Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » امین الملت ۔۔۔ شاہ محمد مری

امین الملت ۔۔۔ شاہ محمد مری

امین الملت امین کھوسہ آل انڈیا بلوچ کانفرنس کے بانی راہنماؤں میں سے ایک تھا۔ روشن خیالی اور بنیادی انسانی حقوق کے چمپین تھے یہ لوگ۔جہاں دیدہ، فہمیدہ اور کثیر المطالعہ لوگ۔ یہ سب لوگ اپنے اپنے قبیلوں میں معزز گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔

امین کھوسہ نے اپنے شعور اور بلند نظری سے جان لیا تھا کہ قوموں کی ترقی انسانی بلند آدرشوں ہی پہ عمل کرنے سے ممکن ہوتی ہے۔ وہ نظریات کا آدمی تھا۔ رائے کا مالک شخص!۔

اس سلسلے میں ہم اُس کا ایک مضمون یہاں نقل کر رہے ہیں جو یکم اکتوبر 1933کے  ہفت روزہ”البلوچ“ میں شائع ہوا تھا۔ مضمون کا عنوان ہے:”معصوم لڑکیوں کے بیوپاریوں سے دودو باتیں“

 

نغمہ خیز از زخمہِ زن ساز مرد

از نیاز اودو بالاناز مرد

عشق ِ حق پروردِہ آغوش او

ایں نوا  از  زخمہِ خاموش او

 

”لب  و  و لور ہیں کن بلاؤں کے نام؟۔ لڑکیوں یا عورتوں کی خرید و فروخت کو بلوچی رسم ورواج کی لغت میں ”لب،ولور“کہا جاتا ہے!

”عورتوں کا بیوپار! باقاعدہ تجارت۔ وہی نفع اور نقصان والا معاملہ!“ اسی طرح چرچا فلانے کی لڑکی چار ہزار پانچسو روپیہ آٹھ آنہ اور چار،پائی میں سردار نواب۔۔۔ نے یا مسٹر۔۔۔ یا صرف ”فلانے“ نے اسی وقت روپیہ ادا کر کے اپنے اکلوتے لڑکے کے لیے خریدلی“۔ اپنی لڑکیوں کو فروخت کر کے زندگی آسودگی سے بسر کرنا۔ ہائے کیسا دردناک منظر ہے، کیا خبیث اور ناپاک خیال ہے۔

بیسویں صدی میں عورت کو خرید وفروخت کی چیز وہی قوم سمجھتی ہے جس سے ”حقوقِ عورت“ اور”مرد اور عورت کے مابین کوئی فرق نہیں“ کے اصول یورپ نے سیکھے، امریکہ نے سیکھے!۔ لیکن بات تو یہی ہے کہ اسلام سے کوئی دوری کا رشتہ ہی مسلمانوں کا نہیں، مسلمان بھی بلوچستانی دکھاوٹ کے سب متشرع عملیات ہیں۔کا ش بمشکل انہیں انسانی زمرہ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ شیخیاں مارنی ہوں، ایک ذات کا دوسرے کے ساتھ مقابلہ ہو تو ہمارے بھائی ایک دوسرے سے آگے۔

تم موٹر پر سوار بن کر بڑے آدمی بن سکتے ہو،تمہاری گردنوں میں ہزاروں زنجیریں،غلامی کی زنجیریں نہ صرف انگریز بہادر کی پڑی ہیں بلکہ خود ساختہ رسم ورواج کی بھی۔ یہ نیکٹائی تمہاری گردن میں سردار صاحب نہیں، خدا کی قسم یہ نیکٹائی نہیں میں تو اسے وہ لوہے کی زنجیر سمجھتا ہوں جس کے توڑنے کے لیے مجھ جیسے قلندرانہ دماغ رکھنے والے فقیر کی ضرورت ہے۔ میں کیسے اپنے آپ کو ”انسان“سمجھ کر آزادی کا خواہاں ہوگیا ہوں، جبکہ میری بہنیں بازار میں بکنے چلی ہیں، میری آنکھوں کے سامنے اس وقت وہ منظر ہے، جب کہ کسی بڑے شہر میں غلام بکری کی بازار گرم ہوتی، خریدار کے خوش کرنے کے لیے بیوپاری سفید حسین کینز کو طرح طرح کے انداز غماز سکھلانے اور اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ جب کوئی ان کے قریب آئے تو وہ اپنی محبوبانہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کے دل کو مسخر کریں۔ تاکہ۔۔۔ میں پوچھتا ہوں کہ اس تمثیل سے آپ کے ”لب، ولور“ کو کچھ نسبت ہے؟

ایک میرے جان پہچان والے صاحب کے غصہ کا تھرما میٹر سو پینتالیس تک پُہنچ گیا، انتہائی حرارت کی وجہ سے انکار بوائلر پھٹنے کو تھا جب میں نے آہستگی سے اس سے اپنے عقیدہ کا اظہار کیا۔ کیا مفت مُفت،بالکل مفت،لڑکیاں دینے کو کہتے ہو؟۔ پھر ہم نے کیوں اتنے پیسے دیئے، سمجھ گیا!یہ مان کا معاوضہ ہے جو کچھ لڑکی بھگتے گی!

”دولہا اندھا ہو، کانا ہو، نالائق ہو، بے وقوف ہو، لمبے کانوں کے بغیرہو، پھر بھی دولت اس کے پاس ہے، لہذا یہ معصوم بچی جس نے دنیا میں کسی کا کچھ نہیں بگاڑا (اس کا ضرور بگڑ ا کہ اس کو پیدا کیا گیا) اس کے حوالہ کی جارہی ہے۔ اور اس زوری نکاح میں اس کی مرضی کو کوئی دخل نہیں۔

”۔۔۔ میں حیران ہوں، پٹھان اور بلوچ اپنے آپ کو غیور سمجھتے ہیں، لیکن کیا غیرت اس کانام ہے کہ ان کی لڑکی بہنیں یا رشتہ دار کا عام نیلام ہو۔

یہ مشہور ہے کہ لڑکی پیدا ہونے کے بعد اس کا تکیہ کلام یہ ہوتا ہے کہ ”خدا ناحیل مسٹر ناحیل۔“ اللہ اور لڑکی کا بھروسہ“۔

”دختر ویچ!کیسا اندر کو چیرنے پھاڑنے والا لقب ہے۔ کیا بلوچستانی بھائیو! آپ کی غیرت اس کو گوارہ کرتی ہے کہ یہ لقب تمہارے ناموں کے آگے لگایا جائے۔ تمہارے رسول ﷺ (جن پر میری جان سو بار قربان) اپنی لڑکی کا اتنا ادب کرتے کہ خاتونِ جنت کو دیکھ کر اُٹھ کھڑے ہوتے اور ایسے مودبانہ طریقے پر بیٹھتے کہ معلوم ہوتا کہ حضور اپنے سے عمرمیں کسی بڑے کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔

سب سے اول دنیا کی تاریخ میں انسانی زبان میں عورت کے حقوق کے تحفظ کی تعلیم اس ہی نبی نے دی ہے جس کو ہم تم زبانی مانتے ہیں اور عمل میں معلوم نہیں کس بیدردی کے ساتھ ان کے احکام (خاکم بدہن) ٹھکراتے ہیں، خیال کرو انسان کی زبان میں اس کی بولی میں ”عورت کے حقوق“ یہ الفاظ تک نہیں تھے، حضور نے قریب قریب ہر چیز میں عورت کو مرد کا ہمدوش قرار دیا۔ ایسے رہنما کے پیر و بننے کے تم لائق ہو جبکہ عورت کو تم بیل، بکری، ودنبہ سمجھ کر بیچنے کی چیز سمجھتے ہو۔

سردار صاحبو! کیا تمہیں اتنا احساس نہیں ہوتا کہ آپ بھی“عورت بچوں کے لیڈر ہو؟۔پھر کیوں نہیں اس بے شرمی کے سیاہ داغ کو اپنے اور اپنی قوم کے جبنیوں کو صاف کرتے؟۔

علمائے کرام!وہابیت اور تشعیت کے خیالی اصنام پرستی سے ذرا تھوڑی دیر کیلئے خیال کیجئے ملک اور قوم کی طرف توجہ فرمائیے اور خواتین اسلام کی آزادی کے لیے لڑنا فرض سمجھیے۔

لیڈرانِ وطن!انگریز سے حقوق کے لیے لڑنا بھی جاری رکھیے اور ساتھ ہی ان جابروں کے پھندوں سے اپنی بہنوں کو آزاد کروائیے۔

بلوچستانی ماؤں پر آئندہ نسل کا انحصار ہے۔

اُٹھیے اور ان مظلوموں کی داد رسی کیجئے۔(1)“

حوالہ جات

۔1۔ کھوسہ، محمد امین۔ہفت روزہ ”البلوچ“ کراچی۔ یکم اکتوبر 1933

Check Also

بشیر بلوچ ۔۔۔ باقی بلوچ

بشیر بلوچ بلوچی اور براہوی کے خوبصورت گلوکار ہیں۔ اس نے بہت ہی مقبول گانے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *