Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » امین الملت ۔۔۔ شاہ محمد مری

امین الملت ۔۔۔ شاہ محمد مری

البلوچ

۔3دسمبر1933

ریاست جَہل میں اصلاحات

روشن ضمیر نوجوان سردار کا قومی جوش

محمد امین خان کھوسہ

غلامی میں نہ کام آتی ہیں تدبیریں نہ شمشیریں

اور اس کے ساتھ

”نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں“

کا اقبالی مقولہ کتنا صحیح نظر آتا ہے، جبکہ آج میرے زیر نظر نواب عزیز بلوچ کا خطہ ان حالات کا کاشف ہو کہ ریاست جَہل میں حقیقی معنی میں ایک ذہنی انقلاب کے آثار لوگوں کی عملی زندگی میں نظر آنے لگے۔ مجھے اس مختصر خطہ میں بہت کچھ دیکھنے میں آیا، یوسف اس وقت میرے پاس نہیں لیکن میں ان کے چہرہ پر تبسم کی ایک خفیف جھلک دیکھتا ہوں۔ (وہ خوش ہیں اور ہونا چاہیے)۔”مبارک ہو وہ تجھے قوم کے خادم بن کر مخدومیت کرنے والے، مبارک ہو خدمت گری کے پردے میں سرداری کو ڈھونڈھنے  والے، مبارک!!“۔

قریباً ڈیڑھ برس کا زمانہ ہوا، جہل کے سردار نواب یوسف علی خان، نواب زادہ یوسف علی خان کے نام سے ڈلہوس میں قیام پذیر تھے۔ حج پر جارہے تھے راستہ میں بیمار ہوگئے اور انہیں اپنا ارادہ منسوخ کرنا پڑا۔ اسی سے مجھے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ بکسوں اور پیڈوں سے ”نواب زادہ“ لفظ کو کاٹ کر صرف محمد یوسف علی خان بلوچ لکھوایا ہے۔ یہ خط دیکھ کر میرے قلم سے کچھ پٹکا،”مبارک ہو“ مسلمانی پر!۔اچھا کیا ”نواب زادگی“ کو مٹا دیا۔انشاء اللہ تعالیٰ اسلامیت کا دورعنقریب آنے والا ہے اور یہ سب چیزیں خود بخود مفقودہوجائیں گی جیسے کہ بتانِ کعبہ کا حشر ہوا“۔

ان چند سطور میں جو خواب ”کعبہ“ کو بتوں کی آلائش سے پاک کرنے کی صورت میں دیکھا گیا ہے اس کی تعبیر اس رقعہ میں ملاحظہ کیجئے جو یوسف صاحب نے جَہل سے ابھی ارسال فرمایا ہے۔

اے ناموس ازل کے امین! (زخیریہ تو شاعری ہے)۔

مالی حالت بہت کمزور ہے اور کام زیادہ۔ اس وقت ساٹھ طلبا ہمارے ہاں زیر ِ تعلیم ہیں (جِہل سیجَہل کو رخصت ہونے کے لیے بہت اچھا الٹیمیٹم دیا گیا ہے۔ امین)۔تمام مذموم رسومات جو پہلے تھیں پچانوے فیصدی مٹ گئی ہیں۔

سب مگسی مقدموں نے یکجا بیٹھ کر ان کو منسوخ کر دیا ہے، شراب پینے والا علاقہ جہل میں فیصد ی ایک بھی مسلمان نہیں ملے گا۔ اور بھنگ البتہ چار فیصدی اس وقت پی جارہی ہے، یہ حالات ہیں دعا کرو!۔سچ کہہ دوں اے سردارنما مُسلمان,! اگر تو بُرا نہ مانے۔میرے خیال میں تجھے دعاؤں کی کیا ضرورت، جب تمہارے سینہ میں ایمان کی چنگاری موجود ہے، آپ کو صرف ”الفاظ“ کی کیا حاجت جب آپ انسانی برادری کی محبت سے ایک لبریز دل رکھتے ہیں؟

میر محمد امین کھوسہ نے 1933میں شادی کی۔اورعلی گڑھ سے 1934 میں گریجویشن کرلیا۔  (1)

اُس کے بعد وہ وکالت پڑھنے کے لیے وہیں لاء کالج میں پڑھنے لگا۔علی گڑھ کے زمانے ہی میں انہوں نے ”آل انڈیا بلوچ ایسو سی ایشن“ قائم کی جس کامقصد بلوچوں کو متحد کر کے ایک وسیع اور کل ہند سطح پر قومی جدوجہد میں شرکت کے لئے آمادہ کرنا تھا۔ 1936میں فرسٹ ایل۔ ایل بی کا امتحان دیا۔ دوسرے سال پرووائس چانسلر پرو فیسر حلیم نے کسی وجہ سے اسے کالج سے فارغ کردیا۔ اس پر طلباء نے بڑی ہل چل چلائی مگر اسے دوبارہ داخلہ نہیں مل سکا۔ اس لیے اسے واپس گا ؤں آنا پڑا۔

اور دو سال بعد یعنی 1936میں علی گڑھ ہی سے ایل ایل بی کر لیا۔لہٰذا اُن کی تعلیم بی اے، ایل ایل بی تھی۔ علیگڑھ کے فارغ التحصیل لوگ اپنی ڈگری کے آخر میں بریکٹوں میں لفظ ”علیگ“بھی لکھتے تھے۔

چنانچہ یوں ہوا:

میر محمد امین کھوسہ، بی ایل اے، ایل ایل بی (علیگ)۔

علی گڑھ میں قیام کے دوران اس نے سرراس مسعود، ڈاکٹر محمد اقبال اور نواب محمد اسماعیل میر ٹھی سے واقفیت پیدا کر کے ان کی صحبت سے مستفید ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران کئی نوجوانوں سے اس کی واقفیت اور دوستی ہوگئی۔ جن میں میاں غلام احمد خان بن نواب محمد اسماعیل خان خاص ذکر کے قابل ہیں۔

میر صاحب نے تعلیم مکمل کرکے جب عملی زندگی میں قدم رکھا تو عوامی سیاست اور عوامی خدمت کیلئے سندھ اوربلوچستان کو اپنی تگ و دو کا میدان بنایا۔بالخصوص، بلوچستان کی سیاست میں تو اس کی دلچسپی ا ور وابستگی بہت ہی راہنما یانہ رہی۔3مئی 1936 کو سیٹھ عبداللہ ہارون کو اپنے خط میں اپنی فکر مندی یوں دکھاتا ہے:”بلوچستان سے اطلاع ملی ہے کہ حکومت قلات نے عبدالعزیز خان کرد کو رہا کر دیا ہے۔ میں آپ کو کم از کم ایک معاملے کی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ کیا آپ از راہِ نوازش بلوچستان میں گورنر کے ایجنٹ اور پولیٹیکل سیکرٹری سے رابطہ قائم کریں گے تا کہ خان عبدالصمد خان کو بھی جلد از جلد رہا کر دیا جائے؟“۔(1)

1935میں اصلاحات ایکٹ پاس ہونے اور سندھ جُدا ہونے کے بعد 1937کے اسمبلی انتخابات میں جیکب آباد ضلعے سے سردار جعفر خان بلیدی، میر سہراب خان سرکی اور میر زین الدین خان سندرانڑیں ممبر منتخب ہو کر آئے۔ سال کے آخر میں میر زین الدین خان سندرانڑیں وفات کر گئے۔ اس کی خالی نشست پہ دو امیدوار مدِ مقابل ہوئے۔ سردار شیر محمد خان بجارانڑیں اور میاں محمد امین خان کھوسہ۔ ایک طرف بمبئی کونسل کا سابق ممبر، لاکھوں روپے کا مالک، سرکار میں خصوصی اثر رکھنے والا لقب بردار، قوم کا سردار عمر رسیدہ شخص امیدوار تھا۔ دوسری طرف علی گڑھ سے واپس آیا ہوا غیر تجربہ کار نوجوان طالب علم،بڑے قبیلے کا فرد ہونے کے باوجود مقابلتاً کم دولت مند، سرکار مخالف جماعت کانگریس کا اُمیدوار، وہ بھی ایسے ضلع سے جہاں فرنٹیئر ایکٹ کی موجودگی کی وجہ سے سرکاری اہلکار سیاہ وسفید کے مالک تھے۔ ملکی اور قومی بیداری کانام ہی نہیں تھا۔ مگر حال ہی میں ایسے ہی پسماندہ ضلع لاڑکانہ جوزمینداروں اور بڑے لوگوں کی جاگیر رہا تھا۔ شیخ عبدالمجید سندھی نے ضلع کے پہلے نمبر خاندان، زمیندار اور گورنر سندھ کے صلاحکار سرشاہنواز بھٹو کو الیکشن میں شکست دی تھی۔ یہ دوسری آزمائش تھی۔ اُس الیکشن میں ڈاکٹر چوئت رام گدوانی، پیر علی محمد راشدی اور کئی قوم پرست مولویوں نے میاں محمد امین خان کی مدد کی۔ اس نے مارچ 1938کے الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔ یہ کامیابی سندھ میں قومی خادموں اور جماعتی نمائندوں کی دوسری کامیابی تھی۔

تعلیم کی تکمیل کے بعد عبدالصمد اچکزئی اور عزیز کرد کے یہ بہی خواہ وطن میں آکر صحافت اور سیاست میں مشغول ہوگئے۔ واضح رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب بلوچستان میں سامراجی حکومت کی طرف سے تصور سے ماورا مظالم ڈھائے جاتے تھے‘قبائلی سردار انگریز سامراج کی غلامی پر فخر کیا کرتے تھے اور خطابات حاصل کرتے رہتے تھے، اور عوام الناس بغیر راہنمائی اور بغیر سیاسی پارٹی کے غلامی کی ظلمتوں میں غلطاں تھی۔

عین اس حالت میں جھل مگسی کا ایک نوجوان محب وطن سردار یوسف علی خان مگسی،بلوچوں کی اصلاح او راُن کو حقوق دلانے کیلئے اٹھا۔ آل انڈیا بلوچ اینڈ بلوچستان کانفرنس بلائی اور اس کو کامیاب بنانے کیلئے تگ و دو شروع کردی۔ انگریز کا اتنا رعب تھا کہ کسی سردار کو اُس کے خلاف لب کشائی کی جرات نہ ہوتی تھی…………مگرانگریز اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب اچانک جیکب آباد کے ایک چھوٹے گاؤں عزیز آباد سے یوسف علی خان کی حمایت اور انگریز سامراج کے خلاف ایک باطل شکن آواز اٹھی جس نے قصرِ سامراج کو ہلاکر رکھ دیا۔ یہ آواز تھی جناب محمد امین کھوسہ کی۔ کھوسو صاحب نے نواب یوسف علی خان کے خاص رفیق اور راست بازو بن کر بلوچوں کی اصلاح اور وطن کی آزادی کے سلسلے میں زبردست تحریک چلائی۔موت ہی دبا سکی اس بلند آہنگ کو۔

 

حوالہ جات

۔1۔  23.3.1934خوابوں کی دنیا میں رہنے والے بھائی!بی۔ اے  ہونا مبارک ہو،   یوسف مگسی کا خط

Check Also

ٓآٹھویں کانگریس ۔۔۔ شاہ محمد مری

۔2019کا اواخر سنگت اکیڈمی کی دو سالہ کانگریس کا مقررہ وقت تھا۔ تقریباً دو دہائیاں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *