Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » کیا لڑکیاں بوجھ ہیں؟ ۔۔۔ انیس ہارون

کیا لڑکیاں بوجھ ہیں؟ ۔۔۔ انیس ہارون

آ ج کل ایک سکینڈل اخباروں کی زینت بنا ہوا ہے ٹی۔ وی اور سوشل میڈیا پر اس کا چرچا عام ہے۔ اچانک پاکستانی لڑکیوں سے چینی لڑکوں کی شادی اور ناجائز رویوں کے اسکینڈل سامنے آ ئے تو حیرت انگیز کہانیا ں نکلنے لگیں۔ وہ ان لڑکیوں کے ماں باپ کو سبز باغ دکھا کر راضی کرتے ہیں پھر چین لے جا کر اْن سے جسم فروشی کرائی جاتی ہے۔ بہت بْرا سلوک ہوتا ہے۔ اْنہیں گھروں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ ماں باپ سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اْن کے جسم کے اعضا یکے بعد دیگرے بیچ دیے جاتے ہیں اور وہ کسمپْرسی کی حالت میں مر نے کے لئے چھوڑ دی جاتی ہیں۔ اس کو افواہیں سمجھ کر نظر انداز کرنے والے بھی تھے اور افواہوں پر یقین کرنے والے بھی تھے۔ ان حیرت انگیز اور افسوسناک کہانیوں نے تہلکہ مچا دیا. خصوصا”اس وقت جب بی۔بی۔سی نے بھی تصدیق کر دی۔

ہمیشہ کی طرح ہمارے ارباب حل وعقد اْس وقت جاگے جب ساری دنیا میں یہ خبر پھیل گئی چینیوں اور اْن پاکستانیوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی اخباروں میں دھڑادھڑ دولہے دولہنوں کی تصویریں چھپنے لگیں –

چین نے اپنے ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکثر الزامات درست نہیں بہت حد تک مبالغہ آ رائی ہے اور خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ نہ کسی پاکستانی لڑکی سے دھندہ کروایا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے اعضا نکالے جاتے ہیں. یہ غلط پروپیگنڈہ ہے. تحقیقات کرینگے اگر کہیں ایسا ہوا ہے تو انہیں سزا دی جائے گی۔

معاملہ اتنا صاف بھی نہیں ہے۔جس حساب سے یہاں چینی باشندوں اور اْن کے پاکستانی ساتھیوں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں لگتا ہے کہ اس میں بہت کچھ ہے۔ اگر نیک نیتی سے صرف شادیاں کرنے والی بات ہوتی تو اتنا بڑا اسکینڈل نہیں بنتامجھے خوف ہے کہ دوستی کی آ ڑ میں کہیں یہ مسئلہ دبا نہ دیا جائے

اور پھنسی ہوئی مظلوم لڑکیاں زندگی بھر سزا بھگتتی رہیں،

زیادہ تر لڑکیوں کا تعلق غریب اور نچلے درجے کے متوسط طبقے سے ہے۔گھر والوں کو اچھی زندگی، نوکریوں اور پیسے کا لالچ دے کر راضی کر لیا جاتا ہے۔رشتہ لگانے والی گاوں کی عورت یا مرد ہوتا ہے اْس پر آسانی سے اعتبار کر لیا جاتا ہے۔ مانا کہ اس کا بنیادی سبب غْربت اور اچھی زندگی گذارنے کی خواہش ہے۔ مگر جہالت اور یہ سوچ بھی ہے کہ لڑکی پرایا دھن ہے اور ایک بوجھ ہے جس سے نجات جتنی جلد جاصل کر لی جائے تو بہتر ہے۔

سچ پوچھیں تو سب سے زیادہ غصہ ماں باپ پر آ یا کہ وہ کیسے اپنی بیٹی کو غیر ملک سے آ ئے ہوئے ایک اجنبی کے حوالے کرنے تیار ہو گئے۔یہ سوچ کب بدلے گی کہ لڑکی بوجھ ہوتی ہے۔ اپنے اطراف نظر دوڑائیں تو کئی گھرانے ایسے نظر آ ئیں گے جہاں بیٹیاں ہی ماں باپ کی دیکھ بھال کر رہی ہیں. باپ نہ ہوں یا نہ کما سکیں تو گھر کی کفالت کی ذمہ داری بھی اْٹھا رہی ہیں. اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی تعلیم کا خرچ بھی پورا کرتی ہیں. میں خود کچھ ایسی لڑکیوں کو جانتی ہوں جنہوں نے پہلے چھوٹی بہنوں کی شادیاں کیں پھر اپنا گھر بسایا. یوں بھی ہوا کہ دیر ہو جانے کی وجہ سے کوئی مناسب رشتہ نہ ملا. جب کہ بیٹے اپنی شادیاں رچا کر لا تعلق ہو گئے.

خواتین کے بارے میں ہماری قوم کی جو سوچ ہے اس کا اندازہ مختلف اعداد و شْمار سے لگایا جا سکتا ہے۔ تعلیم ایک بنیادی حق ہے مگر پچاس فی صد سے زیادہ لڑکیاں اس سے محروم ہیں.بجاے اس کہ علم حاصل کرنے چین جائیں لڑکیوں کو دلہن بنا کر بھیجا جا رہا ہے.چین میں خواتین کی خواندگی کی شرح ۹۹% ہے۔ بنگلہ دیش میں ستر %،ہندوستان میں اْنسٹھ % اور ہماری صرف چوالیس % ہے۔وہ بھی کس حد تک اْنہیں خود مختار بناتی ہے اس پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

شادی شدہ خواتین میں ہر چوتھی عورت گھریلو تشدد کا شکار ہے. ان حالات میں وہ تعلیم و ترقی کے زینے کیسے چڑھ سکتی ہے. جس معاشرے میں عورت کی عزت نہ ہو وہ معا شرہ کیو نکر ایک صحت مند قوم تشکیل دے سکتا ہے۔

بارھوویں صدی میں جہاں زچگی کے دوران ایک لاکھ میں  ایک سو اٹھہتر عورتیں مر جاتی ہیں۔ جہاں ۵ سال کی عمر کے چالیس % بچے غذائی کمی کاشکار ہوں اْس ملک کا مستقبل کیا ہو گا۔

عورتوں کو بوجھ سمجھنے کے بجائے انہیں تعلیم و تربیت دے کر معاشرے کا فعال ممبر بنانے کی ضرورت ہے. جب عورت اپنے پیروں پر کھڑی ہو گی تو اس میں خود اعتمادی پیدا ہو گی۔ وہ خریداروں کے ہاتھوں بکنے کے بجائے اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرے گی. چینی شادیوں کا سکینڈل ماں باپ کی آ نکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ اْنہیں لڑکیوں کو بوجھ سمجھنا چھوڑ دینا چاہئے۔

Check Also

سردار جعفری کی لکھنو کی پانچ راتیں ۔۔۔ نسیم سید

                بمبئی سے ڈیڑھ ہزار میل دو ر، پندرہ بیس ہزار کی آبادی پر مشتمل ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *