف سولہ کی کروڑوں درآمدات کو تصور میں لائیے۔ شمار کیجئے اور ماتم کیجئے کہ ہمارا کس قدر انتہائی قیمتی زرِمبادلہ بہتر سال سے باہر جا رہا ہے۔ کیا ہمارے اندر عقل نام کی کوئی چیز ہے؟ ادھر بھی دیکھئے کہ یہ ہے وجہ ہم بھک منگوں کے ننگ و ناداری کی اور ننگ ِ اخلاق کی …… خیر! میں نے خواجہ صاحب سے استفساراً عرض کی!  اگر آپ مستقبل میں کبھی ایسی کوئی بہت ہی منافع بخش جدید صنعت لگا سکیں تو کیا پھر بھی آپ دو دو کھاتے رکھیں گے؟ اس پر وہ ہنسنے لگے اور کہا کہ پھر اس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

اب اس دھوکہ کا ذکر اشد ضروری ہے کہ جو ہمیں مسلسل برباد کر رہا ہے، ہماری معاشی اور اخلاقی تباہی اسی دھوکے کی بناء پر ہے۔ کم و بیش پورے معاشرے کے ذہنوں میں یہ غلط خیال بیٹھ چکا ہے کہ یہ جو ہر طرف گند اور غلاظت کے گٹر اُبل رہے ہیں اور اخلاقی پستیوں کے روگ ہمارے اجتماعی جسم کو مفلوج و بے حس بلکہ متعفن کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ مذہب سے دوری، ایمان، روحانیت کی کمی ہے یقینا یہ بھی ایک وجہ ہے لیکن زوال کی بنیادی وجہ وعظوں کی کمی نہیں، مادی اور معاشی ناکامیاں اور محرومیاں ہیں۔  مذہبی رہنماؤں کو یہ شدید دھوکہ اور مغالطہ لاحق ہے کہ ان کے دروس و مواعظِ حسنہ سے ہمہ قسم بگاڑ اور کرپشن ختم یا کم ہو جائیں گے۔ جبکہ بدترین صورتِ احوال اس طرح ہے کہ وعظ و تبلیغ قلم سے، زبان سے ہر طریقے سے، ہر کارنر سے جس قدر بڑھتی جاتی ہے اسی نسبت سے بگاڑ بھی دن بہ دن بڑھتا جاتا ہے۔ آخرت کے ڈراووں میں بھی کوئی اثر نہیں رہا، نہ شکنجہ ٹوٹتا ہے اور نہ بدی کم ہوتی ہے۔ ڈھیروں دُکھ اور مسائل ایسے ہیں کہ جن کا حل پیر اور پنڈت کے پاس ہے ہی نہیں، در در اور گھر گھر میں بے روزگاری کے عذابِ شدید کا مداوا کیا ان کے پاس ہے؟ جبکہ بے شمار جرائم اور کئی عوارض اسی بے روزگاری سے جنم لیتے ہیں۔ یہاں تو روحانی رہنما بھی انحراف اور انحطاط کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو نہیں روک پا رہے۔

 

بقولِ شاعر  ہمارا حال کچھ یوں ہے کہ:

کشتی بھی نہیں بدلی، دریا بھی نہیں بدلا

ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

ہے شوقِ سفر ایسا، اک عمر ہوئی ہم نے

منزل بھی نہیں پائی، رستہ بھی نہیں بدلا

درایں صورت کہ اصلاحی تقریریں اور رُشد و ہدایت کے سبھی سلسلے ناکام و غارت ثابت ہو چکے ہیں۔ تو کیا ہم ناکامیوں کو گلے لگا کر اسی طرح اوندھے منہ چلتے رہیں؟۔ عقلمندی اور حکمت کا تقاضا ہم سے کیا چاہتا ہے؟ یہاں ایک بدیہی حقیقت کو ذہن میں رکھئے کہ ہر انسان فطری طور پر ترقی پسند ہوتا ہے اور تبدیلی چاہتا ہے۔ لہٰذا معاشی اور اخلاقی تنزل سے نکلنے کے لئے پہلے ذاتی ترقی پسندی کے ساتھ اجتماعی اور قومی حیثیت سے ترقی پسند بننا ہو گا۔ جس طرح کہ چینی قوم آگے ہی آگے بڑھے جا رہی ہے۔ چین کی عالمی کمپنی ہواوے 5G بنا چکی ہے اور اسے لانچ کرنا چاہتی ہے جبکہ امریکا میں ابھی یہ کام پراسس میں ہے۔  ترقی پسندی کے  عزمِ نو سے پہلے لازم ہے کہ ہم یہ مانیں کہ تنہا روحانی وعظوں سے ہماری اصلاح نہیں ہو سکتی۔ میرا مطلب ہے کہ ان کوششوں کے ساتھ بدرجہئ اولیٰ و افضل کچھ اور بھی چاہیے۔ یہ ”کچھ اور“ معلوم کرنے کیلئے ہمیں سائنسی منادی کے عظیم رہنما اکبر علی ایم۔اے کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ ذیل کا جملہ بصیرت و معانی سے بھرپور ان کا سائینٹیفک تجزیہ ہے۔ اس پر قدرے مثبت انداز سے غور کیجئے گا:

”کرپشن اور جرائم مادی ارتقاء میں پس ماندگی کی پیداوار ہوتے ہیں“۔

اس کلیدی اور رہنما فقرہ کو اگر ہم پوری توجہ کے ساتھ دیکھیں تو غور کرنے پر معلوم ہو گا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ابتداء میں ذکر کیے گئے شاہ ولی اللہ ؒکے قول کی جدید سا ئنٹیفک پیرائے میں ایک بازگشت ہی ہے۔ انہوں نے بھی اخلاقی اصلاح اور ترقی و تہذیب کی تشکیل و تعمیر کیلئے مادی اور معاشی بنیاد ہی کو ایک لازمی امر بتایا تھا۔ اکبر علی ایم۔اے مرحوم بھی ملک کو کرپشن اور جرائم سے پاک کرنے کیلئے مادی ترقی کو اول و اولیٰ قرار دے رہے ہیں۔ قومیں معاشی اوج و بلندی سے ہی تہذیبی طاقت بنتی ہیں۔ پاک و ہند نے سینکڑوں کی تعداد میں مفسرین و متکلمین، عشق و مستی کے مجذوب، ہزاروں کی تعداد میں ادباء، شعراء، دانشور اور علماء و صوفیاء پیدا کیے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی رہنمائی کے ہوتے ہوئے بھی تبدیلی کا عمل زوال کی جانب رواں دواں ہے۔ مغرب میں بیس تیس سائنسدان و موجد آئے، جنہوں نے پوری دنیا ہی کو بدل ڈالا۔ قدیم عہد کو ختم کر کے نئے صنعتی عہد کو جنم دیا جس سے تہذیب و تمدن کا سارا نقشہ تبدیل ہو کر انسانیت کیلئے فیض، ترقی و قوت کا عظیم سرچشمہ بن گیا۔  روئے زمین پر آج کون ہے جو سائنس و ٹیکنالوجی کے عالمگیر دریائے کرم سے روزی روٹی، شان اور عزت نہیں کما رہا؟ خلاق ایجاد کاروں کے فیضان سے یورپ، امریکہ اور جاپان نے سب سے پہلے تعلیمی اور فنیات میں ترقی پر خصوصی توجہ کی۔ ادارے، لیبارٹریاں اور لائبریریاں پھیلائیں، اور ساتھ ہی صنعتوں کے جال بچھا دیے۔  سائنس و ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کی بنیاد پر مادی ارتقاء کے فروغ میں پس ماندگی کو دور کر کے، ترقی کی راہ پر گامزن ہو گئے۔ برآمدات کے بے حد و حساب فروغ سے زرِمبادلہ کے وسیع و بھاری ذخائر سے اپنے ملکوں کو آسمان تک بھر دیا۔ ملک میں ہر طرف تخلیقِ رزق کے مواقع عام ہو گئے۔ وسائلِ حیات کی فراوانیاں ہی فراوانیاں ہو گئیں۔ سب کو زیادہ سے زیادہ آمدنی کے ذرائع مہیا ہو گئے۔ بے روزگاروں کو وظائف ملنے لگے۔ مشکلات دور ہو گئیں۔ مسائل حل ہونے لگے۔ ملک جھوٹ اور لوٹ مار سے پاک ہو گئے۔ ہر شہری اپنی ریاست  سے  راضی اور خوش رہنے لگا گویا فردفرد راضیۃً مرضیہ کی منزل پر فائز ہو گیا۔ انصاف اور قانون کی حکمرانی بہ کمال قائم ہو گئی۔ اب جواب میں شہری ریاست کے ہر حکم اور قانون کے خوشی خوشی پابند و مطیع ہو گئے۔  شہریوں کو اپنی ریاست پر فخر اور قوم ریاست کیلئے باعث ِافتخار ہو گئی۔ اس راحت افزا ماحول نے ان قوموں کے اندر اخلاقی بلندیاں پیدا کر دیں۔ غرضیکہ یہ معاشی ترقی و عروج کا سفر ہی تھا جس نے ان قوموں کو اخلاقی اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔ وہاں مقیم پاکستانیوں اور بڑے بڑے اہلِ قلم حضرات کئی انٹرویوز اور تقاریر میں واضح طور پر ان ممالک میں موجود انصاف، قانون کی حکمرانی، سچ، حسنِ اخلاق اور دیانتداری کی تعریف کر چکے ہیں۔ صد ہزار افسوس کہ وہ اس امر پر روشنی نہیں ڈالتے کہ ان قوموں کے اندر یہ اوصاف کہاں سے آئے ہیں؟ کلیسا سے یا ان کی تعلیمی، تحقیقی اور صنعتی فتوحات سے؟؟

زیر نظر مضمون کا اہم ترین اور ناقابلِ فراموش ایک ہی نقطہ ہے، اور وہ ہے کہ اخلاقی ترقی کا دار و مدار ہمیشہ معاشی ترقی پر ہوتا ہے۔ اب آخر میں اپنی توجہ کو گہرا کر کے جس سوال و جواب پر مرکوز کرنا ہے وہ یہ ہے کہ برائیوں کوکم سے کم کرنے اور اخلاقی ترقی کے حصول کا ہدف جب علماء و صوفیاء کے وعظ و تبلیغ سے پورا نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی کبھی پورا کیا جا سکتا ہے تو پھر کیا اب یہ امر ناگزیر نہیں ہو گیا کہ ہم بحیثیت صحیح العقل اور باشعور قوم کے، ترجیحاً سب سے پہلے قومی بے حسی سے نکلیں، بند اور جامد ذہن کو توڑیں، منطقی اور سائینٹیفک مائنڈ سیٹ پیدا کریں۔  معاشی ترقی و عروج کو اپنا قومی مقصد بنائیں۔ کہ اسی سے ہی یقینا اخلاقی رفعتیں بھی حاصل ہوں گی۔

یاد رہے کہ معاشی ترقی، صنعتی ترقی سے ملے گی اور صنعتی ترقی ہر زبان پر جاری سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے ورد اور مطالبہ سے آئے گی۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے ورد کے سلسلے میں چین کی ترقی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ قومی حوالے سے دردمند بننے کے ساتھ ہر زبان پر مطالبہ کا ورد اس لئے ضروری ہے کہ یہی قوم کو قرضوں، غربت اور بے روزگاری سے نجات دلانے، ملک کو دولت مند و سربلند بنانے کا ضامن ورد ہے۔

Check Also

شانتا بخاری ۔۔۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد

کامریڈ شانتا کی پہلی اور آخری پہچان ایک انقلابی سیاسی کارکن کی ہے جن کو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *