Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » لاٹری ۔۔۔ راشدہ قاضی

لاٹری ۔۔۔ راشدہ قاضی

دن بڑے اداس تھے۔ راتیں بھی سنسان تھیں۔ میں روٹین کی زندگی سے عاجزآ چکی تھی۔ اچانک ایک دن فون کی گھنٹی بجی۔ایک صاحب نے کہا مبارک باد آپ کی لاٹری نکلی ہے۔میری لاٹری۔۔۔۔؟ میں پریشان پہلے حیران بعد میں ہوئی۔ جی جی! آپ نے ایک دفعہ ہماری پراڈکٹ خریدی تھی۔ کونسی پراڈکٹ میں نے حیران ہو کر پوچھا۔۔۔۔؟

جی میں پرائم انٹر نیشنل سے راحیل بخاری بول رہا ہوں۔آپ جو بھی بول رہے ہیں میں کسی پرائم کمپنی کو نہیں جانتی۔ اور نہ ہی ایسی کوئی پراڈکٹ ہم نے خریدی ہے۔ یہ کہ کر میں نے فون بند کر دیا۔ تب میرے گھر کام کرنے والی بچی حنا نے کہا کہ باجی آپ پرائم بوگٹ لاتی تو تھیں۔ دوسری بچی نور نے بھی اس کی تائید کی۔ میرے بیٹے عمر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ کو یکسانیت سے نجا ت مل گئی۔ چلیں کوئی ایڈوینچر کر لیں۔ میں مسکرا کر چْپ ہو گئی اگلے دن پھر فون آگیا۔

تب میں نے ان کی پوری بات سن لی ان نے ایک نمبر دیا۔ میں نے کال کی تو پتہ چلا کہ سلور کلر کی کلٹس میرے نام کا ٹیک لگا کے کھڑی ہے۔ میں نے بیٹے سے کہا کہ گاڑی والے کہتے ہیں کہ ہم ایک تقریب کریں گے۔ انٹر ویو بھی ہو گا اور ٹی وی پہ دکھایا جائے گا۔ بیٹا میری جانب دیکھ کر ہنس دیا۔ میں اپنے طور پر بیٹے کے لئے لباس بھی منتخب کر چکی تھی۔ اور پہلی گاڑی کی دل ہی دل میں قیمت لگا رہی تھی۔

فون کی گھنٹی بجی اور پتہ چلا کہ گاڑی روانہ ہو چکی ہے۔

ہم انتظار کی گھڑیاں گِن ہی رہے تھے کہ ایک بار پھر گھنٹی بجی۔ ڈرائیور نے بتایا کہ میں 13 گاڑیاں لے کر آرہا ہوں۔ بخاری صاحب کی ٹیم پہلے ہی روانہ ہو گئی ہے۔ لیکن یہاں ہمیں انسپکٹر تنولی نے روک لیا ہے۔ وہ فی گاڑی 5 ہزار مانگ رہا ہے۔ ڈرائیور نے اپنا شناختی کارڈ نمبر بتایا۔ اور میں نے 5000بھیج کر ایک خواب خرید لیا۔ اگلے دن اگرچہ مجھے یقین تھا کہ یہ فراڈ ہے۔ پھر بھی میں منتظر رہی بیٹے کی جانب ایسے دیکھتی جیسے پتہ کرنا چاہتی ہوں کہ اس نے اپنے انٹرویو کے ممکنہ جوابات تیار کر لئے ہیں۔

غیر ارادی طور پر میں نے اپنا شناختی کارڈ،بجلی کا بل وغیرہ سامنے رکھ دیئے۔ 20ہزار روپے جو پہنچنے پہ دیتے تھے وہ بھی 3بار گن کر پرس میں رکھے۔ تاکہ گاڑی کی وصولی سے قبل رقم دوبارہ نہ گننی پڑے۔

مقررہ وقت گزر گیا دو گھنٹے مزید بھی گزر گئے۔نہ کوئی فون آیا اور نہ ہی کوئی خیر خبر۔

اب میں نے فون کرنے شروع کر دیئے۔ مگر ہرنمبر بند تھا۔

تب مجھے احساس ہوا کہ میں نے5000کے بدلے دو دِن کے خواب خرید لیئے تھے۔

 

Check Also

مئیزل ۔۔۔ مہتاب جکھرانی

روشا ٹک ڈاثغ اث۔درشکانی سرا مرگانی چیکار اث۔کڑدے مرگ اے درشکا شہ آں درشکا روغ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *