Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » قصہ » صاحب جی!۔۔۔ ثمینہ اشرف

صاحب جی!۔۔۔ ثمینہ اشرف

ایویں نئیں تے ڈھولا تیرے پچھے پچھے آندی آں

ہو کہ مجبور ترے ترلے میں پاندی آں

عشق دا روگ بُرا۔۔۔ ہائے۔

                گاڑی کے سائیڈ والے چھوٹے سے شیشے میں طوفان برپا ہوگیا۔ بیک وقت کان میں اِس گانے کی آواز اور شیشے میں متحرک عکس۔۔ میری نظریں منجمد ہوتے ہوتے رہ گئیں۔ گندمی رنگت۔ الٹے ماتھے کی مانگ کے بال تقریباً آنکھ کو ڈھانپتے ہوئے۔۔۔ اوپر سے نتھلی کے موتیوں کی چمک۔ گہرے نیلے رنگ میں لپٹی وُہ ایک کم عمر سی بھکاری لڑکی تھی۔

                میں بھی کوئی پختہ عمر کا جوان نہ تھا۔ محض 26سال کی عمر میں اعلیٰ تعلیم کی بدولت ملنے والی نوکری اور گاڑی کی عیاشی سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ نئی نئی نوکری۔۔۔ نئی نئی آسودگی۔۔۔ زمانہ طالب علمی کی حسرتیں اب سیراب ہورہی تھیں۔ کچھ ہی دنوں سے بڑے شہر کے اِس پر رونق سر سبز و شاداب راستے سے میرا تعارف ہوا تھا۔ ورنہ میں تو اپنے چھوٹے سے شہر کے ہر راستے ہر منزل سے مانوس تھا۔ ایک مخصوص موڑ مُڑنے کے بعد ایک چھوٹی سی گلی سے وُہ اچانک میرے سامنے آگئی۔ اِس کا صاحب جی صاحب جی۔۔۔ کی تکرار کرنا مجھے اچھا نہ لگا۔ حالانکہ آفس میں موجود چھوٹے ملازمین “صاحب جی۔۔صاحب جی” کہنے سے میں ابھی خود کفیل نہیں ہوا تھا۔ میرے جونیئر مگر عمر رسیدہ افسران زبان سے صاحب جی ہی پُکارتے مگر اُن کی آنکھیں “اوئے کاکا”  “اوئے کاکا” کی تکرار کرتیں۔ میں ابھی بڑوں کے احترام اور چھوٹے سے عزت کروانے کے مخمصے میں پھنسا ہوا تھا۔ میں ابھی کُرسی، آفس اور نوکری کے حقوق و فرائض کی ادائیگی سے پوری طرح “یاری” نہ لگا سکا تھا۔ آفس آنے جانے کا معمول جاری تھا۔ کئی دِنوں سے میری متلاشی نظریں اسے دیکھنے سے محروم رہیں۔ ایکدن وُہ پھر مجھے دور سے ہی نظر آگئی۔ وہی لباس، وہی انداز۔ گاڑی آہستگی سے میں نے اُس کے قریب روکنے کی کوشش کی۔ مگر وُہ آگے والی گاڑی کے قریب لپکی۔ تتلی کی طرح روشنی کی زد میں آتی جاتی پلک جھپکتے نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ مجھ پر واضح ہوا مجھے اُسکا انتظار تھا۔ اِس لڑکی کو میرا نہیں۔ واپس گھر آیا تو میری آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں۔ میں سونا نہیں چاہتا تھا۔ معمول کی ہفتہ وار چھٹی آئی تو ” دو دِن” کی اضافی چھٹیوں کے ساتھ گھر جانا ہوا۔۔ مگر اگلے ہی دِن موسم کی تبدیلی کے پیشِ نظر گرم کپڑوں کی خریداری کا بہانہ بنایا اور میں واپس لاہور آگیا۔ ارادتاً اسی راستے سے ہی واپسی کی راہ لی۔ خلاف ِ توقع وُہ اسی موڑ کے سب سے پہلے چوک پر ہی مل گئی۔ٹریفک کا آنا جانا نسبتاً کم تھا۔ گاڑی اس کے قریب روکی۔ بھٹہ کھانے سے اُس کے اُجلے اُجلے چہرے پر مصالحے کے نشان نمایاں تھے۔ ایک ہاتھ خالی بھٹہ زور سے پھینک کر پیسوں کی وصولی کیلئے میری طرف بڑھایا تو دوسرے ہاتھ کی اُلٹی ہتھیلی سے منہ پر لگے ہوئے نمک مرچ کی صفائی کا کام کرتے ہی زور زور سے مہربانی صاحب جی۔۔۔ مہربانی صاحب جی کے الفاظ سے میرے کانوں میں چھید کرتی آواز پیچھے رہ گئی اور میں آگے نکل گیا۔ میں نے سوچا آج رات میرے کانوں کی خیر نہیں۔ بلکہ میرے کانوں کے ہاتھوں میری خیر نہیں۔ ایسا ہی ہوا۔ نیند کے اُڑ جانے کا تجربہ گہرے انداز سے پہلی بار ہوا۔ کانوں پہ تکیہ لپیٹنے کے باوجود۔۔” صاحب جی مہربانی”۔۔۔”مہربانی” کی سرسراتی آواز میرے جسم و جال میں سرایت کرگئی تھی۔ میں نے پکا اِرادہ کرلیا کہ آفس آنے جانے کا راستہ بدل لوں گا۔ اگلی صبح میں نے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنایا۔ مگر اس دن آفس سے جلدی ہی واپس آگیا۔ اپنے کمرے کی بوجھل فضا ناقابلِ برداشت ہورہی تھی۔ سرِشام ہی اپنے کزن کے ساتھ فون پہ باہر جانے کا پروگرام بنا لیا۔ غیر ارادی طور پر ہم اسی روڈ پر جا پہنچے اور ایک مارکیٹ کے اندر کے راستے میں چہل قدمی کرنے لگے۔ سامنے کیا دیکھا۔ وُہ اپنی ہم جولیوں کے ساتھ گول گپے کھانے میں مشغول تھی۔ میں نے آناً فاناً اپنے کزن کے دونوں ہاتھ پکڑے اور کان میں ایک درخواست پیش کی۔ وُہ مان گیا اور بادلِ ناخواستہ وُہ احتیاط ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے بولا۔ بہن جی۔۔۔ زرا میری۔۔۔ مطلب ہماری بات سُنیے۔ اُس نے خوانخوار نظروں سے گھورا۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی زور سے ہاتھ جھٹکے۔ چوڑیوں کی آواز کے ردھم کے ساتھ ہماری طرف بڑھی۔ براہِ راست میری طرف دیکھ کر بولی۔ جی صاحب جی۔ اسکی نظریں مجھے پہچان چکی تھیں۔ جواب طلب آنکھیں میری طرف مائل بہ کرم تھیں۔ میں نے کہا۔ تُم اپنا دھندا چھوڑ دو۔ دس ہزار ماہانہ رقم میں تمہیں دوں گا۔ تُم سڑکوں پر نہ آیا کرو۔ دو قدم آگے میری طرف بڑھائے اور بولی “صاحب جی میرے کولوں 15ہزار مہینہ لے لینا۔ تسی میرا دھندا کرلو۔ اسی روڈ دے تینوں چوک تواڈے حوالے۔ اگلے چوک تے دھندا کرن دی غلطی نہ کرنا۔ صاحب جی۔۔۔ ایڈوانس لے لو گے کہ آخیر تے۔۔۔ منظور اے تے Whatsappتے Messageکردینا۔ موبائل فون کی مخصوص کمپنی کا نام پُکارنے کے بعد بولی۔۔۔ تے آگے پچا۔۔ اکونجا۔۔ تے تہتر۔۔ تین (50-51-733)

                سُن وے بلوری اکھ والیا۔۔۔ گاتی لہراتی ہوئی ایک نیلے رنگ کے ہالے میں سمٹی آواز دور۔۔۔ بہت دور نکل گئی۔

 

Check Also

ماہیکان! ۔۔۔۔ عابدہ رحمان

آسمان پر غروبِ آفتاب کی زردی نے ایک عجیب اداسی پھیلا دی تھی۔ سمند ر ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *