Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » مولانا خیر محمدندوی و بلوچی ادب ۔۔۔ محمود خارانی

مولانا خیر محمدندوی و بلوچی ادب ۔۔۔ محمود خارانی

بابائے بلوچی مولانا خیر محمد ندوی بلوچی زبان وادب میں خدمات کے حوالے سے ایک معروف اور بلند قامت شخصیت ہیں۔ مولانا ندوی 1909ء کو گوادر میں پیدا ہوئے، آپ کا آبائی تعلق ایران کے سرباز نامی علاقے سے تھا، آپ کا خاندان اٹھارویں صدی کے آخر میں رضا شاہ کبیر کے ظلم وجبر سے نقل مکانی پر مجبور ہوگیا، کچھ عرصہ گوادر میں رہ کر پھر کراچی منتقل ہوگئے۔ ابتدائی دینی تعلیم کراچی میں حاصل کی، مزید اعلی دینی تعلیم کیلئے ندوۃ العلماء لکھنؤ کا رخ کیا، جہاں سے فراغت پا کر 1933ء کو کراچی واپسی ہوئی۔

آسانی کی خاطر بلوچی زبان کے فروغ کے سلسلے میں آپ کی جدوجہد کو چند دائروں میں تقسیم کرکے اس کا مختصر جائزہ پیش کریں گے۔

 

۔#(الف): بلوچی میں اخبار و جرائد کا اجراء:۔

مولانا خیر محمد ندوی نے بلوچی زبان کو فروغ و استحکام بخشنے کے واسطے مختلف زمانوں میں درج ذیل اخبار و جرائد نکالے:۔

۔(1)… کراچی سے ”ینگ بلوچستان ” کے نام سے اخبار،

۔(2)…ماہنامہ ”اومان”1951ء تا 1961 ء کو اس وقت نکالا، جب بلوچی رسم الخط بھی وجود میں نہیں آیا تھا۔

۔(3)…ماہنامہ ”اولس”، میر جعفر خان جمالی کے ہاتھ سے افتتاح کروایا۔

۔(4)…ماہنامہ” سوغات” کراچی، 1978ء کو یہ دینی و تبلیغی مجلہ جاری فرمایا۔

 

۔#(ب): ریڈیو پاکستان پر بلوچی پروگراموں کا سلسلہ:

۔(1)… مولانا خیر محمد ندوی نے ”بلوچ ایجوکیشنل سوسائٹی ” کے توسط سے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی میں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، لھذا ان کیلئے ریڈیو پاکستان میں بلوچی زبان میں پروگراموں کیلئے وقت مختص کیا جائے، چنانچہ آپ کی کوششوں سے 25 دسمبر 1949ء کو ریڈیو پاکستان سے پہلی مرتبہ بلوچی پروگراموں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ آپ اس پروگرام کے انچارج متعین ہوگئے۔

۔(2)…1955ء کو ایک وفد کے ہمراہ آپ نے وفاقی وزیر اطلاعات پیر علی محمد راشدی سے مطالبہ کیا کہ بلوچی زبان کا مرکزی ہیڈ کوارٹر کوئٹہ ہے لھذا وہاں سے بھی بلوچی پروگرام شروع کئے جائیں، یہ مطالبہ بھی منظور ہوا۔

 

۔#(ج): بلوچی مشاعروں و مذاکروں کا اہتمام:

مولانا ندوی نے بلوچ ادیبوں اور شاعروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کیلئے مختلف مواقع فراہم کئے، مشاعرے منعقد کئے، چنانچہ 1955ء میں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا، بطور مہمان خصوصی وفاقی وزیر پیر علی محمد راشدی نے شرکت کی، اسی مشاعرے میں انہوں نے کوئٹہ سے ریڈیو پاکستان پر بلوچی پروگرام کی اجازت دی تھی۔

 

۔#(د): بلوچی اکیڈمیوں کا قیام:

مولانا خیر محمد ندوی نے ایسے سماجی علمی اور تحقیقی ادارے اور انجمنیں قائم کیں، جہاں سے بلوچی زبان کی ترویج و اشاعت کا کام ہوسکے۔ مثلا:

۔(1)…قاضی سربازی اکیڈمی، 1990ء کو قائم کیا۔

۔(2)…بہت پہلے 1950ء کو ”بلوچ ایجوکیشنل سوسائٹی ” قائم کیا جس کے تحت متعدد تعلیمی ادارے وجود میں آئے، جیسے:

۔1950ء میں بلوچ پرائمری سکول کا قیام،

۔1961ء میں بلوچ سیکنڈری سکول،

۔1966ء میں بلوچ انٹر میڈیٹ کالج؛

بدقسمتی سے بھٹو حکومت میں یہ تمام تعلیمی ادارے قومی ملکیت میں لئے گئے۔

 

۔#(ر): بلوچی زبان میں تصنیفی خدمات:

مولانا خیر محمد ندوی کو تصنیف وتالیف کا عمدہ ذوق تھا، اپنے سیّال اور علم ریز قلم سے بلوچی زبان وادب کو بیش بہا ذخیرے سے نوازا، خصوصا دینی ادب کے حوالے سے۔ بلوچی زبان کے فروغ و ترویج کے حوالے سے آپ کی تصنیفی خدمات کا مختصر خاکہ حسب ذیل ہے:۔

۔(1)…سب سے پہلے ”بلوچی قاعدہ” لکھنے کا اعزاز آپکو حاصل ہے۔

۔(2)…مختلف مضامین و نظموں ہر مشتمل ”کچکول” شائع کیا۔

۔(3)…اسی نوعیت کی ایک کتاب اخلاقئے گلدان”،

۔(4)…فضائل اعمال از شیخ زکریا کاندھلوی کا بلوچی ترجمہ: عملانی فضیلتاں۔

۔(5)…بلوچی معلم(بلوچی اردو بول چال).

۔(6)…استاد ئے ادب۔

۔(7)…حنفی نماز۔

۔(8)…قرآن مجید کا بلوچی ترجمہ و تفسیر، دراصل آپ کے ہم زلف مولانا قاضی عبد الصمد سربازی نے قرآن مجید کے ترجمہ و تفسیر کا کام شروع کیا تھا، ایک پارہ کی تفسیر اور انیس پاروں کا ترجمہ لکھنے کے بعد وہ ریاست قلات میں قاضی القضاۃ (چیف جسٹس)  متعین ہوئے اور کچھ عرصے بعد وفات پاگئے، تو ان کے اس نا مکمل کام کو مولانا خیر محمد ندوی نے پایہ تکمیل تک پہنچایا، یوں گیارہ پاروں کا ترجمہ اور 29 پاروں کی تفسیر آپ کا وہ گراں مایہ کارنامہ ہے جس پر بلوچی زبان کا دینی ادب صدیوں تک ناز کرے گا۔

بلوچی زبان وادب کی ترویج و ترقی کے سلسلے میں یہ مولانا ندوی کی خدمات کا ایک مختصر تذکرہ ہے۔ مولانا 26 نومبر 2000ء کو کراچی میں وفات پا گئے، اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ نعمتوں سے مالا مال کردے۔آمین۔

Check Also

شانتا بخاری ۔۔۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد

کامریڈ شانتا کی پہلی اور آخری پہچان ایک انقلابی سیاسی کارکن کی ہے جن کو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *