Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » شیرانی رلی » دریچے ہیں ۔۔۔ سلیم شہزاد

دریچے ہیں ۔۔۔ سلیم شہزاد

ہم اکثر چُپ ہی رہتے ہیں

کوئی دستک ملے  تو  بولتے ہیں

ہمیشہ راہ تکتے ہیں

مسلسل منتظر رہتے ہیں

 

کھڑے رہ کر ہی بوڑھے ہوگئے ہیں

 

یہ پتھر

جب بھی بولیں گے

تو ان سے پوچھ لینا

وہ آہیں جو فلک کو چیر دیتی ہیں

ہم اُن کو  روز  سنتے ہیں

چٹختے ہیں مگر شکوہ نہیں کرتے

یہاں فطرت کی چلتی ہے

ہزاروں آنسوؤں سے سجتے رہنا

مقدر ہے ہمارا

کہیں پر درد ہے اور نا کوئی تشویش رہتی ہے

فنا ہونے کا خدشہ بھی نہیں ہے

مگر ایسا ہے کہ

ایسا نہیں ہے

 

ترے کھونے کے خدشے نے ہلا کر رکھ دیا ہے

 

ہمیں احساس ہے

ہر لفظ سچ ہے

اور یہ بھی سچ ہے

”دریچے“ ہم نہیں ہیں

 

Check Also

یہاں خوش گمانی کا راج تھا  ۔۔۔  ازہر ندیم

یہاں آرزوؤں کی سلطنت تھی بسی ہوئی یہاں خواب کی تھیں عمارتیں یہاں راستوں پر ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *