Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » لمحہ فکریہ ۔۔۔ وحید زہیر

لمحہ فکریہ ۔۔۔ وحید زہیر

سنگت پوہ زانت کی اتوار28جولائی 2019کی نشست باوجود ایک بڑی رکاوٹ کے کامیاب رہی۔پچاس کے قریب شعراء ادباء ادب دوست احباب نے شرکت کی۔ جس میں مقالے پیش کیے گئے، اردو، بلوچی، براہوئی، سندھی، سرائیکی اور ہزارگی میں شعراء نے اپنا بامقصد،خوبصورت کلام پیش کیا۔ اس موقع پر سنگت کا سادہ سارعایتی نرخوں پر کتابیں فروخت کرنے کی غرض سے سٹال لگایا گیا تھا۔ جو شرکاء کی خصوصی توجہ کا باعث رہا۔ میں نے شروع میں رکاوٹ کا ذکر کیا ہے یقیناپڑھنے والے اس رکاوٹ کے بارے میں جاننا چاہیں گے۔جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن کی ملین مارچ کی وجہ سے شہر کی تمام اہم شاہراہیں حکومتی رکاوٹوں یا پارٹی کی جانب سے ٹریفک کا سارا نظام مفلوج رہا۔ شدید گرمی کی وجہ سے لوگ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے۔

سنگت اکیڈمی آف سائنسز میں شامل اہل علم و دانش محسوس کرتے ہیں کہ ہر پڑھا لکھا شخص ایک انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ وہ اس وقت عالمی سیاست کے سامنے ڈھیر ہو جانے والے دانشوروں کو احساس دلانے کے لیے مذاکروں، مشاعروں اور ملک کے دیگر صوبوں کے اہل قلم کے ساتھ رابطوں کو ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس پوہ زانت میں پڑھے گئے مقالے اور اشعار اس فکر فردا کی غماز تھے۔ جن کی تفصیل اور تحاریر آپ سنگت کے شماروں میں ضرور پڑھیں گے۔ پوہ زانت میں اچھی بات یہ تھی کہ گرمی اور پیاس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہتھ پھنکا اور منرل واٹر کا اہتمام ہر شخص نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔ اگر نصب پنکھے چلتے تو شور ہوتا شرکاء محفل سننے سے قاصر رہے۔ اس لیے پھنکے بند رہے۔

پروگرام کے لائیو کوریج کے طفیل سنگت کے ہزاروں کی تعداد میں ہم خیال بالواسطہ نہ سہی بلاواسطہ نشست کا حصہ رہے۔یہ خوش آئند بات ہے کہ ہر مرتبہ اس کی نشستوں میں نئے لوگوں خاص طور پر نوجوانوں کی شرکت حوصلہ افزاء رہتی ہے۔ سنگت اکیڈمی کا باقاعدہ دفتر نہ ہونے کے باوجود سب دوست احباب  رابطے میں رہتے ہیں، سالانہ یا مخصوص چندوں پر ان سرگرمیوں کا اہتمام ہوتا ہے۔ ہر مہینے کے آخری اتوار کو پوہ زانت اور ہرماہ کے پہلی اتوار کو سنڈے پارٹی کے اہتمام تسلسل سے جاری ہے۔ ان حالات میں اس سے بہتر علمی وادبی کام نہیں ہوسکتا۔

موجودہ نظام کی کالک میں ہاتھ ڈالنے سے تمام مشکلات دور ہوسکتی ہیں لیکن ادب اور ادیب کی سچائی باقی نہیں رہتی۔اس لیے اکیڈمی کے دوست مشکلات سہہ کرسچائی کے ساتھ عوام دوستی کا حق ادا کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ جسے قائم دائم رکھنے کے لیے کتاب دوست احباب کی محبت اسی طرح ناگزیر ہے۔

Check Also

شانتا بخاری ۔۔۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد

کامریڈ شانتا کی پہلی اور آخری پہچان ایک انقلابی سیاسی کارکن کی ہے جن کو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *