Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شونگال » ایجنڈوں کا ایجنڈا:مہنگائی

ایجنڈوں کا ایجنڈا:مہنگائی

             میرِ انقلاب،بابائے تبدیلی، اورمدینہ جیسی ریاست کے”الیکٹڈ“ سربراہ کی حکومت کا بجٹ منظور ہوا تو عوام کو اتنا اندازہ نہ تھا کہ اُن کا بھٹہ اتنی تیزی اور بھر پور طور پر بیٹھنے والا ہے۔دانشور بھی زیادہ نہیں چیخا اس لیے کہ اس کا بڑا حصہ سوچنے کے بجائے ”پریس ریلیزیں“ چبانے کا عادی ہو کر اپنی رائے بنانے سے معذور ہوچلا ہے۔ اور وہ معاشی معاملات میں بہت کم دلچسپی رکھتا ہے۔

                چنانچہ سماج میں ستر سال سے جاری بلند بانگی اور نعرے بازی کی پرستش جاری رہی۔یوں میڈیا کی مکمل مدد وحمایت میں حاکموں کے نعرے وعدے بلاچون وچرا تسلیم کیے گئے۔جتنے بلند ہوائی نعرے لگائیں اُتنے ہی مقبول ہوتے جائیں۔  بالخصوص نعرے باز مڈل اور لوئر مڈل کلاس اِس رومانس میں اس قدر غلطاں تھے کہ گھر کا ہوش ہی نہ رہا۔ترانے، گانے، ڈی جے، ڈانس، قادری، رضوی، ایٹم بم،تبدیلی۔۔۔کتنے چکنے چپڑے لفظ ہوتے ہیں حکمران طبقات کے پاس!۔ شام سات سے رات بارہ بجے تک کرائے کے دانشوروں کے غول کے غول ہمارے دلوں دماغوں پر حملہ کرتے رہے۔ فروخت شدہ دانشور جو عقل کے گنجے ہیں، جن کی آنکھوں پہ ضمیر فروشی کی سوجھن چھائی ہوئی ہے۔اور جن کا نچلا دھڑ لالچ وغرض کی وجہ سے انسانی نہ رہا، خنزیر کابن چکا ہے۔

                                دانشور نامی اس ساری یا جوج ماجوج کو عوام الناس پہ چھوڑ دیا گیا۔ عوام کے ذہنوں پہ نیش، پنجے، بھمبھوڑ، شروع ہوا۔ عوام جو کہ منظم نہیں ہیں، باشعور نہیں کیے گئے ہیں، خوا ب وخیال میں رہتے ہیں، بڑھک اور ہونگ کے نشے میں مست ہیں۔ اس لیے ایک آدھ تصوراتی بڑا نعرہ ٹی وی پہ چلا کراُن پہ کچھ بھی نافذ کر لو، بلے بلے کرنے والوں کو پرواہ ہی نہ ہوگی۔یہ بے شعوری بے پرواہی صرف عام آدمی، مڈل کلاس اور دانشوروں تک محدود نہیں بلکہ پورا سماج اس متعدی بیماری میں گرفتار ہے۔ چنانچہ اسمبلی پارلیمنٹ، اوررائے عامہ سب کنٹرول میں۔۔۔ہپنا ٹائز شدہ عوام!!۔

                یوں تنخواہ دار، پنشن والے اور عام آدمی کی محدود اور مقرر ہ آمدنی پر پہلا ڈاکہ ڈالر کو مہنگا بنا کر لگایا گیا۔اور یہ سارا کام چند دنوں کے اندر اندر ہوا۔اتنی تیزی سے کہ لوگ غصہ ہونے کی بجائے کرکٹ کے سکور بورڈ کی طرح،ڈالر اور روپیہ کے باہمی شرح پر تبصرے بازی میں لگ گئے۔ تبصرہ بازی عادت بن جائے تو شعور اور عمل دونوں سوجاتے ہیں۔لہذا ہم بیس کے بیس کروڑ لوگ تبصرہ باز بن گئے۔ پورے سماج میں ردِ عمل دینے والا کوئی نہ تھا۔ نہ فرد، نہ طبقات اور نہ پارٹیاں۔ یوں روپیہ کا نرخ کم ہونے سے روپیہ میں تنخواہ پانے والوں کا 25،30فیصد وہاں چلا گیا۔ بات یہیں نہیں رکی۔ اسی دوران بجلی اور گیس اور پٹرول مہنگا کر کے اُسی لگی بندھی آمدنی کے بقیہ حصے کوچھیل کر مزید ناتواں کردیا۔ حتمی طور پر بغیر کسی عقل ودلیل کے تنخواہ یا پنشن آدھی سے بھی کم رہ گئی۔

                اس دولخت شدہ ماہانہ آمدنی پہ تیسرا بڑا شب خون (اور روز خون بھی) اشیائے خوردونوش کی ڈبل شدہ قیمتوں نے مارا۔ مکان کا کرایہ گھریلو اخراجات میں سب سے بڑا مہنگا خرچہ بن گیا۔ بچے کی تعلیم اس لیے ناقابلِ حصول ہوگئی کہ کتابیں، فیسیں، وردی اور ٹرانسپورٹ پہنچ اور برداشت سے باہر ہوچکی ہیں۔درزی دھوبی تعیش لگنے لگے، اور لوگوں نے دودھ اور گوشت کھانا کم کردیا۔

                یہ ہر گھر کا ماجراہے۔ غریب کے پاس زیور گاڑی کہاں ہے جسے بیچ کر، یا گروی رکھ کرچار چھ ماہ کے خیر سے گزرنے کی ضمانت کا بندوبست کرے۔ اس لیے عمران خان کے جون کے ماہ کالا یا ہوا قہر،اگست کے ماہ تک آبادی کے سب سے غریب اور تباہ حال 95فیصد کی جان وجیب پہ مکمل اور بھرپور طور پرنازل ہوچکا ہے۔

                 چنانچہ اِس بار بڑی عید پر پچھلے سال کی بہ نسبت 20فیصد کم قربانی کی گئی۔ یعنی آبادی بڑھنے کے باوجود اس بار پچھلے سال سے بھی کم قربانی کی گئی۔پچھلے سال کی نسبت اس سال کم لوگوں نے عید کے نئے کپڑے اور جوتے خریدے۔ بچوں کو کم فیس والے سکولوں میں ڈالنے والوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔بھکاری نالاں کہ انہیں خیرات ملنا بہت کم ہوگیا۔ سبزی، فروٹ کی منڈی مارکیٹ جائیے تو وہاں آپ کو حکومت کے لیے بددعائیں اور برے فقرے تو بہت ملیں گے مگر ریٹ کم نہ ہوں گے۔ وکیلوں ڈاکٹروں کی فیسیں اب عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگئیں۔ اس لیے کرپٹ نظام والے انصاف اور صحت بھی اب نہیں ملیں گے۔مڈل اور لوئر مڈل کلاسز اور عام انسان کو زندگی کا تسلسل جاری رکھنا ایک عذاب ہے۔

                 اگر غریب آدمی اپنے خرچے بچائے بھی تو کیا بچاپائے گا؟۔ مثلاً بجلی کیا بچائے گا؟۔وہ پہلے کونسا ایئرکنڈیشن چلا رہا ہے کہ اُسے بند کرنے سے چار آنے بچاپائے گا۔گیس کیسے بچائے؟۔ وہ کونسا صبح شام انواع و اقسام کی ڈشیں پکاتا ہے کہ گیس میں کوئی بچت کرسکے گا۔ اُس کا پہلے ہی خوان ہے نہ دسترخوان۔ وہ پہلے ہی تین نہیں صرف دو وقت کھاتا ہے، اور کمترین چیز کھاتا ہے، ارزاں ترین چیز کھاتا ہے، نیوٹریشن سے محروم چیز کھاتا ہے۔چنانچہ گیس اور بجلی کے بل ہر ماہ موت بن کر اُس کاجگر کاٹتے رہیں گے۔

                صرف غریبوں کی بات نہیں، اب تو یہ تپش اپر مڈل کلاس تک کے دامن پہ بھی پہنچ چکی ہے۔ پٹرول 120روپے لیٹر کے آس پاس پرواز کر رہا ہے۔ اپنے شہر کے شوروموں میں سروے کریں تو اندازہ ہوگا کہ گاڑیوں کی فروخت آدھی رہ گئی ہے۔ گاڑیاں تو اپر مڈل کلاس خریدتی ہے۔ اسی طرح ریئل سٹیٹ یعنی پلاٹوں کی خرید و فروخت ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ تعمیراتی صنعت کو 440وولٹ کا کرنٹ لگ چکا ہے اور پبلشنگ کا کاروبار ٹی بی زدہ ہوچکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اپر مڈل کلاس بھی تباہی سے نہ بچ پایا۔

                مڈل اور اپر مڈل کلاس جیسے ڈرپوک طبقات نے دھڑا دھڑ بینکوں سے اپنی پونجی نکالنی شروع کردی۔ تاکہ ایف بی آر کے ڈریکولائی نیشوں سے بچا جاسکے۔ بحران مزید ڈونگھا ہوگیا۔

                وزیر،مشیر،ترجمان اور دیگر عملداران اپنے ٹی وی اینکروں کے ذریعے سٹاک مارکیٹ کے سچے جھوٹے اعداد و شمار بتاتے نہیں تھکتے۔ مگر یہ لوگ معیشت سنبھلنے کا جتنا بھی کائیں کائیں کریں وہ سب اُسی شام فضول ثابت ہوجائے گا۔ اس لیے کہ عام آدمی کے چولہے کی سردی اُن کے پروپیگنڈے کو دفن کرتے دیر نہیں لگاتی۔ ایسا روزہوگا۔کپٹلزم کے ڈھولچیوں میں سے کوئی بولے گا درآمدات کم ہورہی ہیں، دوسرا خوش خبری سنائے گا کہ برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ مگر اس سارے جھوٹ اور پروپیگنڈے کا اب عام آدمی پہ کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ چولہا بول پڑا ہے، پرانا لباس اور پھٹے ہوئے جوتے بول پڑے ہیں۔ چہروں پہ جھنجلاہٹ بول پڑی ہے، آنکھوں کی بے نوری بیزاری بول پڑی ہے۔

                عوام کی سیاسی پارٹی موجود نہیں ہے۔ اس لیے اس سب تباہی کے خلاف منظم احتجاج موجود نہیں۔ لیکن ایسا ہونا لازم ہے۔ اس لیے کہ اس حکومت کے بقیہ چار سالوں میں عوام کا خسارہ بڑھتا ہی چلا جائے گا۔

                یہ جو ”ماہرین“ آئی ایم ایف سے ادھار لے کر ہم پہ مسلط کیے گئے انہوں نے ڈائنٹر کی طرح ہمارے عوام کے دل نکال دیے۔ اُن بے خداؤں نے خوشی غمی میں کام آنے کے لیے بچائے گئے دو چار ہزار بھی عوام سے چھین کر اپنے اپنے عالمی اداروں کو بخش دیے ہیں۔چنانچہ بیٹی کی شادی کے لیے غریب کے پاس اب کچھ نہ بچا۔اب یہ ماہرین جب چاہیں یہاں سے چلے جائیں گے، اُن کی ڈیوٹی ختم۔ وہ اِسی ایک ڈیوٹی پہ یہاں بھیجے گئے تھے کہ عوام کو معاشی طور پر غاروں میں دھکیل کر پیسہ لاؤ۔ انہوں نے ”ہاں“میں اپنی سب بتیسیاں دکھا دیں۔ اور یہ لوگ پوری عمر کا ”بد تجربہ“بروئے کار لائے۔اور عوام الناس کی زندگیاں قبر میں بدل کر، اپنے دیس امریکہ بھاگ جائیں گے، تاکہ کسی اور ملک کا بھٹہ بٹھانے کو روانہ کیے جائیں۔ یا چار سال بعد پھر ہمارا ملکی بجٹ بنانے واپس یہاں بلائے جائیں: مشیر کے بطور، وزیر کے بطور، یاحتی کہ وزیراعظم کے بطور۔

                 المختصر یہ جو ”کرائے“ پہ معاشی ٹکنوکریٹ لائے گئے ہیں انہوں نے کمال مہارت سے چار سال کا پروگرام پاکستان پہ تھونپ دیا ہے۔ اب یہ لوگ دریا میں غرق ہوجائیں یا دِل کا دورہ پڑنے سے مر جائیں اور خواہ اپنے ساتھ وزیروں مشیروں کو بھی گورستان لے جائیں، پالیسی چار سال تک یہی چلے گی۔ اس لیے کہ آئی ایم ایف کے ذریعے پوری دنیا کے لیے ہماری حکومت نے یہ سب کچھ لکھ کر دیا ہے۔ہاں، اگر کوئی منظم عوامی پریشر پڑے تو الگ بات ہے۔مگر خودرَو معجزوں کو روکنے کا وسیع تجربہ اُن کے پاس موجود ہے۔ سرکار پہ عوامی پریشر پڑے گا یا نہیں اور اگر پڑے گا بھی تو کب پڑے گا معلوم نہیں۔ مگر اتنا معلوم ہے کہ عوام کی جیب پہ، اُس کے بچوں کے پیٹ پہ، اور اُس کی اپنی کمر پہ نا قابل ِ برداشت پریشر پڑچکا ہے۔

                 لہذا کوئی بھی انسان دوست شخص، گروہ، تنظیم یا پارٹی مہنگائی کے خلاف بات کیے بنا نہیں رہ سکے گا۔ ہر اکٹھ، محفل، سمینار،اور جلسہ جلوس مہنگائی کے خلاف بات کیے بنانا ممکن ہے۔ آپ سیاست میں ہیں یا نہیں مگر مہنگائی کی یہ سیاست آپ کو کرنی پڑے گی۔ اس لیے کہ آپ کا گھریلو بجٹ آپ سے ایسا کرائے گا۔ آپ کا گھریلو بجٹ جس کی صورت بری طرح بگاڑی دی گئی ہے۔

                اور یہ ایک دو دن کا کام نہیں، روزانہ کا معاملہ ہے۔ روزانہ کی زہر خوری کا انجام بالآخر موت ہے۔ اب کون پہلے مرے گا، آپ یا آپ کا بچہ۔ مستقبل موت ہے، اس سے بچنے کے لیے ”آج کچھ کرو“ کرنا ہوگا۔

                 حکومت اور کپٹلزم اور آئی ایم ایف کے پالے ہوئے لوگ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ کوئی عارضی حادثات اور واقعات پیدا ہوں۔ اور ان کو بڑھا چڑھا کر ٹی وی مباحثوں کو مہیا کردیاجائے۔ اور اپنے گِدھ اینکروں، دانشوروں کو اُسی مصنوعی موضوع پر پلٹ پلٹ کر حملہ آور ہونے کا کہا جائے۔ حکومتی پارٹی نے ٹی وی چینلوں کو شعلہ بیانی اور دشنام طرازی کا ”پبلک سروس کمیشن“ بناڈالا ہے۔ بہر حال،وہ ہر طرح سے توجہ ہٹانے میں لگی رہے گی۔ کسی وزیر کو تبدیل کردیا، کسی وزیر کو برطرف کردیا، کہیں چھوٹی موٹی غیر اہم بحرانی کیفیت پیدا کردی، یاکوئی چھوٹی موٹی بغاوت کروادی، کسی سے کوئی چھوٹا موٹا جھڑپ چھیڑ دیا،عارضی طور پر کسی چیز کی قیمت کم کردی۔۔۔۔

                 مگر پیٹ تو سرکار سے بھی بڑا ”پاپی“ ہے۔ خصوصاً اولاد کا پیٹ۔بھوکی اولاد انسان کو کچھ بھی کر گزرنے پہ مجبور کرتی ہے۔

Check Also

سنگت کے دوستوں کے لیے! ۔۔۔۔ ڈاکٹر انوار احمد

”اُردو زبان میرے لئے وسیلہ رزق بھی رہی اور جو اچھی بری شہرت مجھے ملی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *