Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » یوسف عزیز مگسی سیمینار » دھڑیں بخش مگسی

دھڑیں بخش مگسی

۔ 30اور 31مئی1935کی درمیانی شب کوئٹہ میں ہولناک زلزلے نے تباہی مچادی۔ دیکھتے ہی دیکھتے انسانی آبادی کا یہ شہر تیس سیکنڈ میں مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا جس میں کم و بیش پچاس ہزار افراد لقمہ جل بھنے۔ اس تباہ کن زلزلے نے شہر میں کوئی عمارت نہیں چھوٹی۔ زلزلے کی شدت 7عشاریہ ایک ریکارڈ کی گئی اور اس کا شمار ایشیا ء کے بڑے اور تباہ کن زلزلوں میں کیا جاتا ہے۔زلزلے کے بعد کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کردیا گیا اور اس کا کنٹرول برطانوی فوج نے سنبھال لیا تاہم جنہیں جانا تھا وہ تو راہی ملک عدم ہوئے لیکن اس زلزلے میں ایسے لوگ بھی ہم سے بچھڑ گئے جو بلوچ قوم اور بلوچستان کا سرمایہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ زلزلے کو گزرے 84برس بیت گئے تاہم ان کی یادیں آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ان میں سے ایک اہم شخصیت نواب یوسف عزیز مگسی کی بھی تھی جنہیں ہم اولین بلوچ قائد کے نام سے جانتے اور پکارتے ہیں۔

مگسی قبیلے کی ذیلی شاخوں میں بھوتانی (سردار)، شمبائی، ہیسبانی، ساکھانی، سوبھانی، راوتانی، حسرانی، دھلکانی، وزدانی، بجیرانی، بوجانی، آدمانی، تنیہ، کھا تیار، راہیجہ، بنگلانی، کھوسہ، گنگلانی، اخوندانی، دھر پالی، منجھو، برڑو، ودیگر شامل ہیں۔میر یوسف عزیز مگسی 1908میں مگسی قبیلے کے نواب قیصر خان مگسی کے گھر پیدا ہوئے۔ نواب قیصر خان مگسی سردار جام نندو مگسی کی اولاد میں سے ہیں۔ نواب قیصر خان مگسی کے تین بیٹے گل محمد خان، یوسف عزیز اور محبوب علی خان تھے۔ نواب نے اپنے بیٹوں کی تعلیم وتربیت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔انہوں نے اپنے صاحبزادوں کو قرآن وحدیث کے علاوہ عربی فارسی اردو بعدازاں انگریزی میں تعلیم دلوائی یہی وجہ ہے کہ ان کا بڑا صاحبزادہ گل محمد خان نوز بان کا شاعر عالم و فاضل بن کر ابھرا۔ اس نے عربی، فارسی، بلوچی، براہوی، سندھی، سرائیکی اور سنسکرت سمیت 9زبانوں میں شاعری کی۔وہ اپنے دور کابہت بلند پایہ شاعر اور ادیب تھا۔

برطانوی حکومت کو نواب کی روشن خیالی ذرہ برابر پسند نہیں آئی اور قلات کے اس وقت کے ایجنٹ ٹو دی گورنر اور وزیراعظم قلات سر شمس شاہ نے انگریز سرکار کے کہنے پر نواب قیصر خان مگسی کو ان کے اہل خانہ سمیت ملتان جلاوطن کر دیا۔ جبکہ ان کے بڑے صاحبزادے گل محمد خان مگسی کو مگسی قبیلے کا فرضی نواب بنا دیا۔تاہم ریاست جھل مگسی کے تمام اختیارات وزیراعظم قلات سر شمس شاہ نے خود سنبھال لیے۔یوسف عزیز مگسی کی والدہ زہری قبیلے کے سردار رسول بخش زرکزئی زہری کی دختر نیک اختر تھیں۔یوسف عزیز مگسی اپنے والد کے ہمراہ ملتان میں جلاوطن رہے جہاں انہوں نے انگریز سرکار کی جانب سے ہونے والے مظالم کے بارے میں بہت کچھ سنا دیکھا اور پڑھا۔1927 میں نواب قیصر خان مگسی رحلت کرگئے جس کے بعد یوسف مگسی جھل مگسی واپس آئے۔ انہوں نے فرنگی راج سے بلوچستان کی آزادی کے لیے عملی تحریک کا آغاز صرف انیس برس کی عمر میں کیا۔ اس نے بلوچستان کی آزادی سے متعلق اشعار بھی لکھے۔ ان اشعار کا محورو مرکز صرف بلوچستان ہی تھا۔ اسی دوران ریاست قلات میں یوسف عزیز مگسی نے اپنے طور پر تحریک کا آغاز کردیا اور انہوں نے اپنے علاقے جھل مگسی سے مگسی ایجی ٹیشن کا آغاز کر دیا۔

۔ 17نومبر1929کو اس نے مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار میں ”فریاد بلوچستان“ کے نام سے ایک مضمون لکھا جس میں انگریز سرکار کے ظلم و زیاتیوں اور بلوچستان کے عوام کی محرومیوں پر کھل کر اظہار خیال کیا گیا۔یہ مضمون ایک سلگتا ہوا مضمون ثابت ہوا۔

اس مضمون کے چھپتے ہی مگسیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے وزیراعظم قلات سر شمس شاہ کے ایما پر ناظم جھل مگسی سردار موہن سنگھ نے جھل مگسی میں عوام پر مزید ٹیکسز لگائے اور ان پر ظلم و ستم کی انتہا کردی تو دوسری جانب یوسف عزیز مگسی کو کوئٹہ میونسپل کے حدود سے باہر جانے پر پابندی لگادی۔

اس مضمون نے بلوچستان میں گویا جلتی پر تیل کا کام کردیا انگریز کے خلاف عوام نے لب کشائی شروع کردی ان کے اس انقلابی پیغام نے بلوچوں میں نئے روح پھونک دی اور حالات انگریز سرکار کے خلاف ہونے لگے ریاست قلات میں چی می گوئیاں شروع ہوگئیں تاہم اس مضمون کو لکھنے کے پاداش میں یوسف عزیز مگسی کو سرداروں کے ایک خاص جرگے نے ایک سال نظر قید سخت کی سزا کا حکم سنایا اور یوسف علی عزیز کو کوئٹہ جاتے ہوئے ڈھاڈر سے گرفتار کر کے مستونگ میں پابند سلاسل کردیا گیا اور بائیس سالہ نوجوان یوسف عزیز ایک برس تک جیل میں رہے جیل کی صعوبتیں ان کے پایہ استقامت میں لرزش پیدانہ کرسکیں جیل سے رہا ہوئے تو کہا جاتا ہے کہ عبدالعزیز کرد کی قیادت میں سینکڑوں نوجوانوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور انہیں اپنا راہنما تسلیم کرتے ہوئے انجمن اتحاد بلوچاں نامی تنظیم کا قیام علم میں لایا۔

اور بلوچستان کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ کسی سیاسی پلیٹ فارم سے عملی سیاست کا آغاز ہوا اسی پر اس وقت کی سرکار اور انگریز کے حامی سردار خوش نہیں ہوئے بلکہ ریاست کے اندر عوام کو بغاوت پر اکسانے کا نگریسی خیالات رکھنے اور ریاست قلات میں انگریز آقا کو برا بھلا کہنے کے پاداش میں نواب یوسف عزیز ایک سال زہری گھٹ میں نظر بند کردیا گیا۔ نظر بندی کے وقت بارہ ہزار نو سو روپے ان کی جیب میں تھے جو سرکار نے ضبط کر لیے اور ان کی رہائی ایک برس بعد دس ہزار روپے ضمانت کے بعد ممکن ہوئی۔ یوسف مگسی نے اپنے ساتھیوں میر عبدالعزیز کرد، میر محمد حسین عنقا، مولانا محمد عمر پڑنگ آبادی، میر عبدالرحمن آزاد بگٹی، خان عبدالصمد خان اچکزئی ملک فیض محمد یوسفزئی ملک عبدالرحمن خواجہ خیل کے ساتھ مل کر انگریز سرکار کے خلاف ایسی تحریک چلائی کہ وائسرائے ہند نے وزیراعظم قلات کو خط لکھ کر پوچھا کہ یوسف عزیز مگسی سیاست کس مجبوری کی بنا پر کرتے ہیں اور ان کا ذریعہ معاش کیا ہے۔ جس کے جواب میں وزیراعظم قلات نے لکھا کہ یوسف عزیز مگسی سیاست شغل کے طور پر کرتے ہیں۔ وہ اپنے قبیلے کے نواب کے بھائی ہیں اور ان کی سالانہ آمدنی چار لاکھ روپے سے زائد ہے جس پر انگریز سرکار نے انہیں قبیلے کا نواب بنانے کیلئے تیاریاں شروع کردیں تاکہ نواب بن کر انگریز کے شکر گزار ہوں۔ چنانچہ بڑے بھائی نواب گل محمد خان زیب کو نوابی سے معزول کردیا اور یوسف عزیز مگسی قبیلے کے نواب بنا دئے گئے۔ قبیلے کے سربراہ بنتے ہی انہوں نے اپنے قبیلے میں بعض اہم اور تاریخی فیصلے کیے جو رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے۔ انہوں نے اپنے قبیلے کو حکم دیا کہ جھل مگسی میں تعلیم لازمی ہوگی اور حکم جاری ہوا کہ جھل مگسی کے زرعی آمدنی کا دسواں حصہ تعلیم کیلئے مختص کیا جائے گا۔ جس گھر میں ایک بچہ ہے وہ تعلیم حاصل کرنے کا پابند ہوگا اگر گھر میں ایک سے زائد بچے ہیں تو ان کے والد کہ یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ کم از کم اپنے دو بچوں کو تعلیم دینے کا پابند ہوگا۔ ان کی تعلیم کے تمام اخراجات کپڑے کتابیں انہیں نواب مگسی سے مفت ملیں گی اور جس نے اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دی ان پر بطور جرمانہ خون بہادینا ہوگا۔گویا تعلیم حاصل کرنا مگسی قبیلے پر فرض بن گیا۔جھل مگسی میں شراب کشید کرنے اور بھنگ کی کاشت پر مکمل پابندی کا اعلان کردیا۔یوسف عزیز مگسی کے ان فیصلوں سے انگریز سرکار جل بھن گئی۔نواب یوسف عزیز مگسی نے جھل مگسی میں جامعہ یوسفیہ کے نام پر تعلیمی ادارہ قائم کیا جہاں پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے ماہر اساتذہ تعینات کیے گئے۔کوٹ یوسف مگسی کے نام سے ایک نئے گاؤں کی بنیاد رکھی جہاں سکول اور شفا خانہ تعمیر کرایا۔1931زرعی معیشت کی ترقی کیلئے کھیر تھر نہر کا قیام عمل میں لایا۔ جیکب آباد کے مقام پر آل انڈیا بلوچ کانفرنس منعقد کی جس کی صدارت خان عبدالصمد خان اچکزئی نے کی۔

بطل حریت نواب یوسف عزیز مگسی نے البلوچ، ترجمان بلوچ، اتحاد بلوچاں، بلوچستان جدید،اور نجات جیسے اخبارات شائع کرائے جس میں نواب یوسف عزیز مگسی نے بلوچستان میں انگریزوں کے خلاف جاری تحریک آزادی اور بلوچوں کی حالت زار پر تفصیلی مضامین لکھوائے۔جس میں بلوچوں کو متحد رہنے کی تلقین کی اور بلوچوں پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ اس دوران انہوں نے ”شمس گردی“ کے نام سے ایک کتابچہ بھی تحریر کیا جس میں وزیراعظم قلات سر شمس شاہ کے سیاہ کارناموں کو اجاگر کیا گیا تھا۔وزیراعظم شمس شاہ نے مگسی قبیلے پر مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے جس پر نواب یوسف عزیز مگسی نے بلوچ قبیلے کو تاریخ کے اہم نقل مکانی کا حکم دیا۔ مگسی سمیت بلوچ قبائل کے تیس ہزار خاندانوں نے سندھ کی جانب ہجرت کی۔ اس احتجاج پر ملکہ برطانیہ نے سخت نوٹس لیا اور اس وقت کے وزیراعظم سرشمس شاہ کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔

خان قلات محمود خان کا دور انگریز سامراج کے دوراہے پر بڑی تیزی سے دوڑ رہا تھا اور خان میری میں داد عشرت میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ ان کی بینائی بھی چلی گئی۔ بلوچستان کے عوام پر بلا جواز ٹیکسوں اور جرمانے نافذ کر دیے گئے جو غریب اہل بلوچستان ادا کرنے کے قابل بھی نہیں تھے ایک سیاہ دور آچکا تھا جب عوام پر بے جا ٹیکسز نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی تھی لیکن وہ اپنے سرداروں کے سامنے اف تک کہنے کے قابل نہیں تھے۔جہاں ایسے حالات ہوں اور عوام کا کوئی پرسان حال نہ ہو وہاں یوسف عزیز مگسی جیسے بیدار مغز سیاستدان کھل کر عوام کے سامنے آگئے۔ بلوچستان میں سردار کا انتخاب قبائل کے جرگے میں کیا جاتا ہے۔ برطانوی دور میں انگلستان سرکار کے بلوچستان میں عمل دخل نے اس عہدے کو موروثی بنادیا۔وفادار سرداروں میں جاگیریں تقسیم کی گئیں اور ان کی حفاظت کیلئے لیوی (لیویز) فورس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یوں بلوچ قوم کے جمہوری اقدار پر پہلاحملہ کیا گیا جس پر بلوچ قوم کے اس جدوجہد کو انگریز سرکار نے اسلحے کی برتری معاشی پسماندگی اور قبائلی تضادات کی بنا پر ناکام بنادیا۔ یہی وہ وقت تھا کہ یوسف عزیز مگسی جیسے بیدار مغز سیاستدان نے بلوچ نوجوانوں کو سیاسی عملی اور تعلیمی جدوجہد سے روشناس کرایا۔میر یوسف عزیز مگسی قلات کے وزیراعظم سرشمس شاہ کو ایک ذمہ دار حکومت کے قیام میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے بلوچ قوم پر بلا جواز ٹیکسز عائد کر کے ان کو معاشی طور پر کمزور کردیا تھا۔خان قلات خان محمود خان کے انتقال کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے خان اعظم جان کو خان قلات بنا دیا گیا جو گویا انجمن اتحاد بلوچاں کی بہت بڑی جیت ثابت ہوئی۔خان اعظم خان نے اپنے پہلے ہی فرمان میں قلات کے کٹھ پتلی وزیراعظم سرشمس شاہ کو برطرف کردیا ان کی جگہ خان بہادر گل محمد خان کو ریاست قلات کا وزیراعظم بنا دیا گیا۔ انجمن اتحاد بلوچاں کی لیڈر شپ منتظر تھی کہ نئے خان قلات اپنے قول کے مطابق قلات میں ایک ذمہ دار حکومت کے قیام کا آغاز کریں گے مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔اس دوران ایوان بالا قلات کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف نواب یوسف عزیز مگسی نے خطاب کرتے ہوئے ریاست قلات میں جمہوریت، تعلیم، اور ایوان میں آئین سازی کے قیام کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتے جب تک ریاست قلات میں ایک آئینی حکومت قائم نہیں کی جاتی۔ ریاست قلات میں بچوں اور بچیوں کیلئے تعلیم لازمی قرار دی جائے کیونکہ ہم تعلیم حاصل کیے بغیر انگریزوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے لہذا ہمیں تعلیم شعور بیدار کرنا ہوگا۔ نواب رئیسانی نواب شاہوانی نے ان کے بل کی حمایت کی۔دوسروں نے نواب یوسف عزیز مگسی کے اس بل کی سختی سے نہ صرف مخالفت کی بلکہ اسے دیوانے کے خواب سے تعبیر کیا۔بھر پور مخالفت کے باوجود یوسف عزیز مگسی ہمت اور عظمت کے پیکر بنے رہے اور ان حالات سے دلبرداشتہ نہیں ہوئے بلکہ مجاہدانہ عزم وہمت کے ساتھ ان حالات کامقابلہ کرنے کا عہد کیا اور کہا کہ آج تم لوگ میرے اس بل کی مخالفت کرتے ہو۔یقین رکھو تم نہیں تو تمہاری آئندہ آنیوالی نسلیں اس کا خمیازہ بھگتیں گی اور تم ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے۔اپنے ایک خط میں وہ اپنے قریبی دوست میر محمد امین کھوسہ سے کچھ یوں مخاطب ہوئے۔

”اب ان سرداروں کو کچلنا چاہیے اب ان کے سدھر نے کی امید فضول ہے“

اور وہی ہوا۔  ریاست ِ قلات میں آئینی حکومت قائم نہ ہوسکی۔ ریاست قلات بنیادی طور پر سیاسی اور انتقامی اعتبار سے حکومت ہند کی دوسری ریاستوں جیسی نہیں تھی۔ اس دوران خان قلات نے انجمن اتحاد بلوچاں کے بھر پور اصرار پر عوام سے بیگار لینے زرعی پیداوار اور تجارت پر عائد ٹیکس کی معافی کا اعلان کی منظوری دی۔مگر انہیں موت نے مہلت نہیں دی اور خان قلات میرا عظم جان صرف ایک سال دس مہینے کی مختصر مدت میں قلات کے تخت پر بیٹھنے کے بعد داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انجمن اتحاد بلوچاں جمہوری سیاسی اور معاشی اصلاحات کے خواہاں تھے یہ پارٹی بہت جلد عوام میں مقبول ہوگئی اور انگریز سامراج اس تنظیم سے خوفزدہ ہوچکی تھی۔

نواب یوسف عزیز مگسی کی سیاسی تحریک سے مولانا محمد علی جو ہر علامہ محمد اقبال مولانا ظفر علی خان بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔اپنے اس سیاسی تحریک کو مزید منظم بنانے کے لیے یوسف عزیز مگسی نے علامہ اقبال مولانا ابو الکلام آزاد مولانا ظفر علی خان عبداللہ ہارون جوہر لعل نہرو گاندھی رابندر ناتھ ٹیگور سے رابطے کیے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم کانفرنس، انجمن حمایت اسلام لاہور، جامعہ دہلی سے بھی رابطے استوار کر لیے چونکہ یوسف عزیز مگسی کے اخبارات پر انگریز سرکار نے پابندیاں عائدکی تھیں جس پر انہوں نے لاہور کے اخبارات میں مضامین لکھنے شروع کر دیے۔

خان اعظم جان کے بعد ان کے صاحبزادے میر احمد یار خان قلات ریاست کے خان بنائے گئے اقتدار میں آتے ہی انہوں نے انجمن اتحاد بلوچاں سے مراسم قائم کیے اور ان کی مکمل حوصلہ افزائی کی اور اس تنظیم کی سرپرستی کرنے کی یقین دہانی کرائی جس سے نواب یوسف عزیز مگسی اور ان کے دوستوں کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔نواب یوسف عزیز مگسی نے جیکب آباد کو اپنے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنالیا۔ انہوں نے ڈیرہ غازی خان اور جیکب آبادکو بلوچستان میں شامل کر نے، کسانوں کے لیے مزدور تنظیم بنانے اور خواتین کی مکمل آزادی کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا۔میر یوسف عزیز مگسی نے جیکب آباد بعدازاں حیدر آباد میں آل انڈیا بلوچ کانفرنس منعقد کرائے جس میں ہندوستان بھر سے بلوچ عمائدین نے شرکت کی۔ان کانفرنسوں میں انہوں نے خواتین کو با اختیار بنانے میراث میں برابر کا حصہ دینے جیکب آباد اور ڈیرہ غازی خان کو بلوچستان میں شامل کرنے بلوچستان میں مفت تعلیم کا اجرا اور نئے اسکولوں کے قیام کا مطالبہ کیا انہوں نے ذرائع آمدورفت کی ترقی چھوٹی صنعتوں کے قیام خواتین کے وقار کی بلندی کے لیے باضابطہ قرار دادیں پیش کیں۔ نواب یوسف عزیز مگسی بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے بھی سرگرم رہے وہ خواتین کو برابری کے حقوق دینے کے خواہاں تھے کاروکاری کی رسم کا بلوچ معاشرے میں رواج نہیں تھا لیکن جیسے ہی بلوچ قبائل سرداری نظام کے زیر اثر آئے تو عورت مرد کی ملکیت قرار پائی۔معمولی شک یا اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے،جائیداد ہتھیانے پسند اور نا پسند کی بنیاد پر عورت کو کاری قرار دے کر اسے قتل کردیا جاتا تھا۔نواب یوسف عزیز مگسی جیسے انسان نے ظلم اور بربریت قرار دیا۔اس طرح کے واقعات دیکھ اور سن کر یوسف عزیز مگسی سرداریت کے خلاف ہوگئے۔اس دوران انہوں نے انگریز سرکار کے مظالم پر کھل کر ان کا ساتھ دینے والے سرداروں کے خلاف مضامین لکھنے شروع کردیے جس پر بلوچستان کے سرداروں نے اے جی جی بلوچستان کو خط لکھا کہ وہ یوسف عزیز مگسی پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ مگسی آقا اور غلام کی تمیز نہیں رکھتا بلکہ آقا اور بندے کے درمیان مساوات کا حامی ہے۔ یہ شخص ہماری  سرداریت کا جانی دشمن ہے اور یہ برطانیہ سرکار کا بھی دوست نہیں۔ ہم برطانوی سرکار کے دست وبازو ہیں اس لیے ہمارا وقار اور سرکار انگلستان کی شان و شوکت لازم و ملزوم ہیں۔ اور انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ اس سرکش یوسف عزیز سے سرداری کا منصب واپس لیا جائے۔ اور ان کی خوفناک جماعت انجمن اتحاد بلوچاں کی قیادت کو گرفتار کیا جائے اگر یوسف عزیز کو آزاد چھوڑ دیا گیا تو یہ ہمارے اقتدار کا خاتمہ کردے گا۔ اس خط کی اطلاع جو نہی خان قلات کو پہنچی تو انہوں نے نواب یوسف مگسی کو لندن چلے جانے کا مشورہ دیا اور قبیلے کی موجودگی میں اپنے سات سالہ بھتیجے میر سیف اللہ خان مگسی کی نوابیت کا اعلان کیا اور کہا کہ سیف اللہ خان مگسی ابھی چھوٹے ہیں وہ نواب ہی رہیں گے لیکن ان کے والد میر محبوب علی خان ان کے قبائلی معاملات سرانجام دیں گے۔یوسف سندھ سے لندن چلے گئے اور لندن سرکار کے اہم عہدیداروں سے ملاقات کی اور انہیں بلوچستان میں ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا لیکن یہ بطل حریت لندن میں بھی خاموش نہیں بیٹھے اور ان میں بلوچستان کے لیے مزید کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ وہاں انہوں نے بلوچستان میں ہونے والے مظالم پر آواز بلند کی اور بلوچستان کے اخبارات میں مضامین اور اشعار لکھے۔

میں اعلان کرتا ہوں میں پھر اقرار کرتا ہوں

میں اپنی بات پر پھر یوسفی اصرار کرتا ہوں

اے اہل وطن جس دن تم مجھے بلاؤ گے

مجھے سرباز دیکھو گے مجھے جانباز پاؤ گے

ان اشعار کی اشاعت نے بلوچی عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔سیاسی صورتحال میں ایک ہلچل پیدا ہوگئی۔ یوسف عزیز مگسی کی للکار بلند سے بلندہوتی گئی لندن مین انہوں نے اپنے خراجات سے ایک ہاسٹل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ بلوچستان کے طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن آئیں تو وہاں رہائش کا مسئلہ درپیش نہ ہو۔نواب یوسف عزیز مگسی ایک برس تک لندن میں قیام پزیر رہے انہیں بلوچستان کی یاداشت سے ستانے لگی اور وہ اپنے دل میں لاکھوں حسرتیں لیے اپریل 1935میں واپس بلوچستان آئے۔ وہ بلوچستانی عوام کے لیے نویدا نقلاب بن کر واپس لوٹے۔ ان کی للکار مزید بلند ہوتی گئی۔ لوگ ان کی جانب بڑھے چلے آئے انگریز سرکار کے خلاف مزاحمت میں تیزی آگئی۔ خان عبدالصمد خان اچکزئی میر عبدالعزیز کرد گرفتار کر لیے گئے اخبار نکالنے تو اپنی جگہ اخبار پڑھنا بھی جرم بن گیا نواب یوسف عزیز مگسی بلوچستان کے شاید پہلے بلوچ لیڈر اور راہنما تھے جنہوں نے بلوچی قومی تحریک کے خدوخال کو فکری اور واضح انداز میں پیش کیا۔یہ سب کچھ عین ایسے وقت میں ہوا جب وہ عالم جوانی میں تھے۔ انہیں اپنے ملک اوراپنے عوام سے عشق اور محبت تھی۔بد قسمتی سے نواب یوسف عزیز مگسی کی قیادت کا دور 1935تک محیط رہا۔ان کی شہادت نے بلوچستان اور عالم اسلام کو ایک عظیم فرزند سے محروم کردیا جو مفکر بھی تھے اور عالم بھی،شاعر بھی صحافی بھی۔ میدان کے مجاہد بھی اور سب سے بڑھ کر وہ نیک اور پارسا انسان تھے جو 30اور 31مئی کی درمیانی شپ کوئٹہ کے زلزلے میں جاں بحق ہوگئے۔ میر یوسف عزیز مگسی ایک عہد کا نام ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ 1935کے زلزلے میں قلات کے ظالم و جابر حکمران سر شمس شاہ بھی جاں بحق ہوئے تکبر وجلال کا یہ ظالم حکمران کوئٹہ کے ریلوے سوسائٹی کے قبرستان میں مدفن ہے تاہم یہ بات بہت کم لوگ ہی جانتے ہیں نواب یوسف عزیز مگسی کو کوئٹہ کے کانسی قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا اور وہ یہ بات بہت پہلے کہہ گئے اگر مر گئے تو معراج زندگی اگرزندہ رہے تو بلوچوں کے لیے کام کریں گے۔کچھ ایسی شخصیات بھی ہوتی ہیں جن کے بچھڑنے پر انسان تو کیا آسمان بھی روتا ہے۔

Check Also

یوسف عزیز مگسی سیمینار۔۔۔۔رپورٹ: محمد نوازکھوسہ

بلوچستان اور بلوچ سیاست کے امام، علم و دانش کے چراغ، قومی وطبقاتی جدوجہد کے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *