Find the latest bookmaker offers available across all uk gambling sites www.bets.zone Read the reviews and compare sites to quickly discover the perfect account for you.
Home » پوھوزانت » امین کھوسہ کے خطوط ۔۔۔ترجمہ: نواز کھوسہ

امین کھوسہ کے خطوط ۔۔۔ترجمہ: نواز کھوسہ

۔10  جیکب آباد 10/06/1959

کر مفائے بندہ،شاہ صاحب! اسلام علیکم رحمت اللہ وبرکاتہ

 عید مبارک بھیجا تھا  معلوم نہیں آپ تک پہنچائی گئی یا نہیں؟۔آپ کی یاد آتی ہے۔ آپ سے کیسی وابستگی ہے۔ جُدائی بھی صبر آزما ہوتی ہے۔ خبر نہیں مطالعے کا انتظام ہے یا نہیں!

 آپ کچھ تحریر کر سکیں گے یا نہیں؟

  یا دِ خدا کے معین طریقے پہ عمل کرنے کی تلقین کرتا ہو ں بندہ کے حق میں دُعا خیر مانگتے رہا کرو۔

  بندا محمد امین کھوسہ

***

 جیکب آباد سندھ 25/06/1959

  کرمفائے بندہ،شاہ صاحب!      اسلام علیکم! محبت آمیز اور عزت افزا رقعہ کے لیے شکریہ قبول فرماؤ۔کوئی بھی دن آپ کی یاد کے بغیر گزرے ایسی وابستگی رکھنا نہ جانوں۔

 ماقصہ سکندر ودارانہ خواندہ ایم

 ازمابجز حکایت مھر وفا مپرس؟

یہ زمانہ بھی عجب کرشمہ سازیاں رکھتا ہے۔ آپ جیسا زندہ اور تڑپتا دل رکھنے والا آدمی محفل میں نہ ہو اس سے محفل کے رنگ میں تغیّر اور تبدل آنا ضروری ہے۔ کئی واقعات کی تصاویر  سامنے آجاتی ہیں۔ حیدر منزل کی محفلیں اور ملاقاتیں جن سے ہمارے مقدس سندھ کی جدید تاریخ کے کئی باب وابستہ ہیں۔ بندہ کہہ سکتا ہے کہ کتنے صاف الفاظ میں بندہ نے عاجزی سے آپ سے گفتگو کی۔

  اللہ بخش جو آگے چل کر شہید اللہ بخش ہوا ان سے بندہ کا مضبوط واسطہ تو ایک پردہ ہے۔ بندہ نے آپ کو اپنے خیال کے دام میں پھنسانے کے جتن کیے۔

 سارے سندھ میں اگر کسی کو آپ کی جُدائی اور فراق کا صدمہ ہوا ان میں سے بندہ دوسرے کسی سے کم نہیں۔

  اپنی زندگی کا احوال سندھی میں لکھو جو  اردو میں ترجمہ ہو۔ مگر اس میں ”لیگ“ وغیرہ پر بیجا زور نہ دو۔ لیگ کیوں لیگ کیوں نہیں۔ یہ فضول خیال ہیں۔سندھ میں ”جی۔ ایم“ اور  ”جی ایمیت“ کے مقابلے میں کیا کچھ نہیں ہوا۔ ایک طرف آپ اور آپ کے چیلے دوسری طرف جیکب آباد ضلع کا یہ ”’مشتِ خاک“۔ آج تک خیال کی ہم آہنگی پیدا نہ ہوسکی محبت ایسی جس کی کوئی مثال نہیں۔ باقی خیال اور عمل کے راستے میں کتنا فرق ہے!

 آپ جیسا صاحبِ ذوق اہلِ درد، سندھ کا صاحبِ قلم بندہ کو مل جائے تو سرزمین سندھ میں زندگی اور خوشی کے سر چشمے آناً فاناً بہنا شروع ہوجائیں۔ آپ کا قدر دان کوئی نہیں۔ اور نہ ہی آپ کسی ٹھکانے پر  ہیں۔

  میرے لفظ صاف، میرا راستہ کُھلا ہوا نہ اس میں گاندھی کی تعلیم نہ جواہر لعل نہرو کی پرستش،نہ کسی دوسرے غیر سے مرغوبیت، سندھ اندر سندھ والوں کے لیے وقت کے تقاضوں موجب ایک مختصر مگر مکمل عمل کا دائرہ ”سندھ اللہ بخش کا، اللہ بخش سندھ کا“۔ کانگریس اللہ بخش کی قدموں میں تو گاندھی بھی ان پہ نثار کیسا کامیاب کام ہے؟۔

 اسی سندھ میں، میں غریب، داعیِ انقلاب  امام عبیداللہ سندھی کو لے آیا، سینے سے لگایا آپ کو اور شیخ عبدالمجید کو،دھاگے میں ہوں جیرا مداس، ڈاکٹر چوئیتھرام، میرے پاس ”آپ اور اللہ بخش“  کبھی دو شخصیتیں نہ رہے تھے۔ مجھے یہ پسند نہیں تھا کہ آپ مجھ سے جُدا رہیں۔ کتنے جتن کیے مگر اس وقت کامیاب نہ ہوا۔ آج آپ اور اللہ بخش ایک دوسرے کے اتنے قریب ہو شاید دوسرا کوئی نہیں۔ اللہ بخش زندہ جاوید شہید میری  اور آپ کی باہمی وابستگی کو دیکھ رہا ہے۔

 جلد باہر آؤ۔ اس کے لیے دعا مانگو اور میرے حق میں بھی۔

دعا کی مقبولیت کی جگہ وہ ہے

 محمد امین کھوسہ

Check Also

لاڑکانہ میں ایڈز کی وبا ۔۔۔ ڈاکٹر محمد سلیمان قاضی

پیش منظر اپریل 2019 کی بات ہے۔ ضلع لاڑکانہ کے ایک غریب علاقے رتو ڈیرو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *